معماری نجاری سے فیس بک نَثاّری تک — عزیز ابن الحسن

0

رشید احمد صدیقی نے ’ایوب‘ کا خاکہ لکھ کر ایک غیر معروف اور عام سی شخصیت کو اپنی کتاب کے ذریعہ امر کردیا تھا۔ زیر نظر تحریر ہمارے عزیز صاحب کی ایسی ہی ایک کامیاب کوشش ہے۔ ایک عام اہم انسان کو اس طرح سے خاص اہم بناتے ہوئے تاریخ میں محفوظ کرنا جن انسانی اقدار، خصائص اور ظرف کا تقاضا کرتا ہے، عزیز صاحب کو قدرت نے ان سے ثمر مند کیا ہے۔
دھرتی سے جڑے ’اشرف بھائی‘ جیسے لاکھوں کرداروں میں سے نصیب والے کو ہی کوئی ایسا ’عزیز‘ نصیب ہوتا ہے جو اس کے جملہ خواص از شرف ہائے انسانی کے بیان سے اسے امر کردے۔ اشرف بھائی بھی ان میں سے ایک ہیں۔ (شاہد اعوان)


کیا آپ کسی ایسے آدمی کا تصور کر سکتے ہیں جو زندگی کے ساٹھ پینسٹھ برس مسلسل محنت مزدوری کرتا رہا ہو، تپتی گرمیوں کی دوپہروں میں اونچی اونچی عمارتوں پر چڑھ کر اس کی چھتیں پلستر کرتا ہو، واہ کینٹ و گرد و نواح کی بڑی بڑی عمارتیں اس کی آنکھوں کے سامنے اور اکثر اس کے ہاتھوں سے تعمیر ہوتی رہی ہوں جو گرمی کی تیز دھوپوں اور سردیوں کے جما دینے والے پالے میں کہیں بھی کسی وقت بھی، اس چھوٹے سے وقفے میں بھی جب مزدور سیمنٹ ریت مسالہ بجری مکس کر رہا ہو، بغیر کسی تیاری اور بغیر موڈ بنے، محض دستیابی پر، کوئی بھی کتاب اٹھا کر پڑھنے لگے تو دنیا جہاں سے ایسا غافل ہو جائے جیسے سویا ہوا بچہ۔ اشرف بھائی ایک ایسے ہی آدمی ہیں۔

جس کسمپرسی میں بچپن بیتا اُسی بے نیازی میں جوانی گزاری اور ویسی ہی شکرگزاری میں اب بڑھاپا نبھا رہے ہیں۔ اگلے زمانوں کے میٹرک ہیں مزاج میں رومانویت، تندی، اور ہمت میں شباب ہے۔ مشکل حالات میں میٹرک کیا اور میٹرک کے بعد سے روزگار کی چکی میں پستے پستے اب اتنے پختہ ہو چکے ہیں کہ گرمی سردی بہار خزاں میں یکساں موج میں رہتے ہیں خود مست رہتے ہیں، مگر دوسروں کو کبھی کبھی مشتعل بھی کرتے رہتے ہیں۔

جتنے محنتی ہیں اتنے ہی پڑھاکو بھی ہیں۔ مزدوری کرکے شام کو گھر واپس آتے ہیں چائے پیتے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور پھر کوئی کتاب یا رسالہ ہاتھ میں پکڑ کر گھنٹوں کے لیے دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔ میرے چھوٹے سے کتب خانے کی صرف وہی کتابیں ان کی دستبرد سے محفوظ رہ سکیں ہیں جن کا تعلق کسی بہت ہی ٹیکنیکل مسئلے کے ساتھ ہو۔ شاعری ہو افسانہ یا ناول ہو، تاریخ و حدیث کی بحثیں ہوں یا قرآنیات کے موضوع و مسائل ہوں اشرف بھائی یہ سب یکساں انہماک سے پڑھتے ہیں۔ روسی اور دیگر زبانوں کے ناولوں کے تراجم تو ان کا پسندیدہ کھاجا ہیں۔ رات دو بجے تک پڑھتے رہنا،بجلی نہ ہو تو لالٹین جلا لینا اور عینک ٹوٹ جائے تو ایک شیشے والی عینک ہاتھ سے آنکھ پہ ٹکا کر کتاب بینی میں فرق نہ آنے دینا ان کا معمول ہے۔ اس دوران پسینہ ٹپک کر نیچے گرتا رہے یا مچھر کاٹتے رہیں تو تینوں (یعنی پسینے مچھر اور اشرف بھائی ) کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پھر علی الصباح جاگ کے نماز پڑھنا، ناشتہ کرنا اور اپنی بسولی کرنڈی سنبھالنا، ساہل سوت تھیلے میں رکھ اور گلے میں رومال ڈال معماری نجاری کرنے پہنچ جانا، یہ طور گزشتہ پچاس ساٹھ سال تک انہوں نے تواتر سے قائم رکھا۔

صاحبِ خاکہ اشرف بھائی جوانی میں

اب جبکہ وہ بوڑھے ہو گئے ہیں اور مشقتی کام کی پہلے والی ہمت نہیں رہی تو گھر بیٹھ کر اخبار رسالے اور کتابوں کے ورق چاٹتے رہنا ان کا طور زندگی ہے۔ ذرا تھک جائیں تو اگلے زمانوں کے تاریخی آثار میں آباد اپنے گاؤں نما شہر یا شہر نما گاؤں، لوسر شرفو، کی گلیوں محلوں میں نکل جاتے ہیں جس کے ایک طرف شیر شاہ سوری کی بنائی “لوسر باولی” ہے اور دوسری طرف جی ٹی روڈ گزرتا ہے۔ آتے جاتے دوستوں واقف کاروں کو کوئی جملہ کہہ دینا کسی پہ فقرہ اچھال دینا کسی جاتے ہوئے ہم عمر بوڑھے کو پیٹھ میں انگلی چبھو دینا اور پھر ان کے ساتھ مل کر قہقہے بلند کرتے ہوئے حال احوال پوچھنا اور ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے لطف زندگی کشید کرتے رہنا انہیں خوب آتا ہے۔ ان کی محفل کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔ جوانوں،بچوں اور بوڑھوں میں یکساں شغل لگائے رکھتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ بچہ بن جانا ان کے ہاتھ پر گدگدی کرتے ہوئے پہلیاں بُجھانا، بجھارتیں کہنا، کہانیاں سنانا، انمل بے جوڑ اور کہہ مکرنیاں کہہ کر ان کے معنی دریافت کرنا، بچوں کے ساتھ شرطیں بدنا، نوعمر لونڈوں لپاڑوں کو چسکے دار شعر سنانا ان سے غالب اور اقبال کے اشعار کا مطلب پوچھنا کسوٹی کھیلنا اور ہم سن بوڑھوں کے ساتھ بیتی عمروں کے راز ونیاز کرنا شباب آور لطیفے سنانا، یہ سب اشرف بھائی کو خوب آتا ہے۔

وزن ہمیشہ سے کم اور سدا کاچھریرا، بفضل خدا ہر قسم کی معمول کی بیماریوں سے دور اور شوگر بلڈ پریشر کی روٹین بن جانے والی دواؤں سے مکمل آزادی کی ایسی زندگی آج کل کم ہی لوگوں کو نصیب ہے۔ کچھ تو محنت مزدوری و سخت کوشی نے اور کچھ خود اختیار کردہ کم خوراکی نے انکی صحت ہمیشہ اچھی رکھی ہے۔ ہر شے کھاتے ہیں اور ڈٹ کر کھاتے ہیں۔ پرہیز نامی کسی شے کا ان کی زندگی میں کوئی وجود ہے تو بس صرف یہ کہ پرہیز سے پرہیز کرتے ہیں۔ نصف صدی تک کے ٹو، قینچی اور بگلا مارکہ سگریٹ انہوں نے اتنے پھونکے ہیں کہ اگر ان کا وزن کیا جائے تو ان کے اس دو کمروں کے گھر کے آدھے کے برابر تو یقیناً بن جائے گا جس کے دروازوں پر ابھی بیس ایک برس پہلے تک اگلی صدی کے وسط ایشیائ چوکور خانوں والے موٹے موٹے کواڑ لگے ہوئے تھے، جن پر ہم بچپن میں جھولے لیا کرتے تھے۔ پھر ان کے پرانے کَڑیوں والے مکان کی چھت کے دیمک کھائے شہتیر مسلسل کڑکڑانے لگے تو ایک روز انہوں نے اچانک کمرہ گرا دیا اور سگریٹ نوشی ترک کر دی۔ کسی نقصان کے پیش نظر نہیں بلکہ صرف اس لئے کہ اس کمرے اور قینچی سگریٹ سے طبیعت اوب گئی تھی۔ بعد میں مکان تو انہوں نے نیا بنوا لیا مگر سگریٹ نوشی پھر نہ کی۔

کچھ عرصہ پہلے تک چائے کے بیس پچیس کپ سڑپ جانا بھی معمول تھا۔ پانچ سات کپ تو اب بھی کہیں نہیں گئے۔ ان کی علاقے کی مرغوب شے یعنی نسوار سے میں نے انہیں کبھی شغف کرتے نہیں دیکھا۔ مگر بچپن ہی سے لالٹین اور موم بتی کی روشنی میں انہوں نے اپنی آنکھوں کا جس بے دردی سے استعمال سب رنگ، عالمی و جاسوسی ڈائجسٹ کی باریک خط میں تحریر کردہ کہانیاں پڑھ پڑھ کے کیا ہے اس سے انہیں نظر کی عینک لگانی پڑ گئی تھی۔ مگر عینک کا نمبر انہوں نے کبھی کسی ڈاکٹر سے نہیں نکلوایا تھا بلکہ عام راہ چلتے یا بڑے بازاروں کے چھوٹے روڈ پر بیٹھے ہوئے عینک فروشوں سے کوئی عینک پکڑ کے اور اس کے ہاتھ سے اخبار لے کر اپنا نمبر خود منتخب کر لیا کرتے تھے۔ عینک کی ایک طرف والی کمانی اگر ٹوٹ گئی تو اشرف بھائی کو اس سے کبھی کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ اول تو وہ اس کے بغیر ہی سر کو ایک سائیڈ پر موڑ کر عینک کا وزن برابر کرکے کام چلا لیتے، زیادہ ہوا تو اس طرف کوئی ڈوری باندھ کر کان میں اڑس لیتے۔

سالہا سال کے بعد پھر ایک وقت ہم نے وہ بھی دیکھا کہ اشرف بھائی نے عینک اُتار کے ایک طرف رکھ دی اور باریک سے باریک تحریر بھی بنا عینک کے پڑھنے لگ گئے۔ کہتے تھے خودہی ٹھیک ہو گئی ہے۔ ایک لمبی مدت اس طرح بھی گزاری۔ مگر نظر جب پھر کمزور ہونا شروع ہوگئی تو انچ انچ کرکے کتاب آنکھ سے دور کرتے اور آنکھ میچتے گئے مگر پڑھنا نہ چھوڑا آخر گھر والوں نے بہ منت تمام انہیں آنکھوں کے ڈاکٹرکے پاس بھیجا نظر چیک کروائی اور قریب و دور کی عینک ان کی آنکھوں پر چڑھوائی۔ جمعے کے جمعے باقاعدگی سے حجام سے شیو کرانا نہ بھولتے تھے۔ بال انکے کے جوانی میں ہی کم ہونا شروع ہو گئے تھے اور جب خوب سفید بھی ہو گئے تو حجام کے پاس ہفتہ وار حاضری بھی چھوڑ دی اور داڑھی بھی۔ آج کل بہت نورانی صورت بزگ ہیں اور اپنے محلے کے چھوٹے موٹے پیر طریقت و شیر شریعت نما شے لگتے ہیں۔
طلاقت لسانی اور زبان کی روانی بھی خوب ہی پائی ہے۔ اردو پنجابی میں یکساں رواں ہیں اس لیے پنچایتی بھی اچھے ہیں۔ برادری چونکہ دور دراز تک پھیلی ہوئی ہے اس لیے جرگوئی کے طور پر بھی اکثر بلائے جاتے ہیں۔ جرگے کے دیہاتی لوگ اس لئے بھی انہیں معتبر مانتے ہیں کہ اشرف بھائی قرآن حدیث،تاریخ آیتیں روایتیں اور حالات حاضرہ و ناظرہ ان سے زیادہ جانتے ہیں۔ مناظرہ اور بحث وجدل کا میدان ہو تو مخالف کو دلائل و نظائر، اشعار و ضرب الامثال سے لاجواب کر دیے ہیں اور بوقت ضرورت دھونس دھمک سے بھی گریز نہیں کرتے! کسی ایسے ہی جرگہ کا قصہ ایک دفعہ اشرف بھائی نے بہت ہنس کر سنایا کہ جہاں ایک اور جرگوئی اس معاملے میں ان سے سبقت لے گیا تھا۔ بتانے لگے کہ

ہمارے فلاں عزیز، یونس اور میں ایک جرگے میں تھے۔ مقدمہ یونس کی ایک عزیزہ اور اسکے خاوند کے مابین جھگڑے کا تھا۔ خاتون سے پوچھا گیا کیوں خاتون تمہیں شوہر سے کیا شکایت ہے؟ خاتون نے بتایا کہ یہ مجھے خرچے سے تنگ رکھتا ہے اور ہر چیز میں مین میخ نکالتا ہے کبھی کھانے میں نمک کا جھگڑا تو کبھی چائے کے کپ کی ہتھی سیدھے ہاتھ کی طرف نہ رکھنے پر لڑائی۔ یونس صاحب یہ ساری شکائتیں تحمل سے سنا کئے اور بہن سے کہا کہ یہ شوہر کا حق ہے تمہیں اس کی پاسداری کرنی چاہیے۔ مگر خاتون نے جب یہ بتایا کہ شوہر اسے ہانڈی میں پیاز اور تھوم ڈالنے پر بھی مارتا ہے تو یونس صاحب ہتھے سے اکھڑ گئے۔ پھنکارتے ہوئے کھڑے ہو گئے کہ یہ مداخلت فی الدین انہیں برداشت نہ ہو سکی۔ شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے اہل جرگہ کو مخاطب کیا۔ بولے کہ یہ تو قرآنی احکامات کی صریحاً خلاف ورزی ہے جو میں نہیں ہونے دوں گا۔ جب قرآن میں بھی یہ آگیا ہے کہ
وَ فُوۡمِہَا وَ عَدَسِہَا وَ بَصَلِہَا

تو یہ لعین اب ہماری بہن کو تھوم پیاز سے کیسے روک سکتا ہے؟ یہ کہتے ہوئے یونس نے میری طرف تائید طلب نظروں سے دیکھا۔ مجھے ہنسی تو بہت آئی کہ یہ کہاں کی بات کہاں لگا رہا ہے مگر میں صرف یہ کہہ کر رہ گیا کہ ہاں یہ قرآن میں آیا تو ہے، مگر قرآن سے “دلیل” مل جانے کے بعد میرے دلائل شروع ہونے سے پہلے ہی جرگے کا جھکاؤ واضح طور پہ خاتون کی طرف ہو چکا تھا۔ سب نے اس کے شوہر کو برا بھلا کہا اور بیوی کو تھوم پیاز سے منع نہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے خاتون کے حق میں فیصلہ کردیا”۔

آج وہ خاتون اپنے شوہر، سات بچوں اور چار بہوؤں پر رانی بن کر راج کرتی ہے۔ دیکھتی انہیں شیر کی آنکھ سے ہے مگر تھوم پیاز سے منع کسی کو نہیں کرتی کہ یہ قرآن حدیث کا معاملہ ہے!

جوانی میں اشرف بھائی ایک طرف مودودی صاحب کے دیوانے تھے تو دوسری طرف ذوالفقارعلی بھٹو کے شیدائی تھے۔ تفسیر اورکتابیں مودودی صاحب کی پڑھتے اور تقریریں بھٹو کی سنا کرتے تھے۔ پھر بھٹو کے بھی شدید خلاف ہوگئے۔ سن ستر کی بھٹو اتار تحریک چلی تو اس زمانے میں میں سانگھڑ میں تھا اور اشرف بھائی واہ کینٹ میں۔ راولپنڈی اورگرد و نواح کے جلسے جلوسوں کو دیکھتے اور لمبے لمبے خطوں میں مجھے اس کی ایسی تفصیلیں لکھ کے بھیجتے کہ آنکھوں دیکھا حال سامنے آجاتا۔ بعدهٗ ضیاءالحق کی نشاۃثانیہ سے بھی کچھ عرصے کیلئے آس باندھے رہے۔ نواز شریف کے پہلے اور دوسرے دور میں اسی کو نجات دہندہ سمجھتے تھے۔ جس زمانے میں طاہر القادری کا طوطی بولتا تھا اس کے ٹی وی دروس بڑی خشوع و خضوع سے سنا کرتے تھے۔ اس کا نام لینے کے بجائے ہمیشہ حضرت شیخ الاسلام کہہ کر اس کا ذکر کرتے تھے۔ مگر پھر معروف عالم دھرنوں کے زمانے میں اس شیخ الاسلام سے بھی فروَٹ ہوگئے۔ آجکل ہر قسم کے تیرو تفنگ کا رخ عمران خانی سیاست کی طرف ہے۔

پچھلے ایک دو سال میں انہوں نے ملک کی سیاسی صورتحال پر فیس بک پر ایسے ایسے نثر پارے لکھے ہیں کہ انکو پڑھ کر مجھے اشرف بھائی کی صلاحیتوں پر نئے سرے سے غور کرنا پڑ جاتا ہے کہ قسمت ان کے ہاتھ میں اگر بسولہ کرنڈی کے بجائے قلم تھمادیتی تو یہ شعر و نثر نگاری کے کار خانے میں کیا کیا نگینے نہ تراشتے۔ ان کی لکھی “یونانی اساطیر بمقابلہ پاکستانی اساطیر” جو کہ ایک طویل چیز ہے، سے ایک نثری نمونہ دیکھئے:

“اگادوسیوں کے ماتمکدے سے آہ و فغاں کا شور اب تک بلند ہوتا ہے۔ اور دوشِیزگانِ ٹراۓ کے نوحےاور سینہ کوبی کی دھمک ہنوز ٹراۓ کی فضا میں ارتعاش پیدا کرتی ہے اور خود تباہ حال ٹراۓ اپنی بربادی اور دَرِیدگی پر بے طرح بین کرتا ہےمخمصہ محض یہ ہے کہ اس المناک شکست و رِیخت میں دیوتا بھی ملوّث ہیں یا صرف غارتگرِ جہاں ”اوڈیسیس“ ہی ٹراۓ کو ویران اور برباد کرنے کا ذمہ وار ہے یا اہالیانِ ٹراۓ خود بھی زمانے بھر میں اپنے دیس کی حرمت کی پامالی اور عصمت دری کے مجرم ہیں؟اڈیسیس ہیلن کو، جسے ٹراۓ کا بادشاہ اغوا کر لایا تھا، بازیاب کرانے کے لیے حملہ آور ہوا یوں چشم زدن میں خوب صورت ٹراۓ محض کھنڈر بن کے رہ گیا۔ ہیلن بازیاب کر لی گئی اور دس لاکھ جانیں محض ایک عورت کی خاطر لقمہِ اجل بن گئیں۔۔۔!

داستانِ طویل تر کے لیے فیس بک کا دامن متحمّل نہیں ہو سکتا لہٰذا اوڈیسیس کی مہم کے جملہ واقعات۔ ۔ ۔ ۔ سےصرفِ نظر کرتے ہوئے میں اس واقعے کی طرف واپس لوٹتا ہوں جس کے لیے میں نے اس طولانی تمہید کا سہارا لیا ہے۔

دوستو غارتگرِ جہاں اوڈیسیس، نو دن تک سرکش امواج سے پنجہ آزمائی اور بسیار خرابی کے بعد آیولیا رواں نامی جزیرے پر پہنچا، جو دیوتاٶں کے منظورِ نظر آئی لوس بن ہپو تاس کا مسکن تھا۔ اس نے اپنی چھ بیٹیوں کا نکاح اپنے چھ بیٹوں سے کر رکھا تھا۔ اتھینہ بنت زیوس کی مدد شاملِ حال رہی اور شخص مذکورہ نے کمال مہربانی سے ایک طاقتور بیل کے چرمی تھیلے میں تُند و تیز ہواٶں،غارتگر جھکڑوں اور وحشتناک گرد باد کو قید کر کے اوڈیسیس کے سفر کو محفوظ بنا دیا۔ اور خوب مہمانی کے بعد اپنے جہاز اوراپنے ملاحوں کی نگرانی میں اس کے وطن ”اتھاکا“ روانہ کر دیا تا کہ وہ اپنی بیوی”پینے پینی لوپا“ اور بیٹے”تھیلیاکس“ کے پاس جا سکے، اس نے ہوا بند تھیلے، جس کا مونہہ چاندی کی تار سے مضبوطی سے بند تھا اوڈیسیس کودیتے ہوۓ تاکید کی کہ دوران سفر تھیلے کو ہر گِز نہ کھولا جاۓ۔ چنانچہ وہ متواتر کئی دن تھیلا مستول کے پاس رکھ کر کھڑا رہا اور کسی کو تھیلے کےقریب پھٹکنے تک نہ دیا، ملاح متجسّس تھے کہ شاید تھیلے میں سونےچاندی کا خزانہ بند ہے۔

بِالآخر دور سے اتھاکا کے درو بام نظر آنے لگے۔ انجانی خوشی سےسر شار اوڈیسیس دیوتاٶں کی مدد پر نازاں وفرحاں اتھاکا کو قریب تر آتا دیکھ کر مستول کے پاس بیٹھ گیا۔ مدت سے جاگتے اوڈیسیس کو بیٹھتے ہی گہری نیند نے آ لیا۔ اسکے سوتے ہی متجسّس ملاح تھیلے کی جانب لپکے اور سونے چاندی کے تھیلہ بند ذخائر دیکھنے کی جستجو میں تھیلے کو کھول دیا۔ تھیلے کے کھلتے ہی مونہہ زور سرکش ہوائیں،مہیب جھکڑ اور تباہ کن گرد باد آزاد ہو گئے اور ان کی شدت کی وجہ سے مہیب لہریں ہر اربعہ جہت سے جہاز پر حملہ آور ہوئیں اور جہاز کو واپس آٸولیا رواں جزیرے کی طرف دھکیل دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اتھاکا نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

آئر لوس بن ہپوتاس نے غضبناک ہو کر اوڈیسیس کو دنیا کا ذلیل ترین انسان قرار دیکر جزیرے سے نکال دیا۔
دیوتاٶں کے بے رحم برتاٶ کا شکار، دل گرفتہ اوڈیسیس، ما قبل متذکرہ بلاٶں سے نمٹنے کے لیے ایک بار پھر زلزلہ گیتی پوسیڈان کی چیرہ دستیاں سہنے گہرے نیلے اور متلاطم سمندر کی لا محدود پہنائیوں میں گم ہو گیا۔

دوستو گریک میتھالوجی کا باب ختم ہوا۔ پاک میتھالوجی، مضمون کی طوالت کے پیشِِ نظر موخّر کرتا ہوں۔ انشا اللہ بہت جلد ”پاک“میتھالوجی لے کر جلد حاضرِ خدمت ہوں گا۔‘‘

تو آجکل وہ ایسی چیزیں لکھ رہے ہیں اور یہاں وہاں کی اساطیر سے علامتیں نکال کر اور کبھی کبھی کھلم کھلا پنجابی زنان خانم زبان میں پاکستانی سیاست پر تبصرے کرتے پائے جاتے ہیں جیسا کہ اس ’’یونانی اساطیر‘‘ کے اگلے جز میں انہوں نے ملکی موجودہ صورت حال کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ مزے کی بات ہے کہ اتنا کچھ وہ کمپوز بھی خود ہی کیا کرتے ہیں۔ کبھی کبھی تو گھنٹوں لگا کر کوئی ایک آدھ پیراگراف لکھتے ہیں تو اچانک کوئی غلط ہاتھ پڑنے پر سب لکھا لکھا یا ملیا میٹ ہو جاتا ہے۔ کوئی مجھ سا ہو تو کئی کئی دن تک فون کو ہاتھ ہی نہ لگائے مگر اشرف بھائی ہیں کہ چیونٹی کی سی دھن کے ساتھ اسی وقت پھر شروع ہو جاتے ہیں۔ اس جھنجھٹ سے چھٹکارا پانے کے لیے میں نے انہیں فون پر جی بورڈ انسٹال کرکے دیا کہ اب آپ اس پر بول کے بھی لکھ سکتے ہیں۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ میرے بولنے سے ساتھ والی چارپائی پر لیٹی مریضہ ڈسٹرب ہوتی ہے۔ میری بہن خورشید، انکی بیگم، برسہا برس سے اتنی بیمار ہے کہ اٹھ کر چل پھر نہیں سکتی۔ حتٰی کہ لیٹے لیٹے اسے چادر اوڑھنے کی بھی ضرورت پڑے تو اشرف بھائی سوتے سے جاگ کر اسے چادر اڑھاتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اسے دونوں کندھوں سے تھام کر کمرے میں ادھر ادھر لے جاتے ہیں۔ بیگم کی اس خدمت گزاری کی مشقت میں وہ کبھی کبھی جھنجلاہٹ کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ انہیں غصہ بھی آجاتا ہے اونچا اونچا بولنے بھی لگتے ہیں۔ مگر تھوڑی دیر کے بعد پھر شانت ہو جاتے ہیں اور بیمار بیگم کی خدمت میں جُت جاتے ہیں۔ اسی سبب سے اب وہ زیادہ دیر تک گھر سے باہر بھی نہیں رہ سکتے کہ گھر سے باہر جاتے ہی بیگم فون پر فون کرنے لگتی ہے اور انہیں واپس آنا پڑتا ہے۔ بس یوں سمجھیے بڑھاپے کے سبب روزگار کی مشقت سے جو ذرا فرصت پائی تو اب بیمار بیگم کی تیمارداری کا فریضہ سر پر آن پڑا ہے۔

صاحب خاکہ کہ اشرف بھائی لیبیا میں

اشرف بھائی کے جسمانی پرزوں میں بغاوت ہم نے صرف ان کے دانتوں کی طرف ہوتی دیکھی۔ مزاج کی تیزی اور مطالعے کی ان تھک لت کے علاوہ انہیں اپنی ہر شے پر مکمل کنٹرول رہتا ہے۔ حیرت ہے کہ وہ نہ پان کھائیں نہ گٹکا نہ نسوار منہ میں رکھیں نہ ناک میں ناس ڈالیں مگر پھر بھی نہ جانے کیوں ان کے دانت بہت تیزی سے گرے۔ آغاز ڈاڑھیں ہلنے سے ہوا پھر سامنے کے کچھ دانتوں میں کھڑکیاں سی بننے لگیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے بتیس دانتوں میں گھری رہنے والی زبان منہ میں اکیلی ہی لپ لپ کرتی رہ گئی۔ کچھ مہینے انہوں نے بڑی مشکل میں کاٹے مگر پھرمصنوعی دانت لگوا لیے۔ شروع میں لقمہ چبانے میں دقت محسوس کرتے مگر پھر ہر اکل وشرب میں رواں ہوگئے۔ نئے دانت لگنے سے شروع شروع میں ہمیں وہ کچھ اوپرے اوپرے سے لگے ان کا چہرہ کچھ چھوٹا چھوٹا لگتا۔ اشرف بھائی اپنے ہی چھوٹے بھائی معلوم ہونے لگے۔ مگر پھر آہستہ آہستہ ہم ان کے چہرے کے اور وہ اپنے نئے دانتوں کے عادی ہوگئے۔ اب وہ ہر سخت و کرخت شے کو مصرعه نظیری ’نیست در خشک و ترے بیشہ من کوتاہی‘ گنگناتے ہوئے دانتوں تلے پیس ڈالتے ہیں۔

پینتیس چالیس برس ادھر کی بات ہے جوانی میں اشرف بھائی لیبیا چلے گئے تھے۔ وہ ان کی جوانی اور کرنل قذافی کے عروج کا زمانہ تھا۔ قذافی کے لیبیا نے انہیں اور انہوں نے قذافی کے لیبیا کے وسیع وعریض صحرا کو خوب خوب نہال کیا۔ گئے تو یہ راجگیروں میں تھے مگر ان کی میٹرک میں سیکھی انگریزی اور عربی فہمی دیکھ کر وہاں ایک اطالوی ٹھیکیدار نے انہیں مستریوں اور مزدوروں پر سرپنچ مقرر کردیا۔ دن کو یہ مستریوں سے پنجابی میں کام لیتے تو شام کو اطالوی انجنیئر سے انگریزی بولتے، اسے پنجابی ماہیے ترجمہ کرکے سناتے اور جواباً وہ انہیں جینالولوبرجیڈا کی پتلی کمر اور سیکسی ہسکی آواز پر اپنی جوانی لٹانے کے قصے سناتا۔ ایک عمر کے بعد واپس آئے تو باہر سے ہو آنے والے اکثر لوگوں کی طرح، اگلے کئی برسوں تک وہاں کے صحرائی بگولوں کے موت آسا رقص، بادِ سموم کی قہر سامانیوں اور عام بدوی و شہری زندگی میں کرنل قذافی کی مہیا کردہ سہولتوں اور درہم و دینار کی ریل پیل کے آنکھوں دیکھے قصے کہانیاں اور داستانیں سنا سنا کر اپنی جوانی کو لوٹاتے رہے۔ یہ تو اب کہیں 45 برس بعد جاکر فیس بک پر لکھی ان کی یادنگاریوں سے پتہ چلا کہ وہ وہاں ایک عدد عشق بھی فرما چکے تھے۔ مگر یہ قصہ آگے بیان ہوگا۔

میں نے عرض کیا نا کہ انہوں نے بڑے مشکل حالات میں میٹرک کیا تھا۔ نثر و شاعری پڑھنے کا شوق بھی بچپن سے تھا۔ سستے جاسوسی رومانی اور سسپنس والے ناول بھی انگریزی زبان میں پڑھنے شروع کر دیے تھے جس سے ان کی انگریزی اپنے ماحول کے حساب سے خاصی بہتر ہوگئ تھی جو آگے چل کر لیبیا میں ان کے بہت کام آئی۔ ابتدائے جوانی میں کچھ ناول نگاری کرنے کا سودا بھی دماغ میں سما گیا تھا۔ تیس چالیس برس پہلے تک ان کے لکھے ایک ناول کی تین ضخیم کاپیاں ان کے گھر میں میں نے بھی دیکھی تھیں۔ میں اس وقت دوسری تیسری جماعت میں تھا کہ ان کے ناول کی پہلی جلد میرے ہاتھ لگی۔ پہلے باب کا عنوان “کالا برقعہ” تھا۔ آج بھی یہ بات یاد آتی ہے تو دل ہی دل میں ہنسی آتی ہے کہ میں نے ڈینگ مارنے کی خاطر اپنے ایک بڑی عمر کے دوست کو یہ بتاتے ہوئے کہ میرے بھائی ناول نگار ہیں، اسے ناول کے پہلے باب کا عنوان بتایا تو لفظ ’’برقعہ‘‘کا تلفظ ’’برقوّا‘‘ کیا تھا۔ یہ’’ ناول‘‘ کافی عرصے تک میری کتابوں میں پڑا رہا تھا۔ دس پندرہ برس پہلے میں نے یہ اپنے بھانجے سعید کے حوالے کردیا کہ اپنے ابا کی یہ نشانی سنبھال کے رکھے۔ اشرف بھائی کی خوشخطی ایسی ہے کہ گویا خطاطوں کے ساتھ رہ کر باقاعدہ تربیت حاصل کی ہو ان کا لکھا بس دیکھتے جائیے۔ اس ’’ناول‘‘ کی کاپیاں انہی کی خوش نویسی کا نمونہ تھیں۔ آج میں ان باتوں کو یاد کرتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے اس ’’ناول نگار‘‘ کا بچپن جس تنگی ترشی میں بیتا تھا اس میں وہ روزگار کا کشٹ کیسے کھینچتے ہوں گے اور اتنی خوبصورت خوشخطی میں ناول نویسی کس وقت کرتے ہوں گے!

بچپن میں ہم سانگھڑ میں رہتے تھے اور اشرف بھائی واہ کینٹ میں۔ اس زمانے میں وہ خطوط بھی بڑے ماجرا نگاری اور رومانوی ناولوں کے انداز کے لکھا کرتے تھے۔ ان کا خط آتا تو دس دس بارہ بارہ مرتبہ اسے پڑھنا ہمارا معمول ہوتا۔ خط میں گزشتہ مہینوں کے حالات و واقعات بڑی جزئیات کے ساتھ لکھے جاتے موسم پر تبصرے ہوتے اپنے کام دھندے کے مسائل اور مشکلات کا ذکر ہوتا۔ میں ان کے خط مزے لے لے کے پڑھا کرتا اور ان کے خطوں سے نثر اور زبان کی چاشنی بھی سیکھا کرتا۔ چھٹے چھ ماہے ان کے دو چار خطوط آجاتے تو ہم بچے اور بڑے یکساں دلچسپی سے اسے پڑھتے اور جب ایک بلند آواز میں پڑھ چکتا تو دوسرا شروع ہو جاتا اور پھر بار بار کے پڑھے ہوئے خط کہیں سے کوئی کوئی پیراگراف نکال کے پھر پڑھا کرتے۔ اشرف بھائی کے خطوں کی اس دلچسپ روداد نگاری سے زیادہ دلچسپی مجھے، بڑی بہن ارشاد اور چھوٹی بہن شہناز کو ہوا کرتی تھی۔ سچ پوچھئے تو ہم بچوں کی اردو شناسی میں بچوں کی عام کہانیوں، سب رنگ ڈائجسٹ، عمران سیریز اور الف لیلہ کے علاوہ اشرف بھائی کے ان خطوط کا بھی بڑا حصہ تھا۔ میرے ایک بڑے بھائی مرحوم عبدالرحمن جن کو پڑھنے پڑھانے سے کوئی خاص شغف نہ تھا، اشرف بھائی کے خطوں کی طوالت اور “فضول نویسی” سے بہت چڑا کرتے تھے، وہ کہتے کہ ’میں تو ان کی پہلی دو سطریں اور آخر میں سلام دعا اور خیریت پڑھ کر نچنت ہو جاتا ہوں انکی باقی باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں‘‘۔

ہمارے بچپن میں سال دو سال بعد گرمی کی چھٹیوں میں اشرف بھائی، آپا اور بھانجے بھانجیاں جب واہ کینٹ سے سانگھڑ آتے تو ہم گھر والوں کی گویا عید ہو جاتی۔ ان کے آنے کی خبر کے دن ہی سے ہم ان کا انتظار شروع کر دیتے۔ مہینہ ڈیڑھ مہینہ بعد جس روز انہوں نے واپس لوٹنا ہوتا اس سے ایک دو راتیں پہلے ہم انہیں دیر تک گھیرے بیٹھے رہتے۔ سانگھڑ کی گرمیاں بہت شدید تھیں مگر وہاں کی راتیں صحراؤں کی ٹھنڈی نرماہٹ اور خوشبو میں لپٹی ہوتیں۔ سب چھوٹے بڑوں کی چارپائیاں بڑے سے صحن میں ترتیب سے بچھی ہوتیں۔ اور ہم سات آٹھ بہن بھائی اور بھابھیاں اشرف بھائی کی چارپائی کے گرد گھیرا بندی کر کے بیٹھ جاتے۔ نہ بھائی کے چٹکلے، قصے اور کہانیاں ختم ہوتی اور نہ ہی ہمیں نیند آیا کرتی۔ ہم ان کی پھلجھڑیوں پر منہ پر ہاتھ رکھ کے قہقہے روکتے کہ مبادا آواز اوپر والے صحن میں ابا کے کانوں تک پہنچے۔ کبھی کبھار اوپر سے امی بھی تھوڑی دیر کے لئے نیچے اتر آتیں اور اپنے بھانجے اور بچوں کو کھلکھلاتے دیکھ کر خوش ہوتیں کچھ باتیں کرتیں اور پانی پی کر پھر چلی جاتیں۔ اشرف بھائی کی امی یعنی ہماری خالہ کا نام زینت جان تھا اور ہماری امی کا روشن جان۔ میری چھوٹی بہن کو ان ناموں پر بہت رشک آتا۔ اس بات پر وہ بہت خفا رہتی، اور ایک دفعہ اس نے اشرف بھائی سے شکایتاً کہا بھی تھا، کہ دیکھو “یہ ہماری امی اور خالہ لوگ کتنے چالاک ہیں کہ خود ایک صدی پہلے کے ہو کر بھی اپنے کتنے ماڈرن نام رکھتے تھے اور ہمارے نام انہوں نے پرانے انداز کے، شہناز، ارشاد اور خورشید وغیرہ، رکھے ہیں”۔ شہناز کی اس بات پر امی دیر تک ہنستی رہیں تھیں۔

اشرف بھائی کو بالکل ابتدائی عمر سے شاعری پڑھنے کے ساتھ ساتھ شاعری کرنے کا بھی شوق افزوں رہا ہے۔ تک بندی کرتے کرتے اچھی خاصی غزل کہنے لگے تھے۔ شاعری کا ٹھرک تو اب بھی ہے مگر ناول نگاری ترک کر دی اور مطالعے کی لگن بڑھتی ہی گئی۔ اب جبکہ کام دھندے کی ہمت و مشقت کی طاقت باقی نہیں رہی اور فارغ وقت گھر میں بیٹھ کر سارا دن بیگم کی تیماردادی اور گھر والوں سے الجھتے رہنا معمول بن گیا تو کسی خدا کے بندے نے انہیں سمارٹ فون اور فیس بک پہ لگادیا۔ اب ان کی جولانئ طبع کو وسیع میدان ہاتھ آگیا۔ مدتوں کی رکی ہوئی طبع پھر رواں ہوگئ۔ روزانہ کے حساب سے اشعار اور غزلے دو غزلے ہونے لگے۔ ملکی حالات و سیاست پر بھی خوب رواں رہتے ہیں۔ سیاسی تبصروں میں بعض اوقات ناگفتہ باتیں بھی اتنی کھلے ڈلے انداز میں کر جاتے کہ ان کے ناتے پوتے آکر انہیں سمجھاتے ہیں کہ

’’نانا حضور، دادا ابا! یہ آپ کیا لکھتے رہتے ہیں۔ نہ لکھا کریں، لوگ ہمیں طعنے دیتے ہیں، عجیب عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں کہتے ہیں کہ آپ کے بڑے ابا کو کیا ہوگیا ہے۔ کیا انہیں خبر نہیں کہ چھوٹے بچے بھی ان کی لکھی کتھائیں پڑھتے ہیں!‘‘۔

پھر ایک روز میری بھی سفارش ڈلوائی گئی۔ میں نے بھی ڈرتے ڈرتے اشرف بھائی کو سمجھایا۔ ان کی مہربانی ہے کہ اب وہ خاصے محتاط ہو چکے ہیں۔ ناگفتنیوں سے تو باز آچکے ہیں مگر سیاسی لطائف ظرائف اور چٹکیوں سے باز نہیں آتے، عمران حکومت ان کے چٹکلوں کا خاص نشانہ رہتی ہے۔ اپنی نئی نئی تصویریں بناکر فیس بک پر ٹانکتے رہنا بھی ان کا مشغلہ ہے۔

میرے سانگھڑ کے اکثر دوست اشرف بھائی کے بھی دوست بن گئے تھے۔ اکبر معصوم، غلام محمد چوہان ڈاکٹر گلزار, حسن وسان اور خیر محمد انجم۔ ان میں سے خیر محمد انجم اور غلام محمد چوہان آج بھی اشرف بھائی کے فیس بک دوستوں میں ہیں۔ افسوس کہ ڈاکٹر گلزار اور حسن وسان کے بعد چند مہینے پہلے اکبر معصوم بھی اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ ان دوستوں میں اشرف بھائی کی سب سے زیادہ اکبر سے گاڑھی چھنتی تھی کہ شاعری کا ٹھرک سانجھا تھا۔ سن 2000 میں اکبر کی شاعری کی پہلی کتاب “اور کہاں تک جانا ہے” چھپی اور اس کے بعد پچھلے چند برسوں میں اس کی دو اور کتابیں آئیں تو اس نے بالاہتمام اشرف بھائی کے لیے بھی اپنی کتابیں بھیجوائیں۔

اشرف بھائی پہلے تو صرف اردو میں شاعری کرتے تھے۔ مگر تین سال پہلے جب اکبر معصوم کی پنجابی شاعری کا مجموعہ آیا تو پنجابی شاعری پڑھتے پڑھتے وہ پنجابی میں بھی رواں ہوگئے۔ ایسی بولیاں لکھنے بولنے اور ایسے تیکھے شعر کہنے لگے کہ سن کر طبیعت پھڑک جاتی۔ لیکن جب اس میں کچھ استاد امام دینی اور چرکینی رنگ آتے دیکھا تو دوست احباب نے ہاتھ جوڑ کر ان کی پنجابی شاعری بند کروائی۔ شاعری میں چرکینی رنگ دکھانا تو انہوں نے کچھ چھوڑ دیا مگر اپنے فیس بکی سیاسی شذروں میں ناگوار معاشرتی اور سیاسی رویوں کو اسی لہجے اور اسلوب میں دُھننا پنُنا کار ثواب سمجھتے ہیں۔

اکبر معصوم کے انتقال کے بعد اشرف بھائی بہت رنجیدہ رہنے لگے ہیں اس افسردگی کا علاج انہوں نے یہ نکالا کہ دوسرے چوتھے روز اکبر کے بارے میں اپنی یادیں اور اسکی باتیں اور کبھی اس کے اشعار پر کہی ہوئ اپنی غزلیں لکھنے شائع کرنے لگتے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے انہوں نے اکبر معصوم کی ’’حیات معاشقہ‘‘ بھی اپنے رنگین اسلوب میں لکھ ڈالی ہے مگر میں اس کی رنگینی والا حصہ حذف کر دیا ہے۔ سنگینی والے جز کا نمونہ ملاحظہ ہو:

’’شاعر باکمال ہو تو سامعین جنگل میں بھی میسر آ جاتے ہیں۔ ایسے ہی کوئی مصیبت مقدر میں ہو یا کسی آزمائش سے گزرنا ہو تو بندہ خود بخود ان راستوں پر چل پڑتا ہے جو باالآخر اسے بربادی کے عمیق گڑھے میں پھینک دیتے ہیں۔ ۔ ۔

ایسے ہی ایک کُشتہَ تقدیر کا ماجرا، جو اچانک ہی کیوپڈ کا تیر کھا کر نڈھال ہوا اور محرومی کا داغ اپنوں سے بھی چھپاتا رہا اور بالآخر اس بے ثبات دنیا سے چپ چاپ جہانِ رفتگان کو سدھار گیا،۔ ۔ ۔ آج بیان کرتا ہوں:

اعظم گڑھ (یا شاید شیر گڑھ) میں اپنے عزیزوں کے ہاں رات کو اپنے ہی اقربا کی ایک تقریب میں اکبر اپنے اشعار سنا رہا تھا اس بات سے بے خبر کہ اس تقریب میں اپنے عزیزوں کی ایک پڑوسی (شعر و ادب کی رسیا) خاتون بڑے انہماک سے اکبر کی طرف متوجہ تھی۔ تا دیر اکبر اپبے جواہر ریزے بکھیرتا رہا تقریب کے اختتام پر سب منتشر ہوئے اکبر کی ایک عزیزہ نے اکبر کو تقریب میں موجود لڑکی کا پیغام پہنچایا کہ یہ لڑکی آپ سے شادی کی متمنی ہے۔ اکبر حیران و پریشان کہ کون ہے جو اس معذور کو جیون ساتھی بنانا چاہتی ہے۔ اس نے سرسری نظر تو لڑکی پر ڈالی تھی پر اس کے خد و خال اس کی یاداشت کی گرفت میں نہیں آرہے تھے۔ پیغامبر تو پیغام دے کر چلا گیا اور بقیہ رات اکبر اس اجنبی لڑکی کے نقوش اور خد و خال تراشتا مٹاتا رہا جو اچانک ہی اس کی پر سکون زندگی میں ہلچل مچا گئی۔ رات بھر اسی ادھیڑ بُن میں مبتلا اکبر کو اونگھ لگی تو صبح دیر تک سوتا رہا۔

گھر کے مرد روز مرہ کے معمولات کے لیے باہر چلے گئے صرف خواتین ہی گھر میں رہ گئیں۔ نیم خوابیدہ اکبر کولگا کوئی اسکے کندھے کو آہستگی سے ہلا رہا ہے۔ حواس بیدار ہوئےتو کانوں میں کانچ کی چوڑیوں کا جلترنگ بج اٹھا وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ رات بھر تخیل میں تراشے سراپے سے مختلف سراپا اس کے سامنے کھڑا، بس اسے دیکھے ہی جا رہا تھا۔ اکبر کا دل بے طرح دھڑک اٹھا ”کون ہے؟“ اکبر کی مدھم سرگوشی گویا سسک کے رہ گئی۔ ”میرا پیغام ملا تھا آپ کو؟“ لڑکی کی آواز میں لرزش نمایاں تھی اکبر نے دیکھا جذبات سے تمتماتے گالوں پر، خمار آلود آنکھوں سے آنسو لڑھک کر جم سے گئے، لگا کہ دستِ قدرت نے گلاب کی پنکھڑی پر شبنم کے موتی ٹانک دیئے ہوں۔ اکبر کے رگ و پے میں نشاط کی سوئیاں سی کھُب گئیں”میں معذور ہوں“ اکبر نے اپنی حالت بیان کر دی۔ ”جانتی ہوں“ وہ قریب ہو گئیں تو اکبر سلگ اٹھا”میں کوئی کام نہیں کر سکتا،ہر کام میں دوسروں کا محتاج ہوں“ اکبر نے اسےاپنے ارادے سے باز رکھنا چاہا تو اس نے اکبر کا ہاتھ تھام لیا ”میں آپ کی بیساکھی بنوں گی۔ آپ کو معذوری کا احساس بھی نہ ہونے دوں گی“ وہ گویا اپنے موقّف پر ڈٹ سی گئی تو اکبر نے پہلی بار اسے بھر پور نظروں سے دیکھا وہ ایک بے حد قبول صورت اور متناسب الاعضإ لڑکی تھی گندم گوں رنگت میں بلا کی کشش تھی ”ڈرتا ہوں آسمان چھونے کی کوشش میں اپنے پاؤں کی زمین بھی نہ گنوا بیٹھوں“ اکبر کی سرگوشی نما مدھم سی آواز گویا کہیں دور سے آ رہی تھی۔ ”مجھ پر اعتبار کرو میرا عزم پختہ اور طلب میں خلوص ہے اگر ایک ہفتے تک آپ کے گھر سے میرے رشتے کا پیغام نہ آیا تو میں اپنی جان لے لوں گی“ لہجہ اٹل تھا، اکبر کو اپنے قلب و جگر میں برچھی سی ٹوٹتی محسوس ہوئی۔

یہ دنیا کا نرالا عشق تھا جس میں نہ محفلِ ناؤ و نوش جمی،نہ پُر خمار آنکھوں سے لذت کشید کی گئی،نہ لب و رخسار کا ذکر ہوا،نہ سرو قد سراپا کی قسم کھائی گئی۔ نہ عارض و گیسو کے قصیدے پڑھے گئے۔ نہ بحرِ عشق میں ڈوبنے ابھرنے کی نوبت آئی،نہ وصل و فراق کی روح افزا حلاوت سے شناسائی ہوئی۔۔۔ اپنی تمام تر معذوری کے با وجود بہر طور اکبر انسانی جذبات سے عبارت تھا۔ بشری تقاضےاسے بھی لا حق تھے۔ مسلسل اصرار اور کچھ اپنے فطری تقاضوں کے سامنے اکبر نے ہتھیار ڈال دیے اور خود کو انجام سے بے پرواہ ہو کر اچانک بھڑکنے والے آتش فشاں کے جہاں سوز الاؤمیں کودنے پر آمادہ کر لیا۔

سانگھڑ یاترا ہو اور اکبر سے ملاقات نہ ہو یہ ممکن نہ تھا دس بجے کے قریب میں رحمٰن کلینک پہنچا اکبر موجود تھا علیک سلیک کے مرحلے طے ہوئے اکبر کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا نفیس صاف ستھرا لباس،تازہ شیو کی ہوئی،ہونٹوں پر تبسّم کی ناچتی لہریں، لہجے کی شگفتگی روز مرہ سے کہیں زیادہ، میں نے بے تکلفی سے کہا”اکبر بھائی لگتا ہے عشق ہو گیا آپ کو“ وہ کھنکتی ہنسی ہنسا۔ ۔ ۔

”اشرف بھائی، مجھے آپکی فلکیاتی علوم میں شُدھ بُد کا علم ہے۔ آپ نے بُشرٰی (بھانجی) سے متعلق جو پیشگوئی کی تھی وہ درست نکلی اب میرے معاملے میں کچھ ارشاد ہو جائے تو ممنون ہوں گا۔ پھر اس نے تفصیل سے اپنے ساتھ ہونے والی خوشگوار واردات کی تمام تر جزیات بیان کر دیں۔ ”اشرف بھائی! دو دن بعد یہ نا چیز رشتہِ ازدواج میں منسلک ہونے جا رہا ہے۔ کچھ پیش آمدہ حالات سے آگاہی ہو جائے۔ میں نے ایک دن کی مہلت چاہی۔ دوسرے دن ملاقات ہوئی تو میں نے کہا ”اکبر بھائی اللہ سے خیرو خوبی سے معاملات طے ہونے کی دعا ہے لیکن آپ زیادہ خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں اور جان لیں کہ ہر جیت کی تاک میں ہار بھی گھات لگائے بیٹھی ہوتی ہے، مجھے آثار اچھے نہیں لگتے اگرچہ آپ کی والدہ محترمہ نے کسی عامل سے اس مہم کی کامیابی کے لیےتعویذ بھی لیا ہے“۔ میں اپنی کہہ چکا تو اکبر نے اعتراف کیا کہ واقعی والدہ نے اپنے دوپٹے کے پَلّو سے تعویذ باندھ رکھا ہے۔ ۔ ۔

اعظم گڑھ سے واپسی ہو چکی تھی میں نتائج جاننے کے لیے متجسّس تھا۔ ملنے گیا تو اکبر کو دیکھ کر دل کو دھچکا سا لگا۔ شاداب چہرہ دھواں دھواں لگا۔ بکھرے بال اور ویران سی آنکھیں زبانِ حال سے ناکامی کا اعلان کر رہی تھیں۔ مجھے کچھ پوچھنے اور اسے کچھ بتانے کی نوبت نہ آئی۔ صحرا نوردی نے مجھے خاموشی کی زبان پڑھنے کا ہنر سکھا دیا تھا میں اس کے چہرے کی کھلی کتاب حرف حرف پڑھ رہا تھا ویران آنکھوں میں روتی حسرتوں اورلرزتے ہونٹوں پر بین کرتے جذبات مجھ سے چھپے نہ رہ سکے ساری عمر خوداری کے خول میں بنداپنی معذوری کو قبول کرتے ہوئے راضی بہ رضا اللہ، زندگی گزارنے والا محض چند خوشیاں سمیٹنے کے لیے کسی دروازے پر نہیں پتھر کی گونگی بہری دیواروں پر دستک دے بیٹھا تھا۔ ۔ ۔

وہ چپ چاپ میرے سامنے بیٹھا دل کے غبار کو چھپانے اور اور خود کو سمیٹنے کی کوشش کے باوجود آنکھ سے ڈھلکنے والے آنسو کو نہ روک سکا جو ضبط کے باوجودآنکھ کے گوشے پر مچلا اور لڑھک کر ویران رخسار پر گیلی لکیر بناتے ہوئے لڑھک گیا۔ وہ بمشکل بول پایا ”اشرف بھائی!آپ نے سچ کہا تھا۔ ۔ ۔ “!بھائی

اشرف بھائی کی لکھی اکبر کی اس ’’حیات معاشقہ‘‘ میں حقیقت کے ساتھ ساتھ افسانہ سرائی بھی ہے اور شاید دو مختلف واقعات کو گڈمڈ بھی کر دیا گیا ہے۔ مگر اس میں اشرف بھائی کی نثر کی جھلکیاں پوری طرح موجود ہیں۔ جب سے ان کے ہاتھ میں یہ فیس بک آئی ہے ان کے رہوارِ تخیل کی اڑانوں کو گویا ایک نیا آسمان مل گیا ہے۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے طبعیت میں جو شباب نے انگڑائی لی تو پچاس پچپن برس بعد لیبیا کے صحراؤں میں صحرائے نجد کے مجنوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے نہ جانے کہاں کہاں کے رومان لکھنا شروع کر دئیے۔ خاکہ ختم ہونے سے پہلے ان کی “لیبیا بیتی” کی ایک جھلک بھی دیکھ لیجیے جس میں افسانے کا “میں” اور میرِ افسانہ بری طرح گڈمڈ ہیں:

“۔ ۔ ۔ اسی گزرگاہ پر کھجوروں کے جھنڈ میں سیاہ فام، نحیف الجُثہ صالح مرحوم کا مکان تھا جس کی بیٹی”الخداریة“

میری نیک نامی پر سوالیہ نشان بننے جا رہی تھی۔ ۔ ۔ رمضان المبارک کا تیسرا عشرہ شروع تھا روزانہ بارہ بجے چھٹی ہو جاتی تھی ایک دن حسبِ دستور لڑکے چھٹی کے بعد نہا دھو کر اپنے روز مرہ کے مشاغل میں مصروف ہو گئے کوئی تاش لے بیٹھا کوٸ لوڈو لے بیٹھا اور کوٸ گیسو دراز اقبال کے درد بھرے ماھیئے سننے اس کے ارد گرد جا بیٹھا۔ میں لبنان کے ابو یاسین المقدع اور اس کے دو ہموطنوں علی اور ولید کے ساتھ فرش پر کمبل بچھا کر مقناطیسی لوڈو کھیلنے لگا اتنے میں ایک بوڑھا بدوی ہاتھ میں ہواٸ چپل کا جوڑا پکڑے چیختا ہوا آیا ”اینَ محمد“ محمد کہاں ہے۔ ہم سب چونک گئے یہ ایک انتہائی ضعفِ بصر کا شکار بوڑھا تھا ابو یاسین کہ صاحبِ زبان تھا کے استفسار پر اس نے بتایا کہ کوٸی پاکستانی باغ میں۔ ۔ ۔ کر رہا تھا!

مجھے دیکھا تو اپنی چپل چھوڑ کر اس طرف بھاگ آیا۔ یہ ابتدا تھی میری مشکلات کی۔ بات پولیس تک جا پہنچی۔ مصری انجینئرعبدالحکیم عادل عبداللہ کو بھی بتایا گیا۔ میں نے کہا میں تمام لڑکوں کو لائن اپ کرتا ہوں بوڑھے سے کہو پہچان کر بتائے لیکن بوڑھے نے صرف اتنا بتایا کہ وہ کالا لمبا سا لڑکا تھا۔ میں ابراہیم پولیس والے کو ایک طرف لے گیا اور اسے اسکا وعدہ یاد دلاتے ہوئے معاملہ رفع دفع کرنے کی درخواست کی۔ اس نے یقین دہانی کرواٸ کہ معاملہ دبا دیا جائیگا۔ مجھے ناظمِ اعلٰی الاجخرة کا خیال آیا اس سے رابطہ کیا اور ساری حقیقت بتا کر مدد کی درخواست کی اللہ مہربان ہو تو بات بنتی چلی جاتی ہے خلیل مرسال کے حکم سے معاملے پر مٹی ڈال دی گئی لیکن اگلی صبح ساری بستی کے مردو زن اس کہانی سے واقف ہو چکے تھے۔

جی یہ خداریة تھی، میں دوسری سائیڈ پر جانے کے لیے اس کے گھر کے قریب سے گزرا تو وہ بھی گھر سے ہسپتال جانے کے لیے نکلی وہ نرس تھی۔ بتاتا چلوں کہ ہسپتال مذکورہ میں تین نرسیں تھیں۔ مبسوطہ، خداریة اور بلغاریہ کی کلارہ۔ خداریة پُر اسرار ہنسی ہنستے میرے قریب آ گئی بعد از مصافحہ گویا ہوئی”محمد ما فی عندکَ حریمہ“ محمد آپکی بیوی نہیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو کہنے لگی ”لیش دِگ دِگ حمار؟۔ ۔ ۔

میں زمین میں گڑنے لگا ہر روز کی اس “لیش دِگ دِگ حمار؟” کی تکرار سے بچنے کے لیے میں اس کے مکان کے پچھواڑے کھجور کے ایک گھنے جھاڑ کی آڑ میں جانے آنے لگا۔ دو دن بعد جب میں جھُنڈ سے گزرنے لگا تو وہ اچانک سامنے آگئی میں گڑ بڑا کر کھڑا ہوا میرے قریب آ کر مصافحے کے لیے میرا ہاتھ پکڑا تو اس کی انگلیوں میں لرزش سے لگا اس کا دل سینے میں نہیں انگلیوں میں دھڑک رہا ہو اسکے ہونٹ لرزے لیکن کوئی آواز نہ نکلی اور پھر اچانک ہی اس نے مجھے باہوں میں جکڑ لیا۔ ”محمد، خفا ہو مجھ سے؟ مجھے لگا زمین میرے پاٶں سے نکل رہی ہے میں اسے جھٹک کر جھُنڈ سے آگے بڑھ گیا شکر ہے کسی کی نگاہ نہیں پڑی۔ یوں ایک سیاہ فام لڑکی مجھے عشق کی الف بے سے آگاہ کر گئی۔ بلا کی حسین تھی عجیب سی کشش تھی اس میں، گویا سراپا مقناطیس تھی۔ ۔ ۔ وہ کالی حور تھی صحرا کی کھلی فضا میں ایمان شکن اپسرا تھی کالے گلاب کے پھول کی طرح نایاب۔ مجھے اس نے دن دہاڑے لُوٹا اور میں دوبارہ لُٹنے کی تمنا میں صبح و شام کرنے لگا۔ پتھر میں جونک لگ چکی تھٕی ایک غیر مرئی آگ تھی۔ نہ نظر آنے والا شرارہ تھا کہ قلب و جاں خاکستر کر رہا تھا۔ میں سر جھٹک کر اس کے خیال کے کیکڑے کو ذہن سے بار بار نوچتا اوروہ بار بار میرے پاٶں کی زنجیر بن جاتی۔ کسی کو راز دار بنانا گویا خود سے کانٹے چپکانا تھا رات نیند کو ترستے اور دن اس کے تصوراتی ہیولے میں اسے کھوجنے میں گزرتا۔ میں خود سے اس کالی بلا کو دور کرنے کے جتنے جتن کرتا وہ اتنی ہی شدت سے میرے حواس پر چھا جاتی۔ تین دن گذر گئے۔ میں نے وہ راہگزر بھی چھوڑ دی لیکن اس سیاہ فام ساحرہ کے سحر سے گلو خلاصی ممکن نہ تھی نتیجتًا میں بے خوابی کا شکار ہو گیا ہلکی حرارت رہنے لگی آنکھیں مسلسل جاگنے سے خونِ کبوتر ہو گئیں۔ میں نہ چاہنے کے باوجود ہسپتال پہنچ گیا۔ وہ گویا میری ہی منتظر تھی میں ڈاکٹر رشید الدین علی احمد کے کمرے میں چیک اپ کے لیے گیا تو ستم ظریف نے اسے ہی میرا ٹمپریچر لینے پر لگا دیا۔ سٹریچر پر لٹا کر میرے مونہہ میں تھر ما میٹر رکھتے ہوئے وہ جھُکی اور اپنے سنگِ سیاہ سے تراشے جلتے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیے۔ بیچ میں پردے کیوجہ سے کوئی بھی اسے دیکھ نہ سکا۔ ”انتَ زَالان یا محمد“ محمد کیا مجھ سے خفا ہو؟ اس نے مدھم سی سرگوشی کی میں بری طرح شکست و ریخت کا شکار تھا میرے اندر گویا تنور جلنے لگا ”خداریة اللہ کے واسطے مجھے جینے دو، تم مجھے کہاں لے گئی ہو میں مڑ کے دیکھتا ہوں تو اندھیرے مجھے نگلنے لگتے ہیں“ اس نے بیچ کے پردے سے مزید فائدہ اٹھایا اور اپنے لبوں کی حلاوت ایک بار پھر میرے مونہہ میں انڈیل دی۔ خداریة ڈاکٹر کے پکارنے پر اس نے حرارت چیک کی مائی ثلاثہ یعنی١٠٣ ڈگری۔ ڈاکٹر نے انجیکشن لکھا اب انجیکشن بھی اسے ہی لگانا تھا۔

محمد انجیکشن بٹک (Buttock) پر لگے گا میں نے کہا کپڑے کے اوپر سے لگا دو پر وہ مُصر تھی کہ جگہ ننگی کرنی پڑیگی۔ طوعًا و کرعًا اس کی حسب خواہش یہ مرحلہ بھی طے ہوا اور وہ دیر تک ٹینکچر والی روئی سے خون روکنے کے بہانے جگہ سہلاتی رہی۔ خداریة پلیز، میں سسک اٹھا۔ انتَ زالان، لیش؟

آپ کیوں ناراض ہیں، خوف زدہ کیوں ہیں؟ اس نے پردے سے باہر جھانک کر ایک بار پھر میرا خوف دور کرنے کی کوشش کی پر میں نے اس کے سلگتے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ نہیں خداریةنہیں، میں نے احتجاج کیا۔ کیوں لگ گیا انجیکشن؟ ڈاکٹر کی آواز پر اسے مجھ سمیت پردے سے باہر آنا پڑا۔ میں نے رسوائی کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ دیا تھا۔

واپس ڈیرے پر آ کر میں آئینے کے سامنے کھڑا ہو گیا، میں نے کبھی گلفام ہونے کا دعوٰی نہیں کیا ہاں اتنا ضرور ہے کہ ایک بار جس نے دیکھا اس نے پلٹ کے دوبارہ ضرور نظر ڈالی۔ خداریة اپنے ترکش کا تیر کامیابی سے چلا چکی تھی اور میں کہ گھائل تھا پر کسی مرہم کا محتاج نہ تھا۔ ڈوب اور ابھر رہا تھا پر بچاٶ کے لیے تنکا تک پکڑنا بھی گوارا نہ کیا۔ کالی ساحرہ کا جادو اپنا اثر دکھا چکا تھا میرے ذہن کے پردے پر ایک ہی شبیہہ بن بن کر مٹنے لگی۔ گیسو دراز اقبال نے اڑی رنگت اور ویران آنکھیں دیکھ کر ہسپتال لے جانا چاہا پر میں نے انکار کر دیا۔ اسے کیا خبر تھی کہ ہسپتال ہی سے میں درد کا زہر پی کے آیا تھا وہی جگہ تو میری قتل گاہ تھی خداریة پِیر ہشت پا کی طرح میرے حواس سے لپٹ چکی تھی اور میں کسی بے بس پرندے کی طرح قفس کی تیلیوں سے سر ٹکرا کے لہو لہان ہو رہا تھا اور رسوائی کا عفریت اپنے خون آشام جبڑے کھولے دھیرے دھیرے میری جانب بڑھ رہا تھا۔

مضمون کی طوالت کی پیشِ نظر اس بجھی راکھ کی چنگاری کی تباہ کاری کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتا ہوں زندگی رہی تو اس داستان کا بقیہ ورق الٹنے کے لیے پھر کبھی حاضر ہونے کا وعدہ کرتا ہوں۔”

یہ ہیں میرے اشرف بھائی،جو ہیں تو راج گیر مگر جنکا تخیل شاعر کی طرح فراٹے بھرتا اور قلم الف لیلہ کے نگارخانوں کی سیریں کراتا ہے۔ یہ میرے خالہ زاد ہیں اور پچاس سال سے میرے بہنوئی بھی۔ عمر میں مجھ سے تیس سال بڑے ہیں مگر بچپن میں میری سب سے زیادہ دوستی بھی انہی سے رہی ہے۔ انہوں نے ہی میٹرک کے زمانے میں مجھے شاعری پڑھنے کی لت لگائی تھی۔ خود غالب کے شیدائی تھے اور اقبال کے فدائی۔ شدہ شدہ میں بھی ان کے پیچھے فیض غالب اور اقبال پڑھنے لگ گیا۔ انکے ابتدائی کلام میں اقبال کا بھی اثر پایا جاتا تھا۔ بچپن میں ان سے سنے ہوئے ان کے کچھ اشعار آج بھی یاد ہیں:

تہہِ آب غواصی کا حاصل مرجان و گہر لولو حسیں
لبِ ساحل مردِ ضعیف ہمت موجوں کا تلاطم شوریدہ!

خدا حافظ فضائے نیلگوں سنگین چٹانوں و کوہسارو
تہہ مقراض رکھ کے پر ہوا شاہین خوابیدہ

تبسم ریز رہتے ہیں وہ بزم غیر میں لیکن
خدا جانے میرے پہلو میں کیوں لگتے ہیں رنجیدہ

ان کی بعد کی شاعری، خاص طور پر پنجابی شاعری، میں ان کا اپنا رنگ بھی جھلکتا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ ان کی شاعری کے مزید کچھ نمونے دوں مگر طوالت کا خوف ہے۔ میرا اپنا خیال ہے کہ شاعر کی نسبت یہ نثرنگار اچھے ہیں۔ ان کے اندر ایک کہانی کار بھی چھپا بیٹھا ہے۔ افسانہ سرائی کرتے ہوئے اگر یہ رنگین بیانی سے پرہیز کرتے ہوئے ماجرا نگاری کو ایک سپاٹ مگر تیکھے اسلوب میں لکھا کریں، جیسا کہ انکی “لیبیا بیتی” کی مختلف اقساط میں نظر آتا ہے تو اب بھی یہ بہت سے پیشہ ور لکھنے والوں کو حیران کرکے مار ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اشرف بھائی کا ایک اور مشغلہ دست شناسی ہے۔ مجھے چونکہ اس فن سے کوئی رغبت کوئی دلچسپی نہیں اس لئے میں نہیں جانتا کہ اس فن میں ان کا علم اور مطالعہ کس حد اور سطح تک ہے لیکن اپنی زندگی کے دو چار تجربوں سے میں جانتا ہوں کہ ان کا بتایا بعض اوقات خطرناک حد تک درست ثابت ہوتا ہے۔ اسی دشت شناسی کی بدولت انہوں نے اکبر کی معاشقے کی ناکامی کی پیشگوئ واقعہ وقوع پذیر ہونے سے پہلے کر کے اسے دکھی کر دیا تھا۔ ان کی زندگی میں بعض اور بھی فوق الفطرت اور پرسرار واقعات اور باتیں لکھنے کی ہیں۔ مثلا میرے بچپن کے زمانے تک ان کے گھر کی ایک بیری کے اوپر کسی پری کا آشیانہ ہونا، ابھی سال بھر پہلے ان کے گاؤں لوسر شرفو کے قریب کے کھنڈرات کی ایک “وادی جنات” میں ان کا کھو جانا اور کسی عجیب الخلقت مخلوق کا ان کی جیب میں کچھ ڈالر ڈال دینا اور پھر اگلی صبح جاگنے پر ان کی جیب میں وہ ڈالر موجود ہونا وغیرہ وغیرہ۔ میں ان سب باتوں کو مانتا تو نہیں لیکن کچھ چشم دید باتوں کو نہ جھٹلا سکتا ہوں نہ ان گتھیوں کو سلجھا سکتا ہوں۔ لیکن ان میں سے کچھ نہایت دلچسپ اور آسانی سے ہضم کی جاسکنے والی باتوں کو لکھا ضرور جا سکتا ہے مگر ایسی باتوں پر پھر اشرف بھائی کی رگِ وہابیت بری طرح پھڑک اٹھتی ہے۔ ان تجربات سے گذر کر بھی یہ سب کچھ وہ خود ہی جھٹلانے لگتے ہیں۔ وقتاً فوقتاً ان کی رگِ وہابیت پھڑکنے اور تصوف کو جھٹلانے کے قصے پھر کبھی سہی۔ سردست اتنا بتا دوں کہ وہ شدید مذہبی آدمی ہیں اور پابند صوم و صلوٰۃ بھی۔ مگر مذہبی توہمات اور خانقاہی نظام کو دُھننے میں آئیں تو کسی کٹر وہابی مولوی کا روپ دھار کر اس وقت تک مناظرے کا میدان گرم رکھتے ہیں جب تک مخاطب قائل نہ ہوجائے یا بھاگ نہ نکلے۔ خاکسار چالیس برس تک ان سے مناظرہ بازی کرکے اب اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ان کی معرکۂ آرائیوں سے کنی کترا کر بچ نکلنے میں زیادہ عافیت ہوتی ہے۔ لہذا اب ان کے مذہبی مجادلوں کو میں سیاسی مباحث میں بدلنے کی کوشش کیا کرتا ہوں اور اگر سیاسی مباحثہ ہو جائے تو موسم اور موسیقی کی بات چھیڑکر محفل کی گرمی شانت کرنے کے لیے چائے کا ماحول تیار کر لیا کرتا ہوں۔

جسے اس پراسرار کردار، مزدور معمار، دست شناس، شاعر، نثر نگار، کہانی کار اور کامیاب مبلغ اور مباحثہ کار، جو اپنے گاؤں محلے میں حاجی محمد اشرف کہلاتے ہیں، جو کہ اپنی اصل میں ایک راجگیر اور مستری ہیں، سے ملاقات کا شوق ہو، یا ان سے کسی دیوہیکل عمارت کی تعمیر کے سلسلے میں مشورہ کرنا ہو، اس پر اٹھنے والے اخراجات، یا اس میں لگنے والے سریے بجری اور اینٹ مسالے کا منٹوں میں حساب لگوانا ہو وہ ان سے کسی بھی وقت براہ راست مل سکتا ہے، یا ان کے فیس بک صفحے پر ان کی فنکاریوں کے وہ نمونے دیکھ سکتا ہے جن میں سے چند کے اقتباسات ہم نے اس خاکے میں دیے ہیں۔ ان کا فیس بک صفحہ یہ ہے:

https://www.facebook.com/profile.php?id=100014286070163

یہ بھی پڑھیں: ‘‘مطالعہ پاکستان کا مذہب آلود آموختہ’’  - عزیز ابن الحسن
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: