جواہر لعل یونیورسٹی: سلیم منصور خالد کے تاثرات اور اثرات ——– تزئین حسن

3

پروفیسر سلیم منصور خالد نے گذشتہ دنوں جواہر لعل یونیورسٹی کے اپنے دورے کے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھا کہ:

جواہر لال یونی ورسٹی، دہلی
میں دو بار گیا ہوں اور بیس بار جانے کو جی چاہتا ہے
وہاں
علم اور جستجو کی لپک،
طبقاتی دھونس سے آزادی،
اور حریت فکر کی لہروں نے دیر دیر تک مسحور کیے رکھا۔
اس مرکز دانش جیسا ماحول نہ لمز میں ہے،
نہ بیکن یونی ورسٹی اور نہ جی سی یونی ورسٹی میں۔
فیشن اور کپڑوں کے جوڑ جڑاؤ کی دھونس سے بے نیاز، جنوری کی سردی اور ہوائی چپلوں میں سادہ جرابوں سے لپٹے پاوں،
مگر کم و بیش ہر طالب علم لٹریچر، فلسفے ، تاریخ اور سماجی علوم کا جویا۔
لڑکا ہو یا لڑکی کوئی کمپلیکس نہیں،
زیادہ تر لیفٹ سے وابستہ ، انسانی درد سے آشنا چہرے۔
لیفٹ بھی ایسا کہ جس میں اعتدال ہے، وقار کی روایت غالب ہے۔ جھوٹ اور پراپیگنڈے کی کثافت نہ ہونے کے برابر۔
لگتا ہے کہ لیفٹ کی یہ روایت اسی یونی ورسٹی کا پودا، پھول اور پھل ہے۔
آٹے میں نمک کے برابر اونچی جاتی کے طالب علم، وگرنہ عظیم اکثریت پسے طبقے اور نچلی قوموں کے لڑکے لڑکیاں۔
لائبریری ایسی کہ ایک بھی نشست خالی نظر نہ آئی، خاموشی ایسی کہ سوئی گرے تو پتہ چل جائے- ایسی لائبریری میں جی یہی چاہا کہ
ان نوجوان اسکالرز کے چہروں پر فکر مندی اور احساس ذمہ داری کی لکیروں کو اپنی آنکھوں میں جذب کر لوں۔
کاش، میرے ملک کی بھی کوئی ایسی یونی ورسٹی ہو، جس میں اصلی پاکستان نظر آئے!
مگر یہاں پر جہل اور جعل نے ہماری درس گاہوں سے دانش کی قدر اور علم کی مٹھاس کو چاٹ لیا ہے۔
کوئی ہے کہ جس کے در پر دستک دی جا سکے؟
کوئی ہے کہ جس سے التجا کی جا سکے؟

اس تحریر پر ’’حسب حال‘‘ کے میزبان جنید سلیم کا تبصرہ حسب ذیل ہے:

دنیا کو دیکھنا ہو تو بسا اوقات پہلے سے لگی عینک کو تبدیل کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ خالص “جماعتئے” نے نہرو یونیورسٹی کے دو دوروں کے کے بعد جو محسوس کیا ، وہ مکمل ایمانداری سے تحریر کر کے ایک شاہکار تخلیق کر دیا۔

پروفیسر سلیم منصور خالد کے جواہر لعل یونیورسٹی کے دورے کے تاثرات کو شئیر اس لئے کیا کہ وطن عزیز میں اس بات کا شعور بہت کم پایا جاتا ہے کہ چین اور ہندوستان جو ہمارے ساتھ آزاد ہوئے تھے علم اور تحقیق کے میدان میں ہم سے بہت آگے ہیں حالانکہ کثیر آبادی کے با عث ان دونوں ممالک کے مسائل ہم سے بہت زیادہ تھے۔ یہاں میں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اسکا مطلب یہ نہیں ان معاشروں میں کوئی خرابیاں نہیں ہیں۔

چین اور بھارت علم اور تحقیق میں اب آسمان پر ہیں اور اسی سبب انکا شمار دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں ہوتا ہے۔ جب ہم کشکول لیکر کھڑے ہیں وہاں یہ دونوں اس وقت دنیا کی بڑی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتی ہیں اور ان کا شمار قرض دینے والوں میں ہوتا ہے۔ ورلڈ بینک اور آئ ایم ایف کے طرز پر یہ بھی ہم جیسے غریب ممالک کے فیصلوں پر اثر اندازہ ہو رہی ہیں لیکن انکا انسانی حقوق کا ریکارڈ ہمارے مقابلے میں بہت خراب ہے۔

 کشمیر سمیت بھارت کی کئی ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں جنھیں سختی سے کچلا جا رہا ہے۔ چین تبت، ہانگ کانگ، تائیوان اور خود اپنی سر زمین پر انسانی حقوق کی بے انتہا خلاف ورزیوں میں ملوث ہے اور اسکی اپنی عوام شدید بے چینی کا شکار ہے۔ مشرقی ترکستان (سنکیانگ) میں جو مظالم روا رکھا جا رہا ہے وہ فرعون کی بچہ کشی، ہٹلر کے ہولو کوسٹ، ازابیلا اور فرڈیننڈ کے اسپینش inquisition، سب کو مات کر رہا ہے۔ بھارت میں جہیز، ماں کے پیٹ کے اندر اور پیدائش کے بعد بچیوں کے قتل، گھریلو تشدد، بہوؤں کو جہیز نہ لانے کے جرم میں زندہ جلانا عام ہے۔

اتفاق سے میں اس وقت وطن عزیز میں جنسی ہراسانی کے مضمون پر کام کر رہی ہوں- اس حوالے سے بھی ہمارا بھارت سے کوئی مقابلہ نہیں۔ دہلی کو اس وقت ریپ کیپیٹل آف دی ورلڈ قرار دیا جا رہا ہے۔

لیکن اسکے ساتھ ساتھ ان دونوں ممالک کی علم اور تحقیق کی ضرورت کو محسوس کر کہ پچھلے ستر سال میں جو طاقت حاصل کی ہے اسکا انکار نہیں کیا جا سکتا جب کہ ہمارے ہاں ابھی تک دانشوران تک اس بات پر متفق نہیں کہ تحقیق عیاشی ہے یا اس دنیا میں بقا کی بنیادی ضرورت۔


حسب توقع سلیم منصور صاحب کو سوشل میڈیا پر ٹرول کیا جا رہا ہے لیکن انکا کہنا ہے کہ انکی نیت صاف ہے۔

راقم کے شئیر کرنیکی اجازت پر انکا کہنا تھا کہ کوئی حرج نہیں اس میں یہ پہلو بھی شامل کر سکیں تو مناسب ہو گا

“میں نے نہ یہ کہا ہے کہ

ہندو بن جاو
نہ یہ کہا ہے کہ کمیونسٹ بن جاو
بس، یہ کہا ہے کہ
یونی ورسٹی کو یونی ورسٹی ہونا چاہئے
اور طالب علم کو طالب علم۔
اور یہ چیز استاد کے ذریعے بنتی ہے
بلڈنگ یا طالب علم سے نہیں
یہ دونوں لازمی مگر ثانوی چیزیں ہیں
اور
استاد ہمارا غائب ہے”

انکا یہ بھی کہنا ہے کہ

“ایسا تعلیم و جستجو کا ماحول تو میں دینی مدرسوں میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔ جہاں اول تو لائبریری ہوتی نہیں، ہو تو استعمال نہیں ہوتی۔ (گنتی کی چند دینی جامعات میں لایبریریاں ہیں، مگر استعمال کم ہی ہوتا ہے)”

ہمارا بھارت سے تعلق کچھ ایسا ہے کہ ہم میں سے بہت سوں کو یہ باتیں بہت بری محسوس ہوئیں ہیں۔ خصوصاً کشمیر کے حالیہ حالات میں۔

لیکن میرے نزدیک مسئلہ کشمیر کے تناظر میں سلیم منصور خالد کی تحریر اس لئے بھی اہم ہے کہ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ بھارت نے اتنی طاقت کیسے پکڑی کہ یک طرفہ دنیا سے ڈرے بغیر آرٹکل ٣٧٠ کو آئین سے نکال دیا اور اسے دنیا کے رد عمل کا کوئی خوف نہیں۔

اب بھی ہم سمجھنے پر راضی نہیں اور صرف ریلیاں نکال کر خوش ہو رہے ہیں تو آگے بھی کسی خیر کی توقع نہیں۔ دنیا میں بقا کے لئے دنیا کو سمجھنا ضروری ہے اور دنیا کو سمجھنے کے لئے تحقیق۔ اسی لئے قرآن بار بار غور و فکر کا حکم دیتا ہے۔ تحقیق مغرب کی پیروی نہیں۔
حضرت علی رضی الله عنہ کا قول ہے، “حکمت مومن کی میراث ہے جہاں سے ملے حاصل کرو”

بھارت اور چین بھی اپنے ماضی اور عظیم الشان تہذیبوں پر نازاں ہیں لیکن انھوں نے اس حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کیا کہ ایک وقت تھا جب وہ تاریخ کی سپر پاورز تھے لیکن آج مغربی تعلیم حاصل کیے بغیر وہ طاقت حاصل نہیں کر سکتے نہ دنیا میں سر اٹھا کے جینے کی حیثیت۔

سلیم منصور خالد کی یہ مختصر سی تحریر بتا رہی ہے کہ حق پرستی کیسے کہتے ہیں اور آج بھی جماعت اسلامی میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھیں حق بات کرتے ہوئے  نہ لیفٹ نظر آتا ہے نہ رائٹ جو سچ بولتے ہوئے، نہ دائیں دیکھتے نہ بائیں نہ ہندوستان اور پاکستان کا شریکے کا رشتہ اور نہ اس بات کا ڈر کہ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں سوشل میڈیا کی عوام کیا کہے گی در اصل یہی مودودی تربیت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دیلی یونیورسٹی، حبیب جالب: حیرت کیوں؟ - احمد الیاس
(Visited 1 times, 3 visits today)

About Author

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. سلیم منصور خالد on

    جزاک اللہ،
    اردو دان طبقے کو شاید معلوم ہو گا کہ
    جوہرلال نہرو یونی ورسٹی
    کی اسی حریت فکر اور معاملات کو میرٹ پر دیکھنے
    کی جرات رندانہ کا یہ فیض ہے کہ
    کیمپس میں کشمیر کے مظلوم طالب علم اپنی بات
    کھل کر اور دلیل سے سنا سکتے ہیں، اور سننے والے
    توجہ سے اسے سن سکتے ہیں۔
    اس کشادگی کا اندازہ کسی عام فرد کے بس کی بات نہیں۔
    اس کے لیے میں جہاں جے این یو کا معترف ہوں
    وہیں پر انڈیا کے لیفٹ کی معروضیت اور
    مظلوم اقوام سے یک جہتی کے لیے
    کلمات تحسین ادا کرتے ہوئے کسی بخل سے کام نہیں لے سکتا۔

  2. سلیم منصور خالد on

    دوسرے وال پہ ایک دوست نے سوال اٹھایا، جس کا مختصر جواب عرض کیا، اسے ذیل میں پیش کر رہا ہوں:

    وقاص احمد شینا صاحب
    یقینا! ایسا ہی ہو گا-
    آپ نے سوال اٹھایا ہے ، “لیننی معاشرے میں اسلام کا وجود بر قرار رہ سکتا ہے؟“
    ، خوب!
    میرے عزیز بھائی، لینن میں تو پھر بھی کوئی مروت اور لحاظ تھا، لیکن اسلام تو سفاک اسٹالن کے خونیں سیلاب اور پھر اسٹالن کے بچوں کے ادواا یعنی ۱۹۹۱ تک اس کے بعد بھی زندہ رہا، البتہ لیننی اور اسٹالینی معاشرے کو خود سکہ بند کامریڈوں اور مارکس کے حافظوں، محافظوں نے ریڈ اسکوائر م میں اس طرح دفن کیا کہ پھولوں کی چادر تک نہ چڑھائی۔

  3. محترم میر افسر نےبہت جلد بازی میں نتیجہ نکال لیا کہ “ اس کو ہرا ہی ہرا” دکھائی دے رہا ہے
    حالانکہ یہ بات ایک تعلیمی ادارے کے تعلیمی ماحول کی ہو رہی ہے، اس میں بھارت کہاں سے آگیا؟ اب آپ اگر الازہر، کیمبرج اور ہاروڈ کے تعلیمی تحقیقی ماحول کی تعریف یا اس کا اعتراف کریں، تو مطلب کب کسی نے یہ لیا ہے کہ:
    اس نا ہنجار کو مصر ، بر طانیہ اور امریکا میں ہرا ہی ہرا دکھائی دیتا ہے؟

Leave A Reply

%d bloggers like this: