گیسٹ ہائوس کا بزنس اور اسلامی نظام —- انور عباسی

0

تقریباََ تیس برس قبل سعودیہ سے پاکستان مستقل واپسی پہ جب دیکھا کہ یہاں ملازمت کے مواقع بہت کم تھے اور پھر سعودی عرب میں ملازمت کے بعد پاکستان میں اسی معیار کی نوکری کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے مشوروں کا ڈول ڈالا گیا۔ سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں نے تجارت کے فوائد بتائے، قرآن اور احادیث کے حوالوں سے سمجھایا تاجر تو سیدھا جنت میں جائے گا۔ ہم نے دوستوں کے مشوروں پر کان دھرا۔ دنیا کماتے کماتے اگر جنت بھی مل جائے تو اس میں زیادہ سوچنے کی ضرورت ہی نہیں۔ ہم خرما و ہم ثواب والا آئیڈیا بہت پسند آیا۔

ایک دوست نے مشورہ دیا کہ اسلام آباد میں گیسٹ ہائوسز کا کاروبار عروج پر ہے۔ اس میں زیادہ سرمایہ کاری کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایک اچھی سی لوکیشن پر مکان کرائے پر لے لیا اور بس۔ ہم نے کہا کہ ہمیں کسی بھی کاروبار کا کوئی تجربہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایک تجربہ کار اور اعتماد والا ساتھی بھی ساتھ دیں گے جو ایک اسلامی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سے معاہدہ وغیرہ طے ہوا۔ پانچ چھے کمروں والا ایک مکان کرائے پر لے لیا گیا۔ نئے پردے، قالین، ہر کمرے میں ٹی وی اور ائیر کنڈیشنر۔ مزید کہا گیا کہ ہر کمرے میں وی سی آر بھی ضرور ہو۔ ہمیں کوئی تجربہ نہیں تھا، لہذا سارا کام مشوروں پر آنکھ بند کرنے عمل کرنا پڑا۔

لو جی! کوئی چھے ساڑھے چھے لاکھ روپے خرچ کرنے کے بعددس پندرہ دنوں میں گیسٹ ہاوس تیار ہو گیا۔ ہماری سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ اب گیسٹ کہاں سے آئیں گے۔ اس کے لیے ایک پرانے گیسٹ ہاوس کے مالک سے رابطہ کروایا گیا اور ان کی شاگردی میں دن گزرے۔ انھوں نے ایک وعدہ یہ کیا کہ ہمارے پاس جب کمرے فل ہوں گے تو ہم آپ کے پاس گاہک بھیج دیا کریں گے۔ ایک دو دنوں میں ہی کچھ کمرے لگ گئے۔ ٹیکسی ڈرائیورز سے رابطہ ہوا جو بس اڈوں، ائیر پورٹ اور ریلوے اسٹیشن سے گاہک لاتے اور اپنا کمیشن کھرا کرتے۔ ہم نے ایک منیجر رکھ لیا جو عام طور پر رات کی ڈیوٹی سنبھالتا۔ صبح آٹھ نو بجے ہم چلے جاتے اور دو بجے تک وہیں رہتے۔ رجسٹر دیکھتے، مہمانوں کا حساب لگاتے، کمروں کا جائزہ لیتے کہ کتنے لگے، کتنے خالی رہ گئے وغیرہ وغیرہ۔ دو بجے کے بعد ہمارا پارٹنر ڈیوٹی سنبھالتا اور رات آٹھ بجے تک رہتا۔ حیرت انگیز طور پر ایک مہینے کے بعد تقریباً سارے کمرے ہی مصروف ملتے۔ اب سمجھ میں آیا کہ سمجھدار لوگ ٹھیک ہی تو کہتے تھے۔ پیسے الگ کمائو اور جھونگے کے طور پر جنت کے مزے الگ لوٹو!

چار پانچ مہینے گزرے۔ حساب لگایا واقعی بڑا نفع بخش کاروبار نکلا۔ حسبِ معمول ایک دن صبح ڈیوٹی سنبھالنے آئے۔ منیجر کے سامنے والی کرسی پر ایک ماڈرن سی لڑکی بیٹھی ہوئی نظر آئی۔ سوچا اس کی کوئی عزیزہ ہوگی۔ خیر ہم اس سے رجسٹر لے کر ساتھ والے ایک صوفے پر بیٹھ گئے تا کہ معلوم کرسکیں کہ آج کتنی آمدنی ہوئی، کون کون رہائش پذیر ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہر کمرے میں رہائش پذیر مہمانوں کے نام اور پتے وغیرہ لکھے ہوتے تھے۔ دیکھا کہ آج رات کو کوئی فیملی نہیں آئی، لیکن سارے ہی کمرے فل ہیں۔ حساب کتاب کر کے ہم منیجر سے کیش وصول کرتے تھے۔ ہم اس انتظار میں تھے کہ وہ لڑکی اٹھے تو منیجر سے کیش لے سکیں۔ ہم نے محسوس کیا کہ لڑکی نے گردن موڑ کرہماری طرف دیکھا اور منیجر نے سر ہلا کر کچھ کہا۔ جب بیس پچیس منٹ کے بعد بھی وہ کہیں نہیں گئی تو ہم نے منیجر کو بلا کر کہا کہ انھیں چائے وغیرہ پلا کر فارغ کریں تا کہ ہم حساب کتاب کر سکیں۔ وہ بولا صاحب، یہ گیسٹ ہیں اور اسی جگہ ٹھہری ہوئی ہیں۔ ہم نے دوبارہ رجسٹر پر نظر ڈالی۔ سب کمروں میں مرد حضرات ہی کا نام درج تھا اور کمرے بھی فل تھے۔ ہم نے کہا کہ بھئی کمرے تو فل ہیں ان کا نام تو کہیں نظر نہیں آرہا۔ وہ مردِ قلندر بولا، آج چونکہ کمرے لگ چکے تھے اس لیے ان کو سرونٹ کوارٹر میں ہی ٹھہرا لیا تھا۔ حیرت ہوئی۔ سرونٹ کوارٹر میں فالتو بستر اور دیگر سامان پڑا ہوتا تھا کسی کے ٹھہرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میں نے کہا کہ پھر ان سے وصول شدہ کرایہ کہاں لکھا ہے؟ کیا مفت ٹھہرایا ہے؟ رجسٹر تو پورا لکھا ہوتا، چلو اب حساب تو دو۔
اور پھر اس نے پورے کا پورا حساب دے دیا۔

پتا چلا کہ وہ عفیفہ فلاں دو کمروں میں ٹھہرے ہوئے ’بڑے‘ لوگوں کی ’خاص‘ مہمان ہے۔ چونکہ وہ دونوں کی ’مہمان‘ ہے اس لیے دونوں ہی اس کے کمرے ہوئے، ان سے الگ کوئی کرایہ وصول نہیں کیا گیا۔ یہ ’حساب کتاب‘ فوراً ہماری سمجھ میں آگیا۔ سختی سے اس کی باز پرس کی کہ یہ حرکت تم نے کی کس طرح۔ بولا ’’صاحب میری کیا مجال، آپ تو رات کو چلے جاتے ہیں، آپ کے پارٹنر ہی کا حکم چلتا ہے۔ ان ہی کے ایما پر یہ سب کچھ ہوا ہے۔ آپ ان سے بات کر لیں‘‘۔ خیر ان سے تو بعد میں بات کریں گے، فی الحال تو ان ’شریف‘ مہمانوں سے کچھ عرض کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم کہ ٹھہرے اپنے ہی وطن میں اجنبی، ان سے بات کی تو طبیعت ہری ہو گئی۔ ہماری تبلیغ کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’’او بھائی! نہ جانے تم کس دنیا میں رہتے ہو؟ ہم اس شہر میں کوئی نئے ہیں نہ اس گیسٹ ہائوس میں ہماری پہلی آمد ہے۔ اگر ہماری خاطر تواضع اور ’دیگر سہولیات‘ کا خاص خیال نہ رکھا گیا ہوتا تو یہاں اتنے پیسے خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ تمھارا کیا خیال ہے کہ یہاں کے گیسٹ ہائوس ان ’سہولیات‘ کے بغیر ہی چلتے ہیں‘‘؟ یہ کہتے ہوئے انھوں نے دور کسی طرف اشارہ کیا اور پھر پاس پڑی ہوئی ایک بوتل کی طرف اشارہ کیا، جو تقریباً خالی ہو چکی تھی۔

ہم خرما تو ملا مگر ہم ثواب؟ ہم مذہبی جماعت کے ان ذمہ دار کے پاس اسی دن چلے گئے کہ یہ کیا مصیبت آپ نے ہمارے گلے میں ڈال دی ہے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں تھاکہ اس کاروبار میں یہ گند بھی پایا جاتا ہے۔ کل کلاں اخبار میں چھاپے کی خبر بھی آ سکتی تھی۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ بولے یہ غیر اسلامی نظامِ حکومت کے شاخسانے ہیں۔ اسلامی نظامِ حکومت کے آنے تک یہی سب کچھ چلتا رہے گا۔ ہر طرف آپ کو یہی کچھ ملے گا۔ آپ اس کو اِس نظامِ حکومت کا ہرجانہ سمجھ کر اس کاروبار کو قبول کر لیں۔ ہمیں ایسی کوئی مجبوری لاحق نہیں تھی اس لیے اٹھے اور یہ کہہ کرچلے آئے کہ ’’جناب میں باز آیا اس طرح کے کاروبار سے۔ جب اسلامی نظام آ جائے گا تو دوبارہ آجائوں گا، میں کل ہی بند کر رہا ہوں یہ سب کچھ‘‘۔ واپس آئے، پارٹنر سے کہہ کر ساڑھے چھے لاکھ کا سامان اونے پونے بیچ کرجلدی سے ’ثواب‘ کو عاقبت پر رکھ کر ڈیڑھ لاکھ کا خرما سمیٹا، پانچھ لاکھ کا ثواب کمایا بلکہ کھایا، اور گھر آ کر ’اسلامی نظام‘ کا انتظار کرنے لگا۔

آجا کہ انتظار میں، جانے کو ہے بہار بھی
تیرے بغیر زندگی، درد بن کے رہ گئی
ارمان لیے بیٹھے ہیں ہم، سینے میں ہے تیرا ہی غم

ابھی تک انتظار کر رہے ہیں، ہمارے ساتھ آپ بھی منتظر رہیں۔ امید واثق ہے کہ دریں حالات اس قسم کی کوئی چیز ادھر کا رخ نہیں کرے گی۔

—- مصنف کی حال ہی میں شایع ہونے والی سوانح حیات ’متاع شام سفر‘ سے ماخوذ —-

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: