کیا ہم ایک اور آئینی بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ ——– محمد خان قلندر

0

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بد ترین معاشی بحران سے دوچار ہے۔ معیشت پورے طور پے آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنس چکی ہے۔ اس پر مُستزاد ایف اے ٹی ایف کی تلوار ہمارے سر پے لٹک رہی ہے۔ گرے ایریا سے بلیک ایریا میں جانے کا حقیقی خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اگر بھارتی مقبوضہ کشمیر میں سخت مزاحمت ہوئ جو ہوتی نظر آتی ہے تو بھارت اپنی اس ناکامی کو ہماری مداخلت قرار دے کر ہمیں دہشت گردی کرنے کا مرتکب مشہور کرنے کو ڈھول پیٹے گا۔ عالمی رائے عامہ ہماری کمزور اور غیر فعال خارجہ پالیسی کی وجہ سے پہلے ہی بھارت کی طرف مائل ہے۔

اس صورت حال میں کشمیر کا محاذ گرم ہونا بھارت کے حق میں سودمند ہو گا۔ یہ جو ہم بھارت اور امریکہ کی چال میں پھنس کے ایک طرف جنگ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور دوسری طرف دنیا سے سفارتی محاذ پر تعاون کی امید لگائے بیٹھے ہیں یہ ہمارا تاریخ سے سبق نہ سیکھنے کا ثبوت ہے۔ ہم 1965- 1971 کی جنگ بھلا بیٹھے ہیں، کارگل کی مہم ہمیں یاد نہیں۔

آج بھی وہی امریکہ ہے اور کسی بھی یورش میں وہ ہماری ڈیفنس سپلائی بند کر دیں گے، اگرچہ اب ہمارا انحصار کم ہے لیکن جنگ میں ساز و سامان میں تعطل مہنگا اور بھاری پڑتا ہے ۔ بنگال کی لڑائی میں ہم امریکی بحری بیڑے کی آمد اور چین کے لداخ میں بھارت کو انگیج کرنے کے منتظر ہی رہ گئے تھے، خلیجی ریاستیں، سعودی عرب اور ترکی اپنے مسائل میں الجھے ہیں، امریکہ بھارت کا حریف نہیں حلیف ہے۔ چین اپنی تجارتی توسیع کے لئے پورے مشرق کے خطے میں مصروف ہے، آج اس کے لئے بھارت تجارت میں ہم سے اہم ہے۔ اندرونی محاذ پے ملک پولورائزیشن کا شکار ہے، نفرت کی بنیاد پر پبلک میں تقسیم بدترین سطح پر ہے۔ کرپشن کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا، تو کیا یہ منظر نیا ہے؟

آئیے 1970 میں واپس چلتے ہیں، مشرقی پاکستان میں شورش تھی، کیا آج بھی بلوچستان ، اور قبائلی علاقے پرامن ہیں؟ بھٹو صاحب نے مغربی پاکستان میں اپنی مقبولیت کے لئے زمینداروں اور صنعت کاروں کے خلاف کیا ایسی ہی فضا قائم نہی کی تھی جو آج دو بڑی پارٹیوں کے خلاف مبینہ کرپشن پر موجودہ حکومت نے پیدا کی ہے، کیا اس وقت سوسائٹی بھٹو سے شدید نفرت اور چاہت کی بنیاد پر تقسیم نہی تھی جیسے آج عمران کے ساتھ ہے؟

معاشی کساد بازاری ، بجٹ خسارہ، شرح نمو منفی، بے یقینی کی حالت سے یہ تو نہی ہونے جا رہا کہ پہلے ہم بے سمتی میں سفر کر رہے تھے لیکن اب تو غلط سمت میں بھی حرکت ہی بند ہو گئی ہے، آئین کے بنیادی ادارے تو مقننہ اور عدلیہ ہی ہیں۔۔

انتظامیہ تو آئین ساز اسمبلی سے جنم لیتی ہے، لیڈر آف ہاؤس وزیر اعظم بنتا ہے حکومت بناتا ہے دیگر مستقل ادارے بشمول افواج اس کے ماتحت کام کرتے ہیں آئین میں ترمیم اور دیگر امور پر قانون سازی اسمبلی کرتی ہے، یہ قانون بناتی ہے اور عدلیہ اس کی تشریح کرتی ہے، افواج اور عدلیہ آئین کی حد کے اندر کچھ حد تک خود مختار ہیں، تو آج کیا یہ واقعی آئینی بندوبست کے مطابق ہے؟ عدلیہ میں انتظامی بحران ہے! فوج روزانہ کی بنیاد پر موجودہ حکومت کے ساتھ ایک پیج ہے ہونے کا اعلان کرتی ہے کیا یہ سب کچھ آئینی کے تقاضے پورے کر سکتا ہے؟

سوچیئے ۔ ماضی کے آئینے میں دیکھیں تو ایسا نہی لگتا کہ تاریخ کسی وقت خود کو دہرا سکتی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: