بیانیوں کی طاقت اور عقل پرستی —- قاسم یعقوب

0

طاقت کے لغوی معنی دوسروں کو کنڑول کرنا، یاان پر اثرا نداز ہونے کا اختیار حاصل کرناہے۔ طاقت کی سماجی تھیوری کے متعلق مشعل فوکو کہتا ہے:

‘Power is everywhere’and‘comes from everywhere’

’طاقت‘ سماج کے بنیادی تشکیلی اجزا (Components) میں شامل ہے۔ ایک سماج کا ڈھانچہ ہی طاقت کے تصور پر قائم ہوتا ہے۔ طاقت ہی وہ باہمی اشتراکی قوت ہے، جو سماج کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ فرد سماج کا یونٹ ہوتے ہوئے، اس طاقت کے زیرِ اثر اپنی سماجیاتی تشکیل کرتا ہے۔ ہم طاقت کے بہت سطحی معنی لیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ طاقت وہ ہے جہاں ہم اپنی قوت کا اظہار نہیں کر پاتے۔ طاقت کو فرد پر کنٹرول اور ذرائع پیدوار پر اختیار رکھنے کے باعث منفی خیال کیا جاتا رہا ہے مگر مشعل فوکو طاقت کو فرد کی سماجیات پر اختیار حاصل کرنے کے محدود معنی نہیں سمجھتا۔ یعنی طاقت منفی یا جابرانہ چیز  نہیں بلکہ سماج میں ایک مثبت قوت کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔ طاقت کسی بھی سماج میں افکار، نظریات، رسومات اور طور طریقوں کے غلط اور صحیح بیانات میں فرق کرنے کے قابل بناتی ہے۔ طاقت کی مختلف شکلیں فرد کے شعور (Conscious) کو قابلِ پہچان (Identifiable) بناتی ہیں۔

طاقت بیانیوں میں اثر انداز ہوتی ہے۔ بیانیوں کی طاقت فرد کو دوسروں کی نظریاتی قوتوں میں فرق کرنا سکھاتی ہے۔ ہم کسی بھی حالت میں کسی نہ کسی طرح طاقت کے زیرِ اثر ہوتے ہیں۔ طاقت کی کئی شکلیں ہوتی ہیں  مگر ہمارے ہاں عموماً طاقت سے عسکری تصور ہی مراد لیا جاتا ہے۔ عسکری طاقت، طاقت کا بہت محدود تصور ہے۔ اصل طاقت سماجی بیانیوں (Narratives) کی طاقت ہوتی ہے۔ کسی بھی سماج میں رہتے ہوئے فرد بیانیوں کی قوت سے نجات نہیں حاصل کر سکتا۔بیانیوں کی طاقت عسکری یا فطرت کی قوتوں سے زیادہ طاقت ور ہوتی ہے۔ سماج میں رہتے ہوئے فرد کبھی بھی تجریدی زندگی نہیں گزار سکتا۔ اسے بہر حال کسی نہ کسی بیانیاتی قوت کے سہارے سے اپنے اردگرد (Object) کو معنوی تشکیل دینا ہوتی ہے۔ کیوں کہ سماج کے ڈھانچے میں ہر طرف طاقت ہے۔ فرد ان طاقتوں سے بچ نہیں سکتا۔ ایسا فرد جو کسی بھی قسم کی طاقت کے اثرسے خود کو ماورا خیال کرتا ہے، وہ بھی طاقت کے زیرِ اثر یہ کہ رہا ہوتا ہے۔ مثلاً وہ جس زبان میں طاقت کے اثرات کا انکار کر رہا ہوتا ہے، غیر شعوری طور پر اس زبان کے ڈسکورس کی طاقت اس پر اثر انداز ہو رہی ہوتی ہے۔ زبان کا ڈسکورس سماجی شعور ہوتا ہے۔ پورا سماج زبان کے ڈسکورس میں سما جاتا ہے۔ یوں وہ کسی بھی طرح طاقت کے تصور سے نہیں بچ سکتا۔

نظریاتی، رسوماتی، تصوراتی اورمذہبی طاقتیں روزِ ازل سے انسان کے ساتھ وابستہ رہی ہیں۔ شاید انسان کا شعور ان کے بغیر اپنے شعوری عمل کو مکمل نہیں کرپاتا۔ اساطیری حوالوں میں بڑی طاقت ہوتی ہے، بیانیہ (Narration) کچھ واقعات اور قصے مانگتا ہے، جس میں کہانی کا ڈسکورس تشکیل دے سکے۔ انسانی ذہن اساطیری یا بیانیہ ڈسکورس میں سوچتا ہے اس لیے اسے کہانی یا قصے میں اپنا فکری یا نظریاتی ڈسکورس تشکیل دینے میں سہولت ہے۔ انسانی تاریخ کی جتنی معلوم تاریخ میسر ہے، اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انسان نے کہانی یا اساطیری حوالوں میں خود کو طاقتوں کے سپرد کرنے میں سہولت محسوس کی ہے۔ انسان کے پوری تاریخ ایک قصہ یا بیانیہ ڈسکورس ہے۔

انسان ریشنل یا عقل پرست ہوتے ہوئے بھی کسی طاقت کے ڈسکورس کے تابع ہوتا ہے۔جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم ریشنل یا عقل پرست ہیں، ان کے ذہن کی ساخت معروض یا سماج کا منطقی جبر عطا کرتے ہوئے، واقعات کو علت و معلول کے رشتوں میں ڈھال کے دیکھتی ہے۔ ہمارے اردگرد واقعات ہی تو ہیں۔ ہم ان کو ترتیب  دیں گے توارد گرد کا شعور حاصل کریں گے۔ بعض اوقات ہم طاقت کے بیانیوں کو جھٹک دینے کی (یا خود پر ان کے اثرات کو ختم کر دینے کی) صلاحیت حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، اصل میں ہم طاقت کی ایک اور شکل کو قبول کر رہے ہوتے ہیں۔  ریشنل یا عقل پرست بیک وقت بیانیوں کی قوت کا انکار بھی کر تا ہے اور ساتھ نئی طاقت کے زیرِ اثر ایک نئی طاقت بھی تشکیل دے رہا ہوتا ہے۔ نئی طاقت تشکیل دینے کا مطلب ایک نئی طاقت کے زیرِ اثر آنا ہے۔ کلچر، لباس، طور طریقے، انکار کی سماجی حالتیں، علم کے پیداواری ذرائع، تاریخی حقائق وغیرہ سب طاقت کے زیرِ اثر نئے روپ میں سامنے آنا شروع کر دیتے ہیں۔

حال ہی میں ایک بحث کے دوران مجھے اپنے دوستوں کی ریشنل اپروچ اور عقل پرست نظریاتی ترجیحات کو مذہبی یا اساطیری ترجیحات میں  ڈھلتے ہوئے دیکھنے کا موقع ملا۔ مجھے اس تبدیلی پر اس لیے کوئی حیرت نہیں ہوئی کیوں کہ مجھے بیانیوں کی طاقت کا اندازہ ہے۔ میں خود بیانیوں کی طاقت کو نہیں توڑ پاتا۔ میں ہی نہیں کوئی بھی نہیں توڑ سکتا۔ پھر مذہبی یا نظریاتی بیانیوں کی تربیت ہمارے شعور کا لازمہ بن چکی ہوتی ہے، اس لیے ان کی قوت کو ختم کر دینا فطری خاصیتوں کو ختم کرنے کے برابر عمل ہوتا ہے۔

انسان کا سب سے مضبوط رشتہ اپنے وجود اور اپنے اردگرد یعنی کائناتی حوالوں سے ہوتا ہے۔ تخلیقِ کائنات، تخلیقِ آدم اور مسئلہ حیات وممات، مذہبی بیانیوں میں بہت قوت سے بیان کیے گئے ہیں۔ جب کہ سیکولر بیانیہ سماجی بیانیوں کی تشکیل کرتا ہے جو سیاست، سماجیات، تاریخ، تخیلی علم کو بیان کرتا ہے۔ اس لیے ہم خوف ناک حد تک ان دونوں بیانیوں کی طاقتوں کے زیرِ اثر ہوتے ہیں۔ اپنے جسم کی حقیقتوں سے کیسے باہر نکل سکتے ہیں۔ شعور ہمیں باہر جانے ہی نہیں دیتا۔ ہم لامحالہ کچھ سوال اور کچھ جواب ساتھ رکھیں گے تو زندہ رہ سکیں گے۔ یاد رہے کہ شعور ہی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے، یہی وہ تفریقی لائن (Bifurcated) ہے جو ہمیں بیانیوں کی طاقت کے آگے ڈھیر کر دیتی ہے۔

 اس میں کوئی منفیت نہیں, فطری عمل ہے۔ہمیں سیکولر بیانیہ اپنی طاقت کے آگے ڈھیر کرنا چاہتا ہے مگر ہم کائنات کے ازلی سوالوں اور اپنے وجود پر شعور کی طاقت کو کمزور نہیں کر پاتے۔ یوں ہم مذہبی یا نظریاتی وقتوں کو بہت کچھ سونپ کے آزاد ہو جاتے ہیں۔
ہم جس سماج میں رہتے ہیں، وہاں مذہبی یا نظریاتی بیانیوں کی قوت چھوٹی عمر میں ہی اس قدر متشدد یا کثرت سے ہم پر اثرا نداز ہوتی ہے کہ ہم ساری زندگی اس کی طاقت سے باہر نہیں نکل پاتے۔ یہ شعور رکھنے کے باوجود کہ ہم اس قوت کے زیرِ اثر ہیں،ہم اس سے نجات نہیں حاصل کر پاتے۔ لہٰذا بیانیوں کی طاقت کو تسلیم کر لینے میں کوئی قباحت نہیں۔سیکولر اپروچ انتخابی اپروچ ہے جو ہر کسی پر عمل نہیں کرتی۔ یہ طاقت فرد پر اُس کے سماجی انتخاب کرنے پر عمل کرنا شروع کرتی ہے۔ جب کہ نظریاتی یا مذہبی اپروچ کائنات یا وجود کے بہت مضبوط رشتوں کی تشریح کرتی ہے، اس لیے ہم اپنے شعور کی تجریدی حالت سے بچنے کے لیے، اس کی طاقت کو تسلیم کر کے زندہ رہنے کا جتن کرنے لگتے ہیں۔
ہم غیر نظریاتی یا غیر مذہبی ہوکے بھی کسی نہ کسی طرح اس وقت کے زیرِ اثر ہوتے ہیں۔ یہ آج کے مابعد جدیدانسان کا مسئلہ نہیں، صدیوں سے انسان کے شعور کا مسئلہ ہے۔ اسے سوالوں کے جواب چاہیے، اسے بقا چاہیے، اسے اپنے وجود کی موت نہیں، نیا احیا یا تقلیب (Transformation) چاہیے۔ وہ ان سوالوں کے جواب کے غیر تسلی بخش جوابوں کے بعد بھی انھی سوالوں کے زیرِ اثر رہنا چاہتا ہے۔ ہمارے ذہن کی ساخت ہی ایسی ہے کہ وہ کسی طاقت کے زیرِ اثر اشیا کو سوچتی ہے، نظریوں کو تشکیل دیتی ہے۔ ہم اس طاقت کے اثر کوصرف کم کر سکتے ہیں یا یہ جان سکتے ہیں کہ ہم اس کے زیرِ اثر ہیں مگر طاقت کی قوت سے انکار کر کے اس سے مکمل آزاد ہو جائیں، ایسا ممکن نہیں۔

نوٹ: مضمون کی مکمل تفہیم کے لیے دانش پر موجود ان کے دوسرے مضمون سے بھی استفادہ کیجیے۔ لنک پیش خدمت ہے۔ 

 http://daanish.pk/12990

مضمون کا عنوان ہے: قومی بیانیہ کسے کہتے ہیں۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: