تعلیم و ادب کا استعارہ: الف جانہ خٹک، جو ہم میں نہیں رہی —- اے وسیم خٹک

0

کرک میں خدائی خدمت گار اور تعلیم و ادب کا استعارہ الف جانہ خٹک ٹیری چوک میں عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے منظور شدہ الف جانہ خٹک گرلز ڈگری کالج کے شروع ہونے سے پہلے ہی داعی اجل کو لبیک کہہ گئی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے 2009سے لیکر 2013 دور حکومت میں الف جانہ خٹک کالج بانڈہ داود شاہ اور لاچی میں کالجوں کی منظوری کرائی گئی تھی۔ مگر پاکستان تحریک انصاف کے حکومت آنے کے بعد ان کالجوں پر کام شروع نہیں ہوسکا اور اس کو التواء میں ڈال دیا گیا۔ جس میں لاچی گورنمنٹ گرلز کالج شروع کر دیا گیا مگر الف جانہ خٹک گرلز کالج بانڈہ داودشاہ پر کام سست روی کا شکار رہا۔ اس کے بارے میں موجودہ حکومت کو بار بار کہا گیا کہ الف جانہ خٹک کی زندگی میں ہی اس کالج کا افتتاح الف جانہ خٹک کے ہاتھوں کیا جائے مگر اس بارے میں محکمہ ہائیر ایجوکیشن خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی اور گزشتہ روز الف جانہ خٹک اپنے آبائی گاﺅں احمدی بانڈہ ضلع کرک میں انتقال کرگئیں۔

الف جانہ خٹک نے اپنی شاعری کے ذریعے معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونے والے جبر پر اُس وقت قلم اُٹھا یا جب کوئی اس پر بات بھی نہیں کرتا تھا۔ خدائی خدمتگار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان سے شاعری پر انعام بھی حاصل کیا۔ اور خواتین کی آواز کو شاعری کی زبان دی اور معاشرے کو بتایا کہ خواتین صرف گھر کے کام کاج کے لئے پیدا نہیں ہوئی۔ بلکہ خواتین کی منزلیں اور بھی ہیں۔ جس پر اسوقت بہت اعتراض کیا گیا مگر الف جانہ خٹک نے پیچھے کی طرف قدم نہیں اُٹھایا اور اپنے قلم کا زور چلاتی رہی۔ الف جانہ خٹک ضلع کرک کی تحصیل بانڈہ داود شاہ کے خوبصورت اور بر لب بنوں پشاور سڑک احمدی بانڈہ میں 1931 کو پیدا ہوئیں تھیں۔ اُس کے والد کا نام غنی شاہ تھا جو برٹش آرمی میں بحیثیت کیپٹن خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ اس زمانے میں جب سرکاری تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر تھے، وہ صرف آٹھویں جماعت تک سرکاری سکول میں باقاعدہ تعلیم حاصل کر سکیں۔ بعد میں ایم اے تک پرائیویٹ امیدوار کے طور پر سارے امتحانات پاس کیے۔ الف جانہ خٹک کو سکول کے زمانے سے ہی شعر و شاعری سے شغف ہوا اور پشتو زبان میں طبع آزمائی کرنے لگیں۔ چونکہ یہ وہ دور تھا جب انگریزوں کے تسلط کے خلاف ملک گیر کوششیں جاری تھیں اور صوبہ سرحد میں بالخصوص باچا خان کی قیادت میں خدائی خدمت گار تحریک کے تحت پختونوں کی تعلیمی ابتری، معاشرتی خرابیوں کے خاتمے اور سیاسی شعور کی بیداری کے لیے کام ہو رہا تھا، ا س لئے الف جانہ خٹک بھی خدائی خدمتگار تحریک سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں اور باقاعدہ ایک فعال کارکن کی حیثیت سے اپنے علاقے میں کام کرنا شروع کر دیا۔ پختون قوم پرست تحریک اور نظریات کے پرچارک پشتو مجلے ‘پشتون’ کے لیے نظمیں لکھنے کا آغاز کیا اور معاشرے میں پنپنے والی برائیوں اور خرابیوں، غلط رسم و رواج کے خلاف آواز اٹھائی بلکہ اُس وقت الف جانہ خٹک نے اس تحریک کی گھر گھر جا کر آزادی کے لیے عورتوں میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں انہیں باچا خان سے خط و کتابت کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ اُس وقت پشتون مجلے نے بے شمار سماجی پابندیوں کے باوجود بھی ایک کثیر تعداد خواتین کے لیے اپنے مافی الضمیر اور پشتون بیداری میں کردار ادا کرنے کے لیے اہم فورم مہیا کیا اور ایسی خواتین پیدا کیں جنہوں نے شعر و ادب میں نام کمایا۔ الف جانہ خٹک کے ساتھ ساتھ اس وقت دیگر بہت سی خواتین نے شاعری کے ذریعے معاشرے میں بیداری کے لئے کوششیں کیں۔ اس وقت سیدہ بشریٰ بیگم، مجیدہ بیگم، امینہ بیگم، سیدہ ادینہ، ماہ عالم نگاری، ماہرہ سلطان، نگینہ، نور جہان بیگم، اقبال پروین یوسفزئی وغیرہ بھی لکھنے کے خارزار میں قدم رنجہ فرما چکی تھیں مگر ان میں الف جانہ خٹک کو نمایاں مقام ملا۔ الف جانہ خٹک کی شادی (ضلع کوہاٹ جس میں ضلعی ہنگو اور کرک بھی شامل تھے، کے علاقائی پایہ تخت) ٹیری میں ظفر نامی نوجوان سے ہو ئی لیکن کامیابی سے ہم کنار نہ ہو سکی۔ الف جانہ خٹک نے1954 میں گرلز سکول سے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا اور 1991 میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ٹیری سے بحیثیت پرنسپل ریٹائرمنٹ لے لی۔ الف جانہ خٹک کی تخلیقی میدان میں گرانقدر خدمات اور شعر و شاعری کی بدولت وہ نام کمایا کہ اس کی شاعری کو پشاور یونیورسٹی کے ایم اے پشتو نصاب میں بھی شامل کیا گیا۔

عوامی نیشنل پارٹی نے خدائی خدمتگار تحریک کے ضلع کرک میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر ان کے گھر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ٹیری چوک میں الف جانہ خٹک گرلز ڈگری کالج کے نام سے کالج کی منظوری دی مگر موجودہ حکومت کی نا تاہم ناقص پالیسوں کی بدولت مذکورہ کالج کی تعمیر و تکمیل کے باوجود بھی کالج کھل نہیں سکا اور یوں انہوں نے اپنی زندگی میں اس تعلیمی ادارے کا آغاز نہیں دیکھا اور داعی اجل کو لبیک کہہ گئی۔ جس کو آبائی گاﺅں احمدی بانڈ ہ میں سپردخاک کردیا گیا۔ جنازے میں عوامی نیشنل پارٹی کے عہدیداروں اور خدائی خدمتگار تحریک کے لوگوں نے شرکت کی اور یوں تعلیم اور ادب کا استعارہ منوں مٹی تلے چلی گئی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: