ارزاں چرگاں: اسلام آباد سے سوات تک —- غزالہ خالد

0

میرے مضمون کا عنوان “ارزاں چرگاں” پختون و ذہین لوگوں کو تو فوراً سمجھ میں آجاۓ گا لیکن شاید میرے جیسے کم علموں کو اسے سمجھنے کے لیے کچھ سوچ بچار کرنی پڑے۔

سفر مجھےاسی لیے بہت پسند ہےکہ بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے جس میں مختلف علاقوں میں بولے جانے والے کچھ خاص الفاظ بھی ہوتے ہیں اور اپنے ملک کی ہر چیز کی طرح ان الفاظ سے بھی محبت محسوس ہوتی ہے۔

گھریلو ذمہ داریوں خصوصاً بچوں کی تعلیم کی وجہ سے اپنا ملک ہی پورا نہیں دیکھ سکے کیونکہ ہماری پہلی ترجیح یہی تھی کہ بچوں کی تعلیم و تربیت پر پوری توجہ دی جائے، جب تک تینوں بچے اسکول میں تھے تو گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیاں ساتھ مل جاتی تھیں اور ہم دو تین سال میں ایک بار پنجاب کا چکر لگا لیا کرتے تھے اور مری اسلام آباد تو چلے ہی جاتے تھے لیکن جب بچے بڑے ہوگئے تو گھر سے نکلنا مشکل ہوگیا، کسی کا اسکول، کسی کا کالج اور پھر یونیورسٹی کے داخلوں کی تیاری وغیرہ وغیرہ نے اتنا مصروف رکھا کہ گھومنے پھرنے کا خیال ہی نہیں آتا تھا۔ اب الحمدللہ ہم اپنی ذمہ داریوں سے کسی حد تک فارغ ہوئے تو پاکستان کی سیر کو نکل جاتے ہیں۔ بھلا ہو ان پیارے رشتے داروں کا کہ جن کے بچوں کی شادی میں شرکت بھی اس گھومنے پھرنے کا بہانہ بنتی ہے۔

پچھلی بار لاہور کی سیر سے واپس آکر میں نے اپنے مشاہدے پر ایک مضمون “میرا بے ترتیب شہر کراچی” لکھا تھامیرے قارئین نے پسند بھی کیا تو سوچا سوات کی کہانی تو ضرور لکھنی چاہیے۔

اس بار اسلام آباد جانا ہوا تو وہاں سے پاکستان کا سویٹزرلینڈ کہلانے والی وادی سوات جانے کا پروگرام بن گیا پتہ چلا کہ اسلام آباد سے سوات تک Daewoo بس سروس کے ذریعے یہ سفر کافی آسان ہوگیا ہے۔ اسلام آباد سے سوات کا فاصلہ 201 کلومیٹر یا 125.3 میل ہے لیکن اونچائی پر ہونے کی وجہ سے بس میں وہاں پہنچنے میں تقریباً پانچ ساڑھے پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں اگر کار سے جائیں تو یہ سفر چار گھنٹے کا ہے۔ میرے دل پر راستے کا خوف بھی تھا کہ نجانے کتنا خطرناک ہوگا لیکن جب سفر شروع ہوا تو ہماری بس اسلام آباد سے نکل کر کچھ دیر موٹر وے پر ہی چلی اور پھر چھوٹے چھوٹے شہروں سے گذرتی ہوئی سوات کی طرف رواں دواں ہو گئی۔

ان چھوٹے چھوٹے شہروں کے بیچ سے گذرنا جن کے نام ہم بچپن سے سنتے آۓ تھے بہت ہی اچھا لگا۔ اسلام آباد تو صاف تھا ہی لیکن خیبرپختونخوا کی بہترین سڑکیں اور صاف ستھرے راستے بہت اچھے لگ رہے تھے ٫حالیہ بارشوں کے بعد کراچی مزیداتنا گندا ہوچکا ہے کہ کراچی والوں کو صاف ستھرے راستے اور بہترین سڑکیں دیکھ کر عجیب سا لگتا ہے۔ خیر تو بات ہورہی تھی مانوس ناموں والے شہروں کی جن کے درمیان سے گذر کر ہمارا سفر جاری تھا۔

راستے میں آنےوالےخیبرپختونخواہ کے ان چھوٹے شہروں کے نام ہم زیادہ ترالیکشن کے نتائج کے وقت ہی سنتے ہیں، رشہ گیی، بٹ خیلہ، مردان کے بازاروں کے بیچ سے ہماری بس گذرتی رہی اور میری نظریں کھڑکی کے باہر جمی رہیں، کھڑکی سے باہر وہاں کے لوگ، خواتین، بچے،گلیاں، دکانیں دیکھنا اچھا لگ رہا تھا۔

دکانوں کے نام پڑھنا بھی میرا ایک دلچسپ مشغلہ ہے کسی اور شہر میں “کراچی بریانی” بکتے ہوئے دیکھنا اچھا لگتا ہے۔ ہمارے پچھلی بار کے ٹور میں ہم نے پشاور میں ایک آیس کریم کی دکان پر “کراچی کی اصلی پشاوری آئسکریم” لکھا دیکھ کر بہت انجوائے کیا تھا۔ “چرسی تکہ” ہر شہر میں دستیاب تھا پتہ چلا کہ یہ پشاور سے مشہور ہوا ہے جہاں کسی ہوٹل کے مزیدار تکے کھانے ڈرائیور حضرات جاتے تھے اور وہاں بیٹھ کر چرس بھی پیتے تھے یوں تکہ “چرسی تکہ” کہلانے لگا اور پھر پورے پاکستان میں “چرسی تکہ” بکنے لگا۔

میری نظریں تیزی سے گذرتے دکانوں کے بورڈز پڑھنے میں مصروف تھیں کہ اچانک “ارزاں چرگاں” پر نظر پڑی بہت دلچسپ لفظ لگا بس تیزی سے آگے بڑھ گئی کچھ پتہ نہیں چلا کہ یہ کس چیز کی دکان تھی لفظ ایسا تھا کہ ذہن سے چپک گیا، کیا ہوسکتاہے؟ دماغ نے کام کرنا شروع کردیا “ارزاں ” کا مطلب کم قدر، کم قیمت سمجھ میں آگیا کچھ اشعار بھی یاد آگئے مثلاً

کتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موت
گلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موت

لیکن یہ “چرگاں” کیا تھا؟ کچھ سمجھ میں نہیں آیا اچانک ایک اور بازار شروع ہوگیا اور میں نے پوری توجہ سے دوبارہ دکانوں کے بورڈز پڑھنے شروع کردئیے بلکہ اس بار موبائل سے وڈیو بھی بنالی کہ کہیں نظر چوک گئی تو وڈیو دیکھ لوں گی کہ آخر “ارزاں چرگاں” میں کیا بکتا ہے؟ لیکن اس بار مشکل نہیں ہوئی رشہ گئی، مردان،تخت بائی، درگئی میں بار بار یہ بورڈ نظرآ ۓ ساتھ ہی انگریزی میں سیل، سیل، سیل بھی لکھا دیکھاتو پتہ چلا کہ فارمی مرغیاں بک رہی ہیں یعنی “ارزاں چرگاں” کا مطلب “سستی مرغی” ہے۔ اف ساری چوکسی ختم ہوگئی، ہنسی آنے لگی چرغہ یاد آگیا اب پتہ چلا اسے چرغہ کیوں کہتے ہیں، جیسے آجکل کے انگلش میڈیم بچے “غ” کو “گ”کہتے ہیں اسی طرح شاید “چرغہ” “چرگاں” میں تبدیل ہو گیا ہوگا یا “چرگاں” پنجاب پہنچ کر “چرغہ” بن گیا ہوگا، میں نے سوچا کہ چلو علم میں اضافہ ہی ہوا اور ہم آگے بڑھ گئے، کیا پتہ تھا کہ یہ لفظ ایسے پیچھا چھوڑنے والا نہیں آگے جا کر پتہ نہیں کہاں کہاں یاد آئے گا۔

بس سوات کی طرف رواں دواں تھی روڈ بہت اچھی ہے اور اسلام آباد سے سوات تک ایک نئی روڈ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جس سے گاڑی میں اسلام آباد سے سوات کا راستہ ڈھائی گھنٹے میں طے ہو جایا کرے گا، کچھ دیر کا گہری کھائیوں والا خطرناک سا راستہ آیا اور پھر مالا کنڈ ڈویژن شروع ہوگیا اب مرغی کی دکانوں پر “ارزاں چرگاں” نہیں لکھا تھا “فارمی مرغی دستیاب ہے” کے بورڈ ہی نظر آرہے تھے۔ جگہ جگہ اسکول کے بچے چھٹی کے بعد گھروں کو واپس جاتے نظر آۓ صاف ستھرے روشن چہروں والے بچے سفید یا کیمل کلر شلوار قمیض میں ملبوس تھے ان بچوں کو دیکھ کر نجانے کیوں “ملالہ یوسف زئی” یاد آگئی۔

دوپہر کا وقت تھا سوات تک پہنچتے پہنچتے اسکول و کالج کے طالب علم نظر آتے رہے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ سوات میں بچوں اور بچیوں کو اسکول بھیجنے کا رواج ہے۔ لگتا تھا ہر بچہ اسکول جاتا ہے سندھ کی طرح اسکولوں میں بھینسیں بندھی نظر نہیں آئیں۔صاف ستھرے چھوٹے بڑے اسکول اور پہاڑوں کی پگڈنڈیوں سے اوپر چڑھ کر اپنے اپنے گھروں کو جاتے پیارے پیارے بچے اور بچیوں کو دیکھ کر بہت ہی اچھا لگ رہا تھا یہ خیال بھی آیا کہ سوات اب تک پوری دنیا میں بدنام ہے کہ وہاں تعلیم حاصل نہیں کرنے دی جاتی اور میں نے پوری وادی میں قدم قدم پر اسکول و کالج یہانتک کہ نرسنگ اسکول بھی دیکھے اور سب سے بڑھ کر طالب علموں کو دیکھا جو الحمدللہ وہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور یہ سب آپریشن راہ حق کے بعد ہی ممکن ہوسکا ہے۔

بس اور آگے بڑھی اور مینگورہ پہنچ گئی، میں حیران رہ گئی یہ سوات ہے ؟
میرے ذہن میں مینگورہ اور سیدو شریف کا تصور ایک پہاڑی گاؤں کا سا تھا۔یہی تصور تھا کہ پہاڑوں کے بیچ چھوٹے چھوٹے کچے گھر ہونگے اور زندگی کی بنیادی ضروریات مشکل سے میسر ہوتی ہونگی کچھ ” ملالہ یوسف زئی”کے پیش کردہ سوات کا تصور بھی تھا کہ اسکول ناپید ہونگے لوگ جا ہل ہونگے اور پہاڑوں پر لوگ ایک مشکل زندگی گزارتے ہونگے لیکن ایک خوبصورت شہر جو جدید سہولیات سے آراستہ تھا میرے سامنے تھا۔

بس سے اتر کر گاڑی جب ہوٹل کی طرف بڑھی تو ایک بازار سے بھی گذری، مین بازار سے پہلے چھوٹے چھوٹے شاپنگ مال تھے جن میں تقریباً تمام مشہور برانڈز کی دکانیں موجود تھیں۔ مین بازار تقریباً ویسا ہی تھا جیسا ہر شہر میں ہوتا ہے ہم نے بازار میں تھوڑی دیر رک کر کچھ ضروری چیزیں جو ساتھ لیجانا بھول گئے تھے خریدیں تو سوات کے لوگوں سے پہلی بار بات چیت کا موقع ملا دکاندار نہایت عزت و احترام سے بات کر رہے تھے ہمیں مہمان کہہ رہے تھے اور مہمانوں کی طرح ہی عزت کر رہے تھے سوات کے لوگوں کا یہی رویہ ہم نے مینگورہ، سیدو شریف، مدین، بحرین اور کالام میں بھی دیکھا۔
بازار میں دو چیزیں بہت کم نظر آئیں

1. عورت اور 2. پینٹ شرٹ۔

سینکڑوں مردوں میں کوئی دو چار عورتیں نظر آرہی تھیں شاید تعلیم یافتہ خواتین ان چھوٹے شاپنگ مالز سے خریداری کرتی ہونگی جو ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے اور کم تعلیم یافتہ خواتین کی ضرورت کی چیزیں ان کے مرد ہی لا دیتے ہونگے وجہ کچھ بھی ہو اندازہ ہوا کہ عورتوں کے باہر نکلنے کا رواج بہت کم ہے لیکن بچیاں اسکول جاتی ہیں یہ ا بات خوش آئند ہے۔

پینٹ شرٹ پہنے جو بھی نظر آیا وہ مہمان تھا یعنی باہر سے آیا ہوا سیاح تھا وہاں کے لوگ شلوار قمیض میں ہی دکھائی دیتے ہیں جو زیادہ تر سفید ہوتے ہیں۔ دو چار دن رہنے کے بعد ایک دلچسپ مشاہدہ یہ بھی ہوا کہ تقریباً ساٹھ سال کی عمر کے بعد وہاں کے سب لوگ ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ ایک جیسی سفید داڑھیاں، ایک جیسی سفید ٹوپیاں، ایک جیسےشلوار قمیض جو عموماً سفیدہوتے ہیں اور تقریباً ایک جیسا قدو قامت،ایسا لگتا ہے کہ جیسے بہت سے جڑواں بھائی وادی میں گھوم پھر رہے ہیں۔

پوری وادی سوات میں دریا آپ کے ساتھ ساتھ رہتا ہے ہم مینگورہ کے بانی پاس پر جس ہوٹل میں ٹھہرے اس کے بالکل سامنے بھی دریا رواں دواں تھا ہماری بالکونی سے ہم نے دیکھا کہ سوزوکی سے چھوٹی چھوٹی بوریاں اتاری جا رہی ہیں اور بہت سے آدمی بڑی بڑی چھلنیاں پکڑے دریا کے کنارے بیٹھے کچھ دھونے میں مصروف ہیں میرے میاں نے ہوٹل بوائے سے پوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ تو اس نے بتایا کہ یہ زمرد دھو رہےہیں۔ یہاں قیمتی پتھر بہت ملتا ہے لوگ اسے نکال کر لاتے ہیں اور دریا کے پانی سے دھو کر صاف کرتے ہیں کبھی کبھار کسی کو ہیرا بھی مل جاتا ہے یہ سنکر مجھے اشتیاق ہوا کہ ہم قریب جاکر دیکھیں کہ کیا ہو رہا ہےجب ہم نے قریب جاکر دیکھا تو جو لوگ پتھروں کو دھو چکے تھے وہ نظر آگئے باقی لوگ دریا کی طرف منہ کئے پتھروں کو دھو نے میں مصروف تھے اور چو پتھر دھل چکے تھے ان کو دیکھ کر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں تقریباً آدھے میٹر کی چھلنی میں ہرے ہرے زمرد جگمگا رہے تھے اور وہاں ایسی دسیوں چھلنیاں موجود تھیں مجھے اپنے سنارکے پاس دیکھی ایک زمرد لگی انگوٹھی یاد آگئی جس کی قیمت ہزاروں میں تھی اور اتنے ڈھیر زمرد وہ بھی اصلی، میں حیران رہ گئی اور نہ جانے کیوں میرے ذہن میں آیا کہ ہیں! زمرد ہیں یا “ارزاں چرگاں”۔
“ارزاں چرگاں” کا ایسا استعمال خود بخود ہوا اور بعد میں بھی ہوتا رہا۔

ہم نے ایک گاڑی کرانے پر کر لی تھی جس کا ڈرائیور بہت ہی اچھا آدمی تھا وہ ہمیں سیر بھی کروارہا تھا اور ساتھ ساتھ گائیڈ کے فرائض بھی انجام دیے رہا تھا اس نے مرغزار میں واقع “سفید محل” بھی دکھایا جو والیء سوات نے بنوایا تھا وہاں خوبصورت پھول اور اخروٹ اور جاپانی پھل سے لدے ہوئے بے شمار درخت تھے۔ واپسی میں اس نے مینگورہ اور سیدو شریف کی سیر کروائی اور ملالہ کا محلہ بھی دکھایا جس کی کسی گلی میں ان کا گھر تھا۔

پورے سوات میں ایک سے ایک شاندار گاڑیاں نظر آتی رہیں، میں نے سڑکوں کی وڈیو بنا کر اپنے بچوں کو بھیجی تو وہ حیران ہوئے کہ اتنی عالیشان گاڑیاں سڑکوں پرموجود ہیں جن میں پریمو، لینڈ کروزر، پراڈو، کرولا وغیرہ وغیرہ تھیں کہ ایسی مہنگی گاڑیاں ایک چھوٹے شہر میں کیسے نظر آرہی ہیں؟ ڈرائیور نے بتایا کہ یہ سب افغانستان سے اسمگل ہو کر آتی ہیں اور نان کسٹم پیڈ کہلاتی ہیں۔ ان گاڑیوں کو صرف مالاکنڈ ڈویژن میں چلایا جاسکتا ہے اگر اس سے آگے لے جائیں تو گاڑی بھی ضبط ہوگی۔ دو لاکھ جرمانہ بھی دینا ہوگا اور چھ ماہ قید بھی کاٹنا ہوگی۔

ڈرائیور تفصیلات بتاتے ہوئے بولا کہ یہ تمام گاڑیاں یہاں بہت ہی کم قیمت میں مل جاتی ہیں پریمو جیسی گاڑی جس کی قیمت تقریباً پچیس لاکھ ہے وہاں صرف چھ لاکھ میں ملتی ہے، پرانی کرولا صرف دو لاکھ میں مل جاتی ہے، اسی طرح پراڈو اور لینڈ کروزر چوتھائی قیمت میں خریدی جاسکتی ہیں میں ڈرائیور کی باتیں حیرت سے سنتے ہوۓ باہر دوڑتی شاندار گاڑیوں کو دیکھ رہی تھی اور پھر کھٹ سے وہی خیال آگیا کہ ہیں! گاڑیاں ہیں یا ” ارزاں چرگاں”

مینگورہ سے کالام تک

مرغزار سے واپسی پر ہمارے ڈرائیور نے ہمیں مینگورہ اور سیدو شریف کی سیر کروائی والی ء سوات کا گھر بھی باہر سے ہی دکھایا اور ملالہ یوسف زئی کا محلہ بھی دکھایا واپسی پر وہی شاندار گاڑیاں اور راستے دیکھتے دیکھتے ہم اپنے ہوٹل پہنچ گئے۔

راستے بھر خیالات آتے رہے کہ کیسا اچھا شہر اور محبت سے ملنے والے لوگ ہیں ملالہ نے تو سوات کا ایک الگ ہی خوفناک سا تصور لوگوں میں پھیلا دیا تھا جو آج تک قائم ہے۔ میری یہ سوچ غلط تھی یہ مجھے دوسرے دن پتہ چل گیا، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ آج کے پر امن سوات کو بھی دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔۔

ہوٹل پہنچ کر ہم نے کچھ دیر آرام کیا اور عشاء کے بعد کھانا کھانے کے لئے باہر نکلے۔ بای پاس روڈ پر لاین سے ہوٹل ہی ہوٹل تھے لیکن ہم جس ہوٹل میں بھی جاتے صرف مرد ہی مرد نظر آتے ان کے بیچ بیٹھنا عجیب لگتا میرے میاں نے پوچھا کہ فیملی ایریا ہے ؟ تو ایک ہوٹل والے نے جواب دیا کہ “ہاں ہے” اور ہمیں لیکر بالکل اندھیرے میں دریا کے کنارے کی طرف چلا جہاں پانی کے پاس اندھیرے میں دو تین میزیں لگی تھیں جن میں سے ایک پر سفید بڑی چادروں میں منہ چھپائے ایک دو عورتیں بھی نظر آئیں۔ میں نے کہا، ” ہرگز نہیں ، میں یہاں نہیں بیٹھوں گی” میرا بڑا بیٹا بھی اس سفر میں ہمارے ساتھ تھا اس نے بھی کہا کہ” نہیں یہاں اندھیرے میں کیسے بیٹھ سکتے ہیں ایک دوسرے کی شکلیں تک تو نظر نہیں آ رہیں کھانا کیسے کھائیں گے” ویٹر کا نام ” حضرت عمر” تھا جو ہمیں عجیب لگا لیکن بعد میں حضرت علی نام بھی سننے کو ملا خیر تو ویٹر ہمیں واپس اوپر لے گیا اور ایک اور اندھیری جگہ پر جھاڑیوں کے پیچھے میز لگاکر بٹھانے لگا،
لگ رہا تھا ہم کھانا کھانے نہیں بلکہ کوئی گناہ کرنے آۓ ہیں۔

میرے میاں اور بیٹے نے کہا کہ بھائی ہم یہیں ایک سائیڈ کی میز پر بیٹھ جائیں گے تم جلدی سے کھانا لے آؤ۔ میں چادر اجھی طرح لپیٹ کر مردوں کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھی تب حضرت عمر کھانا لایا جو بہت ہی بد مزہ تھا بڑی مشکل سے کھانا کھایا اور واپس ہوٹل پہنچ گئے۔

آج کل سیزن نہیں تھا اس لیے یہ صورت حال تھی ورنہ سیزن کے دنوں میں سیاح خواتین بہت ہوتی ہیں اور عورتوں کو اتنی مشکل نہیں ہوتی۔

اگلے دن صبح ہی ہم کالام کے لئے روانہ ہوئے پہلے مدین پھر بحرین اور پھر کالام۔ سفر لمبا تھا مدین اور بحرین کے راستے میں سیب اور آڑو کے پھلوں سے لدے ہوئے باغات تھے۔ ڈرائیور کی نظر میں ان کی اتنی اہمیت نہیں تھی کیونکہ وہ ان درختوں کو دیکھنے کا عادی تھا لیکن میں تو ان پھلوں سے لدے درختوں کو پہلی بار دیکھ رہی تھی میں نے اپنے بیٹے سے کہہ کر تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے باغات کے پاس گاڑی رکوائی اور پھلوں سے لدے درختوں کو قریب سے دیکھا اور ان کے ساتھ تصویریں بھی کھنچوایں۔

مدین میں ٹراؤٹ مچھلی کے بہت سے فارم ہیں لائن سے ہوٹل بنے ہیں جن میں وہ مچھلی کھائی جاتی ہے لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو صبح کے ساڑھے گیارہ بجے تھے دوپہر کے کھانے کا وقت نہیں ہوا تھا اور ہمیں بھوک بھی نہیں لگ رہی تھی اس لیے فیصلہ ہوا کہ کھانا کالام پہنچ کر ہی کھایا جائے، ڈرائیور ہمارے اس فیصلے سے بہت خوش تھا کہ ہم یہاں ٹراؤٹ نہیں کھا رہے اس کی نظر میں فارم کی مچھلی کی کوئی اہمیت نہیں تھی اس کا خیال تھا کہ ہمیں دریا کی ٹراؤٹ کھانا چاہیے وہ زیادہ مزیدار ہوتی ہے۔

مدین سے بحرین کے بعد کالام تک کی روڈ زیر تعمیر ہے جس کی وجہ سے ہمیں کالام پہنچنے میں بہت دیر لگی یعنی مینگورہ سے کالام چار گھنٹے میں پہنچے لیکن راستے کے دلکش نظاروں نےاور ہمارے ڈرائیور کم گائیڈ نے بور نہیں ہونے دیا ایک آدھ جگہ چاۓ پینے اور خوبصورت پکنک پوائنٹ پر بھی رکے۔

راستہ چونکہ لمبا تھا اس لیے ڈرائیور باتیں کرتا رہا اور 2007 سے پہلے کے سوات کے بارے میں اس نے جو کچھ بتایا اس سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہوگئے، ملالہ جو لکھتی تھی وہ لفظ بہ لفظ صحیح تھا لیکن ڈرائیور کے بقول طالبان صرف لڑکیوں کے ہی نہیں لڑکوں کی تعلیم کے بھی خلاف تھے اسکول جانے والے بچوں کو واپس بھیج دیا کرتے تھے اور لڑکوں کے اسکولوں کو بھی بموں سے اڑا دیتے تھے۔ ہمارا ڈرائیور خود بھی سوات کچہری بم دھماکے میں زخمی ہو چکا تھا جس میں ستر یا اسی افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ڈرائیور نے بتایا کہ ہم نے مینگورہ کے چوک پر اپنی آنکھوں سے ان افراد کی کھوپڑیاں لٹکتی دیکھیں ہیں جو طالبان کی بات نہیں مانتے تھے۔ وہ لوگ ایسے ظالم تھے کہ انسانی جان لینا ان کے لئے کوئی بڑی بات نہیں تھی۔مینگورہ کے ایک پل پر سے گذرتے ہوئے اس نے بتایا تھا کہ پل کے شروع میں طالبان چارپائی ڈالے بیٹھے ہوتے تھے ہر گذرنے والے کو اس چارپائی پر پیسے لازمی ڈالنا ہوتے تھے جو نہیں ڈالتا تھا پل کے دوسری طرف بیٹھے طالبان اسے سخت سے سخت سزا دیتے تھے کیونکہ انہیں واکی ٹاکی پر اطلاع دے دی جاتی تھی کہ یہ گاڑی بغیر پیسے دیے گذری ہے۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار لرزہ خیز واقعات تھے انسانی جان کی ایسی بے قدری تھی کہ نہ چاہتے ہوئے بھی وہی خیال آگیا کہ انسانی جان تھی یا “ارزاں چرگاں”!

سوات کے لوگوں نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ بڑا مشکل وقت گذارا ہے۔ آپریشن راہ حق کے وقت پورا سوات خالی کروالیا گیا تھا لوگوں نے مہینوں اپنا گھر بار چھوڑ کر اپنی وادی کو دہشت گردوں سے پاک کروایا۔

ایک بات ہم نے یہ محسوس کی کہ وہاں لوگ ملالہ یوسف زئی کو زیادہ پسند نہیں کرتے جن لوگوں سے بھی ہماری تھوڑی بہت بات چیت سب کے لہجوں میں ملالہ اور ان کے والد کے لئے شکوک وشبہات تھے۔ سب کو ان بچیوں سے ہمدردی تھی جو ملالہ کے ساتھ زخمی ہوئیں تھیں حالانکہ طالبان کے ظلم وبربریت کے وہ سب گواہ تھے لیکن ان کی اس سوچ کی نجانے کیا وجہ ہے۔بہرحال یہ ایک الگ ہی بحث چھڑ جائے گی۔

زندگی کے ساتھ موت بھی ہے راستے میں پہاڑوں پر جگہ جگہ قبرستان نظر آئے جن کی عجیب بات یہ تھی کہ کسی کسی قبر پر لکڑی کے ڈولی نما فریم رکھے تھے ڈرائیور نے بتایا کہ کوہستانی لوگ پرانےکیلاش کے لوگوں کی طرح اپنے مردوں کو دفناتے نہیں تھے بلکہ لکڑی کی ڈولیوں میں ایسے ہی کھلا رکھ دیتے تھے لیکن اب مذہب کو جاننے کے بعد دفنانے لگے ہیں۔اب توکیلاش میں بھی لوگ مردوں کو دفناتے ہیں۔

ٹوٹے پھوٹے روڈ سے گذر کر ہم کالام پہنچ گئے تھے، مناظر اور بھی دلکش ہوگئے تھے ایک ہوٹل سے ہم نے تازہ تازہ گرماگرم ٹراؤٹ مچھلی بھی کھائی جو 22سو روپے کلو اور بہت ہی مزیدار تھی۔

ایک مناسب سا ہوٹل دیکھ کر کمرہ لیا کچھ دیر آرام کیا اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر نکل گئے۔ ڈرائیور نے کہا کہ پہلے ہم جنگل دیکھنے جائیں گے، نام سنکر گھنے جنگل اور جنگلی جانوروں کا خیال آیا لیکن جب جنگل پہنچے تو وہ تو “جنگل میں منگل” تھا۔ وہاں تا حدِ نگاہ صرف اونچے اونچے تنوں والے ہزاروں درخت تھے کسی بھی فلم کے لیے زبردست لوکیشن تھی اسے دیکھ کر لگتا تھا جیسے ابھی ہیرو ہیروئن۔
“یہ وادیاں یہ پربتوں کی شہزادیاں”
گاتے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے نمودار ہو جائیں گے۔ میرے میاں نے بتایا کہ ان درختوں کی لکڑی بہت مضبوط اور کام کی ہوتی ہے۔ان کے یہ کہتے ہی میرے ذہن میں پھر وہی خیال آیا کہ اتنے کام کے درخت اور وہ بھی ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ! یہ تو “ارزاں چرگاں” ہوگیا۔ لیکن واپسی کے سفر میں ڈرائیور نے بتایا کہ یہ “دیار” کے درخت کہلانے ہیں اور ان کی لکڑی چار ہزار روپے فٹ بکتی ہے۔ اف سنکر دماغ چکرا گیا لکڑی کی قیمت اور درختوں کی تعداد سر چکرانے کے لئے کافی تھی ۔

جنگل سے نکل کر ہمارا سفر پھر شروع ہوا کالام میں زیادہ تر سڑکوں کی حالت ٹھیک نہیں دل ودماغ ہچکولے کھانے لگتے ہیں۔ ایک بازار سے بھی گذرے جہاں ایک دکان کے باہر بورڈ لگا تھا کہ “یہاں گندم کا آٹا دستیاب ہے” پتہ چلا کہ یہاں رہنے والے لوگ جو کوہستانی کہلاتے ہیں مکیی کی روٹی کھاتے ہیں اس لئے گندم کا آٹا کہیں کہیں ملتا ہے۔

اب ہماری اگلی منزل “چارپائی ہوٹل” تھا مختلف راستوں چڑھائیوں، اترائیوں اور پھسلنیوں کے بعد ہم دریا کنارے ایک ڈھابے نما ہوٹل پہنچ گئے جہاں دریا کنارے پانی میں چارپائیاں ڈال کر مہمانوں کو بٹھانے کا انتظام تھا میں بڑے شوق سے چارپائی پر بیٹھی اور جوتے اتار کر پیر پانی میں ڈالے جو فوراً ہی نکالنے پڑے کیونکہ پانی برف کی طرح سرد تھا ، دریا ہر جگہ بہت تیز بہتا ہے ہم نے وہاں شام کی چائے پی اور مغرب کی اذان سنی بہت ہی خوبصورت منظر تھا۔ دریا کا کنارہ، ٹھنڈی ہوا، اذان کی آواز اور دریا کے سامنے والے کنارے پر موجود ہوٹلز کی خوبصورت لائٹیں۔ نماز ہم نے ہوٹل میں آکر ہڑھی اس کے بعد کالام کےمال روڈ سے کچھ شاپنگ کی دکاندار بہت ہی عزت واحترام سے پیش آۓ اور چیزوں کی قیمتیں بھی بہت مناسب تھیں بلکہ مقیش یا کامدانی کے سوٹوں کی قیمت سنکر ایک بار پھر “ارزاں چرگاں” کا خیال آگیا تھا کیونکہ کراچی میں یہ بہت مہنگے ہوتے ہیں۔

رات کو ذرا ٹھنڈ ہوگئی تھی وہاں ہوٹلوں میں پنکھے نہیں تھے کیونکہ ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ رات کو شاید تھکن سے میری طبیعت کچھ خراب ہوگئی پہاڑی علاقے ویسے بھی رات کو کچھ اور ہی منظر پیش کرتے ہیں ، پرسکون کے ساتھ ساتھ خاموش، اداس اور کچھ کچھ ڈراؤنے بھی ، مجھے لیٹے لیٹے خیال آیا کہ” اگر میری طبیعت زیادہ خراب ہوگئی تو یہاں سے اسلام آباد جانے میں ہی دس بارہ گھنٹے لگ جائیں گے”یہ سوچ بھی طبیعت خراب کرنے کو کافی تھی لیکن اللہ کا شکر ہے نیند آگئی اور الحمدللہ کہ میں صبح ساڑھے آٹھ بجے” بلیو واٹر پوائنٹ” جانے کے لئے تیار تھی۔ ایک بار پھر گاڑی میں بیٹھے اور دھڑ دھڑاتے ہوئے بلیو واٹر کی جانب روانہ ہوگئے، ایک گھنٹے کا راستہ تھا اور سڑک کا نام و نشان نہیں تھا صرف پتھروں پر گاڑی چل رہی تھی اور شاباش ہے ڈرائیور پر کہ وہ چلا رہا تھا۔

لیکن جب بلیو واٹر پہنچے تو ساری تھکن دور ہوگئی بہت ہی خوبصورت جگہ تھی پانی کی لہریں کچھ اس طرح بہہ رہی تھیں کہ پانی کا رنگ نیلا نیلا لگ رہا تھا اسی لئے اسے بلیو واٹر کا نام دیا گیا ہے سامنے گھنا جنگل تھا جس میں جنگلی جانور ریچھ ٹائیگر وغیرہ بھی ہوتے ہیں ،ویاں ہوا اتنی سرد تھی کہ سردی کا احساس ہو رہا تھا ہمیں آج ہی اسلام آباد واپس جانا تھا اس لئے جلد ہی ہم وہاں سے روانہ ہوگئے۔

اس پورے سفر میں ہم نے پہاڑوں پر بکروں کے ریوڑ بھی جگہ جگہ دیکھے جن کے ساتھ کرخت چہروں والے چرواہے بھی تھے معلوم ہوا کہ یہ چرواہے “بکروال” کہلاتے ہیں اور ساری زندگی یہ لوگ گاڑی میں نہیں بیٹھتے بلکہ پیدل سفر کرتے ہیں ان کے رہن سہن پر بھی پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔

دوبارہ کالام سے زیر تعمیر روڈ پر تھکا دینے والا سفر کرتے ہم مینگورہ کے بس اسٹاپ تک پہنچ گئے لیکن یہ تھکا دینے والا سفر ایسا تھا جس میں جسم تھک رہا تھا اور ذہن فریش ہو رہا تھا۔میں تو واپسی کے سفر میں بھی مستقل کھڑکی سے باہر مشاہدات میں مصروف رہی۔ہمارا ملک بہت خوبصورت ہے کاش کہ حکومت پاکستان کو بھی خیال آئے کہ سیاحت کے فروغ کے لئے ایسے اقدامات کئے جس سے لوگوں کو آسانیاں ملیں۔

آپ لوگوں کو بھی میں مشورہ دونگی کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے وسائل دیے ہیں وہ ضرور اپنے ملک کی سیر کرے ، بچوں کو بھی لیکر جائیں کیونکہ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس طرح کی سیر وتفریح سے وطن سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔
آخر میں بتادوں کہ وہاں آ خری بار “ارزاں چرگاں” کب یاد آیا لیکن اس سے پہلے یہ بھی ضرور کہوں گی کہ عورت کے پردے کی میں دل سے حامی ہوں لیکن یہ منظر جو میں بتانے جا رہی ہوں جب نظر آیاعجیب لگا پورے سفر میں کءی بار یہ منظر سامنے آیا کہ بس اسٹاپ پر ایک مقامی مرد کھڑا ہے برابر میں اس کا سامان بیگ، گٹھڑیاں وغیرہ وغیرہ رکھی ہیں اور بیوی منہ پر چادر لپیٹنے زمین پر دیوار کی طرف منہ کیے خود بھی گھٹڑی بنی اکڑوں بیٹھی ہے گاڑی آتی ہے میاں گاڑی میں سامان رکھتا ہے جب تک بیوی منہ نیچا کئے اکڑوں بیٹھی رہتی ہے پھر میاں سامان رکھنے کے بعد بیوی کو بھی گاڑی میں بٹھا تا ہے اور خود بھی بیٹھ کر چلا جاتا ہے۔
سمجھ میں نہیں آیا بیوی ہے کہ “ارزاں چرگاں”!!!

سوات کےپیارے لوگوں سے معذرت کہ شاید یہ ان کا کلچر ہو لیکن آخر میں اسی خوش گمانی کے ساتھ مضمون ختم کرتی ہوں کہ سوات میں بچے پڑھ رہے ہیں ، بچیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں آنے والا وقت ضرور ایسا ہوگا کہ جب وہاں کی بچیاں باپردہ رہتے ہوئے بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی نظر آئیں گی۔ انشاللہ

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: