اخبار، لاشیں اور اذیت —– سحرش عثمان

0

انور مقصود لکھتے ہیں اخبار روز ہمارے گھر لاشیں اور ان کی اذیت ڈال جاتے ہیں۔

اب تو یہ دوہرا ظلم ہوا ہے کہ یہ لاشیں صرف صبح ہی صبح نہیں ڈال جاتا کوئی بلکہ سوشل میڈیا کے توسط ہر آن ہم نئی موت کا ماتم کررہے ہوتے ہیں۔
ہر وقت کسی کے مرنے کی خبر کسی ظلم کی داستاں کسی اذیت کی مخبری اور ہم سٹنڈ بیٹھے سکرین اوپر نیچے کیے جاتے ہیں بلاوجہ بلا مقصد لاشوں کو سکرول ڈاؤن اور سکرول اپ کرتے رہتے ہیں۔
کبھی صلاح الدین کا نوحہ۔
کبھی امرتا کا دکھ
کبھی کسی اقلیت کا دکھ
اور اس پر بے حسی کے جواز۔
ایک لمحے برآمد ہوئی لاش پر ماتم کررہے ہوتے ہیں تو اگلے لمحے یہ سننا پڑتا ہے یہ لاش کسی کی امیدوں کا آخری مرکز تھی۔

اس وقت اٹھنے والی ٹیس جگر کو لفظوں میں بیاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی نئی خبر کوئی نئی موت اور اس کا سوگ دل کو نئے دردسے بھر دیتا ہے۔
ہم بھی لگتا ہے تھوڑے تھوڑے اذیت پسند ہوگئے ہیں ہمیں بھی اب ایسی دکھی انسانیت سوز خبریں ہی “مزا”دیتی ہیں۔
جب تک حادثہ سانحے میں نہ بدل جائے ہمارے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔
جب تک روح کے مستقل روگ خون آلود نہ ہوجائیں جب تک کوئی ان پرانے زخموں سے کھرنڈ نہ کھرچنے لگے تب تک ہمارے لبوں سے لفظ کشمیر بھی تو ادا نہیں ہوتا۔
ہم زخموں کے ناسور بننے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ تاکہ ناسور بنتے ہم سسک کر چلا اٹھیں اور پھر چینختے رہیں کہ کوئی تو سنے۔ کوئی آئے مسیحائی کو۔
خدا جانے خود اذیتی کی یہ کونسی منزل کونسا رستہ ہے جس پر چل نکلے ہیں۔

پہلے بھی کہا تھا ایک بار پھر سے وہی الفاظ لکھنے پڑ رہے ہیں کہ جب موت طبعی نہ رہے جب کوئی کسی سے زندہ رہنے کا حق چھین لے یا چھیننے کی کوشش کرئے تو یہ اس منہ زور کا تھپڑ ہوتا ہے سماج اور سٹیٹ کے منہ پر۔
اور اگر ایسا منہ زور پکڑا نہ جائے تو حاکم وقت کا گریباں پکڑنا چاہئیے۔
جانے کب تک ہم ایسے منہ زوروں کی تلاش میں ناکام رہیں گے۔
خیر ناکامی کی بھی اب کیسی شرمندگی۔ کس کے ہاتھ پر لہو تلاش کریں اور کس کس کے ہاتھ پر سارا سماج ہی رنگے ہاتھوں پھر رہا ہے۔
کیا آپ کیا میں ہر شخص اس مجموعی بے حسی کے آذار کے ساتھ برابر کا مجرم ہے۔
ہم جنہوں نے اس بے حسی کے خلاف علم بلند کیا تھا لگتا ہے جیسے مچھیروں کی بستی میں ہمارے بھی بو ختم ہوتی جارہی ہے۔
ہم نے تو اپنی نسلوں کے لیے خواب دیکھے تھے بہتری کے خوشحالی کے اور ہم ہی ان کی تعبیروں سے بے وفائی کرنے لگے ہیں۔

بار بار کہتے ہوئے بھی اب تو حجاب آنے لگا ہے خان صاحب جانے آپ کب سنیں گے سنیں گے بھی یا نہیں۔ کیا ہمیں پھر سے امیدوں کا مرکز بدلنا پڑے گا؟
کیا ہمیں پھر سے نئے چراغ جلانا ہوں گے؟
ظاہر ہے اب ہم بت پرست تو ہیں نہیں کہ آپ کو پوجنا شروع کردیں۔
پہلے بھی کئی بار کہا ہے ہم شائد ہی دوسرا موقع دیں آپکو۔ یہ آپ کا پہلا موقع ہے اگلی بار اپنے محاسن پر لڑنا پڑے گا آپ کو۔ ہمیں خواب دیکھنا سکھایا ہے آپ نے یاد رکھیں اب ہم تو ان کی تعبیر سے کم کسی بات پر ماننے والے نہیں۔ ہم اگر پہلے سر پھرے تھے تو اب بھی ویسے ہی آشفتہ سر ہیں اپنے بچوں کو بہتر زندگی دینے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔

آپ اور آپ کے وزراء ہوش کے ناخن لیں تو ہمارا بھی بھلا ہوگا۔
وگرنہ نئی امیدیں جگا کر ان پر لبیک کہیں گے ہم۔ آزمائے ہوئے کو بار بار نہیں آزمائیں گے۔
ہم بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈسے جائیں ایسے بھی کم عقل نہیں۔
اس سماج کے سدھار سے یہاں پر بہتری حکمرانی تک پوری ذمہ داری آپ پر ہے۔
ہم کسی وزیر کسی مشیر کسی آئی جی آر پی او کو نہیں جانتے ہم صرف آپ کو جانتے ہیں۔ یاد رکھیں آپ نے اپنا کیے ہوئے وعدے پورے نہ کیے تو حشر تک نہیں چھوڑیں گے ہم آپ کو وہاں بھی آپ کے گریباں پر ہمارے ہاتھ ہوں گے۔
کوشش کریں یہ معاملہ حشر سے پہلے نمٹ جائے اس دن کی سختی شائد آپ سا ایتھلیٹ بھی برداشت نہ کرپائے۔
اس تھوڑے کو بہت سمجھیں۔۔
ہمیں آپ دونوں کو معلوم ہے اب کسی صلاح الدین کے لیے کوئی ایوبی نہیں آئے گا۔ کسی امرتا کے لیے کوئی امروز تڑپ تڑپ نہیں جائے گا۔
کسی زینب کا نوحہ عرش نہیں ہلائے گا۔
اب کسی سرحدی گاؤں میں کوئی چرواہا بھیڑیوں کی آمد سے بے خوف نہیں ہے۔ کیونکہ اب کوئی فاروق نہیں رہا۔
جو قاتل کا سراغ نہ ملنے کے بیاں پر کمیٹی بنانے کی بجائے کہہ دے اگر سارا صوبہ بھی قتل میں ملوث ہے تو سب کو لٹکا کر قتل کا قصاص پورا کرو۔
اور خطاب کا وہ بیٹا نہیں رہا جس کے خوف سے شیطان رستہ بدل لیتا تھا۔ لیکن جب رب کے حکم کی بات آتی تھی تو مجمعے میں سے عورت کھڑے ہوکر پوچھ لے تم کون ہو یہ حکم بدلنے والے اور عمر (رضی) سر تسلیم خم کرلے۔
اب وہ عمر نہیں رہا خان صاحب۔
اب اس شہر کو مدینہ بنانے کی تمام تر ذمہ داری آپ پر ہے۔ اپنی ذمہ داریوں پر پورا اترئیے۔
وگرنہ ہماری جرات رندانہ کا مظاہرہ دیکھے یہاں بھی وہاں بھی۔ جہاں آپ سمیت ہر ذمہ دار جواب دہی کے خوف سے تھر تھر کانپ رہے ہوں گے۔ اور ہم سے بے بس محکوم بے خوف آپ سب کے منہ کو آئیں گے۔

یاد رکھئے
ہم اہل صفا مردود حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے۔

یہ بھی ملاحظہ کریں: عورت کی ملازمت: مجبوری اور استحصال ------ محمد مدثر احمد
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: