خواب کی چوری —- عطا محمد تبسم

0

بہت دن سے مجھے یہ محسوس ہورہا ہے کہ میرے سارے خواب چوری ہوجاتے ہیں۔ خواب کی چوری کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ بڑا گھمبیر اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔ بند آنکھوں کے پردوں کے پیچھے سے ہونی والی یہ انہونی واردات جانے کس وقت ہوتی ہے۔ پہل پہل تو میں نے اس پر توجہ ہی نہ دی۔ وہ زمانہ تھا بھی بہت سنہرا میرے خواب بھی سنہرے تھے۔ روپیلے رنگ برنگے دھنک رنگ سے رنگے۔ خواب بھی میرے چار جانب پھیلے رہتے جب چاہوں ہاتھ سے پکڑ لوں۔ چوم لوں۔ رنگیلے خواب سجیلے خواب نمکین خواب رسیلے خواب چمکیلے خواب اڑنے والے اور اڑانے والے خواب میرے دل چاہتا تو ان خوابوں کا تکیہ بنا لیا۔ یا گدا پھر ان خوابوں ہی کی چادر اوڑھ کر سوجاتا۔ یہ بات نہیں تھی کہ یہ خواب سوتے ہی میرے ساتھ تھے۔ اور نیند ہی میں آتے تھے۔ ان سنہری دنوں میں تو یہ دن کو بھی میرے پاس ہی رہتے تھے۔ میرے خوابوں کے لیے دن رات کی کوئ تفریق نہ تھی۔ میں تو صبح سویرے ان خوابوں ہی کے ساتھ جاگتا۔ ان سے ہی ناشتہ کرتا۔ اور اکثر ان ہی خوابوں سے کشید کی ہوئی چائے اور کافی پی لیتا۔ اگر میٹھے کی خواہش من میں ہوتی تو میٹھے خواب سے تھوڑی مٹھاس سے کام چلا لیتا۔

خواب کی ایک دنیا ہے۔ نیرنگی دنیا ست رنگی دنیا اور بے رنگی دنیا۔ بے رنگی دنیا کے خواب پھیکے ہوتے ہیں۔ اس میں نہ ذائقہ ہوتا ہے نا رس نچڑے نچڑے اجڑے اجڑے لیکن ہوتے ہیں یہ بھی خواب۔ پورے خواب کچھ ادھورے خواب بھی ہوتے ہیں۔ شروع شروع میں میں نے ان ادھورے خوابوں کو جمع کرنا شروع کردیا۔ ان کی گڈیاں بنالی لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ ادھورے خواب کثرت سے آنے لگے۔ ان کس ڈھیر بڑھتا گیا۔ اب یہ بنڈل بلکہ بنڈلوں کی شکل اختیار کرگئے۔ پھر ان ادھورے خوابوں کی بوریاں بھر گئی۔ کئی کمرے ان سے بھر گئے۔ ان ادھورے خوابوں کا بوجھ اس قدر بڑھ گیا کہ میں نے ان خوابوں کو مکمل کرنے کا سوچنا بھی چھوڑ دیا۔ میری زندگی کے کئی ماہ سال ان ادھورے خوابوں کی نظر ہوگئے۔ جن کو میں نے پورا کرنے کا خواب ہی دیکھا تھا۔ اس لیے اس کو ایک خوب صورت موڑ دے کر چھوڑنا پڑا۔ خوابوں کے سوداگر بھی ہوتے ہیں۔ ایک دن ایک سوداگر میرے پاس آیا۔ بہت نفیس شاندار رکھ رکھاو والا۔ بڑے رسان سے کہنے لگا صاحب آپ نے بھی کیا روگ پال لیا۔ بھلا ادھورے خواب بھی کبھی پورے ہوتے ہیں۔ صاحب کیوں ہلکان ہوتے ہیں۔ اپنا یہ کاٹھ کباڑ ردی کے بھاو بیچ دیجیے۔ اتفاق سے میں ادھورے خوابوں کا سوداگر ہوں۔ آپ کے یہ سارے ادھورے خواب خرید لوں گا۔ میں نے بھی یہی غنیمت جانا اور اس کے ہاتھ سارے ادھورے خواب ردی کے بھاو بیچ دیے۔ میری روح سے کچھ بوجھ اتر سا گیا۔

چلتے ہوئے میں نے اس خوابوں کے سوداگر سے پوچھا تم اس خرابے میں کیسے آگئے؟ کوئی اچھا کاروبار کرتے۔ بولا میرا ایک خواب ایسا ادھورا رہا کہ سب کچھ لٹا دیا۔ وہ نازنیں ماہ لقا جادو حسن اور اس کا ساتھ کچھ ہی دن رہا۔ پھر خواب ادھورا ٹوٹ گیا۔ ساتھ چھوڑ گیا۔ اب میں ہوں ادھورے خوابوں کا سوداگر ۔ لوگوں کو خوشیاں دینے کے لیے ان کے ادھورے خواب خرید لیتا ہوں۔ دوسروں کا بوجھ اٹھاتا ہوں۔ ان کو شاد کام دیکھ کر خوش ہوتا ہوں۔ سنہرے دنوں کے خواب جانے کب اڑ گئے، بادلوں کے پیچھے پیچھے دور دراز کے دیس ۔ بس اپنے عقب میں ایک سنہرا غبار چھوڑ گئے۔ ان کی یاد اب اس سنہرے روپیلے غبار سی ہی ہوتی ہے۔ خواب لوٹنے والے بھی ہوتے ہیں۔ بہت ہی محبت کرنے والے، ہر وقت آپ کا دم بھرنے والے، بہت ہی میٹھے شہد کی طرح جو آپ کو اپنی محبت سے شرابور کر دیں۔ یہ واردات چپکے چپکے ہوتی ہے، اس میں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب لوٹنے والا، خواب لوٹ کر چلا گیا، پہلے خواب دکھاتے ہیں، پھر خواب سجاتے ہیں، اور پھر ان خوابوں کو لوٹ کر دور چلے جاتے ہیں۔ زندگی کے چند ایک خواب ساری عمر کا روگ بھی لگا دیتے ہیں۔ دو آنکھیں یاد آتی ہیں۔ مسکراتی ہوئی، شرارت بھری، جھیل جیسی گہری، اور دل میں اتر جانے والی۔ آج کونسی نظم لکھی ہے۔ سناؤ نا۔ اٹھلاتی ہوئی فرمائش، پھر نظم سنتے سنتے وہ کاغذ ہی لپک لیتی۔ میرے لیے لکھی ہے نا، میں رکھ لوں۔ جانے کتنی نظمیں کتنے گیت اس نے اپنی ڈائری میں سیمٹ رکھے ہوں گے۔ اب اس کے پاس ہوں گے بھی یا نہیں۔ بس یہ ایک خواب کی طرح یاد ہے۔ اور ایک روگ کی طرح جاں پر مسلط ہے۔ لیکن یہ درد ہے بڑا میٹھا جس کی کسک حرز جاں بنی ہوئی ہے۔ اس کی جدائی دل پر شاک گزرتی ہے۔ سو اسے بھی اپنی زنبیل میں ڈال رکھا ہے۔ ایک بار اس نے ایک اور خواب میں رنگ بھرا۔ صبح سویرے گھر پر ناشتہ پر بلالیا۔ گھر میں اس کی ماں کے علاوہ کوئی اور نہ تھا۔ ناشتہ پرتکلف تھا۔ ماں سب کی سانجی ہوتی ہیں۔ ایک جیسی محبت کرنے والی، اپنی اولاد کی خواہشوں کا دم بھرنے والی۔ بہت سے سوالات اور جوابات کے بعد، یہ ملاقات ایک خواب ہی کا روپ دھار گئی، اس کا اکثر سوال یہ ہوتا۔ تم نئی گاڑی کب خریدو گے۔ ادھر یہ حال کہ ایک پرانی موٹر سائیکل بھی مشکل سے سنبھلتی تھی۔ کار تو میرے لیے خواب ہی تھی۔ اس نے خواب دکھایا، اور پھر جب کار آئی تو اس کا سراغ ہی نہ ملتا تھا۔

ایک دن ایک اسٹاپ پر اسے دیکھا، بہت مشکل سے بس سے اترتے ہوئے۔ میں نے گاڑی روک دی۔ وہ چند قدم چل کر سڑک کنارے بیٹھ گئی۔ ستا ہوا چہرہ، آنکھیں پر نم اور تکلیف کی شدت، جسم بھاری تھا۔ اس نے سڑک کنارے قے کردی۔ میں اس کے قریب آیا۔ حال پوچھا ، نقاہت سے بولی تم نے گاڑی لے لی۔ میں تمھیں چھوڑ دوں۔ میں نے پیشکش کی۔ نہیں، میری بہن کا فلیٹ قریب ہی ہے، پیدل جاؤں گی۔ وہ چلی گئی ، میں کھڑا دیکھتا رہا۔ خواب کی تکمیل کبھی کبھی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: