مافیا کو انکار کیا تو ——– سعدیہ کیانی

0

’’بیگ صاحب کے گھر چوری ہو گئی ہے ۔ میں ذرا خبر لے آئوں کہ کیا معاملہ ہے تو پھر ڈنر پہ چلتے ہیں۔ ‘‘

ہماری شادی کو زیادہ وقت نہیں ہوا تھا اور اکثر شام کو کہیں نہ کہیں جانا ہوا کرتا تھا۔ اس روز بھی میں تیار تھی لیکن میاں صاحب نے آکر بتایا کہ پڑوس میں ایک افسر کے گھر چوری ہو گئی ۔

ہمارے چھوٹی سے سوسائٹی میں چند گھرانے منیجرز کے تھے اور باقی جونئیر سٹاف کی رہائش زیادہ تھی۔ سیکیورٹی بہت زیادہ تھی اسلئے چوری کے اس واقعہ نے ہمیں چونکا دیا۔

’’رکیں! میں بھی چلتی ہوں آپ کے ساتھ‘‘ میں نے دوپٹے کو سر پر درست کیا اور پیروں میں کھسہ پہن کر میاں کے پیچھے باہر نکل آئی۔

’’ایسا کبھی پہلے نہیں ہوا۔ ہر وقت یہاں گارڈز ہوتے ہیں ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی آئے۔ تسلی سے تمام گھر کو کھنگال ڈالے اور کسی کو خبر بھی نہ ہو‘‘ میاں صاحب مجھے واقعہ کی تفصیل بتانے لگے۔

چند قدم کے فاصلے پر بیگ صاحب اور ان کی خوبصورت اہلیہ اپنے گھر کے باہر کھڑی تھیں ۔ ان کے ساتھ چیف سیکیورٹی آفیسر اور دیگر منیجرز بھی کھڑے تھے۔

’’ سر آئیے پلیز۔‘‘ میاں صاحب کو دیکھ کر سب نے پروٹوکول دینے کی کوشش کی اور ساتھ ہی میرے لئے بھی راستہ چھوڑ دیا۔

’’بھابھی آئیے پلیز ۔ آپ اندر تشریف لے جائیے مسز کے ساتھ‘‘ بیگ صاحب نے انتہائی مہذب انداز سے مجھے درخواست کی اور ساتھ ہی ان کی اہلیہ نے میرے لئے دروازہ کھولا اور ہم دونوں گھر کے اندر چلے گئے۔

بیچاری پریشان تو تھیں لیکن چہرے پہ مسکراہٹ سجائے ہوئے تھیں ۔

میں نے افسوس کرتے ہوئے واردات کی تفصیل پوچھی تو کہنے لگیں کہ شام کے وقت وہ جب گھر سے نکلیں صرف درزی سے کپڑے اٹھانے تھے تو گھنٹے سے بھی کم وقت میں صرف 40 سے 45 منٹ میں پلٹ آئیں ۔

ان کی بات سن کر تعجب ہوا کی اس حساب سے تو صرف 20 سے 25 منٹ ہی زیادہ سےزیادہ ملے ہونگے واردات کے لئے تو اتنے کم وقت میں ان چوروں نے زیورات کیسے ڈھونڈ لئے ؟

مجھے اپنے سوالات کا جواب مسز بیگ سے تو نہ مل سکا البتہ میں نے درخواست کی کہ مجھے جائے وقوعہ دکھا دیں۔

مسز بیگ مجھے ساتھ لے کر اپنے کمروں کا وزٹ کرواتی رہیں ۔

بیگ صاحب کے بیڈ روم میں دروازے سے داخل ہوتے ہی بائیں طرف بیڈ اور سائیڈ ٹیبل لگے ہوئے تھے۔ بیڈ کی دائیں طرف کی الماری کھلی تھی۔ جس کی صرف ایک دراز کھلی ہوئی تھی اور باقی سارے کپڑے اور اہم فائلیں اسی ترتیب سے پڑی تھیں جیسے وہ رکھ کر گئے۔

اسی بات سے اندازہ ہو گیا کہ چور کو پتا تھا کہ زیور کس دراز میں پڑا ہے اسی لئے وہ سیدھا اس الماری کی طرف آیا اور اسی دراز کو کھولا جس میں زیور تھا۔

دوسری بات جو میں نے کمرے میں نوٹ کی وہ قالین پر جوتوں کے نشان یا مٹی کا نہ ہونا تھا۔

میں نے کچھ دیر سوچا اور پھر مسز بیگ کو مخاطب کیا۔

مسز بیگ ۔ کیا آپ کے گھر میں داخل ہونے کا کوئی اور بھی راستہ ہے ؟ اس مین دروازے کے علاوہ بھی ؟

مسز بیگ نے جواب میں بتایا کہ سیکیورٹی آفیسر اور پولیس کی ٹیم نے جو تحقیقات کی ہیں اس کے مطابق چور بیک یارڈ ( پیچھے لان کی طرف سے) آیا ہے۔ کیونکہ پیچھے جنگل ہے اسلئے کسی کی نظر میں نہ آسکا ۔

مجھے ان کی بات سن کر تسلی نہ ہوئی ۔ ایک نظر کمرے پہ ڈالی۔ بیڈ سائیڈ پر ہلکی ہلکی گرد پڑی تھی ۔ میں نے ذرا سا جھک کر بیڈ کی ہموار سطح کو ترچھی روشنی کے رخ پر دیکھا کہ اگر چور نے وہاں ہاتھ رکھا ہو گا تو اس کے ہاتھوں اور انگلیوں کے نشان ہوں گے لیکن مجھے بہت حیرت ہوئی جب گرد کی تہہ یکساں سارے فرنیچر پر پھیلی ہوئی تھی ۔ اس سے یہ بات بالکل مسلم ہو گئی کہ چور نے سوائے الماری کے کسی اور شے کو نہ چھوا تھا۔

اس دوران بیگ صاحب اور میاں بھی آچکے تھے اور مجھے بتانے لگے کہ چور پچھلی جالیاں کاٹ کر اندر آیا ہے ۔

میرے اندر کا ڈیٹیکٹو اب پوری طرح سے بیدار تھا ۔ اس لئے میں نے وہ کھڑکی دیکھنے کی فرمائش کی ۔

ہم بیڈ روم سے نکلے اور لائونچ میں آ گئے ۔ سیکیورٹی آفیسر بھی ساتھ ہی تھا ۔

لائونچ میں ڈائنگ ٹیبل کمرے کے درمیان میں پڑا تھا جبکہ اس کے دائیں طرف ریفریجریٹر عین کھڑکی کے سامنے رکھا تھا ۔ ساتھ ہی فریج پڑا ہوا تھا اس طرح جس کھڑکی کو کاٹ کر چور اندر آئے اس کے سامنے ایک بڑے سائز کا ڈیپ ریفریجریٹر (جس کا دروازہ اوپر کو کُھلتا ہے ) پڑا تھا اور دوسری طرف ایک فریج رکھا ہوا تھا ۔

میں نے آگے بڑھ کر کھڑکی اور ریفریجریٹر کے درمیان گیپ دیکھا تو وہاں صرف آدھے فٹ کا گیپ تھا جو ہوا کے گزر کے لئے چھوڑا جاتا ہے۔ میں نے پلٹ کر میاں کی طرف دیکھا۔

’’سنیں ۔ ۔ ۔‘‘

میاں کو ذرا سا ایک طرف کیا اور ان کے کان میں کہا کہ یہ معاملہ چوری کا نہیں ۔

میاں نے سارا ماجرا سنا اور بیگ صاحب کو ایک طرف لے جا کر کچھ تفصیل بتائی۔ پھر دونوں پلٹے اور سیکیورٹی آفیسر کو کہا کہ آپ کی تحقیق کیا بتاتی ہے کہ یہ واردات جس طرح ہوئی ؟

سیکیورٹی آفیسر نے تفصیل کچھ اس طرح بتائی کہ جب گھر میں کوئی نہیں تھا تب چور پچھلے لان میں جنگل کی طرف سے کودا اور لوہے کی جالی کاٹ کر اس جگہ ( اس نے اشارہ کیا جہاں ریفریجریٹر پڑا تھا) سے گھر میں داخل ہوا اور پھر سیدھا بیڈ روم میں گیا اور زیور نکالے اور دوسرے راستے سے واپس لان کی طرف نکل گیا۔

میں نے بیگ صاحب کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ دوسرا راستہ کون سا تھا جہاں سے چور نے واپسی کی ؟

مسز بیگ نے آگے بڑھ مجھے بچوں کے کمرے کی طرف اشارہ دیا جس کا دروازہ لائونچ کی بائیں طرف کھلتا تھا۔

میں نے اجازت مانگی کہ اگر ایک نظر مجھے بچوں کا کمرہ دکھا دیں ۔ انہوں نے بڑی گرمجوشی سے کہا ۔

’’کیوں نہیں بھابھی پلیز آئیے۔‘‘

کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ بچوں کے کمرے میں سامنے دیوار کے ساتھ صوفہ کم بیڈ رکھا تھا جبکہ دائیں طرف وہ کھڑکی تھی جس کی جالی تقریباً ڈھائی تین فٹ کٹی ہوئی تھی ۔ (ان گھروں میں لوہے کی گرل نہیں تھی اور وجہ یہی تھی کہ سیکیورٹی بہت سخت تھی خطرے والی کوئی بات نہ تھی)

میں آگے بڑھی اور کھڑکی کو بغور دیکھنے کے بعد براہ راست سیکیورٹی انچارج کو مخاطب کیا ۔

’’آپ کہتے ہیں کہ چور واپسی اس راستے سے گیا؟ ‘‘

سیکیورٹی انچارج: جی میڈم ۔ پولیس والے بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ لاؤنج والی کھڑکی سے آئے اور اس کھڑکی سے گئے۔

میں: آپ کو کیسے پتا ہے کہ وہ اُس کھڑکی سے آئے اور اِس سے گئے ؟ ہو سکتا ہے کہ وہ یہاں سے آئے ہوں اور ادھر سے گئے ہوں؟

سیکیورٹی انچارج: جی ایسا ذرا مشکل ہے۔ سامان کے ساتھ اونچی کھڑکی سے باہر نکلنا آسان نہیں جبکہ اس کمرے کی کھڑکی نیچے ہے وہ آرام سے باہر نکل گئے ہوں گے۔

میں: اچھا ایک بات بتائیے۔ یہ جو کھڑکی کاٹی گئی یہ باہر سے کاٹی گئی کہ اندر والی سائیڈ سے؟

میرے سوال پر سیکیورٹی انچارج سمیت سبھی حیرت سے دیکھنے لگے۔

سیکیورٹی انچارج: جی میڈم ظاہر ہے اندر سے کاٹی ہو گی جب اس نے باہر نکلنا تھا۔

میں: اور وہ دوسری والی بھی اندر سے کاٹی ہو گی؟ میرے اس اچانک سوال پر سیکیورٹی انچارج گھبرا گیا۔ میاں کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ بیگ صاحب کچھ تذبذب میں نظر آ رہے تھے۔

پھر میں نے سسپنس توڑا اور بولنا شروع کیا۔

’’بیگ صاحب یہ واردات چوری سے زیادہ دشمنی کی لگتی ہے۔‘‘ بیگ صاحب ایک دم سے چونک گئے۔

مسز بیگ اب چائے کا سامان لگا چکی تھیں اور ہمیں دعوت دے رہیں تھیں کہ آئیں ڈرائنگ روم میں چائے پئیں ۔

میں: مسز بیگ چائے یہیں ڈائننگ پہ رکھ دیجئے اور میری انویسٹیگیشن کا رزلٹ بھی سن لیجئے۔

مسز بیگ چائے کی ٹرالی جس میں ڈھیر سارے لوازمات سجے تھے لے آئیں اور چائے کے ساتھ تمام اشیاء ٹیبل پہ رکھنے لگیں ۔

میں: بیگ صاحب آپ کے گھر واردات چوری کی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی باہر سے آیا ہے ۔ بات سن کر سب دنگ رہ ہو گئے۔

بیگ صاحب: کیسے ؟ مطلب باہر سے نہیں آئے یعنی لان کی طرف سے نہیں آئے یا سوسائٹی کے اندر سے کسی نے چوری کی؟ کچھ سمجھ نہیں آیا؟ بیگ صاحب کنفیوز انداز سے کھڑے سر کھجانے لگے۔

میں: دونوں باتیں ہیں ۔ اول، تو یہ کہ جنگل سے کوئی شخص نہیں آیا بلکہ فرنٹ ڈور سے چور داخل ہوا ہے۔

مسز بیگ: کیا؟ کیا مطلب؟ کیسے؟ چابی تو ہمارے پاس ہے تو ؟ مسز بیگ چونک کر پوچھنے لگیں۔

میں: میرا خیال ہے کہ چور کے پاس ڈوپلیکیٹ چابی تھی آپ کے گھر کی۔ جتنا وقت آپ بتا رہی ہیں اتنے وقت میں جنگل سے دیوار چڑھنا، گارڈز اور کیمروں سے بچ کر دیوار کے اوپر لگی باڑ کو ٹاپنا آسان نہیں تھا لیکن چلیں مان لیں کہ وہ جنگل کی طرف سے آیا۔ مجھے یہ بتائیے کہ پورے گھر میں کارپٹ ہے تو کہیں بھی اس کے شوز کا نشان یا مٹی کیوں نہیں؟

اب کمرے میں ایک دم خاموشی ہو گئی میرے سوال نے سب کو سوچ میں ڈال دیا تھا۔ جنگل میں ہریالی اور کیچڑ ہر وقت بنا رہتا ہے تو یقیناً مٹی کا کوئی نشان تو نظر آتا مگر ایسا نہیں تھا۔

اب سب چائے بھی پی رہے تھے اور میری رپورٹ بھی سماعت کر رہے تھے۔ میاں صاحب کے چہرے پہ پرُاعتماد مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ کل سیکیورٹی انچارج کو ایک وارننگ لیٹر اشو ہونے جا رہا ہے ۔

میں نے پھر بات وہیں سے شروع کی۔ چلیں ہم پھر بھی مان لیتے ہیں کہ چور لان سے آیا اور یہ سامنے والی کھڑکی کاٹی اور اندر داخل ہونے کے لئے جب قدم رکھا تو سامنے ریفریجریٹر پڑا تھا۔ وہ کس نے ہٹایا؟ کارپٹ پہ اتنا وزنی ریفریجریٹر ایک ہاتھ سے دھکیلنا آسان نہیں۔

بیگ صاحب اٹھے اور ریفریجریٹر کو دھکا لگا کر دیکھنے لگے کہ وہ اپنی جگہ سے ہل سکتا ہے کہ نہیں اور پھر ان کے چہرے کے تاثرات بتانے لگے کہ انہیں میری رائے بہتر لگی۔

سیکیورٹی انچارج نے جھٹ کہا۔ چور ریفریجریٹر پہ ہی پائوں رکھ کر اندر آیا ہو گا اس کو ہٹانے کی کیا ضرورت؟

میرے چہرے پہ مسکراہٹ دیکھ کر اس کی خوشی جاتی رہی۔

اگر چور ریفریجریٹر پر اترا تو اس کے قدموں کے نشان کہاں ہیں؟

میں اپنی جگہ سے اٹھی اور کھڑکی کے پاس جا کر بیگ صاحب کو کہا: ذرا غور سے دیکھئے۔ یہاں کھڑکی کاٹنے کے بعد لوہے کا چورا ( ذرات) پڑا ہے ۔ یہ باریک تاریں اندر کی طرف گری ہوئی ہیں جو بتاتا ہے کہ کھڑکی اسی طرف سے کٹی اور اس سائز کو بھی غور سے دیکھئے۔ یہ بمشکل دو ڈھائی فٹ کا کٹ ہے۔ جس میں سے دس سال کا بچہ بھی مشکل سے گزرے تو چھ فٹ کا مرد کیسے داخل ہو گا؟

اور ان تاروں سے گزرتے وقت اس کے کپڑوں کا کوئی دھاگہ ہی کیوں نہ اس جگہ نظر آیا؟ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کھڑکی سے گزرنے کے بعد یہ چورا ( لوہے کے زرات) اسی طرح نہ پڑا رہتا۔ یہ جگہ اس کے کپڑوں سے صاف ہو جاتی جب وہ یہاں سے گزرتا۔

تو میری ذاتی رائے یہی ہے کہ چور فرنٹ دروازے سے داخل ہوا اور یہ بھی بتا دوں کہ یہ دو یا دو سے زائد لوگوں کا کام ہے۔

ایک بار پھر سب حیرت کا اظہار کرنے لگے ۔

میں نے کہا: حیران مت ہوں۔ سادہ سی بات ہے کہ 20 / 25 منٹ میں دو کھڑکیاں کاٹنا اور زیورات نکال کر غائب ہو جانا بہت مشکل ہے۔

اسلئے جو نقشہ میرے ذہن میں بنا ہے اسے توجہ سے سن لیجئے ۔

مسز بیگ کے گھر سے نکلنے سے پہلے ہی چور یہاں موجود تھا۔ گھر کے اندر نہیں بلکہ چند قدم کے فاصلے پر جو ملازمین کا میس ہے ۔ جس کی ایک کھڑکی عین آپ کے دروازے کے سامنے ہے۔ اسی کھڑکی میں ایک آدمی کھڑا پہرہ دے رہا تھا۔ دوسرا چابی لئے آپ کے گھر کے باہر ٹہل رھا تھا یا کہیں قریب چھپا ہوا تھا اور جیسے ہی آپ نکلیں وہ گھر میں داخل ہو گیا۔ دوسرا بندہ مسلسل پہرے پہ تھا۔

پھر میں اٹھی اور مسز بیگ کو ساتھ لیا۔ فرنٹ دروازے کے میٹ پر نشان تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن چونکہ پولیس اور سیکیورٹی کا آنا جانا ادھر سے ہی ہوتا رہا اسلئے نشان واضح نہ رہے۔ مین دروازہ کھولا اور باہر نکل کر مسز بیگ کو دکھایا کہ سامنے میس کی کھڑکی بالکل اس طرح ہے کہ آپ کے دروازے کو واضح دیکھا جا سکتا ہے۔ میاں اور بیگ صاحب بھی باہر آ چکے تھے اور اب میری بتائی ہوئی نئی تفتیش پر ساری صورتحال کا از سر نو جائزہ لیے رہے تھے۔ پھر بیگ صاحب کو کچھ خیال آیا اور کہنے لگے۔

بیگ صاحب: بھابھی۔۔۔ پلیز ادھر آئیے پچھلے لان میں بھی ایک نظر ڈالئے۔ سیکیورٹی انچارج کو رخصت کر دیا گیا۔

ہم سب گھر کے اندر سے ہوتے ہوئے پچھلے لان میں گئے۔ وہاں گھاس کی بجائے سمنٹ کا فرش تھا اور بیک یارڈ کی دیواروں کے ساتھ بڑے بڑے پودے لگے ہوئے تھے۔ بیرونی دیوار پر خاردار تار تھی اور اس کے ساتھ پڑوسی شاہ صاحب کے لان کی دیوار جڑی ہوئی تھی۔ باہر کا منظر اب بیگ صاحب نے میرے اخذ کردہ نتائج کی روشنی میں دیکھا تو خود ہی بول پڑے۔

بیگ صاحب: بھابھی نے سو فیصد درست نقشہ کھینچا ہے۔ اس طرف سے داخل ہونا بہت مشکل اور ٹائم ٹیکنگ ہے۔ یقیناً فرنٹ گیٹ سے ہی کوئی آیا اور یہ چوری نہیں بلکہ مجھے سبق سکھایا گیا ہے۔

پھر ہم واپس لائونج میں آ گئے اور بیگ صاحب نے بتانا شروع کیا۔

بیگ صاحب: سر آپ کو پتا ہے کہ میں دبائو میں نہیں آتا اور کسی فائل پہ خواہ مخواہ سائن نہ کرتا ہوں اور نہ ہی پریشر لیتا ہوں۔ لاشاری صاحب کا بندہ مسلسل مجھ سے کچھ ناجائز کاموں کی فائلوں پہ سائن لینا چاہتے تھے اور مسلسل دبائو ڈلوا رہے لیکن چونکہ میں نہیں مان رہا تھا۔

بیگ صاحب چند لمحے رکے اور جیسے کچھ یاد آ گیا: سر لاشاری کا اسسٹنٹ آپ کے پاس بھی تو آیا تھا؟ میاں صاحب نے ہنس کر جواب اثبات میں دیا۔ ’’ہاں انہوں نے ان فائلوں کو حلال کروانے کے لئے بہت کوشش کی۔’’

بیگ صاحب: سر کیا کہا تھا آپ نے؟ کیسے ان سے جان چھڑائی؟ یہ لاشاری گروپ تو انکار سنتا ہی نہیں۔ بیگ صاحب نے کئی سوال کر ڈالے تو میاں صاحب مجھے دیکھ کر مسکرائے اور بیگ صاحب کو مخاطب ہوئے: میں نے تو یہی کہا کہ یہ بیگ صاحب کا اختیار ہے اور میں ان کے آفس میں مداخلت نہیں کرتا آپ براہ راست بیگ صاحب سے ہی رابطہ کر لیں۔ البتہ اگر بیگ صاحب سائن نہیں کرنا چاہتے تو میں اپنے ساتھی منیجرز کا مکمل ساتھ دوں گا۔

کمرے میں کچھ دیر خاموشی ہو گئی۔ بیگ صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا۔

’’یقیناً یہ کام لاشاری کا ہے۔ وہی مجھے سبق سکھانے کی باتیں کر رہا ہے آج کل۔‘‘

مسز بیگ کے چہرے پر خوف کے اثرات نمایاں ہونے لگے تو میں نے ان کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر تسلی دی: پلیز آپ پریشان نہ ہوں۔ آئیندہ کوئی آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ میں خود ان کے آفس جائوں گی اور سیکیورٹی بہتر بنانے کے لئے نئے سرے سے پلین ترتیب دیں گے۔ آپ بے فکر رہیے۔ یہ سارا تو ان سائڈ جاب ہے باہر سے کوئی نہیں آیا۔ یہیں سے چند لوگوں نے ضمیر بیچا ہے۔

میں نے میاں کی طرف دیکھا: کیا آپ اس میس اور آفیسر کے گھر کے درمیان فینس نہیں لگا سکتے؟

میاں نے اثبات میں سر ہلایا۔ کیوں نہیں۔ میں کل ہی مینٹیننس اینڈ ورکس کو اسٹیمیٹ لگوانے کو کہتا ہوں اور اگلے چند روز میں یہ حصہ سیکیور ہو جائے گا۔

ہم کچھ دیر ان کو تسلی دیتے رہے اور میاں صاحب نے سیکیورٹی انچارج کو اپنے آفیسرز کے خلاف بھی انکوائری کا کروانے کی ہدایات دینے کی یقین دہانی کروائی۔ ان کا خیال تھا کہ مینٹینس کے لئے آنے والے کسی بندے نے نظر بچا کر چابی کا پرنٹ لیا تھا۔

بحر حال مسٹر اینڈ مسز بیگ کے نقصان پر افسوس اور تحقیقات میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کے بعد ہم گھر چلے آئے۔ اب ڈنر پارٹی پہ جانے کا وقت نہ تھا اسلئے ہم نے کچھ دیر باہر چہل قدمی کا ارادہ کیا اور پھر سارا وقت ہم اس واردات کے حوالے سے بات کرتے رہے۔ میاں صاحب نے مجھے لاشاری گروپ کا تعارف کروایا کہ وہ کس طرح سارے شہر میں طاقتور اور کرپٹ لوگوں سے روابط رکھتا ہے ان کے ناجائز کام کرواتا ہے اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ان کی معاونت کرتا ہے۔ کسی کا انکار نہیں سنتا اگر کوئی اس کی مرضی کے مطابق کام نہ کرے تو اس کو سزا دیتا ہے۔ وہی مافیا والی کہانی تھی۔ مافیا جو اپنے مضبوط گٹھ جوڑ کے سبب اس ملک کی جڑیں کھا گیا۔ اس کے چھوٹے بڑے دھندے دیمک کی طرح تنے پر چڑھ گئے اور اس وطن کی ہری شاخیں زرد پڑیں ہیں۔

ایک بہت طاقت ور اسپرے کی ضرورت ہے جو وقتاً فوقتاً دہراتے رہنا چاہیے۔ یہ دیمک یہ جونکیں ان جڑوں سے جدا کرنا ضروری ہے۔ بہت ضروری!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: