اسمارٹ فون نئی سگریٹ ہے —– مارک مینسن

1

میں کبھی کبھی اپنے گھر کے قریب جم میں کلاس لینے جاتا ہوں۔ یہاں ایک کوچ کھڑا چیختا رہتا ہے کہ ’’مزید پش اپس لگاؤ، مزید ڈنڈ لگاؤ، اور جب تک تھک نہ جاؤ، لگے رہو‘‘۔ اس کے بعد جب تم گھر جاتے ہو تو تین چار دن تک اٹھنا بیٹھنا دشوار ہوجاتا ہے۔ یہ بہت اچھا ہے۔ مجھے پسند ہے۔ میں ہفتے میں کم از کم ایک بارضرور جاتا ہوں۔
اکثر صبح یہی ہوتا ہے، ورزش کے دوران کوئی نہ کوئی اسمارٹ فون کی جانب لپکتا ہے اور چیک کرتا ہے کہ آیا کیا اسٹیٹس چل رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم وہ کیا دیکھتا ہے! شاید ای میل؟ انسٹاگرام؟ یا سوئٹ ہارٹ سے اسنیپ چیٹنگ وغیرہ، مجھے نہیں معلوم۔

کہنے کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے فون پر لگ جاتا ہے اور کوچ تلملا کر رہ جاتا ہے، اور ایک بار پھر چیختا ہے ’’فون اُدھر رکھ دو اور ورزش پر توجہ دو‘‘۔ اس دوران ہم سب بے وقوفوں کی طرح اُس کے پلٹنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔

یہ ہرکلاس میں دو سے تین بار ہونے لگا۔ وجہ جو بھی ہو، ایک دن میں نے فیصلہ کیا کہ اُس خاتون سے بات کروں جو اسمارٹ فون سے گلو کی طرح چپکی ہوئی تھی، جبکہ باقی لوگ ورزش میں لگے تھے۔

’’کیا واقعی تمہاری زندگی میں کوئی چیز ایسی نہیں جس کے لیے تیس منٹ انتظار کیا جاسکے؟ یا تم کینسر جیسے کسی موذی مرض میں مبتلا ہو؟‘‘ میں بے تکان بولتا چلا گیا۔ کمرے میں موجود ہرشخص خاموشی سے سن رہا تھا۔
اس شام، جب ہم سب اپنے اپنے گھر جاچکے تھے، میرے دماغ میں صبح والا واقعہ گھوم رہا تھا۔ میں نے خود سے سوال کیا ’’آخر مجھے اس اسمارٹ فون سے مسئلہ کیا ہے؟‘‘ جب کبھی ہم لمبی چہل قدمی کے لیے نکلتے ہیں، اور میری بیوی اسمارٹ فون نکالتی ہے، تو مجھے بے چینی سی ہونے لگتی ہے۔ کیا میرے ہی ساتھ کوئی مسئلہ ہے؟

میں جانتا ہوں کہ اس معاملے میں میرے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم سب کا ہی اپنے اسمارٹ فون کے ساتھ محبت نفرت کا یہ رشتہ قائم ہے۔ چند سال سے ہم مسلسل فون سے قریب تر ہوتے جارہے ہیں۔ ہرسال ہم اس بات پر کڑھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟

توجہ منتشر کرنے والی آلودگی
اگر تم اس بارے میں سوچو تو ہماری توجہ واحد شے ہے جو صحیح معنوں میں ہماری اپنی ہے۔ ہماری زندگی کا سارا مال و زر جانے والا ہے۔ ہمارے اجسام بھی سمجھوتوں کی نذر ہوتے ہیں۔ ہمارے رشتے بھی ٹوٹتے بنتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہماری یادداشتیں اور علمی قابلیت بھی جاتی رہتی ہے۔ مگر انتخاب کی سادہ سی اہلیت ہمیشہ ہمارے پاس رہتی ہے۔
بدقسمتی سے آج ٹیکنالوجی نے ہماری توجہ ہم سے چھین لی ہے۔ ہمارے لیے اپنی توجہ پر توجہ دینے کا وقت ہی نہیں بچا ہے۔ ایسا انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔

اپنی کتاب Deep Work میں Cal Newport دلیل دیتا ہے کہ کسی بھی ایک منصوبے پر توجہ اور یکسوئی انفارمیشن عہد میں کامیابی کے لیے ازحد ضروری ہے۔ مگر یہی اہلیت خطرے میں پڑتی نظر آرہی ہے۔

میں اس سے بھی آگے جاکر یہ کہوں گا کہ ہماری توجہ کی اہلیت خوشگوار اور صحت مند زندگی کا اہم جز ہے۔ ہم کئی ایسے دن اور ہفتے گزارتے ہیں جب ذہنی انتشار عروج پر ہوتا ہے۔ بے مصرف بیٹھے بے شمار کلکس اور نوٹیفیکیشنز میں الجھے رہتے ہیں۔

خوش اور صحت مند رہنے کے لیے ہمیں خود پرقابو پانے کی ضرورت ہے، اور اپنی صلاحیتوں کو درست سمت میں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی توجہ پرمضبوط گرفت کی ضرورت ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہی وجہ ہے مجھے جم میں سیل فون دیکھ کر غصہ آتا ہے۔ کیونکہ کلب میں مجھ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ نہ صرف جسمانی بلکہ دماغی طور پر بھی میری توجہ ورزش پر مرکوز رہے۔ اور ہر دس منٹ بعد کسی کا اچانک رک جانا، کہ وہ اپنے باس کو ای میل کرسکے، یا اپنے دوست کو لطیفہ سناسکے، یہ سب انتہائی زچ کرنے والا ہے۔

یہ دراصل توجہ منتشر کرنے والی آلودگی ہے۔ جب کوئی شخص اپنی توجہ کی یکسوئی میں ناکام ہوتا ہے، تو وہ آس پاس کے لوگوں کی توجہ منتشر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اُس پر اسمارٹ ڈیوائسز اور انٹرنیٹ کے طوفان نے ٹمبکٹو سے ٹوکیو تک زندگیوں میں بھونچال پیدا کردیا ہے۔ اس آلودگی نے ہماری روزمرہ زندگی پر شب خون مارا ہے، اور مزے کی بات یہ کہ ہمیں اس کا احساس بھی نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ہم کھانے کی میز پر اُس وقت جزبز ہوتے ہیں جب کوئی اسمارٹ فون نکال کر لکھنا شروع کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اُس وقت تلملا جاتے ہیں جب کوئی مووی تھیٹر میں فون نکالتا ہے، اور اُس وقت اورزیادہ غصہ آتا ہے کہ جب وہ محض ای میل چیک کررہا ہوتا ہے۔

یہ بالکل اسی طرح ہے کہ جب ایک شخص سگریٹ نکال کر دھواں اڑانا شروع کردیتا ہے، اور آس پاس کے لوگوں کے پھیپھڑے متاثر ہونے لگتے ہیں۔ اسمارٹ فون والا بھی اپنے ماحول کی یکسوئی میں انتشار کی آلودگی پھیلاتا ہے۔ یہ ہمارے احساسات ہائی جیک کرلیتا ہے۔ یہ غیر ضروری طور پر ہماری گفتگو یا خیالات میں مداخلت کرتا ہے۔ یہ ہمارے خیالات کا سلسلہ توڑ دیتا ہے، اور اُس اہم نکتے کوگُم کردیتا ہے جو بڑی مشکل سے حاصل ہوا تھا۔ یہ یکسوئی کا سارا عمل برباد کردیتا ہے۔

مگر محض تمباکو نوشی سے موازنہ کافی نہیں۔ اس بات کا کافی ثبوت موجود ہے کہ ہم ان ڈیوائسز سے اپنی صحت بھی تباہ کررہے ہیں۔ ہماری یادداشت اور توجہ کا دائرہ سمٹتا چلا جاتا ہے۔ یہ dopamine کا سبب بنتا ہے۔ اس سے مراد ہمارا نروس سسٹم ہے، جو مسلسل اسمارٹ فون کے استعمال سے خراب ہوتا ہے۔

ایسا لگ رہا ہے کہ میں کچھ زیادہ ہی ردعمل دے رہا ہوں۔ نہیں بالکل نہیں۔ میں بالکل سنجیدہ ہوں، اور یہ مسئلہ مجھ سے بھی زیادہ سنجیدہ ہے۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، میرے لیے سکون سے بیٹھ کر یکسوئی سے لکھنا اور سوچنا دشوار تر ہوتا جارہا ہے۔ خارجی مداخلتوں کی آلودگی بڑھتی چلی جارہی ہے۔مجھے یقین ہے کہ یہ معاملہ صرف میرا نہیں!
میں حالیہ برسوں میں بہت سے ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو اگر تھوڑی دیر تک اپنا فون چیک نہ کریں تو ناقابلِ یقین حد تک بے چین ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنا سماجی تعلق ٹوٹتا محسوس کرتے ہیں۔ وہ اپنا فون یوں ساتھ لیے پھرتے ہیں، جیسے لوگ اپنے کتے ہوائی جہازوں میں لیے پھرتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ لوگ جو ہر وقت ای میل اور پیغامات دیکھتے رہتے ہیں خود کو بہت اچھا اور کامیاب employee سمجھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں ہر وقت ہر معلومات کی فوری خبر ہوجائے، یوں وہ سب سے آگے نکل جائیں گے، ورنہ ناکام تصور کیے جائیں گے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بہت سے دوست پوری مووی سیدھی طرح بیٹھ کرنہیں دیکھ سکتے، وہ بے چین رہتے ہیں، بار بار اسمارٹ فون نکالتے ہیں۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو کھانے کے دوران پلیٹ کے برابر میں اسمارٹ فون رکھتے ہیں، اس کے بغیرکھانا ختم نہیں ہوتا۔

یہ ہرجگہ ہورہا ہے، ہروقت ہورہا ہے۔ یوں یہ معاشرے کا رواج بن گیا ہے۔ توجہ کا انتشار معمول بن رہا ہے، قابلِ قبول ہورہا ہے۔ یوں ہم سب اس کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔

مستقبل؟
میرا ایک خواب ہے دوستو! ایک ایسی دنیا کا خواب، جہاں لوگ دیر تک بیٹھ کر باہم طویل گفتگو کرسکیں۔ جہاں پلاسٹک اسکرین پر نگاہ ڈالے بغیر زندگی پر دیر تک بھرپور نظر ڈالی جاسکے۔ ایک ایسی دنیا ہو جہاں ہماری ٹیکنالوجی ہمارے اختیار میں ہو۔ اسمارٹ فون اور دیگر آلات ہماری روزمرہ مصروفیات کا ضمنی حصہ ہوں۔ ایک ایسی دنیا جہاں لوگ اپنی توجہ کے مالک ہوں، اسے ایک ایسی نعمت سمجھیں جس سے بہتر سے بہتر انداز میں استفادہ کیا جاسکے۔ توجہ پر بھی جسمانی صحت اور تعلیم جیسی توجہ دی جاسکے۔ ایک ایسی دنیا جو اسکرین کی قید سے آزاد ہو!

انٹرنیٹ اور دنیا کا بگاڑ
دنیا ایک ہی شے پر چلتی ہے: لوگوں کے احساسات پر۔ یہ انسانی جذبات ہیں جو دنیا پر حکمرانی کرتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ لوگ سب سے زیادہ پیسہ اُن چیزوں پرخرچ کرتے ہیں، جوخوشگوار احساسات پیدا کریں۔ جہاں پیسہ جاتا ہے، طاقت بھی وہیں کا رخ کرتی ہے۔ اس لیے تکنیکی اعتبار سے جتنا تم جذبات اور احساسات پر اثر انداز ہوگے، اتنا ہی مال اور طاقت حاصل کرسکو گے۔

ٹیکنالوجی یہی کام کررہی ہے، اور اس کام میں سب سے آگے بھی ہے۔ نئی ٹیکنالوجی لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ایجاد کی جاتی ہے۔ ایک بال پوائنٹ پین، ایک آرام دہ سیٹ ہیٹراور وغیرہ وغیرہ۔ قسمتیں ان ہی اشیاء کے آگے پیچھے بنتی اور بگڑتی ہیں۔ کیونکہ یہ لوگوں میں خوشگوار احساس پیدا کرتی ہیں، ان کی زندگیوں کو آرام دہ بناتی ہیں۔ معیشتیں عموما عوام کی خواہشات اور خوابوں کی تکمیل کی خاطر ہی گردش کرتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا لوگوں کے احساسات پر چلنا کوئی ایسی بُری بات بھی نہیں رہی ہے۔ صنعتی عہد میں یہ بے شک اچھی شے تھی۔ انسانوں کی اکثریت سردی، بھوک، اور تھکادینے والی مشقت میں جکڑی ہوئی تھی۔ مشینوں کی ایجادات اور شہروں کی ترقی اور نمائندہ حکومتوں نے عام لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری پیدا کی۔

جوں جوں ٹیکنالوجی اور معاشرہ آگے بڑھے، لوگ مشقت اور جسمانی مشکلات سے آزاد ہوتے گئے۔ ویکسین اور ادویات نے کروڑوں لوگوں کی زندگیاں بچائیں۔ سادہ سی مشینوں نے کمر توڑدینے والے کام کے بوجھ ختم کردیے۔

مگرحقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی خواہشات کہیں رکتی نہیں۔ اس لیے بیسویں صدی کے اواخر میں، ترقی یافتہ ملکوں نے نت نئی ٹیکنالوجی کی ایجادات جاری رکھیں، وہ زیادہ سے زیادہ پرتعیش زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ ایک نیا کمرشل دور شروع ہوا۔ اس نئی خواہش نے ٹیکنالوجی کی پیداواردھماکا خیز کردی۔ ٹوسٹر اوون، واشنگ مشین، آٹوموبائل، فاسٹ فوڈ، ٹیلی وژن، اور بہت کچھ آگے پیچھے سامنے آتا چلا گیا۔

زندگی بہت آسان ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ صدیوں کا فاصلہ کچھ ہی عرصہ میں طے ہوگیا۔ لوگ فون اٹھاکر منٹوں میں وہ گفتگو کرنے لگے، جسے پہلے مہینوں لگ جاتے تھے۔ کمرشل عہد اگرچہ پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوچکا تھا مگر لوگوں کی زندگی پھر بھی تھوڑے بہت فرق سے ایک جیسی تھی اور ایک ساتھ تھی۔ ہم ایک جیسے ٹی وی چینل دیکھا کرتے تھے۔ ایک جیسی موسیقی سنا کرتے تھے۔ ایک جیسے کھانے کھاتے تھے۔ ایک جیسے صوفے استعمال کرتے تھے۔ ایک جیسے اخبار پڑھا کرتے تھے۔ ایک یقینی تسلسل اور ربط تھا۔ ایک یگانگت اور تحفظ کا احساس موجود تھا۔ یہی وہ معاشرتی یکجائی تھی جسے آج اکثر لوگ یاد کرکے آہیں بھرا کرتے ہیں۔

پھر انٹرنیٹ آگیا!
انٹرنیٹ کے ارادے اچھے تھے۔ سیلیکون وادی کے موجدین اور ٹیکنالوجسٹ بڑی امیدیں لگائے بیٹھے تھے، کہ کمپیوٹر کے جال میں جکڑی دنیا ایک ہوگی اور باہم مربوط ہوگی۔ وہ دہائیوں تک دنیا کو عالمگیر رابطے میں پرونے کی تگ و دو کرتے رہے۔ وہ معلومات کی عالمی وحدت کے لیے دن رات کام کرتے رہے۔ ایک یوٹوپیا وہ بنانے جارہے تھے۔ ایک اعلٰی تعلیم یافتہ دنیا وہ تخلیق کرنے جارہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انگلیوں کے اشاروں پر دنیا بھر کی دانش تمہارے سامنے آ موجود ہوگی۔ انہوں نے اقوام کے درمیان عظیم تفہیم کے امکانات دیکھے، نسلوں اور طرز زندگی کے فرق مٹتے محسوس کیے۔ وہ ایک ایسی عالمگیر دنیا کا خواب دیکھ رہے تھے جہاں مشترکہ مفادات اور امن عالم کا امکان روشن نظر آرہاتھا۔
مگر وہ بھول گئے تھے!

وہ اپنے خوابوں میں اتنے کھوئے گئے تھے کہ بھول گئے، وہ بھول گئے تھے کہ دنیا معلومات پر نہیں چلتی۔ لوگ حقائق کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتے۔ وہ ڈیٹا کی بنیاد پرپیسہ خرچ نہیں کرتے۔

دنیا احساسات پر چلتی ہے!
جب تم ایک عام آدمی کومعلومات کی دہلیز پر لاکھڑا کرتے ہو، تب بھی وہ گوگل پرسچ کی تحقیق نہیں کرتا بلکہ اپنے احساسات کی پروا کرتا ہے۔ اسے ایسی حقیقت گوگل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں جو اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے بلکہ وہ ایسی چیز گوگل کرے گا جواس کے احساسات کی تسکین کرے خواہ وہ جھوٹ ہی کیوں نہ ہو۔ مثال کے طورپر تم کٹرنسل پرست ہو، تو بس دو کلکس کے فاصلہ پر ہی تمہیں نسل پرستوں کا پورا فورم مل جائے گا۔ وہ اپنی نسل پرستی میں اتنی دلیلیں گھڑ لائے گا کہ تم اپنی نسل پرستی پر شرمندگی کے بجائے فخر محسوس کرنے لگوگے۔
غرض انٹرنیٹ اس طرح ڈیزائن نہیں کیا گیا یا کیا جارہا کہ لوگوں کوضروری معلومات پہنچائے بلکہ یہ لوگوں کو وہی معلومات پہنچارہا ہے جو وہ چاہتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دونوں باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ مثال کے طورپر میری شدید خواہش ہے کہ امریکا کی موجودہ حکومت جلد ختم ہوجائے، تو فیس بک مجھے مسلسل ایسی چیزیں دکھائے گا جواس آرزو کو تقویت پہنچانے والی ہوں گی۔ مثال کے طورپر میں قدامت پرستوں کی ویب سائیٹ کا وزٹ کرتا ہوں، ان کا پولنگ ڈیٹا چیک کرتا ہوں، اُن کی تاریخ اور ذرائع معلومات تلاش کرتا ہوں، تو میں دیکھتا ہوں کہ یہ غالبا سچائی نہیں ہے۔ مگر ہم سب ہی احساسات کی منطق پر سوار سفر پر ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مجھے وہ معلومات بہت آسانی سے مہیا کی جارہی ہے، جو میرے خدشات کو درست اور خواہشات کو خوشنما بناکر پیش کرتی ہے۔ یہ انٹرنیٹ ہے جو ہمیں ہماری حقیقتوں سے دور کرتا چلا جارہا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ہم علمی وکائناتی حقائق سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں۔ معیشت سکھاتی ہے کہ جب کسی شے کی ترسیل ضرورت سے بہت زیادہ ہوجائے تو اس کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔ ایسا ہی کچھ معلومات کی بے ہنگم فراوانی سے ہورہا ہے۔ معلومات کی درجہ بندی اور معیار کے تعین میں دشواری بڑھتی چلی جارہی ہے۔

اگر میں آج ایک مضمون پڑھتا ہوں جو مجھے بتاتا ہے کہ خاص عمل processedسے گزارا گیا گندم نقصان دہ ہے، تواگلے روز تین ایسے مضامین میرے سامنے آجائیں گے جوprocessedگندم کی تیاری کے حق میں دلائل گھڑ لائیں گے، اور پھر ایک اور مضمون مجھے یہ سمجھائے گا کہ گزشتہ سارے مضامین کیوں غلط تھے۔ اب صورتحال یہ بنی کہ مجھے کسی بھی مضمون پر اعتبار نہ رہا۔ متضاد معلومات کی بھرمار نے میرے دماغ کی چولیں ہلادیں۔ آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے؟ لگتا ہے سب پیسے بنانے کے چکر میں صارفین کو چکر دے رہے ہیں!

یہ بے اعتباری جب سیاسی نظام میں داخل ہوجاتی ہے تو تباہی آتی ہے۔ جبکہ جمہوریت نام ہی بھروسے کا ہے۔ قانون کی حکمرانی کا سارا کھیل ہی بھروسے کا ہے۔ اگر ہم اپنے سیاسی اور قانونی نظام پر ہی بھروسہ کرنا چھوڑدیں گے تو پھر کیا بچے گا؟ یا تو یہ ادارے ڈھے جائیں گے یا سرطان زدہ ہوجائیں گے۔
مگر انٹرنیٹ ایسے ایسے فائدے اور خواب دکھاتا ہے کہ ’بے اعتباری‘ کا کاروبار منافع بخش نظر آتا ہے۔

یوں سمجھیے ہمارا بیڑہ غرق ہوگیا!
یہ کوئی امریکی یا مغربی شے نہیں۔ یہ ہر جگہ ہورہی ہے۔ فلپائن، ترکی، برازیل، روس، فرانس، اور برطانیہ۔ یہ سب انٹرنیٹ کی ’بے اعتباری‘ کی زد میں ہیں۔ ایک سیاسی کشمکش ہرطرف ہے۔ لوگ اکثرمعلومات پر بھروسہ نہیں کررہے۔لوگ اپنے ہی معاشروں میں گردش کرتی اکثر معلومات پر بے یقینی کا شکار ہیں۔ یہ لا محدود معلومات لوگوں کو دانشور نہیں بناتی بلکہ الجھا دیتی ہے۔

جب لوگ الجھتے ہیں، توواپس اپنے احساسات اور جذبات کا رخ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے اپنے احساسات کی فکر کرو۔ باقی سب کو بھاڑمیں جھونکو۔ کچھ ٹیک ماہرین کہتے ہیں کہ موجودہ سیاست خودہی انتشار کا شکار ہے۔ ایک اوملیٹ بنانے کے لیے کئی انڈے توڑنے پڑتے ہیں، اور نئے مؤثر نظام کی آمد پر پرانے بوسیدہ ڈھانچے ڈھے جاتے ہیں۔ یہ محض ٹیکنالوجی کے دفاع میں گھڑی گئی باتیں اور اصطلاحیں ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ سیاست میں ہورہاہے وہ انتشار نہیں ہے۔ انتشار کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ کوئی بہتر نظام جمہوریت کی جگہ لینے کے لیے موجود ہو یا امکان رکھتا ہو۔ مگر یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم اپنی فطرت کے کم تر اور رذیل پہلوؤں کی لپیٹ میں ہیں۔

تہذیب کی تعمیر کا مقصد لوگوں کی فطرت کے بہترین حصوں کی نشونما تھا۔ اُن کے بہترین رجحانات کا فروغ تھا۔ سیکڑوں سال اس تعلیم اور آگہی میںصرف ہوئے کہ سائنس، عوامی مباحثے، معقول دلیل، اور ایسے طاقت ور ادارے مستحکم کیے جاسکیںجومعاشرے اور ریاست کوترقی کی منزل تک پہنچاسکیں۔

جہاں تک میں کہہ سکتا ہوں، انٹرنیٹ ہمیں وہ کچھ مہیا نہیں کرسکا جس کی توقع کی گئی تھی، بلکہ صورتحال یکسر الٹی ہوچکی ہے۔ ہمارے ساتھ جو کچھ بھی ہورہاہے، وہ اسی انٹرنیٹ کی بدولت ہے۔

ہرایک مایوسی میں گھرا ہے۔ ہر ایک خوفزدہ ہے۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ تم کس ریاست میں رہتے ہو۔ اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کس سیاسی نظام سے تم جُڑے ہو۔ اس کے باوجود کہ جنگیں اور پرتشدد واقعات اپنی کم ترین شرح پر ہیں۔ جبکہ تعلیم، صحت، اور روزگاراپنی بہترین شرح پر ہیں۔ ہرایک ہر جگہ واضح طورپر دیکھ رہا ہے کہ دنیا ایک دوزخ کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس سب کی بنیادی وجہ معلومات (علم، مترجم)پر سے اٹھتا ہمارا بھروسہ ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: