صاحبانِ درد —— سجاد خالد

0

ہر وہ شخص صاحبِ درد ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اگر لوگوں کی زندگی میں فلاں تبدیلی آ جائے تو اُن کے کسی دکھ کا مداوا ہو سکتا ہے۔ اب یہ صاحبِ درد کے شعور پر منحصر ہے کہ اُس نے کس مسئلے کو اہم سمجھا اور اُس کا کیا حل دریافت کیا۔ اُس کی حکمتِ عملی اُس کے شعور ہی کے نتیجے میں بنتی ہے۔

میں نے بہت سے مسائل کے بارے میں سوچا اور اپنی رائے قائم کی۔ مزید مطالعے اور غور کرنے کے بعد اپنی رائے میں تبدیلیاں بھی کیں۔ یہ اس لئے تھا کہ میں بھی انسانوں کے اجتماعی مسائل کے حل میں دلچسپی رکھتا ہوں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا میں اپنے ارادوں میں کامیاب ہو سکا  یا نہیں۔ اگر کسی ارادے میں کامیابی ملی تو کیسے اور اگر ناکام ہؤا تو کیوں۔

اپنے ماحول میں رہتے ہوئے، جہاں آدمی کو بہت ساری معلومات مل جاتی ہیں وہیں اپنی محدودیت اور کچھ دشواریوں کی وجہ سے بہت سے پہلو نظر سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ اگر آدمی کو یہ احساس ہو کہ ابھی کچھ پہلو سامنے نہیں آ سکے تو وہ نتائج نکالنے میں جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور اس کوشش میں رہتا ہے کہ ایسے افراد سے تبادلہ خیال کرے جو دوسرے پہلوؤں پر نظر رکھتے ہوں۔ جتنی زیادہ یہ کوشش سنجیدہ ہوتی ہے، اُتنا معتبر حل دریافت کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ حاصل ہونے والی معلومات سے ہمیشہ درست نتائج نکالے جا سکیں۔ ہمارے تجزیے جن اُصولوں کی بنیاد پر بنتے ہیں وہ اُصول بھی زیرِ بحث لانے ضروری ہوتے ہیں۔ ورنہ ہم معلومات کی بہتات کے باوجود غلط نتائج نکالتے ہیں۔

یہ بھی ضروری نہیں کہ ایک بار غلط نتیجہ نکل آنے پر ہم مایوس ہو جائیں۔ ہمیں اپنی حاصل کردہ معلومات کو از سرِ نو مختلف اور تازہ ذرائع سے حاصل کر کے اُن پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے جو کسی مجبوری یا  کوتاہی کی وجہ سے سامنے نہیں آ سکے۔ یہ مسلسل کرنے کا کام ہے۔ اس لئے بیدار ذہن کبھی بھی ایک زمانے میں نکلنے والےدرست  نتائج کو بھی ہمیشہ کے لئے فارمولا نہیں بنا سکتے۔

جس قدر ایک صاحبِ درد کا شعور بلند ہو گا،  اسی قدر وہ اپنے درد کی دوا کی تلاش میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: