غامدی صاحب کا ترک وطن اور انکا دعویٰ: ایک جائزہ —– عبدالمجید گوندل

0

جناب غامدی صاحب کی ایک وڈیو

https://m.facebook.com/story.php?story_=2405753946361395&id=431325210565598

جو ان کے انٹرویو پر مشتمل ہے، دیکھی اور سنی۔ اس وڈیو پوسٹ کے نیچے تعارفی الفاظ کا ابتدائیہ یہ ہے:

“غامدی صاحب کا وہ انٹرویو جس کے بعد ان کے خلاف کفر کے فتوے جاری ہوے اور ان کو جان بچانے کے لیے ملک چھوڑنا پڑا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ انہوں نے اس ملک کی مقدس گائے کی حقیقت بیان کرنے کی جرات کر ڈالی۔۔۔۔”

وڈیو کے ان تعارفی الفاظ کے تفصیلی جواب سے پہلے یہاں اتنا عرض کر دینا ضروری ہے کہ جناب غامدی صاحب نے جو
جلاوطنی اختیار کی وہ ان کی خود اختیار کردہ تھی۔ اس وڈیو کا ان کے اس اقدام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لگتا ہے ان کے کسی عقیدت مند نےانہیں مظلوم باور کرانے کے لیے بے سوچے سمجھے اور حقیقت حال جانے بغیر اس وڈیو کو ان کی جلا وطنی کا سبب قرار دے دیا ہے۔

یہ انٹرویو یقینا جناب غامدی صاحب کی رضامندی سے ہی ریکارڈ ہوا ہے۔ وڈیو سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ انٹرویو ایڈٹ کیا گیا ہے۔ انٹرویور کا ایک مزید سوال ابھی جاری تھا کہ سوال مکمل ہونے سے پہلے یہ وڈیو ختم ہو جاتی ہے۔ ظاہر ہے ایسا جناب غامدی صاحب کے ایما پر ہوا ہو گا۔ ورنہ اس سوال کا جتنا حصہ سنائی دیتا ہے۔ وہ زیر بحث موضوع سے ہی متعلق ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وڈیو کے بارے میں جو تعارفی الفاظ دیے گئے ہیں کیا وہ جناب غامدی صاحب کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ ان کی آڈیو وغیرہ نیٹ پر جاری کرنے کے لیے ان کی اجازت لینا ضروری ہوتا ہے یا نہیں؟ امید ہے ان سوالات کے جوابات ذمہ داران ضرور مرحمت فرمائیں گے۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔

یہ وڈیو کہاں اور کب ریکارڈ ہوئی۔ ان دونوں سوالات کا جواب معلوم کرنا ضروری ہے۔ ہمارے پاس ان امور کو جاننےکے لیے اتفاق سے وڈیو میں ٹھوس اور واضح داخلی شہادت موجود ہے۔ جناب غامدی صاحب اس وڈیو میں فرما رہے ہیں ‘بندوق والوں کے لوگ قصیدے پڑھتے ہیں۔ جن کو نفرت کا ہدف بن جانا چاہیے انہیں وہ مسیحا سمجھتے ہیں۔ کسی با ضمیر آدمی کو ایک لمحے کے لیے بھی اس کو قبول نہیں کرنا چاہیے اوراعلان کرنا چاہیے کہ بادشاہی یا خدا کے ہاتھ میں ہے یا ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن پرحکومت قائم ہونی ہے۔’

انہوں نے اپنی گفتگو میں جس جرات و بیباکی سے فوج پر جو اتنی تند و تیز تنقید کی ہے وہ پاکستان میں ہوتے ہوئے کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی آٹھ سالہ آمریت کے دوران وہ پاکستان میں ہی تھے۔ لیکن انہوں نے اپنے ان جذبات کا کبھی بھولے سے بھی اظہار نہیں کیا بلکہ اس وقت خاموشی ہی قرین مصلحت اور باعث عافیت سمجھی گئ۔

ان حقائق کے بعد یہ امر کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ وڈیو پاکستان میں نہیں بلکہ ملائشیا میں ریکارڈ ہوئی۔ لہذا یہ کہنا بالکل غلط ہو گا کہ اس وڈیو کی وجہ سے جناب غامدی صاحب کو پاکستان چھوڑنا پڑا۔ اور پھر یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ ایک مطلق العنان فوجی آمر کے خلاف ایسی نفرت سے بھری اور اشتعال انگیز گفتگو پر مبنی وڈیو ملک میں گونج رہی ہو اور وہ اس پر کوئی ایکشن نہ لے بلکہ نفرت و اشتعال پھیلانے والے کو کھلا چھوڑ دے کہ وہ شخص ریاستی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ملک سے بڑے اطمینان سے فرار ہو جائے۔

جناب غامدی صاحب نے اوپر بندوق والوں کو جس نفرت کا ہدف بنایا ہے ان کے ٹریک ریکارڈ کے مطابق یہ ان کا مستقل رویہ نہیں ہے۔ یہ رویہ یا رد عمل دراصل حالات اور نسبتوں سے جڑا ہوا ہے۔ ادھر حالات اور نسبتیں بدلیں ادھر بات بدل بدل گئ۔
جنرل پرویز مشرف نے چونکہ ان کے محسن و مربی میاں محمد نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ لہذا جناب غامدی صاحب کا اس کے خلاف غم و غصہ قابل فہم ہے۔ کئ سال پہلے جنرل محمد ضیا الحق مرحوم نے بھی جمہوری حکومت کی جگہ ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا تھا۔ چونکہ وہ میاں محمد نواز شریف کے لیے والد کا درجہ رکھتے تھے۔ یا کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے۔ اس بندوق والے پر جناب غامدی صاحب نے ان کی وفات پر مرثیہ بھی لکھا اور قصیدہ بھی۔ بطور نمونہ ایک دو جملے یہاں درج کیے جاتے ہیں:

“صدر جنرل محمد ضیاءالحق بھی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات ہماری تاریخ کا ایک ناقابل فراموش سانحہ ہے۔ ۔ ۔ اسلام کا یہ بطل جلیل ہمارے دشمنوں کے انتقام ہی کا نشانہ بنا۔ ۔ ۔ ۔ انہیں شاید معلوم نہ تھا کہ اس طرح وہ اس قوم کی تاریخ میں ایک ایسا باب رقم کر رہے ہیں جو اس کے نصب العین کی تلاش میں اب ہمیشہ اس کے لیے منبع الہام بنا رہے گا۔ اقبال نے عالمگیر کے بارے میں کہا تھا: “ترکش ما را خدنگ آخریں” (ماہنامہ اشراق ستمبر ١٩٨٨)

یہ وڈیو کب ریکارڈ ہوئی۔ اس کی تاریخ کلپ پر درج نہیں ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ وہ وقت ہو گا جب پاکستان میں پانامہ کا مقدمہ زیر سماعت تھا۔ ان دنوں قائدین مسلم لیگ ن اسٹیبلشمنٹ کی ذو معنی اصطلاح کے پردے میں افواج سے شکایت کناں تھے۔

نام اس کا آسماں ٹھہرا لیا ‘تقریر‘ میں
ہو سکتا ہے انہی دنوں میں کسی وقت جناب غامدی صاحب نے مسلم لیگ ن سے اظہار یکجہتی اور حمایت میں اس وڈیو کے ذریعے ہمنوائی کا حق ادا کیا ہو۔
مسلم لیگ ن سے جناب غامدی صاحب کا یہ تعلق کیسے قائم ہوا، یہ قصہ طویل ہے۔ لیکن یہاں اتنا ہی عرض کرنا کافی ہو گا کہ دونوں نے کسی لمحے یہ محسوس کیا کہ وہ ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ دونوں نے وفا داری کی ایک نئ داستاں رقم کی۔

جناب غامدی صاحب مذہبی اسکالر ہیں۔ وہ دین و سیاست کے مسائل میں اپنے تفردات کی وجہ سے شہرت تامہ رکھتے ہیں۔ سیاست میں علما کی شرکت کو وہ ممنوع قرار دیتے ہیں۔ اپنی اس فکر کا انہوں نے اپنے رسالہ ‘اشراق‘ کے ذریعے خوب پرچار کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم پاکستان نے سال ١٩٩٧ میں جناب غامدی صاحب کی اس رائے کو اپنی تقریر کا معتدبہ حصہ بنا کر اسے مسلم لیگ کی پالیسی کا اعزاز بخشا۔ اس تقریر میں جناب غامدی صاحب کی فکر کو ان کے استدلال‘ اسلوب بیان حتٰی کہ ان کی ڈکشن سمیت استعمال کیا گیا تھا۔ اس تقریر کے دو جملے پیش ہیں:

“۔ ۔ ۔ لیکن اس کا یہ مفہوم کہ سیاسی قیادت‘ علمائے دین کا کام ہے‘ اسلامی تاریخ میں ایک اجنبی تصور ہے۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ میں دین کے جید علما عملی سیاست سے دور رہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اہل سیاست یا ارباب اقتدار دینی احکام سے رو گردانی کر رہے ہیں تو وہ انہیں خبردار کرتے رہے۔”

بقول جناب غامدی صاحب علمائے دین کا کام یہ ہے کہ جب اہل سیاست یا ارباب اقتدار دینی احکام سے رو گردانی کریں تو وہ انہیں خبردار کریں۔ موصوف خود بھی جید عالم دین ہیں۔ میاں محمد نواز شریف کی وزارت عظمٰی کے دو ادوار میں وہ پاکستان ہی میں تھے۔ کیا ‘اشراق‘ کے صفحات سے وہ ثابت کر سکتے ہیں کہ انہوں نے میاں محمد نواز شریف کو ان کی کسی دینی احکام سے رو گردانی پر کبھی متنبہ کیا۔ یا پھر ان کے شاگرد رشید جناب خورشید ندیم نے ان کے بجائے یہ ذمہ داری سر انجام دی ہو۔ اس کے برعکس انہوں نے اپنے کالموں میں ہمیشہ میاں صاحب کی خواہش اور سوچ کے بیانیے لکھنے میں اپنا سارا زور قلم صرف کیے رکھا۔ مثال کے طور پر ’سیکولرازم کئ طرح کا ہوتا ہے‘ کے عنوان سے سیکولرزم کی حمایت کے لیے بحث کی راہ باز کی۔ ختم نبوت کے حوالے سے طے شدہ بیان حلفی کی عبارت کو جب حکومت نے تبدیل کیا تو عوام نے اس کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ جناب خورشید ندیم نے اس احتجاج کو تصوف کے بل بوتے پر کاوئنٹر کرنے کی لاحاصل کوشش بھی کی۔ انہوں نے اس سلسلہ میں حکومت پر اٹھائے گئے اعتراضات کے رد میں صوفیا کو پیش کیا کہ امت ان کو عزت و احترام دیتی ہے۔ لہذا قدرے ویسے ہی ادعا کے حامل ایک دوسرے شخص مرزا قادیانی اور ان کے پیروکاروں کو کافر کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان معاملات میں البتہ جناب غامدی صاحب کی فکر ہی ان کی رہنما رہی۔

اس لیے مناسب ہے کہ اسے یہاں تفصیل سے بیان کیا جائے۔ پہلی بات یہ ہے کہ صوفیا وحدت الوجود کا نظریہ رکھتے ہیں۔ اس سے آگے وہ کشف والہام وغیرہ کے بلند بانگ دعوے پیش کرتے ہیں۔ جن کے بارے میں کسی شاعر نے خوب کہا ہے کہ :
تصوف برائے شعر گفتن خوب است
لیکن یہ ایک تاریخی مسلمہ ہے کہ صوفیا نے دعویٰ نبوت کبھی نہیں کیا۔ صوفیا کا مقدمہ ہی جدا ہے۔ مرزا قادیانی نے خود کو نبی کہا ہے اور اس کے پیرو کار اسے نبی مانتے ہیں۔ صوفیا کا کون سا ایسا دعویٰ ہے جسے مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کے لیے بطور دلیل پیش کیا جائے۔

حکومت پر دباؤ تھا کہ قادیانیوں کو کافر قرار دینے والی شق اوراس کے لوازمات سے متعلقہ صریح عبارت غیر واضح اور مبہم صورت سے بدل دی جائے۔ حکومت نے بڑی چابکدستی سے ایسا کر تو لیا لیکن اس کی یہ سازش طشت از بام ہو گئ۔ حکومت کو پسپا ہونا پڑا۔ اس ناکامی کو ابھی بھی کامیابی میں بدلنے کے لیے جناب خورشید ندیم نے اپنے استاد گرامی کی علمی کاوشوں کو اپنے کالموں کی زینت بنایا۔ منطق و استدلال کا خوب زور باندھا۔ ادھر جناب غامدی صاحب مرزا قادیانی کو صوفی کے لقب سے پکارتے نظرآ نے لگے۔ گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ مرزا قادیانی بھی منجملہ اصحاب تصوف میں سے ایک تھے۔ معلوم نہیں ہو پا رہا کہ وہ مرزا قادیانی کی اس طرح حمایت کر رہے ہیں یا مخالفت۔ وہ اس لیے کہ جناب غامدی صاحب خود تصوف کو دین اسلام کے متوازی ایک دین سمجھتے ہیں۔ گویا تصوف خارج از اسلام ہے۔ جب وہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو اسی تصوف سے بنیاد فراہم کرتے ہیں‘ تو فیصلہ یہی ہو گا کہ جس طرح تصوف غیر دینی فلسفہ ہے تو مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ نبوت جو تصوف کا ہی ایک شاخسانہ ہے خود بخود غیر اسلامی قرار پاتا ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جناب غامدی صاحب جیسی علمی شخصیت بھی عقیدہ ختم نبوت پہ شب خون مارنے والے جھوٹے مدعی نبوت کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھے۔ عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں قرآن و سنت کی صریح تعلیمات کو پس پشت ڈال کر محض دو از کار تاویلات سے قادیانوں کے موقف کو درست ثابت کرے۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں:
تاویل بڑھ کے اقرب باالکفر ہو گئ
کچھ بھی نہیں اے شیخ ترے علم و فن سے دور

اسی طرح جناب خورشید ندیم ‘قومی ریاست‘ کی اہمیت و ضرورت پر بھی خامہ فرسائی کرتے نظر آرہے ہیں۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ بظاہر یہ بے ضرر اصطلاح دراصل دین کے سیاسی تصور کے لیے پیغام اجل ہے۔ مغرب یہی چاہتا ہے اور جناب خورشید ندیم اسی کی پیروی میں اس زہر ہلاہل کو قند بنانے پہ تلے بیٹھے ہیں۔ اس وڈیو میں جناب غامدی صاحب نے نہ جانے کس دلیل اور بنیاد پر یہ فرما دیا ہے کہ “پاکستان تاریخی لحاظ سے قومی ریاست کے طور پر وجود میں آیا ہے، نیشنل سٹیٹ کے طور پر۔”

کتنی حیرت کی بات ہے کہ دونوں صاحبان علم و فضل اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری ہیں۔ مسلمان بھی ہیں، اور آئین پاکستان کے پابند بھی، لیکن زبان غیروں کی بول رہے ہیں۔ یعنی جس شاخ پہ بیٹھے ہیں اسی کو کاٹنے کے درپے ہیں۔

خامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا لکھیے
ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے

جناب غامدی صاحب کی یہ بات تاریخی لحاظ سے بھے درست نہیں ہے۔ ‘تحریک پاکستان کے دو قومی نظریہ‘ میں موجود لفظ ‘قومی‘ سے اگر قومی ریاست یا نیشنل سٹیٹ کا مفہوم نکالا گیا ہے تو یہ تاویل دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے۔ جناب غامدی صاحب کا مزعومہ قومی ریاست یا نیشنل سٹیٹ کا تصور یورپی ہے جو فلسفہ نیشنلزم سے موسوم ہے۔
اس نیشنلزم کے مطابق قومی ریاست مذہب، سیاسی اور ریاستی معاملات سے بے دخل ہو جاتی ہے۔ پھر ایسی کمزور، بے حیثیت اور بے وقعت قومی ریاستوں کا اس کے سوا اور کیا کام رہ جاتا ہے کہ وہ استعمار کی تابع مہمل بن کر رہیں۔ اور اس کی ہوا و ہوس کی بھوک مٹاتی رہیں۔ یہ ہے وہ بے دست و پا، جسد بے روح قومی ریاست، جس کو بنانے میں جناب غامدی صاحب پر جوش اور سرگرم عمل ہیں۔

اگر تحریک پاکستان کے دو قومی نظریہ سے وہی کچھ مراد ہے جو جناب غامدی صاحب آج سمجھ رہے ہیں تو یہ بات کانگرس کو کیوں سمجھ نہ آسکی۔ جس نے تحریک پاکستان کے دو قومی نظریہ کے توڑ اور مقابلے میں یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ ‘قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔‘ اس نعرے کو مزید معقول اورعین اسلامی باور کرانے کے لیے کانگرس نے مولانا حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ علیہ کو استعمال کیا۔ ‘قومی ریاست‘ کی اصطلاح جو آج کل مستعمل ہے یہ وہی ہے جسے ماضی میں ‘قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ ‘ سے تعبیر کیا گیا تھا۔ لیکن علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے اسی وقت یہ اشعار لکھ کراس نظریے کا بطلان فرما دیا تھا۔

عجم ہنوز نداند رموز دیں ورنہ + زدیوبند حسین احمد ! ایں چہ بوالعجبی است
سرود بر سر منبر کہ ملت از وطن است + چہ بے خبر ز مقام محمد عربی است
مصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست + اگر بہ او نرسیدی‘ تمام بو لہبی است

علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے تاریخ کی یہ شہادت بھی پیش کی تھی کہ نیشنلزم انسان دشمن فلسفہ ہے۔

اس سے پہلے بھی جناب غامدی صاحب اور ان کے شاگرد رشید خورشید ندیم صاحب کا پیچھے موقع کے لحاظ سے کچھ ذکر ہو چکا ہے۔ ان دونوں صاحبان اور مسلم لیگ ن کی حکومت کے درمیان دو طرفہ مثالی تعلقات کا احوال ابھی باقی ہے۔ جو یہاں بیان کیا جاتا ہے۔

میاں محمد نواز شریف جب پہلی دفعہ اقتدار میں آئے تو وہ پنجاب کے وزیر اعلی تھے۔ انہوں نے ایک نئ طرح یہ ڈالی کہ ذاتی حیثیت میں ایک عالم دین پروفیسر طاہر القادری کو اڈوپٹ کر لیا۔ موصوف کو ماڈل ٹاؤن میں مہنگی اراضی کوڑیوں کے مول الاٹ کی۔ جناب مجیب الرحمن شامی نے اس واقعہ پر ‘دینداری کے پردے میں دنیا داری ‘ کے عنوان سے روزنامہ نوائے وقت میں ایک کالم بھی لکھا تھا۔ صرف یہی نہیں میاں محمد نواز شریف نے مولانا پر اپنی عقیدتیں بھی نچھاور کیں۔ اپنے کاندھوں پر بٹھا کر انہیں حج و عمرے کرائے۔ روزنامہ نوائے وقت کے ادارتی صفحہ کے حصہ کو کم کر کے مولانا کے کالم منہاج القرآن کے لیے جگہ بنائی گئ۔ اس کار خیر میں جناب مجید نظامی مرحوم کی ان دونوں حضرات پر شفقت بھی شامل تھی۔ مولانا کی سیکیورٹی کے لیے پولیس گارد تعینات کی گئ۔ لیکن انسان گردشوں کے نظام کے آگے بے بس ہے۔ پھر نہ جانے وقت نے اچانک ایسی کیا کروٹ لی کہ یہ رفاقتیں پل بھر میں رقابتوں میں بدل گئیں۔

پاکستان اور اس پر حکمرانی کی تاریخ میں سال ١٩٩٧ اس اعتبار سے منفرد تھا کہ پہلی دفعہ میاں محمد نواز شریف دوسری بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوے۔

اسی سال ایک دوسرا واقعہ یہ ہوا جس کا مسند دعوت و ارشاد سے تعلق تھا۔ ہوا یوں کہ جناب غامدی صاحب ١٩٩٠ سے ‘تاویل کی غلطی‘ کے عنوان سے آغاز کر کے دین و سیاست کی دوئی پر مضامین لکھ رہے تھے۔ ١٩٩٧ تک ان کے ایک دو اور ساتھی بھی اسی موضوع پر اخبارات و رسائل میں خامہ فرسائی کرتے نظر آنے لگے۔ ان کا موقف یہ تھا کہ علما کو سیاست میں حصہ نہیں لیںا چاہیے۔ ان کا اصل کام دعوت اور تعلیم و تربیت ہے۔ اہل سیاست اور حکمران اگر الله اور رسول کے کسی حکم کی روگردانی کریں تو علما انہیں اس پر متنبہ کریں۔ ان کے شایان شان یہی کام ہے‘ سیاست نہیں۔
اسی سال اگست کے مہینے میں میاں محمد نواز شریف وزیراعظم پاکستان نے اپنی ایک تقریر میں پہلی دفعہ جناب غامدی صاحب کے ان خیالات کو بھرپور طریقے سے اپنی تقریر کا حصہ بنایا۔ اس تقریر نے گویا یہ خبر دے دی کہ میاں محمد نواز شریف نے حسب عادت ایک عالم دین جناب غامدی صاحب اور ان کی مذکورہ بالا عالمانہ رائے دونوں کو جی جان سے پسند کیا اوراپنا لیا ہے۔

حکومت وقت کی اس شاندار پذیرائی کو جناب غامدی صاحب نے اپنی فکر ونظر کی وسیع اشاعت اور ابلاغ کے لیے غنیمت جانا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے الیکٹرانک میڈیا تک رسائی کے لیے حکومت کی مدد چاہی جو انہیں پورے پروٹوکول کے ساتھ حکومت کی طرف سے عنایت کر دی گئ۔

خورشید ندیم صاحب ایک کہنہ مشق صحافی کی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ ذاتی حیثیت میں علم و فضل سے آراستہ ہیں۔ حکومت کی سرپرستی انہیں اس وجہ سے بھی بلا ادنٰی تامل مل گئ کہ وہ جناب غامدی صاحب کے شاگرد خاص اور سچے فالور ہیں۔ سیاسی امور اور بطور خاص مذہبی مسائل میں وہ ان کی رائے کو ہی معتبر قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ دونوں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر وہ چھا گئے۔ پی ٹی وی پر بھی انہوں نے اپنی جگہ بنائی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت انہیں تفویض کی گئ۔ تمغہ حسن کارکردگی سے بھی سرفراز کیے گئے۔ حکومت نے ان کی صلاحیتوں کی بجا طور پر قدرافزائی کی۔ حالات نے بہت کچھ زیر و زبر کر دیا ہے لیکن وہ اپنے محاذ پر ثابت قدمی سے آج تک ڈٹے ہوے ہیں۔

اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ ایسے کیا حالات تھے جن کی وجہ سے جناب غامدی صاحب نے پاکستان سے ہجرت کرنا ضروری خیال کیا۔ جلا وطنی سے پہلے میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم پاکستان کی سرپرستی کی وجہ سے انہیں سیکیورٹی وغیرہ کا غیر معمولی پروٹوکول حاصل تھا۔ لیکن اکتوبر ١٩٩٩ میں جنرل پرویز مشرف نے ملک کی باگ ڈور سنبھال لی اور ١٨ اگست ٢٠٠٨ تک وہ سربراہ مملکت رہے۔ میاں محمد نواز شریف پر ایک معاہدے کے تحت پاکستان چھوڑ نے اور سعودی حکومت کی تحویل میں رہنے کی پابندی لگائی گئ۔

جناب غامدی صاحب جنرل پرویز مشرف کے تمام عرصہ اقتدار میں پاکستان میں ہی رہے اور نجی چینلز پر اپنے پروگرام بھی کرتے رہے۔
سال ٢٠٠٩ کی آخری سہ ماہی میں البتہ وقت کا مزاج بدلنے لگا۔ یہ کہانی ایک عینی شاہد اویس اقبال کے الفاظ میں کچھ یوں ہے

“یہ تیس اکتوبر ٢٠٠٩ کا دن تھا اور مجھے جاوید احمد غامدی کے ساتھ جیو نیوز کے لیے یوتھ شو کی ریکارڈنگ کروانی تھی۔ علامہ اقبال روڈ لاہور پہ واقع بظاہر خستہ حال عمارت کے اندر واقع اس شو کی پچپن اقساط ریکارڈ کروا چکا تھا اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ آج کی ریکارڈنگ اس شو کی آخری ریکارڈنگ ثابت ہوگی۔

“اس دن موضوع تھا ‘جبلت سماج اور مذہب سے زیادہ قوی ہے‘۔ سوال و جواب کے دوران میں جناب غامدی صاحب غصے میں آ گئے۔ انہوں نے اپنا مائیک اتارا اور سٹوڈیو سے باہر چل دیے۔ انہیں ہماری پروڈکشن ٹیم نے بہت روکنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کسی کی ایک نہ سنی۔ بلٹ پروف پجارو کے اندر ایک اور بلٹ پروف کیبن میں بیٹھے اور ایلیٹ فورس کی دو گاڑیوں کے ہمراہ واپس ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی میں واقع اپنے بنگلے کی جانب روانہ ہو گئے۔

“نومبر ٢٠٠٩ کے وسط میں جیو لاہور کے انفوٹینمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک فیکس آیا جسے فیکس مشین سے میں نے نکالا۔ یہ فیکس تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بھیجا گیا تھا اور اس میں دو لوگوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئ تھی۔ ایک نجم سیٹھی صاحب تھے جو ایک ملحد ہیں اور دوسرے غامدی صاحب تھے۔ اس دھمکی کے بعد نجم سیٹھی تو پاکستان ہی میں رہے مگر جو غامدی صاحب خدا کو حفیظ اور غفورالرحیم مانتے تھے‘ وہ ملائشیا روانہ ہو گئے اور تادم تحریر وہیں مقیم ہیں۔”

یہاں ایک اہم خبر بھی آپ سے شیئر کی جاتی ہے کہ جناب غامدی صاحب ملائشیا میں دس سال قیام کے بعد اب اپنی دوسری منزل یو ایس اے پہنچ گئے ہیں۔ اس موقع کی مناسبت سے وارث شاہ کا یہ مصرع یاد آ رہا ہے:

اساں جدوں کدوں اوہناں پاس جاناں جیہڑے محرم اساڈڑے حال دے نی

نوٹ: ادارہ کا مصنف کی رائے سے اتفاق لازم نہیں، دانش کے صضحات اس موضوع پہ کسی بھی تحریر کے لئے دستیاب ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے: راہرو ------------ جاوید احمد غامدی پر فاروق عادل کا خاکہ
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: