مریض ، معالج اور کلینک: سجاد خالد

0

اگر کچھ لوگ زندگی کے بیس سال لگا کر ڈاکٹر بنتے ہیں تو کیا باقی انسانوں کا فرض ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر مریض بن جائیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں سچ کہوں گا کہ میں نے مریض بننا اپنا فرض کبھی نہیں سمجھا ہاں اِسے ہمیشہ اپنا پیدائشی حق سمجھا۔ میرے لئے ڈاکٹر کے سامنے محض ایک مفعول بن کر بیٹھنا ممکن نہیں۔ بلکہ کبھی کبھی جب میں مُوڈ میں ہوتا ہوں تو باوجود نقاہت کے ڈاکٹر کو مفعول سمجھ کر آپریٹ کرتا ہوں۔ 
آپ کہیں گے ایسا کرنا مہلک ہو سکتا ہے تو بھئی جب بندہ ہے ہی موت کے منہ میں تو آخری لمحے جی داری سے کیوں نہ گزریں۔ میں مگرمچھ کے لئے تر نوالہ نہیں بن سکتا، دوسرا مگرمچھ ضرور بن سکتا ہوں۔

 

سادہ دل مریض کی دو خواہشیں آپس میں ٹکراتی رہتی ہیں۔ پہلی ہمدردی کی خواہش جس کے نتیجے میں وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ جتنا شدید درد اُسے محسوس ہو رہا ہے، کسی کو کبھی نہیں ہوا حالانکہ زندگی میں دوبارہ اُس سے زیادہ درد محسوس کر کے وہ کبھی کبھی خود سے شرمندہ بھی ہو جاتا ہے ۔وہ صرف خدمت کرنے کے لئے ہی پیدا نہیں ہوا ، اپنے اردگرد کے لوگوں سے کچھ دن خدمت کروانے کو اپنا حق بھی سمجھتا ہے۔ دوسری یہ خواہش کہ علاج بغیر کسی درد کے اتنی تیزی سے ہو جائے کہ یہ دورانیہ محسوس ہی نہ ہو۔

 

پہلی خواہش تو اُسی لمحے دم توڑ دیتی ہے جب کوئی سمجھدار ڈاکٹر چھوٹتے ہی کہتا ہے جناب آپ کو کچھ بھی نہیں ہوا، بس وہم ہے، اور معمولی طاقت کی عام سی ایک دو گولیاں لکھ کر دوسرے مریض سے اُسی بنچ پر بیٹھنے کو کہہ دیتا ہے۔ ردِّعمل کے طور پر اپنے ساتھ آنے والے سے یہ کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر میرے مرض کو سمجھ ہی نہیں سکا۔ ابھی دھیان سے دیکھا نہیں، میری بات تفصیل سے سنی نہیں، کوئی ٹیسٹ نہیں کروایا اور نسخہ لکھ دیا ۔۔۔۔۔۔یہ لوگ ہوتے ہی لالچ کے مارے ہوئے ہیں۔ دوسرا ستم یہ کہ گولی کھاتے ہی مریض سمبھل بھی جائے۔

 

دوسری خواہش کی تکمیل کا سارا دارومدار مریض کے اعتقاد اور ڈاکٹر کی معاشی کم نصیبی پر ہوتا ہے، اگر ڈاکٹر ہمدردی سے پوری بات سُن لے، اور مرض کو تقریباً ناقابلِ علاج مانتے ہوئے، ساتھ آنے والوں کو مریض کا بہت خیال رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے، کچھ نایاب اور قیمتی دواوں اور ٹیسٹوں سے مزین بھاری سا نسخہ لکھ دے تو دوسری خواہش کا انجام دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اگرچہ اِس حالت میں پہلی خواہش پوری ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

ڈاکٹر بھی متضاد تمنائیں رکھتے ہیں۔ ایک تو یہ مشہور ہو جائے کہ ڈاکٹر کے علاج سے فوری آرام آ جاتا ہے اور دوسری یہ کہ مریض ہر دوسرے دن کلینک کی رونق بڑھاتا رہے۔ پہلی خواہش کے لئے تیز اثر کرنے اور دیرپا نقصان والی دوائیں تلاش کی جاتی ہیں اور دوسری خواہش کے پورا کرنے کا انتظام مریض سے دو دن بعدآنے کا کہہ کر کیا جاتا ہے۔ تجربہ کار مریض حالت سُدھرتے دیکھ کر دوبارہ جانے کا ارادہ ترک کر دیتے ہیں۔

 

کچھ مریض کلینک میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے دوسرے مریضوں اور خصوصاً اُن کے ساتھ آئے ہوئے نوجوان تیمارداروں کے لئے آزمائش بن جاتے ہیں۔ لوگوں کے موبائل بیلنس ختم کرنے میں انہیں مہارت حاصل ہو چکی ہوتی ہے۔ کمال یہ ہے کہ بیلنس ختم کروا کر بھی شکار شرمندہ اور شکاری ناراض سا رہتا ہے۔ بال پوائنٹ مانگ کر موبائل پر بار کرتے کرتے باہر نکل جانا اور اتنی دیر کے بعد اُسی شخص کے سامنے بغیر پہچانتے ہوئے بیٹھ جانا بھی کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ اب اپنی ہی چیز واپس مانگنے والے کو یا تو بلا کا ڈھیٹ بن کر مطالبہ کرنا ہوتا ہے یا ملکیت سے دست بردار ہو کر خاموشی اختیار کرنا۔ کچھ عورتیں تو آپ کے بیٹے یا بیٹی کو فارغ پا کر اپنا نونہال کھلانے کے لئے دے دیتی ہیں۔ نونہال کے جوہر کچھ اِس طرح کھلتے ہیں کہ تھوڑی دیر میں ہی آپ کے بچے کے کندھے تھک چکے ہوتے ہیں، گورے چہرے پر معصوم ناخنوں کے آڑے ترچھے رِستے ہوئے خطوط، بے ترتیب بال، پیمپر سے رِسنے والی رطوبت کا بدبوداراحساس اور ستم یہ کہ اپنے بچے کو واپس لیتے ہوئے آنٹی کے الفاظ ہوتے ہیں، میرے چندا کو کِس نے مارا ۔۔۔۔۔۔۔ آ جا میرے پاس۔ تجربہ کار لڑکے ایسی آنٹیوں کو دیکھتے ہی ٹہلنے کے لئے باہر چلے جاتے ہیں اورآرام دہ صوفے کے ہوتے ہوئے گھنٹوں اپنی ناتوان ٹانگوں کو عذاب دیتے ہیں۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: