امت کا بخار، ہماری بے حسی اور کشمیر —- خرم شہزاد

0

ـ’امت مسلمہ بے حس ہو چکی ہے اور انہیں کشمیریوں کی کوئی فکر ہی نہیں۔ دیکھو کیسے کشمیریوں کے قاتل سے گلے مل رہے ہیں۔‘
’پانچ ہفتے سے زیادہ کرفیو کو ہو چکے ہیں، اور کسی کو مسلمانوں کا خیال ہی نہیں ہے۔‘
’تمام دنیا کے مسلمانوں کو اتفاق اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہو گا کہ اس کے مسائل اسی طرح سے حل ہو سکتے ہیں۔‘
’مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے، یہ سارے حکمران صرف اپنی کرسیوں کے لیے ہیں۔‘
’ہمارے حکمران بکاو، بزدل اور ہر طاقت ور کے آگے لیٹ جانے والے ہیں، انہوں نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے۔‘

یہ اور ایسے بہت سے درد بھرے جملے آج کل آپ کو اپنے اردگرد سننے کو ملیں گے۔ سوشل میڈیا ہو یا حجام کی دکان، ہر جگہ امت مسلمہ کا درد بہت زور سے اٹھا ہوا ہے اور ہر شخص اپنے دل میں محسوس ہونے والے اس درد کا نہ صرف اظہار کر رہا ہے بلکہ مظلوم کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے کے لیے دوسروں کو قائل کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔امت کا درد جاگنا بہت اچھی بات ہے لیکن برائے مہربانی منافقت سے باہر نکلیں، اپنے اندر کے جذبہ خود نمائی پر قابوپائیں اور زمانے کی بھیڑ چال اور میڈیا ریٹنگ کی دوڑ سے دور رہتے ہوئے بھی کوئی بات یا کام کر لیا کریں۔ ابھی کشمیر کا مسئلہ گرم ہے اور میڈیا کی سکرینوں کی زینت ہے تو سب کو امت اور مسلمان یاد آ رہے ہیں۔ کچھ ہی دنوں میں آئی پی ایل شروع ہو گا تو سب کرکٹ کے دیوانے ہو جائیں گے، امت کا درد اور مظلوم کشمیری کسی اندھیری کوٹھری میں پڑی کتاب کے فسانے میں بدل جائیں گے۔ یہی ہماری ذات کا گندہ چہر ہ ہے، یہی حقیقت ہے اور اسی وجہ سے دوسرے مسلمان ممالک کے سامنے جب ہم امت مسلمہ کے نام سے فریاد کرتے ہیں تو انہیں ہماری فریاد بسوں میں پھکی بیچنے والوں کی آواز جیسی لگتی ہے، جس پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ آخر امت کے نام پر یہ تماشہ ہم کب تک کرتے رہیں گے اور ہماری بے حسی کب ہمارے ضمیر کے جاگنے پر بے موت مرئے گی۔ دنیا کے ممالک خاص کر مسلمان ممالک بھی اگر آج ہماری آواز نہیں سنتے تو اس کی وجہ ہمارا وہ غلیظ ماضی ہے جس کے ہم امین ہیں۔ آئیے ذرا اپنے ماضی کی طرف پلٹتے ہیں اور زیادہ دور نہیں صرف پچھلے دس پندرہ سال میں ہونے والے دو بڑے واقعات کا جائزہ لیتے ہیں۔

سن ۲۰۰۵ء؁ میں پاکستان کے بالائی علاقوں میں شدید زلزلہ آیا، کشمیر، بالا کوٹ سمیت بہت سے علاقے اس تباہی کا شکار ہوئے۔ امت مسلمہ کا رونا رونے والوں سے سوال ہے کہ اس زلزلے میں ہمارا کیا کردار رہا۔ وہ لوگ اگلے دس سال سے زائد عرصے تک کیمپوں میں رہے کیونکہ ان کی امداد کا بیشتر حصہ ان کے ہم وطن مسلمان بھائی نہ صرف ہڑپ کر گئے بلکہ اپنی ترقی کے لیے استعمال کرتے رہے۔ بیرونی دنیا سے آنے والی کتنی امداد متاثرین تک پہنچی اور کتنی امداد لوگوں نے آپس میں بانٹ لی، اس کا کوئی حساب کسی کے پاس نہیں۔ حکومت کو فورا الزام دینے والے ان علاقوں میں چوری کی وارداتوں میں ہزاروں گنا اضافے کی وجوہات آج بھی بتانے سے قاصر ہوں گے۔ خواتین کے ساتھ بد سلوکی تو ایک طرف، مردہ خواتین کے زیوات جس طرح سے نوچ کر اتارئے گئے، ایسا تو برصغیر کی تقسیم کے واقعات میں سننے کو ملتا تھا مگر اس زلزلے میں دیکھنے کو ملا۔مارکیٹیں لوٹ لی گئیں اور زندہ بچ جانے والوں نے دوسروں کے مال کو یوں جمع کیا کہ ان واقعات کاآج بھی ذکر کرتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں لیکن امت مسلمہ کے غیور اور درد مندوں قیامت صغری میں بھی اپنے پڑوسیوں کو معاف کرنا مناسب نہ سمجھا۔ یہاں سبھی ان بڑے نام والوں اور غیرسرکاری تنظیموں کے بارے یقینا آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں جنہوں نے پاکستان کے طول و عرض میں امداد جمع کی اور ٹرکوں کے ٹرک فروخت کر کے شاپنگ مالز بنا لیے۔ یہاں امداد میں ملنے والے اچھے سامان کمبل اور جوتے تک مسلمان بھائیوں نے نہ چھوڑے۔ بہت سی ٹینٹ سروسز کے پاس آج بھی اس زمانے کے آئے ہوئے ٹینٹ موجود ہیں جو کمائی کا ذریعہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ زلزلے کے متاثرین کو دیکھتے ہوئے ہمیں نہ خوف خدا تھا اور نہ امت مسلمہ کا خیال۔۔۔ تو پھر آج ہزاروں میل دور رہنے والوں کے لیے امت کا درد کیوں اتنے زور سے اٹھ رہا ہے۔ اسی طرح دو ہزار دس میں آنے والے سیلاب میں امت مسلمہ کے قابل فخر اور درد مند دل والوں نے جو کارنامے انجام دئیے وہ کسی سے پوشیدہ ہوں لیکن آسمان ان سب کا گواہ رہا۔ پورے ملک میں کوئی بھی ان لوگوں کا پرسان حال نہیں تھا۔ سیلاب کے علاقوں میں اسی امت مسلمہ کے دردمند منافع کمانے میں لگے ہوئے تھے۔ ساٹھ روپے فروخت ہونے والا پٹرول چار سو روپے لیٹر تک میں فروخت ہونے کا راقم گواہ ہے۔ ہوٹلوں پر پچاس روپے میں ملنے والی پلیٹ ڈیڑھ سو روپے میں مل رہی تھی بلکہ یہی پلیٹ امدادی ٹیموں کو ساٹھ سے ستر میں ملتی تھی کیونکہ ان سے امداد کا آسرا ہوتا تھا۔

آج امت امت کرنے والے بتائیں کہ کیا سوات اور وانا کے آئی ڈی پیز مسلمان نہیں تھے کہ ان کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا گیا۔ ڈی آئی خان میں جو گھر چار سو روپے کرائے پر بھی کوئی لینے کو تیار نہ ہوتا تھا، وہ گھر بھی چار چار ہزار روپے کرائے پر آئی ڈی پیز کو دینے والے بھی اسی امت مسلمہ میں آج بھی اپنی پیشانیوں کی محرابیں دیکھاتے ہیں۔ کیا کوئی مانے گا کہ آج کے دور میں ایک بکری کی قیمت صرف ایک سو چالیس روپے لگائی جا سکتی ہے لیکن ارض پاکستان کے درد مندوں نے آئی ڈی پیز سے ایک سو چالیس میں بکریاں خریدیں، یہ کہتے ہوئے کہ تم اب ان کو کہاں لے کر پھرو گے اور ان کے چارے کا بندوبست کرو گے، لاو ہمیں فروخت کر دو۔

آج جب مودی جی کی مسلمان ممالک میں تقریم پر لوگ امت مسلمہ کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے اندر کی منافقت اور غلاظت سے لتھڑے چہرے دیکھنے کو دل نہیں کرتا۔ پورے پاکستان میں کسی گھرانے کو زلزلے اور سیلاب متاثرین کو دیکھ امت مسلمہ کا خیال نہ کیا، پاکستانی ہونے کی رعایت نہ دی، کسی نے رات مفت سونے یا دو پل ٹھہر جانے کی سہولت نہ دی۔ کیا آسمان کی آنکھیں بند ہیں؟ کیا دنیا میں بسنے والے دوسرے لوگ بھی ہماری طرح مفاد پرست اور اپنے ہی بھائیوں کی کھال پر ڈالروں کو فوقیت دینے والے ہی رہ گئے ہیں؟ کیا وہ ہمارے اندر کی غلاظت اور منافقت سے واقف نہیں ہوئے؟ بس یہی وجہ ہے کہ جب ہمیں امت کا بخار چڑھتا ہے تو دنیا ہمارے ماضی کو یاد کرتے ہوئے ہم سے دور بھاگتی ہے۔ دنیا والے ڈرتے ہیں کہ یہ امت کے نام لیواوں نے تو آج تک اپنوں کو نہیں بخشا، اب امت کا نام لے کر ہمیں بھی لوٹنے نکلے ہیں۔ امت اور پاکستانیت کے پردے میں ہم سے زیادہ برے لوگ اس زمین پر کہاں پائے جاتے ہوں گے؟ تلاش کیجئے، برسوں کی تلاش بھی ناکام رہے گی کیونکہ آپ آئینے دیکھنے کے قائل نہیں ورنہ دنیا کے سب سے بڑے منافق اور غلیظ لوگوں سے سامنا زیادہ دور نہ رہے اور امت کا بخار کبھی نہ سر کو چڑھے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: