مکالمہ، سالنامہ 2019ء ——– نعیم الرحمٰن

0

مبین مرزا موجودہ دور میں ارد وادب کے مستند، منفرد اور نامور افسانہ نگار، شاعر، نقاد اور دانشور ہیں۔ ان کے افسانوں کے دو مجموعے’’خوف کے آسمان تلے ‘‘ اور ’’زمینیں اور زمانے‘‘ شاعری کا مجموعہ ’’رائیگانی‘‘ شائع ہو چکا ہے۔ اسلام آباد سے خوبصورت کتابیں شائع کرنے والے ادارے الحمرا کے لیے انہوں نے تین جلدوں میں’’اردو کے بہترین خاکے‘‘ یکجا کیے۔ یہ ایک بہت عمدہ اور خوبصورت کتاب ہے۔ افسوس کہ الحمرا پبلشر آگ کی نذر ہو گیا اور بہت خوبصورت کتب شائع کرنے والا ادارہ جاری نہ رہ سکا۔ قومی ادارے اکادمی ادبیات کے لیے مبین مرزا نے اردو ادب کے نثری اور شعری کئی سالانہ ادبی شمارے مرتب کیے۔ متعدد عالمی ادبی کانفرنسوں میں مقالات بھی پیش کر چکے ہیں۔ گویا مرزا صاحب ہمہ وقت ادب اور ادیبوں کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ اپنے ادارے اکادمی بازیافت سے بہت خوبصورت اور عمدہ کتب شائع کرتے ہیں۔ بازیافت کی شائع کردہ کتب معیاری اور صوری و معنوی حسن سے آراستہ ہوتی ہیں۔

جولائی 1996ء میں مبین مرزا نے اپنے دوستوں قیصر عالم، طاہر مسعود اور آصف فرخی کے ساتھ مل کر جدید ادبی کتابی سلسلے ’’مکالمہ‘‘ کا اجرا کیا اور پہلے ہی شمارے سے بطور مدیر بھی اپنی دھاک بٹھا دی۔ بعض وجوہ کی بنا پر مکالمہ کے دوسرے شمارے سے دیگر ساتھیوں کا تعاون مبین مرزا کو میسر نہ رہا۔ لیکن پرچہ اب تک پوری آن بان سے جاری ہے اور اس کا شمارے اردو کے چند بہترین ادبی جرائد میں کیا جاتا ہے۔ اس دوران مکالمہ کا بے مثال اور ضخیم ’’افسانہ نمبر‘‘ بھی دو جلدوں میں شائع کیا گیا۔ جس کا ذکر برسوں گذرنے پر بھی ادبی حلقوں میں اب تک جاری ہے۔ اس نمبر کو مستقل حوالہ جاتی نمبر کی حیثیت حاصل ہے۔ معیار پر سمجھوتہ نہ کرنے کی وجہ سے مکالمہ کی اشاعت تاخیر کا شکار رہی۔ اس کے دو شمارے اکثر ڈیڑھ سے دو سال بعد شائع ہوتے رہے۔ لیکن جب بھی شائع ہوئے دھوم مچ گئی۔ پھر دو سال قبل اچانک مبین مرزا نے ’’مکالمہ‘‘ کو ماہانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ عام خیال یہ تھا کہ جب عام شمارہ بروقت شائع نہیں ہو پاتا تو اس کی ماہانہ اشاعت ممکن نہ ہو سکے گی۔ لیکن مبین مرزا کی استقامت اور اولو العزمی نے یہ نا ممکن بھی ممکن کر دکھایا۔ یہی نہیں کہ باقاعدگی سے ہر ماہ پرچہ شائع ہو رہا ہے۔ اگر کسی ماہ تاخیر ہو جائے تو دو شمارے ایک ساتھ شائع کر دیے جاتے ہیں۔ یہی نہیں مکالمہ کا ضخیم سالنامہ بھی شائع کیا جاتا ہے۔ جو ایک ڈیڑھ سال بعد شائع ہونے والے مکالمہ کی مانند ہی ہے۔ ماہانہ شمارے قارئین کے لیے بونس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حال ہی میں مکالمہ کا پینتالیس واں شمارہ جو ماہانہ پرچے کا دوسرا سالنامہ ہے۔ شائع ہوا ہے۔ تقریباً ساڑھے پانچ سو صفحات پر مشتمل یہ ایک مکمل اور بھرپور شمارہ ہے۔ جس کی اشاعت پر مبین مرزا تحسین کے حقدار ہیں۔

حرفِ آغاز میں اس بار اداریے کو ’’نمائش پسندی کے دور میں ادب‘‘ کا ذیلی عنوان دیا گیا ہے۔ اس اداریے میں اکیسویں صدی کے نمائشی دور میں ادب اور ادیب کی جانب سے نمائش پسندی کے خلاف بھرپور اور مدلل گفتگو کی گئی ہے۔ جس کے مطابق ادب و شعر، بلکہ جملہ فنونِ لطیفہ کا تعلق ہی اظہار کی خواہش سے ہے، اظہار کی یہ خواہش بھی تو خود کو سامنے لانے کا ایک ذریعہ ہے۔ یعنی وہی نمائش پسندی۔ لیکن یہاں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ نمایاں ہونے کی خواہش اور نمائش پسندی میں کیا فرق ہے۔ فنکار دراصل خود کو نہیں بلکہ اپنے فن کو سامنے لاتا ہے۔ اپنے جذبے، احساس، خیال اور شعور کو ابھارتا ہے۔ ذاتی طور پر وہ کہیں پس منظر میں رہتا ہے۔ اس وقیع بیان میں اردو کے نامور شعرا کے اشعار بطور مثال پیش کیے ہیں اور عہدِ جدید کے مشاغل کی لایعنیت کو بھی واضح کرتے ہوئے۔ حاصل کلام کچھ ایسے پیش کیا ہے۔ ’’مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگ مستقل ایک بھری محفل میں خود کو پاتے ہیں۔ ہر وقت رونق کے مرکز میں اور آوازوں کے ہجوم کے درمیان، لیکن حقیقی زندگی میں محلے، بلکہ ایک گھر میں رہنے والے لوگوں کے مابین بھی اتنے فاصلے پیدا ہو گئے ہیں کہ آدمی سے آدمی کی ملاقات نہیں ہو پاتی، ایک کی آواز دوسرے تک پہنچتی ہی نہیں۔ جب بیماری، آزاری یا کسی اور وجہ سے حقیقتاً آدمی کو آدمی کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سارا مجمع تو اس کے موبائل، ٹیبلت یا لیب ٹاپ کی اسکرین پر تھا، اصل میں تو وہ تنہائی اور سناٹے کی لپیٹ میں ہے۔ اس کے عملی مظاہرے آئے دن دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایک شخص کی علالت کی خبر پر عیادت کرنے والوں کی تعداد تو بہت ہوتی ہے، لیکن اس کے پاس آ کر، اس کا ہاتھ تھام کر اپنے رشتے کی حرارت کا احساس دلانے والے پانچ فی صد بھی نہیں ہوتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ رشتے اور تعلقات بھی اس عہد کے انسان کی خارجی زندگی کا دکھاوا ہو کر رہ گئے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اس دور میں ادیب اور شاعر کیا کر سکتے ہیں؟ سچ پوچھئے تو ادیب شاعر ہی وہ لوگ ہیں جو نمائش پسندی کے اس امنڈتے سیلاب کے آگے اپنے معاشرے کو بچانے کے لیے کوئی بند باندھ سکتے ہیں۔ سیاست داں، سول سرونٹس، مصلح، سماجی کارکن، ڈاکٹر، انجیئر، سب مل کر بھی وہ نہیں کر سکتے جو کام ادیب شاعر کر سکتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ صلاحیت قدرت نے سب سے بڑھ کر انہی کو بخشی ہوتی ہے کہ معاشرے کے تغیرات کے عقب میں کار فرما محرکات کو دیکھ سکیں۔ یہی نہیں، بلکہ ان کی نظر انسانی احساس کی بدلتی ہوئی ان صورتوں کو بھی سب سے پہلے اور سب سے زیادہ گہرائی میں جا کر دیکھ سکتی ہے جو اس کے لاشعور اور تحت الشعور میں تہ در تہ پیدا ہوتی ہیں۔ جن کا خود انسان اور اس کے سماج کو بھی کہیں بہت بعد میں جا کر اندازہ ہوتا ہے۔ تا ہم یہ کام اس وقت ہو سکتا ہے جب ادیب شاعر کو اس عہد میں اپنے کردار کے تقاضے اور فن کے مطالبے کا شعور ہو۔ یہ شعور اس کے اندر اس نمائش پسندی سے اغماض پیدا کرتے ہوئے اس کی ذہنی، فکری اور تخلیقی شخصیت کو متحرک کرے گا اور معاشرے میں اپنے اصل کردار کی طرف مائل۔ ‘‘

بہت عمدہ، بروقت اور چشم کشا اداریہ ادیب و شاعر کے کردار کو واضح کرتا ہے۔ جس کے بعد ایک سو تیس صفحات پر مبنی افسانوں کے حصے میں سترہ مصنفین کی بیس تحریریں شامل کی ہیں۔ سب سے پہلے باسودے کی مریم، مئی دادا اور ترلوچن جیسے شاہکار افسانوں کے مصنف اسد محمد خان کی ’’ٹکڑوں میں کہی گئی کہانی 2019ء‘‘ کا ایک نیا ٹکڑا شامل ہے۔ جس کے بارے میں اسد محمدخان کہتے ہیں کہ

’’ میری یہ تحریر ایک نوع کے سفر نامے کی صورت میں وجود میں آئی تھی اور ایک مجموعے میں شامل کی گئی تھی۔ تو اب، برادرم مرزا جی، برسوں بعد میں نے اسے ریوائز کیا اور یوں نئی صورت میں یہ قاریوں کے لیے حاضر ہے۔ میں ریڈرز ڈائجسٹ میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل کے علاوہ کراچی کی لائبریریوں سے حاصل کیے گئے اُس ریسرچ میٹریل اور مضامین کا بھی احسان مند ہوں جو آتش فشاں ویسووی یس کے بارے میں وقتاً فوقتاً میرے مطالعے میں رہے۔ اُن رسائل اور مضامین کا بھی شکر گزار ہوں جن میں کُلانی یم اور پومپیائی کی بازیافت کی تفاصیل درج ہیں۔ ان سب کی وجہ سے ہی یہ تحریر اس قابل ہوئی کہ معتبر قاریوں کے سامنے لائی جا سکے۔ آخری بات یہ کہ میں نے پومپیائی سے کھود کر نکالے گئے ایک پرانے جسد کو مصوری کے زندہ شاہ کار کی صورت میں خود بھی دیکھا اور یاد رکھا ہے۔ تفصیل بعد میں پیش کروں گا۔ ‘‘

اس قسم کی کہانیاں اسد محمد خان کا قلم ہی بیان کر سکتا ہے۔ قارئین کو اسد محمد خان کے شخصی خاکوں کی نئی کتاب کا انتظار ہے۔ جس میں انہوں نے اپنی دوستوں اور پیاروں کا ذکر کیا ہے۔ یہ یقیناً ان کی آپ بیتی کی حیثیت رکھتی ہے اور غالباً القا پبلشرز سے شائع ہو گی۔

سینئر ناول و افسانہ نگار رضیہ فصیح احمد کی کافی عرصہ سے کوئی نئی کتاب شائع نہیں ہوئی۔ لیکن ادبی جرائد میں ان کے افسانے تواتر سے چھپ رہے ہیں۔ مکالمہ سالنامہ میں رضیہ فصیح احمد افسانہ ’سزا یا سبق‘ لے کر آئی ہیں۔ جس میں سفر نامے کا لطف بھی موجود ہے۔ مسعود اشعر کا افسانہ ’کھڑے سے بڑے‘ بھی ایک عمدہ تحریر ہے۔ مسعود اشعر بہت سینئر لکھاری ہیں لیکن کم لکھتے ہیں۔ ان کی کتاب بھی اب آنی چاہیے۔ زاہدہ حنا بہت منفرد افسانہ نگار،کالم نگار اور دانشور ہیں۔ ان کے افسانے معاشرے کے المناک پہلوئوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کا افسانہ ’’چل کھسرو گھر آپنے‘‘ بھی المیہ مشرقی پاکستان اور اس میں بے گھر ہونے والوں کا بیانیہ لیے ہوئے ہے۔ سلمٰی اعوان زود نویس ہونے کے باوجود بہت اچھی ناول، افسانہ اور سفرنامہ نگار ہیں۔ ان کا نیا سفر نامہ ’’شام۔ امن سے جنگ تک‘‘ حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ لیکن کراچی میں دستیاب نہیں ہے۔ سلمٰی اعوان کا ’’ تصویر کا یہ رُخ بھی‘‘ اپنے موضوع پر بہت خوبصورت افسانہ ہے۔ اے خیام کے افسانہ اپنے عنوان ’’قتل‘‘ سے ہی چونکا دیتا ہے۔ طاہر اقبال نے اپنے ضخیم ناول ’’نیلی بار‘‘ سے مستنصر حسین تارڑ سمیت کئی مستند لکھاریوں سے بھی داد وصول کی ہے۔ ان کا قدرے مختصر افسانہ ’’نوکر بچہ‘‘ طاہر اقبال کے منفرد اسلوب سے آراستہ ہے۔ محمد حامد سراج کی مرتب کردہ ’’بادشاہوں کی آپ بیتیاں‘‘ اور خود منتخب کردہ پچیس افسانوں پر مبنی’’نقش گر‘‘ حال ہی میں بک کارنر جہلم نے انتہائی خوبصورت طباعت کے ساتھ شائع کی ہے۔ حامد سراج ’’درون ِ خود ہمہ تن ریختہ و آبلہ پا‘‘ قارئین کو اپنے نام سے کچھ امتحان میں ڈالتا ہے۔ لیکن افسانہ بہت عمدہ ہے۔

شہناز خانم عابدی ’’کالی فائل ‘‘ کے ساتھ سالنامے میں شامل ہیں۔ معروف افسانہ نگار امجد طفیل کے عمدہ ادبی جریدے ’’استعارہ ‘‘ نے بہت جلد قارئین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ استعارہ کا چھٹا شمارہ ’’محمد حسن عسکری‘‘ نمبر جلد شائع ہونے والا ہے۔ امجد طفیل کے تین افسانے پرچے میں شائع ہوئے ہیں۔ افسانوی حصہ میں شامل دیگر تحریریں بھی مبین مرزا صاحب کے حسن انتخاب کی دلیل ہیں۔

مکالمہ کے مضامین کا حصہ ہمیشہ انتہائی وقیع اور بھر پور ہوتا ہے۔ سالنامے میں بھی ’نقد و نظر‘ کے زیرِ عنوان سو سے زائد صفحات پر دس مصنفین کے گیارہ مضامین شائع کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر قاضی افضال حسین کا مضمون ’’بازاری بیانیہ‘‘ ادبی زبان و بیان مختلف ہیئتوں کے بارے میں بہت اچھا اور طویل مضمون ہے۔ جس میں فارمولا ناول کا آزمودہ طریقہ کار دلچسپ ہے۔ جس میں کئی معروف ناول نگاروں کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ جنہوں نے بڑی تعداد میں کامیاب ناول تحریر کیے۔

ڈاکٹر مرزا حامد بیگ کے دو مضامین ’’عسکری صاحب‘‘ اور ’’انتظار صاحب‘‘ بروقت اور معلومات سے بھر پور ہیں۔ حسن عسکری صاحب پانچ نومبر 1919ء کو پیدا ہوئے۔ اس سال محمد حسن عسکری کی پیدائش کو ایک صدی مکمل ہو رہی ہے۔ اس موقع پر ادبی جریدہ ’’استعارہ‘‘ محمد حسن عسکری نمبر شائع کر رہا ہے۔ ڈاکٹر مرزا حامد بیگ خود بھی صاحب طرز افسانہ و ناول نگار ہیں۔ انہوں نے اردو افسانہ صدی اور ترجمہ نگاری پر بھی بہت عمدہ کتب تحریر کی ہیں۔ ان کا ایک منفرد اور دلچسپ ناول ’’انار کلی‘‘ اپنی طرز کا انوکھا ناول ہے۔ جس میں ڈاکٹر صاحب نے انار کلی کے ایک حقیقی کردار ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ حامد بیگ صاحب نے عسکری صاحب اور انتظار حسین صاحب پر بہت عمدہ اور معلوماتی مضامین پیش کیے ہیں۔ انتظار صاحب میں انہوں نے صاحبِ طرز افسانہ نگار کے مختلف افسانوں اور مجموعہ کا مختصر اور اچھا تجزیہ کیا ہے۔ جس سے قاری کے لیے انتظار حسین کی تفہیم میں آسانی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر انیس اشفاق نے بہت کم وقت میں چند انتہائی دلچسپ اور منفرد ناول پیش کر کے سرحد کے دونوں جانب اپنی دھاک بٹھا دی۔ انہوں نے اپنے حالیہ ناول ’’خواب سراب‘‘ میں مرزا محمد ہادی رسوا کے بہترین اور یادگار ’’امراؤ جان ادا‘‘ کی کہانی کو دلچسپ انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر انیس اشفاق نے دوسرا ناول ’’پرندے اور پری ناز‘‘ میں نیر مسعود کے بے مثال ناولٹ ’’ طاؤس چمن کی مینا‘‘ کو بنیاد پر لکھا ہے۔ ڈاکٹر انیس اشفاق کا اردو اکادمی دہلی کے طنز و مزاح کے سیمینار میں پڑھا گیا دلچسپ مقالہ’’ طنز و مزاح، ایک تشنہء تعبیر صنفِ ادب‘‘ اس شمارے کا بہترین مضمون ہے۔

محمد سہیل عمر نے اقبال اکیڈمی کے لیے اقبالیات کے موضوع پر بہت بے مثال کام کیا اور کئی شاندار کتب شائع کیں۔ سہیل عمر نے خرم علی شفیق سے علامہ اقبال کی سوانح عمری چار جلدوں میں بہت منفرد انداز میں تحریر کرائی۔ اس سلسلے کی تین کتب جو علامہ اقبال کے ابتدائی، وسطی اور درمیانی دور سے متعلق تھیں، منظر عام پر آ گئیں۔ لیکن اختتامی دور پر کتاب اب تک شائع نہیں ہوئی۔ ایسا عمدہ سلسلہ ادھورا چھوڑنا قارئین کے ساتھ نا انصانی ہے۔

محمد سہیل عمر صاحب برائے مہربانی خرم علی شفیق سے اس سلسلے کی آخری کتاب بھی لکھوائیں تا کہ یہ عمدہ سوانح حیات مکمل ہو جائے۔ محمد سہیل عمر نے اسلام میں رحمت اور انسانی ہمدردی کے تصور پر کچھ خیالات ’’از خدا گیرد طریق‘‘ کے عنوان سے پیش کیے ہیں۔ بہت فکر انگیز مقالہ ہے جو سوچ کے در وا کرتا ہے۔ دیگر مضامین میں یاسمین حمید نے ’’شعری تخلیق میں نئی پرانی جہات کا تصور‘‘ پر قلم فرسائی کی ہے۔ ڈاکٹر ضیاء الحسن نے ’’غالب کے اثرات جدید غزل پر‘‘ کے موضوع کو بہت عمدگی سے برتا ہے۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اردو کے صاحبِ طرز افسانہ نگار’’ اسد محمد خان کی افسانہ نگاری کے فنی کوائف ‘‘ پر مضمون پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر طارق ہاشمی نے ’’اردو غزل 1970ء تا حال‘‘ میں جدید غزل کا شاندار جائزہ پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے ’’اردو خاکے کے اولین نقوش‘‘ کو موضوع بنایا ہے۔ وہ خود بھی بہت اچھے خاکہ نگار ہیں۔ اردو طنز و مزاح پر شاندار مقابلے پر ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملی ہے۔ جمیل الرحمٰن نے ’’جدید اردو نظم۔ میلانات، مسائل اور تقاضے ‘‘ پر عمدہ مضمون تحریر کیا ہے۔ اس طرح مکالمہ کے اس سالنامے میں جدید اردو غزل اور نظم پر دو بہت عمدہ مضامین شائع ہوئے ہیں۔

شاعری کے حصے میں اساتذہ اور نوواردان دونوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ظفر اقبال اور سحر انصاری کے کلام پر کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے جیسا ہے۔ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کی بارہ تخلیقات اس شمارے میں شامل ہیں۔ پیرزادہ قاسم منفرد غزل گو ہیں۔ لیکن بہت مدت سے ان کا نیا مجموعہ کلام منظر عام پر نہیں آیا۔ طویل اور مختصر بحروں میں انہوں نے بے مثال غزلیں کہیں ہیں۔ بہت مدت بعد ان کا اتنا کلام یکجا شائع ہوا ہے۔ ان کے دو اشعار

بلا کے اس جبرِ وقت میں اُس کو ڈھونڈ لینا کمال ہو گا
اگر ملا بھی تو رُک کے اک لمحہ بات کرنا محال ہو گا
اسے خبر ہو سکے تو اچھا خزاں تعاقب میں ہے خزاں کے
ملال موسم کے بعد اک اور موسم صد ملال ہو گا

تراجم کے علاوہ یادیں اور خاکے میں ظفر اقبال کی آپ بیتی ’’در گزشت‘‘  کی بیسویں قسط، حسن منظر کے سفر نامے ’’اوراق بوسیدہ‘‘ کی دسویں قسط اور ہالینڈ میں مقیم اردو داں طبقہ کوڈچ ادب سے متعارف کرانے والے فاروق خالد کے ’’زنداں نامہ ‘‘ کی تیسری قسط اس شمارے کا اختصاص ہے۔ محمد حمزہ فاروقی، حمرہ خلیق، نجیبہ عارف، اخلاق احمد، سید عامر سہیل اور خرم سہیل نے بہت عمدہ خاکے تحریر کیے ہیں۔ غالب، اقبال اور فیض پر مضامین فتح محمد ملک، محمد حمید شاہد اور ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی نے لکھے ہیں۔ محمد عارف جمیل کے سفر نامہ ’’حاضر سائیں‘‘ کی دسویں قسط کے ساتھ سبوحہ خان کا ’’زرد پتوں کا بن جو میرا دیس ہے‘‘ بھی اس شمارے کی دلچسپیوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ آخر میں مصنف، ڈرامہ نگار، رقاص، اداکار مرحوم انور سجاد پر یونس جاوید اور ڈاکٹر امجد طفیل کے خاکے ہیں۔

غرض مکالمہ کا سالنامہ ایک مکمل ادبی دستاویز ہے۔ اس عمدہ سالنامے کی اشاعت پر مبین مرزا کو بھر پور مبار کباد پیش ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: