اپنی موت کتے سے بہتر بنائیں ——- خرم شہزاد

0

زندگی عذاب ہو کر رہ گئی ہے، سمجھ نہیں آتی کہ آخر ہم نے اس کام کے لیے ووٹ دئیے تھے۔ انہوں نے تو ذلیل کر کے رکھ دیا ہے۔ یار پوری فریج میں سے ایک ڈبہ ایکسپائری نکل آیا تو اس پر اتنا شور مچایا محکمے والوں نے اور جرمانہ الگ۔ قسم سے ہمارا تو تماشہ بنا دیا تھا۔۔۔

یہ وہ مکالمہ تھا جو اس جمعے کو مجھے آبپارہ مارکیٹ میں سننے کو ملا، جہاں دو اشخاص مجھ سے کچھ فاصلے پر چلتے ہوئے دل کے پھپھولے جلا رہے تھے بلکہ ان میں ایک تو جیسے جلتے توے پر تھا۔ یقینا اس شخص کی اپنی دکان کو جرمانہ عائد کیا گیا تھا یا اس کے کسی جاننے والے کی دکان تھی۔ تحریک انصاف کی حکومت کی حمایت نہ کرتے ہوئے بھی ایک انسان اور باشعور شہری کی سوچ، سمجھ اور اخلاقیات کا جو کم سے کم درجہ ہونا چاہتے تھا، وہ شخص مجھے اس سے بھی کچھ نیچے ہی نظر آیا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے آگے بڑھ کر پوچھ لیا کہ جناب اگر وہ ایک ڈبہ جوس بدقسمتی سے آپ کے نصیب میں ہوتا تو؟ وہ شخص یکدم خاموش ہو گیا، جیسے اسے اس سوال کی توقع ہی نہ تھی۔ اس نے کوئی جواب بنانے کی کوشش تو کی ہو گی لیکن اس کی خاموشی بتا رہی تھی کہ اسے کوئی مناسب جواب نہیں سوجھ رہا۔ میں نے اگلا سوال کر دیا کہ کیا آپ ایک جمہوری حکومت کے منتخب نمائیندوں اور ریاستی اداروں کے مابین کام کے فرق کو جانتے ہیں یعنی آسان لفظوں میں محکمہ خوراک اور وزیر خوراک کے کام میں کیا فرق ہے جانتے ہیں؟ کچھ سوچنے کی کوشش میں منہ کے زاویے بگاڑتے اس شخص کے پاس اس سوال کا بھی کوئی جواب نہ تھا۔ دل چاہا کہ رحم کرتے ہوئے بس کر دوں لیکن ایسے لوگوں کی سوچ بس ایک مخصوص زاویہ کو ہی دیکھتی ہے، اس لیے مجھے اگلا سوال پوچھنا پڑا کہ جناب اگر خدانخواستہ آپ یا آپ کا کوئی عزیز ہسپتال میں داخل ہو اور وہاں کی فریج میں بھی ایسا ہی ایک ایکسپائری انجیکشن پڑا ہو تو آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ وہ جو تھوڑی دیر پہلے تک بہت جوشیلا اور جذباتی شخص نظر آ رہا تھا، جو جلد از جلد حکومت کے خلاف کوئی لائحہ عمل اختیار کرنے کی سوچ رکھتا تھا، اس نے خاموشی سے اپنے ساتھی کا ہاتھ پکڑا اور میرے پاس سے نکلتا چلا گیااور یہی میرے سارے سوالوں کا جواب تھا۔

ہم پاکستانی اپنی ذات میں عجب لوگ ہیں۔ ہمارے پاس اپنے ٹامی صاحب ہوتے ہیں جبکہ دوسرے کا کتا بھی ہمیں کتا نہیں لگتا۔ ہم اپنے آپ کو خدا کا وہ برگزیدہ بندہ سمجھتے ہیں جس کے لیے خدا سارے قوانین فطرت بھی بدل دینے کو تیار بیٹھا ہے جبکہ دوسرے کو اتنا حقیر سمجھتے ہیں کہ اپنی طبیعت تک بدلنے کو تیار نہیں ہوتے۔ ہمیں کسی کی جان جانے کی ذرا پروا نہیں ہوتی لیکن اپنے سات روپے جو ہم نے بطور دکاندار جوس کا ڈبہ خریدنے کے لیے خرچ کئے ہوتے ہیں اس کا غم اتناہوتا ہے کہ حکومت گرانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ ہم جیب میں پیسہ رکھ کر خود کو خدا نہ سہی لیکن اس کے برگزیدہ ترین بندے سے کم ہرگز نہیں سمجھتے، جس کے ساتھ کچھ بھی نہیں ہو گا۔ ہمارا یہی خیال ہوتا ہے کہ دکان سے ہمیں ایکسپائر جوس تو مل ہی نہیں سکتا، اگر خدانخواستہ ہمیں ہسپتال جانا بھی پڑا تو جیب میں اتنے پیسے ہیں کہ اپنا علاج اچھے سے کروا سکتے ہیں۔ ہمیں جعلی دوا کوئی نہیں دے سکتا اور نہ ہی ہمارا واسطہ کسی ان ٹرینڈ اور ان پروفیشنل سٹاف سے پڑ سکتا ہے کیونکہ ہم تو ہم ہیں۔ سو میں سے پچانوے افراد کی عمومی سوچ یہی ہوتی ہے۔ سڑک پر کوئی حادثہ ہو جائے تو انتہائی بے حسی سے گزر جائیں گے کہ ہم نے کون سا سڑک پر مرنا ہے یا ہمیں بھلا کہاں کبھی کسی سڑک پر کوئی حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ اپنی بزرگی کے زعم کے ساتھ ساتھ ہم عقل کل کے دعویدار بھی ہوتے ہیں اور ہمارا یہ یقین ہوتا ہے کہ جو کچھ ہم سمجھتے ہیں، دنیا دراصل ویسی ہی ہے۔ ایک منتخب نمائیندے کے کام پر ہم سرکاری اداروں کو الزام دیتے ہیں اور سرکاری اداروں کی وجہ سے منتخب نمائیندوں کو گالیاں دیتے ہیں کہ ہمارے خیال میں یہ اسی کے مستحق ہوتے ہیں اور یہی سچ بھی ہو گا۔ ہمیں یہ پتہ ہی نہیں کہ ہماری محلے کی نالیاں صاف کروانا منتخب نمائیندے کا کام نہیں ہے لیکن ہم کیونکہ عقل کل ہیں اس لیے ہم نے منتخب نمائیندوں کو نالیاں صاف کرنے پر لگایا ہوا ہے،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جوابا نالیاں صاف کرنے والے قانون بنانے پر متعین ہو گئے اور ملک کا حال سب کے سامنے ہے۔

آئیے اپنی بزرگی اور عقل کل کے زعم سے باہر نکلیں اور مانیں کہ ایک ہزار جوس کے ڈبوں میں موجود ایک ایکسپائر ڈبہ ہمارے حصے میں بھی آسکتا ہے۔ ہمیں ہسپتالوں میںان ٹرینڈ اور ان پروفیشنل سٹاف سے واسطہ بھی پڑ سکتا ہے۔ ہمیں کسی سڑک پر حادثے میں موت بھی آ سکتی ہے یا ہم شدید زخمی بھی ہو سکتے ہیں اور تب لوگ ہماری مدد کے بجائے ہماری طرح موبائل نکال کر فلمبندی شروع کر سکتے ہیں۔ ایسا یقینا ہو سکتا ہے کہ جب ہمیں ضرورت ہو تب ڈاکٹر کہیں چھٹی یا ہڑتال پر ہوںاور ہسپتال میں دوائیں ختم ہو گئی ہوں یا کرپشن کی وجہ سے جعلی دوائیں موجود ہوں۔ ہم گھر سٹرک اور ہسپتال میں کتے جیسی موت بھی مر سکتے ہیں۔ ۔ ۔ اگر ایسی کسی بھی صورت حال سے ہمیں بچنا ہے تو ہمیں اعتماد کرنا ہوگا ان لوگوں پر جو ایک ایک دکان پر چھاپے کے بعدایک ایک ڈبہ دیکھتے ہیں اور لوگوں کو مضر صحت چیزوںسے بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہمیں منتخب نمائیندوں اور سرکاری اداروں کے کام کا علم ہونا چاہیے اور ان کے کام میں فرق کو جانتے ہوئے دونوں پر تنقید کرنی چاہیے (تعریف تو ویسے بھی ہم نہیں کرتے کسی کی)۔ ہمیں کام کرنے والوں اور کام کرنے کا جذبہ رکھنے والوں کا ساتھ دینا چاہیے، صرف اپنی تن آسانی کے لیے دوسروں کی راہ میں دیوار نہیں بننا چاہیے۔ ہمیں اپنے پاو گوشت کے لیے کسی کا بیل نہیں کٹوانا چاہیے اورکسی کی عزت، صحت اور زندگی کا خیال بھی کر لینا چاہیے۔ ہم کسی کی بہتر زندگی کے لیے کچھ نہیں کر سکتے تو اس کی خراب موت کی وجہ بھی نہیں بننا چاہیے۔ ہمیں کچھ تو انسانوں والی زندگی گزارنی چاہیے تاکہ ہمار ی اپنی موت کسی جانورکی موت سے بہترہو سکے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: