عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا ——– عطا محمد تبسم

0

کراچی گندہ شہر ہے، رہنے کے قابل بھی نہیں رہا، اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) – اکنامسٹ گروپ کی ریسرچ اینڈ انٹیلیجنس ڈویژن نے کراچی کو بد نام کر دیا، اس کے ایک حالیہ سروے میں کراچی کو دنیا کے سب سے گندے شہروں میں شمار کیا گیا ہے۔

اس سال، کراچی کو اس فہرست میں 137 واں مقام حاصل ہے۔ یہ دنیا کا چوتھا سب سے کم رہنے کے قابل شہر ہے کراچی سے بھی گئے گذرے شہروں میں دمشق، ڈھاکہ اور لاگوس ہی بچا ہے۔ اب کراچی کا کوئی والی وارث بھی نہیں رہا۔ اس لیے وفاق اسے گود لے رہا ہے۔ کراچی کی حالت فقیرنی کے اس بچے کی سی ہو گئی ہے، جسے بیماری کے باوجود وہ اسے لیے لیے پھرتی ہے، چوراہے پر دھوپ میں کھڑی بھیک مانگتی ہے، کوئی اس بچے پر رحم کھا کر اس کو علاج کے لیے اسپتال لیجانے کے لیے کہے تو بھی اسے نہیں چھوڑتی کہ وہ اس کی آمدنی کا ذریعہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے لیے بھی کراچی وہ بیمار بچہ ہے، جس کی گندگی بیماری سے نجات کے لیے بھی وہ اسے چھوڑنے کو تیار نہیں۔

کراچی پر آرٹیکل 149 ایسی صورت کو جنم دے رہا ہے۔ ایک دوست نے پوچھا ہے کہ کیا رینجرز کی مدت میں توسیع ہو گئی ہے؟ عموماً کراچی میں فساد اور دھینگا مستی انہی دنوں میں زوروں پر ہوتی ہے، جب رینجرز کی تعیناتی کی مدت میں توسیع ہونی والی ہو۔ کراچی میں امن امان کے لیے رینجر برس ہا برس سے مقیم ہے، اس کے انتظامی بجٹ کا شیر والا حصہ اس ہی کا ہے۔ اگر کراچی میں امن و امان رینجرز ہی کے دم سے ہے تو کراچی پولیس کس مرض کی دوا ہے، کیا وہ ہیلمٹ بیچنے اور رشوت لینے اور شہریوں کو تنگ کرنے کے لیے ہے۔ حال ہی میں سندھ حکومت نے ایک زر کثیر سے پستولوں کی بہت بڑی کھیپ خریدی ہے، تا کہ پولیس کو پرانی رائفلوں اور کے کے سے نجات دلائی جائے، اس کے ساتھ ہی انھیں نئی گاڑیاں بھی دی جا رہی ہیں تا کہ وہ شہریوں کو کوئی سہولت دیں۔

کراچی گندہ ہونے کے ساتھ ساتھ خونی شہر بھی ہے، کل کا دن ایک وحشت ناک اور المناک دن کی یاد بھی لیے ہوئے گذرا ہے، 11 ستمبر قائد کی برسی کے ساتھ ساتھ اس سانحہ کی یاد دلاتا ہے، جس میں 2012 کو، بلدیہ ٹاؤن، کراچی میں گارمنٹس فیکٹری کے اندر 260 کارکنوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ بہت سے لوگ دم گھٹ کر ہلاک ہوئے، ان کی چیخیں اب بھی رات کے سناٹے میں گونجتی ہوں گی، لیکن کوئی ان آوازوں پر دھیان نہیں دیتا۔ شناخت سے محروم بہت سی لاشیں یوں ہی دفن کر دی گئی۔ اس واقعے کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے مہلک صنعتی آگ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ہلاک شدگان کی اکثریت، جن میں 24 خواتین بھی شامل ہیں، کی عمر 30 سال سے کم تھی۔ بہت سے مزدور ملک کے دوسرے حصوں سے آئے ہوئے غریب افراد تھے۔ سات برس گذر گئے لیکن اب بھی ان کے غمزدہ لواحقین اور مرنے والوں کی روحیں انصاف کی دہائی دے رہی ہیں۔

یہ سانحہ کراچی پر ایک بدنما داغ ہے، سیاہ داغ یہ سانحے نہ صرف قومی سطح پر ہماری غفلت کی عکاسی کرتے ہیں، بلکہ ہمارے نظام انصاف کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ تو کیا اب کراچی پر امن شہر ہے۔ ایک مافیا سے نجات کا مطلب یہ نہیں کہ اب یہ شہر کسی اور مافیا کے قبضے میں نہیں ہے، یہاں لوٹ مار اور ذرا سی بات پر قتل، عام سی بات ہے، سال 2019 کے ابھی آٹھ ماہ گذرے ہیں اور ابتدائی سات ماہ کے دوران دو سو پنتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں پولیس والے بھی شامل ہیں، ان کے عزیز و اقارب بھی شامل ہیں۔

کراچی میں دو ہزار اٹھارہ اور انیس کے دوران بہت کچھ بدلا لیکن اب آہستہ آہستہ وہی پرانی ڈگر پر آرہا ہے۔ چھینا جھپٹی کے واقعات عام ہیں، کراچی میں موبائل فون کی چوری اور چھینا چھپٹی سات ماہ میں موٹر سائیکل چوری اور چھینے جانے میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سات ماہ میں ساڑھے سولہ ہزار موٹر سائیکلیں چوری ہوئی یا چھینی گئی ہیں۔

ایک بوسیدہ نظام نے ہمیں جکڑ رکھا ہے۔ سڑکیں بدحال ہیں۔ بڑے بڑے گڑھے منہ کھولے بیچوں بیچ پڑے ہوئے ہیں۔ پانی کے رسائو اور گٹر ابل رہے ہیں۔ سڑکیں تباہ ہو رہی ہیں لیکن الزمات در الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے، ساری جنگ فنڈز کی ہے۔ فنڈ ہمیں دو، جو ہے اس کو کوئی حساب دینے کو تیار نہیں۔ بلدیاتی اداروں کا عملہ برسوں سے گھر بیٹھے تنخواہ لینے کا عادی ہے، کوئی دفتر نہیں جاتا، بندر بانٹ ہے، گھوسٹ ملازمین، آدھا تیرا، آدھا میرا کے اصول پر ہر ماہ لاکھوں روپے ادھر سے ادھر ہو جاتے ہیں۔ ایک پر شکوہ اور تابناک ماضی رکھنے والا شہر کس طرح گندگی، اندھیرے اور خون آلودہ ہو گیا۔ کسی کو اس پر کوئی فکر ہے نہ کوئی ملال۔ انصاف کی فراہمی ایک ڈرائونا خواب ہے۔ بہت سے مقدمات ہیں، التوا کا شکار ہیں، گواہ قتل کر دیئے جاتے ہیں یا دھونس اور دھمکی سے ڈر کر بھاگ جاتے ہیں۔ عدالت میں نقیب اللہ محسود کیس میں انکوائری افسر نے عدالت سے کہا ہے کہ رائو انوار کی دھمکیوں کے سبب گواہ عدالت میں پیش نہیں ہو رہے، اس لیے اس کی ضمانت منسوخ کی جائے۔ رائو انوار بحریہ ٹاؤن کے لیے زمینوں کو ہتھیانے اور لوگوں سے زبردستی زمین قبضہ کرنے والی مافیا کا بھی حصہ ہے، اس بارے میں انگریزی کے کثیر اشاعت اخبار کے صفحہ اول پر دیڑھ صفحے کی ایک رپورٹ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ قتل کے مشہور مقدمات میں ملزمان عدم پیروی یا گواہوں کے نہ ہونے سے بری ہو جاتے ہیں۔ اب چاہے آپ دانت پیسئے یا غصے کا اظہار کریں، اور بھی بہت سے واقعات کے ذمہ داروں کی شناخت اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے سلسلے میں متاثرین کو انصاف کی فراہمی پر پیشرفت، عدالتی نظام میں خرابی کی وجہ سے بہت سست ہے۔ جے آئی ٹی بنتی ہیں، رپورٹ آتی ہیں اور کیس داخل دفتر کر دیئے جاتے ہیں۔

کیا کسی کو کراچی کی فکر ہے، لاکھوں کی تعداد میں موٹر سائیکل ٹھیلوں اور رکشاء اور چنچی رکشاء نے پورے ٹرانسپورٹ نظام کو یر غمال بنا رکھا ہے۔ ہیوی گاڑیاں، ٹرالر، ٹیکٹرز، ڈمپر سڑکوں پر ہیں اور انسانی جان ارزاں ہے۔ کیا کوئی اس شہر کو اپنا شہر جانے گا۔ اس کی بدحالی کو بدلنے کی کوشش کرے گا۔ مجھے اس کی کوئی امید نہیں ہے۔ مجھے کراچی سے عشق ہے لیکن پھر بھی غالب کی زبان میں عرض ہے۔

عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: