سیکولر ازم اور ریاست: ایک متبادل بیانیے کا جواب ——– خرم شہزاد

0

ہمارے ہاں سیکولر ازم پر بات کرنا بھی ایسا ہی ہے کہ آپ کچھ بھی کہہ لیں، کوئی روکنے ٹوکنے والاہے نہیں، کیونکہ ایسا کرنے والے کو فوراً مذہبی، شدت پسند، جاہل، گنوار، پتھر کے زمانے والا، ایسا ویسا کچھ بھی کہا جا سکتا ہے اورکوئی دوسرا شخص بھلے روک ٹوک والے سے متفق ہو لیکن الزام لینے کو تیار نہیں ہوتا۔ لہذا فوراََ آپ سے متفق ہو کر پڑھے لکھے اور روشن خیال ہونے کی سند پائے گا۔

کیا واقعی سیکولر ازم مذاہب کے خلاف ایک بیانیہ ہے یا صرف اسلام مخالف بیان کو سیکولر ازم کے نام سے بیچا جا رہا ہے۔ آئیے اس پر تھوڑی سی گفتگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے یہ طے کیا جائے کہ گفتگو کتابی اور نصابی ہو گی یا پھر حقیقی اور زمینی حقائق پر مبنی بات ہو گی۔ بھلے گفتگو کسی بھی انداز میں ہو لیکن اپنے خیالات کو کسی نظرئیے کا نام دے کر لاگو کرنے کی کوشش تو یقینا منع ہونی چاہیے (ویسے سیکولر ازم کے حامی اکثر اپنے خیالات کو سیکولر بیانیہ کہہ کر بانٹتے نظر آتے ہیں)۔ ایک اچھی گفتگو کے لیے ہم جناب ذیشان ہاشم صاحب کی کتاب ’غربت اور غلامی ۔ خاتمہ کیسے ہو‘ سے، دانش پہ شایع ہونے والے مضمون بعنوان ’سیکولر ازم اور ریاست ۔ ایک متبادل بیانیہ‘ کو سامنے رکھیں گے تاکہ سیکولر افراد کے خیالات کا علم ہو اور جواب دینے اور بات سمجھنے میں آسانی رہے۔

جناب لکھتے ہیں کہ

’دراصل شہریوں سے معاشرہ وجود میں آتا ہے جبکہ ریاست ایک مادی تصور ہے۔ اس کا قیام بھی مادی ہے اور اس سے منسوب آرزوئیں اور خواہشات بھی مادی ہیں اور اس کا انتظام بھی، یہ کسی بھی سبب سے مذہب کا نہ بنیادی موضوع ہو سکتی ہے اور نہ مقصد‘

چلیں مان لیتے ہیں کہ کسی بھی مذہب کا مقصد ریاست نہیں ہو سکتا یا نہیں ہونا چاہیے اور یہ کہ ریاست مذہب کا بنیادی موضوع بھی نہیں ہو سکتی اور نہ ہونی چاہیے لیکن یہ تو کہیں نہیں لکھا کہ ریاست مذہب کے ثانوی موضوع ہونے پر بھی پابندی ہے۔ اگر ریاست کسی مذہب کا ایک مقصد نہیں تو پھر دنیا کے تمام مذاہب کے ماننے والے ریاستوں کے حصول میں کیوں مگن رہے؟ کیا تمام مذہبی اس حوالے سے غلطی پر ہیں؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر مذہب جو کہ ایک نظریہ ہی ہوتا ہے، کسی ریاست کا نہ بنیادی موضوع ہے اور نہ مقصد، تو سیکولر ازم کیوں اور کیسے کسی ریاست کا مقصد اور بنیادی موضوع ہو سکتا ہے۔ ایک ریاست اگر مذہب کے بنا چل سکتی ہے تو وہ کسی سیکولر ازم کے بغیر بھی تو چل سکتی ہے، پھر انسانوں اور ریاستوں کے لیے سیکولر ازم کا پرچار کیوں کیا جاتا ہے۔

مزید لکھتے ہیں کہ

’ریاستی انتظام اور اسے چلانے کا مقصد بنیادی طور پر شہریوں کی مادی خوشحالی کے لیے بہتر امکانات کی جستجو اور اس کے لیے مادی سہولیات بہم پہنچانا ہے اور اس اصول پر یقین رکھنا ہے کہ آئینی طور پر تمام شہری مذہب اور عقائد کی تفریق سے ماورا برابر کے شہری ہیں‘

یہاں مادی خوشحالی اور مادی سہولیات بہم پہنچانا اگر ریاست کی ذمہ داری ہے تو ریاست کو یہ ذمہ داری بھی مادی طور پر ہی پوری کرنی چاہیے۔ آئین اور قانون کو یہاں بیچ میں لانے کی کیا ضرورت ہے کہ مادی خوشحالی اور مادی سہولیات بہم پہنچانا جو کہ ریاست کی ذمہ داری ہے اس میں کسی آئین اور قانون کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ سیکولرز یقینا بات کو گھمانے پھرانے کی کوشش کریں گے لیکن سوال تو یہ ہے کہ مادی خوشحالی اور مادی سہولیات دینا جب ریاست کی ذمہ داری ہے تو وہ ریاست صرف مذہب اور عقائد سے ماورا ہو کر سب کو برابر کا شہری کیوں سمجھے؟ ریاست مادی طور پر بھی تو تمام شہریوں کو برابری کے حقوق دے سکتی ہے کہ سیکولر ریاست میں جو جتنا بھلے کام کرے، جتنی محنت کرے لیکن کیونکہ اس ریاست میں سبھی برابر ہیں تو سب کا کھانا، رہائش اور ضرورتیں سب برابری کی بنیاد پر پوری ہوں گی۔ اہم بات یہ ہے کہ سیکولرز ہمیشہ مذہب اور عقائد سے ماورا ریاستوں کا تصور پیش کرتے ہیں لیکن مادی طور پر برابری کی حامل کسی ریاست کا تصور سیکولرز کے پاس نہیں اور یہی بات ان کی مذہب دشمنی کی واضح مثال بھی ہے۔

آگے کسی دینی ریاست کے قیام کی صورت میں پیدا ہونے والے مسائل کی بات کرتے ہوئے سب سے پہلے مسئلے کا ذکر یوں کرتے ہیں کہ

’شہریت کی تعریف کفر و ایمان کی تعریف سے منسوب ہو گی۔۔۔ یا دوسری صورت میں درجہ اول اور درجہ دوم کی شہریت کی تقسیم پائی جائے گی۔ مثال کے طور پر زمی۔ ریاست کے مذہب سے جڑے لوگ نہ صرف قانونی طور پر اول درجے کے شہری ہوں گے بلکہ ریاست انہی کی نمائیندگی کرئے گی۔ جبکہ اقلیتیں دوسرے درجے کے شہری سمجھے جائیں گے‘

ذمی کی مثال دے کر سیکولرز اپنے اندر کی اسلام دشمنی کو واضح کردیتے ہیں کیونکہ دنیا میں اور کوئی مذہبی ریاست نہ تو مسلمانوں کی ریاست مدینہ کی طرح تشکیل پا سکی تھی اور نہ اتنی کامیاب رہی کہ مذہب لوگوں کے لیے زندگی گزارنے کا طریقہ کار بن سکتا۔ مختلف عیسائی ریاستوں کی اگر تاریخ دیکھی جائے تو وہاں صرف چرچ کی حکمرانی اور پوپ کی حکومت ملتی ہے، عام عوام کی مذہبی شدت کہیں اس طرح سے نہیں ملتی جیسے کہ مسلمانوں کے ہاں ریاست مدینہ میں ملتی ہے۔ ریاست مدینہ زمیوں سے جزیہ وصول کرتی تھی تو کسی بھی جنگ میں ان کی حفاظت کو یقینی بھی بنایا جاتا تھا اور یہ زمیوں کے حقوق ہی تھے کہ قاضی خلیفہ وقت کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے ایک لمحے کا تو قف نہیں کرتے تھے۔ ذمیوں کے ذکر کو اگر چھوڑ بھی دیا جائے تو سیکولرز کہتے ہیں کہ شہریت کی تعریف کفر و ایمان کی تعریف سے منسوب ہو گی۔ یعنی ان کا اپنا یہ خیال ہے کہ شہریت کی تعریف منسوب ہو گی۔۔۔ اگر کسی مذہب میں شہریت کی تعریف کفر و ایمان سے مشروط ہوتی تو یہ لوگ کہتے کہ شہریت کی تعریف کفر و ایمان سے منسوب ہے۔۔۔ یہاں سیکولرز سے یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ تین آسمانی مذاہب کے ساتھ ساتھ باقی زمینی مذاہب سے کوئی ایک حوالہ تو ایسا دیں کہ جہاں شہریت کفر و ایمان سے منسوب کی گئی ہو اور اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دے کر ان سے کسی الگ معاملہ کرنے کا بیان موجود ہو۔ یہاں الگ سے مراد کمتر شہری سمجھتے ہوئے معاملات کی بات پوچھی جا رہی ہے۔ خاکسار تو اپنی اسلامی تاریخ کی گواہی سند کے ساتھ دے سکتا ہے کہ اسلامی ریاست میں موجود غیر مسلم بھی برابر کے حقوق کے حامل تھے اور ایسے معاہدے بھی تاریخ میں محفوظ ہیں کہ اگر کسی غیر مسلم قبیلے کے ساتھ معاہدہ ہو گیا تو انہیں دوسرے درجے کا شہری نہیں سمجھا گیا بلکہ برابری کی جگہ دی گئی اور ان پر ہونے والے حملے کو اپنے اوپر حملہ تصور کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ میرے ناقص علم میں عیسائیت اور یہودیت میں بھی کہیں شہریت کے لیے کفر و ایمان کی کوئی شرط موجود نہیں۔ البتہ یہ عمومی انسانی نفسیات ہے کہ جہاں جو لوگ اکثریت میں ہوں، وہی زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ بالکل نہیں ہوتا کہ کوئی بھی مذہب اقلیت کے حقوق ختم کر دینے اور انہیں دوسرے درجے کے شہری قرار دینے کا حکم دے۔

قوانین کی شرح کے حوالے سے جو باتیں صاحب مضمون نے کی ہیں ان سے مجھے وہی اختلاف ہے جو انہیں دینی تشریحات سے ہے یعنی کہ سیکولر ریاست یا غیر دینی ریاست میں یہ کیسے ضمانت دی جا سکتی ہے کہ قانون کی شرح ایسے نہیں کی جائے گی جس سے کوئی دوسرا گروہ متاثر نہ ہو۔ فرائیڈ کے نظریات سے لے کر گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے یا پیچھے کرنے تک، دنیا کے ہر کام میں لوگوں کو دوسرے سے اختلاف ہو جاتا ہے تو غیر دینیاتی ریاست میں یہ ضمانت کون دے گا کہ کسی بھی قانون کی تشریح پر تمام سیکولرز متفق ہیں اور اگر کسی کو اختلاف ہو تو اس کے اختلاف کو دور کے لیے کون سا طریقہ استعمال کیا جائے گا، اس بارے میں سیکولرز کے پاس ہو تو معلومات میں اضافہ کریں۔

دینیاتی ریاست کا ایک اور نقص یہ بیان کرتے ہیں کہ

’ایک دینیاتی ریاست میں لوگوں کو ان اصولوں کی اتباع میں جبر برتا جاتا ہے جن اصولوں کی بنیاد پر وہ ریاست قائم ہوئی ہوتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ لوگ آزاد فطرت پسند واقع ہوئے ہیں جب ان کی ضروریات و خواہشات اس مخصوص نظام میں ممکن نہ ہو گی تو پھر وہ انحراف کریں گے جس کے نتیجے میں ریاست اپنے مذہبی اصولوں کی پاسداری کروانے کی کوشش میں عملی اور نظریاتی آمریت قائم کرئے گی۔‘

اب اس بات کا کیا جواب دیا جائے کہ یوں لگتاہے کہ سیکولرز نے بس مذہب دشمنی کا اظہار کرنا ہے اور کسی بھی صورت کرنا ہے۔ کوئی بھی ریاست خواہ وہ دینیاتی ہو یا نہ ہو وہاں رہنے والوں کے لیے ضوابط لائے جاتے ہیں جن پر عمل کرنا ان لوگوں پر فرض ہوتا ہے اور اگر کوئی ان ضوابط پر عمل نہ کرئے تو اس کے لیے سزا بھی مقرر ہوتی ہے۔ لوگ یقینا آزاد فطرت پسند واقع ہوئے ہیں لیکن کسی بھی شخص کی آزادی اس کی اپنی ذات تک ہی محدود ہوتی ہے اور جب یہ آزادی کسی دوسرے شخص کی زندگی کو متاثر کرنے لگتی ہے تو وہیں اس آزادی کی حد ختم ہو جاتی ہے۔ کیا سیکولرز ایسی کسی آزادی کی بات کرتے ہیں جس پر کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ کیا سیکولرز کی خود ساختہ ریاست میں آزاد فطرت پسند لوگوں کو چوری سے لے کر قتل تک اور ملاوٹ سے لے کر مار پیٹ تک ہر چیز میں آزادی ہو گی کہ پیسہ کماناہر انسان کی ضرورت اور مارپیٹ سے لے کر قتل تک ان کے جذبوں کی تسکین کا اظہار بھی ہو سکتا ہے۔

یہاں مجھے سیکولرز سے ان اصولوں کی فہرست بھی یقینا چاہیے ہو گی جن کی اتباع میں جبر برتا جاتا ہے کیونکہ ایک دینیاتی اور غیر دینیاتی ریاست میں سب سے اہم فرق مذہبی فرائض کی انجام دہی پر زور دینا ہے۔ کسی بھی مذہب کے فرائض چوبیس گھنٹے میں ایک گھنٹہ سے زیادہ کا وقت نہیں لیتے لیکن باقی کے تیس گھنٹے اور معاشرت کے تمام اصول تو دینیاتی اور غیر دینیاتی ریاستوں میں یکساں ہی ہوتے ہیں۔ کسی بھی ہندو، عیسائی یا مسلمان ریاست میں اگر اس کے مذہبی فرائض کی ادائیگی پر زور دیا جاتا ہے تو یہ کوئی بری اور بڑی بات نہیں کیونکہ سیکولر ریاستیں بھی تو اپنے قوانین پر مکمل عمل پر زور دیتی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی ہندو مندر نہیں جاتا اور گھر والے اسے مجبور کریں تو یہ آزادی کے خلاف بات ہو جاتی ہے لیکن اگر ایک شخص دو سو کی سپیڈ سے خالی سٹرک پر بھی گاڑی چلانا چاہتا ہے تو سیکولر ریاستوں میں اس پر پابندی ہوتی ہے جس کا نتیجہ جرمانہ اور جیل تک ہو سکتا ہے۔ اس طرح سے دیکھا جائے تو عملی اور نظریاتی آمریت کسی دینیاتی ریاست کے بجائے غیر دینیاتی ریاست میں زیادہ ہو گی کیونکہ مذہبی معاملات پورے دن میں ایک گھنٹہ بھی نہیں لیتے جبکہ باقی معاملات تو پورے دن رات پر محیط ہوتے ہیں جن میں کوئی بھی بھول چوک سزا کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر سیکولر اور غیر دینیاتی ریاستیں کسی بھی قسم کے قوانین کی غیر موجودگی کی ضمانت دیں تو یہ مانا جا سکتا ہے کہ دینیاتی ریاستیں اپنے اصولوں کی پاسداری میں جبر سے کام لیں گی جبکہ دوسری ریاستوں میں ایسا کچھ نہ ہو گا۔

مصنف سیکولر ازم کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

’سیکولر ازم الحاد نہیں بلکہ یہ تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے اور ان کے ماننے والوں کو سماج میں باوقار اور پر امن رہنے کا انتظام کرتا ہے۔‘

یہ سب کہتے ہوئے مصنف نے نہیں بتایا کہ بھگوت گیتا میں کہاں یہ لکھا ہے کہ ہر ہندو لوہے کہ بوٹ پہنا کرئے اور جب تمہارے سامنے کوئی غیر ہندو آئے تو اس کے ٹخنے پر زور سے ٹھڈا مارنا ضروری ہے۔ مجھے مسلمانوں کی کسی کتاب میں بھی یہ نہیں ملا کہ چرچ میں جب عبادت شروع ہو تووہاں ڈولی تارو گانے کے ساتھ ڈانس ضروری ہے تاکہ وہ لوگ عبادت نہ کر سکیں۔ عہد نامہ قدیم اور جدید کے کسی باب میں بھی یہ بیان پڑھنے کو نہیں ملا کہ ہر عیسائی اپنے کپڑوں کے اندر گندے پانی کی ایک بوتل رکھے تاکہ جب غیر عیسائی نظر آئے تو اس پر پھینک سکے۔ کسی بودھ کو بھی یہ حکم نہیں کہ غیر بودھ کے سینے میں ٹکر مارنی ضروری ہے کیونکہ وہ غیر بودھ ہے۔ آتش پرستوں نے بھی کبھی اپنے معبد اور گھروں کے باہر انگارے نہیں بچھائے کہ دوسرے مذہب کے لوگوں کو تکلیف دیں۔۔۔ تو بھئی سوال یہ ہے کہ کون سے مذہب میں یہ کہا گیا ہے کہ دوسرے مذہب کا احترام نہیں کرنا اور پر امن رہنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ہر وقت دنگا فساد ایک مذہبی ضرورت ہے۔ جب کسی مذہب نے ایسا نہیں کہا ہے تو اس بات کو سیکولر ازم کی خوبی کے طور پر کیسے پیش کیا جا سکتا ہے کہ ہاں صرف سیکولر ازم ہی دوسرے مذاہب کا احترام سیکھاتا ہے ۔

حاصل گفتگو یہ کہ آج کے سیکولرز دراصل مذہب دشمنی کو ہی سیکولر ازم کی معراج سمجھتے ہیں۔ وہ مذہبی عقائد سے ماورا برابری کی باتیں کرتے ہیں لیکن رنگ و نسل کی برابری یا کام کاج میں برابری کا کوئی تصویر سیکولرز کے پاس نہیں ہے۔ ایک ارب پتی سیکولر کسی سوئپر کی تھالی سے نوالہ نہیں لیتا اور نہ ہی اسے اپنے برابر کا انسان سمجھتا ہے تو پھر ہم کن برابری کے اصولوں کی بات کرتے ہیں۔حقوق کی جن پامالیوں کی بات سیکولرز کرتے نہیں تھکتے وہ کسی مذہب کی طرف سے منع نہیں کئے گئے بلکہ انسانی غلط کاوشوں سے ایسا معاشرہ وجود میں آیا ہے جہاں مسلمان بھی بنیادی اسلامی اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے جی رہے ہیں۔ ویسے ہی دنیا کی سب سے بڑی سیکولر ریاست ہندوستان میں کوئی بھی مذہبی شخص محفوظ نہیں ہے۔ کیا سیکولر ہندوستان ہمیں سیکولر ازم کا اصل چہرہ نہیں دیکھاتا کہ سیکولرز دراصل مذہب دشمنی کا دوسرا نام ہے۔ ہمارا ماننا یہ ہے کہ مذہب کسی بھی انسان کے اندر سے نہیں نکالا جاسکتا ۔ آپ بھلے مذہبی تعلیمات پر عمل کریں یا نہ کریں لیکن بہرحال زندگی میں کوئی ایک موقع ایسا ضرور آتا ہے جب انسان اپنے خدا، گاڈ، بھگوان، ایشور یا کوئی بھی صورت اور نام ہو۔۔۔ کو یاد نہ کرئے۔ سیکولرز اپنی تمام تر جذباتیت میں یہ بھول جاتے ہیں کہ سیکولرازم کا نفاذ بھی انسانوں پر ہی ہوتا ہے اور یہ انسان ہی ہیں جنہوں نے سیکولر ازم کو قبول کرتے ہوئے ایک بہترین معاشرہ تشکیل دینا ہے، لیکن سوال تو پھر وہی ہے کہ جو انسان اپنے مذہب پر عمل پیرا ہو کر ایک اچھا انسان نہ بن سکا اور ایک اچھا معاشرہ تشکیل نہ دے سکا وہ کیسے اور کیونکہ سیکولر ازم پر عمل کرتے ہوئے ایک اچھا انسان بن پائے گا اور ایک اچھا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے گا؟ سیکولرز کو کوئی بھی بات کرنے سے پہلے اس سوال پر غور کرنا چاہیے اور اس کا جواب تلاش کرنا چاہیے کہ مذہب ہو یا سیکولر ازم۔۔۔ بنیاد تو انسان ہی ہے اور انسان ناشکرا ہونے کے ساتھ کسی حال میں خوش بھی نہیں، حسد کا بھی مارا ہوا ہے اور اپنی اناوں کا قیدی بھی۔ وہ انسان جس کا مذہب کچھ نہ بگاڑ سکا ، سیکولر ازم اس کا کیسے کچھ بگاڑ پائے گا، جواب دیجئے کہ آپ کے پاس ایسی کون سی گیڈر سنگھی ہے جو آفاقی مذاہب کے پاس نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سیکولرازم: مغالطوں کا پہاڑ  ۔۔۔ احمد الیاس
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: