محمود شکنی اور محمود سازی کے درمیان — معین نظامی

0

محمود غزنوی کی شخصیت اور اس کے بیشتر سیاسی و سماجی معاملات کو متنازع بنانے کا عمل محمود کی زندگی ہی میں ایک فیشن کی صورت اختیار کر چکا تھا اور اس میں بہت مضبوط ہاتھ چند ایسے طالع آزما سیاسی گھرانوں کا بھی ہے جو غزنویوں کے روایتی حریف تھے۔ کچھ دیگر طبقات کے مذہبی اختلافات بھی اس ضمن میں خاصے فعّال رہے۔ اسی تسلسل میں مختلف جغرافیائی شناختوں کے حامل ان تمام سیاسی عناصر نے بھی خوب سرگرمی دکھائی جنھیں غزنویوں کے ہاتھوں زک پہنچی تھی اور جو اچھی خاصی تعداد میں تھے اور اپنے اپنے سماج اور مقامی ادب و ثقافت میں وسیع حلقہء اثر بھی رکھتے تھے۔

ایران میں محمود بیزاری کا تحریری سلسلہ محمود کی وفات کے دو تین عشرے بعد ہی شدّ و مد سے شروع ہو گیا تھا۔ یہ تحریک غالباً غیر علانیہ انداز میں شروع ہوئی اور اس میں کئی ادیبوں، شاعروں اور سیاسی مفکّروں نے بھی دانستہ یا غیر دانستہ طور پر بساط بھر حصّہ ڈالا۔ دیکھتے ہی دیکھتے محمود کے خلاف ایک اچّھی خاصی طویل فردِ شکوک و شبہات اور فہرستِ جرائم مرتّب ہو گئی۔ محمود کی طرف سے فردوسی طوسی کی نا قدر شناسی، شاہ نامہ میں فردوسی سے منسوب ہجوِ محمود، عشقِ ایاز کے باب میں محمود کو ہم جنس پرستی کی سطح تک لے جانا، محمود کی شراب نوشی، اس کی مبیّنہ زر پرستی، سیاسی و مالی مفادات کی بنیاد پر بہ کثرت نقضِ عہد اور مذہب کی آڑ میں دیرینہ دشمنوں کے استیصال کی پختہ عادت وغیرہ جیسی روایات اسی قبیل سے ہیں۔

نظامی عروضی سمرقندی کی معروف اور مقبول ادبی کتاب چہار مقالہ اسی کاری گرانہ اندازِ فکر کی ایک نمایاں مثال ہے۔ درجہء اول کے ادیب اور تیسرے درجے کے شاعر نظامی عروضی ان چنگیز خصلت بادشاہوں کے دوسرے درجے کے درباری تھے جو غزنویوں کا نام و نشان مٹانے میں سب سے زیادہ دل چسپی رکھتے تھے اور ان کی سنگ دلانہ کارگزاریاں تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔ چنانچہ نظامی عروضی سمرقندی سے یہ توقّع رکھنا کہ انھوں نے محمود غزنوی سے انصاف کیا ہو گا، بچگانہ سی بات ہو گی۔ چہار مقالہ کے اردو تراجم بھی ملتے ہیں اور آن لائن بھی موجود ہیں۔ متعدّد ذمّہ دار ایرانی محقّقین نے اس کتاب کی متنوّع تاریخی غلطیوں اور مشکوک سماعی روایتوں کو تاریخ کے درجے پر فائز کرنے کی سہل انگارانہ کوششوں پر شدید گرفت بھی کی ہے۔ اس سے چہار مقالہ کا درجہء اعتبار و استناد بھی بہ خوبی واضح ہو جاتا ہے۔

غزنویوں کے سیاسی حریف تو کچھ عرصے کے بعد غزنی کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اور عماراتِ محمودی و مسعودی کو ملیا میٹ کر کے آخرکار خود بھی تاریخ کی گردِ راہ بن گئے مگر مذہبی مخالفین، اکنافِ عالم میں پھیلے ہوئے سیاسی زخم خوردگان اور ان کے زیرِ اثر دانش وروں کی عہد بہ عہد اڑائی ہوئی دھول صدیوں اڑتی رہی۔ بعد میں انگریز اور ہندو مؤرخین نے اپنی نہایت واضح مصلحتوں کی بنا پر ایسی کئی روایتوں کو جدید اسلوبِ تحقیق کی آب و تاب سے سجا سنوار کر مزعومہ علمی دنیا کی ضیافتِ علم و ذوق کی نذر کیا۔ ان لوگوں کی صداے بازگشت گاہے بہ گاہے اب تک سنائی دیتی رہتی ہے۔

محمود شکنی کے اس رویّے کے مقابل ایک بالکل مختلف بیانیہ بھی تھا جو نسل در نسل طبقہء صوفیہ اور ان کے بہت وسیع و عمیق دائرہء اثر میں رائج رہا۔ اس مرقّعے میں محمود کا کردار جلیل القدر غازی اور درد مند دل رکھنے والے مردِ کامل کی صورت میں ملتا ہے۔ تصوّف کی شاید ہی کوئی قدیم منثور یا منظوم کتاب محمود کے ذکرِ محمود سے خالی ہو۔ فرید الدّین عطّار نیشاپوری، عینُ القضات ہمدانی، شمس تبریزی، جلال الدّین رومی، سعدی شیرازی اور مولانا جامی وغیرہ سے ہوتی ہوئی محمود سازی کی یہ قدیم روایت علّامہ اقبال کو بھی منتقل ہوئی اور اس محیطِ فکر و نظر میں والہانہ شیفتگی کی وہ لہر ایک متوازن سی محمود پسندی میں ڈھل گئی۔

حقیقت شاید ان دونوں زور دار دھاروں کے درمیان میں کہیں منتظرِ تحقیق ہو۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: