کاش زندگی کوئی لوک داستان ہوتی ——– محمد عثمان

0

بچپن سے ایک لوک داستان سنتے چلے آئے ہیں کہ راجہ رسالو نے نے راکشس نامی دیو کو اپنی رانی سے محبت کی پینگیں بڑھا کر بہکانے کے جرم میں کوہ سربن کے ایک غار میں ایک بڑا پتھر رکھ کر قید کر دیا تھا اور دھانے پہ رکھے پتھر پہ اندرونی جانب راجہ نے اپنی تصویر کندہ کر دی تھی راکشس جب بھی غار کے دھانے کی جانب بڑھتا تو راجہ کی تصویر دیکھ کر خوف زدہ ہو جاتا اور چیخیں مار کر پیچھے کو بھاگ جاتا میجر جیمز ایبٹ کے بقول اس نے مقامی لوگوں سے سنا کہ انیسویں صدی تک سربن کے پہاڑ سے یہ شور اور چیخیں سنائی دیتی رہیں دیگر بہت سے لوگوں کی طرح مجھے بھی اس لوک کہانی  کے سچ ہونے پہ زرا برابر اعتبار نہیں مگر اسکے باوجود راجہ رسالو سے جڑی اس داستان نے میرے لیے ہمیشہ ایبٹ آباد کے اس بلندو بالاپہاڑ کوہ سربن پہ پراسرایت کی چادر ڈالے رکھی۔ بعد ازاں جب اقبال کی نظم “ابر” ّمیں سربن کا زکر پڑھاتو اس پہاڑ سے جڑا تجسس ایک طرح کی محبت میں بدل گیا۔

اٹھی پھر آج وہ پورب سے کالی کالی گھٹا
سیاہ پوش ہوا پھر پہاڑ سربن کا
نہاں ہوا جو رخ مہر زیر دامن ابر
ہوائے سرد بھی آئی سوار توسن ابر

زمانہ طالب علمی میں انگریزی کی کلاس کالج کی بالائی منزل پہ ہوا کرتی تھی جہاں سے سربن کا کچھ حصہ (جس میں سے زیادہ تر رقبے پہ اب آبادی بن چکی تھی) بالکل سامنے تھا انگریزی کی بوریت سے بھرپوری کلاس میں پچاس منٹ ضائع کرنے کے بجائے میں اپنی کلاس سے ملحق شعبہ حیاتیات کے ٹیرس پہ کھڑے ہو کر کوہ سربن کو دیکھنا بہتر سمجھتا تھا اور بی اے (B A) کے دو برسوں میں یہی میرا معمول رہا۔

وکالت سے وابستہ ہوا تو بطور عدالتی کمیشن کئی بار سربن کے دامن میں موجود دیہات میں جانا ہوا اور یہ راز کھلا کے یہ ہیبت طاری کر دینے والا یہ پہاڑ اپنے اندر محبت سے بھرپور انسانوں کا خزانہ رکھتا ہے۔ کوہ سربن سے شروع ہونے والا محبت اور چاہت کا سلسلہ دور دراز پہاڑی سلسلوں اور صحت افزاء مقامات تک محدود نہیں رہا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ میرا اصل رومان ایبٹ آباد شہر کے میدانی علاقے، یہاں کا معتدل موسم اور میدانی علاقے کے بیچوں بیچ موجود چھوٹے پہاڑ اور ندی نالے بن گئے ایک دھائی سے زائد وقت ہوا میں روز ایبٹ آباد شہر کے مرکز سے اسکے شمالی سرے تک کا سفر کرتا ہوں اور ان دس بارہ برسوں میں شہر کا مرکز اور ملحقہ میدانی علاقے ایک پرفزاء مقام سے ہوتے ہوئے غلاظت اور گندگی کا ڈھیر بن چکے ہیں سربن چوک سے قلندر آباد تک کا سفر جو چند برس قبل ایک حسین اور پر کیف تجربہ ہوا کرتا تھا اب ایک تکلیف دہ اور کھٹن مرحلہ بن چکا ہے یہ بارہ پندرہ کلومیٹر کا سفر سرسبز کھیتوں چھوٹی پہاڑیوں پہ اگے گھنے درختوں اور ٹھنڈی ہواوں کا سفر ہوا کرتا تھا مگر چند ہی برسوں میں سارے پہاڑ کٹ کر مارکیٹس اور پلازے بن چکے ہیں۔ کھیت اب گھروں میں تبدیل ہو چکے ہیں چیڑ اور کیکر کے درختوں کے بجائے عمارتوں کے جنگل اُگ چکے ہیں۔ سرد ٹھنڈی ہوائیں گرم لو اور دھول مٹی میں بدل چکی ہیں۔ شفاف چشموں میں اب پانی نہیں انسانی فضلہ بہتا ہے وہ سارے نالے جو کبھی بارشوں کے بعد پانی کی نکاسی کا کام کیا کرتے تھے اب ان پہ تعمیرات ہو چکی ہیں۔ ٹمبر اور پراپرٹی ڈیلر مافیا نے بہت مختصر وقت میں شہر کا نقشہ بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔ شہر کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھتا چلا گیا اور اب شہر کے قرب وجوار  شاید ہی کوئی ایسا پہاڑ موجود ہو جس کو کاٹ کر پلاٹس میں تبدیل نہ کر دیا گیا ہو۔

اس سارے پس منظر میں شہر کی انتظامیہ اور ادرارے خاموش تماشائی بنے رہے یا پھر شاید اپنا حصہ وصول کرتے رہے باوجود اسکے کے ضلعی انتظامیہ نے عدالت عالیہ کے حکم کی روشنی میں یہ احکامات جاری کر رکھے تھے کہ شہر میں کسی پہاڑ کو نہ کاٹا جائے مگر سارے پہاڑ اسی انتظامیہ کی ناک کے نیچے کاٹ دئیے گئے جنگل ختم کر دئیے گئے اور چشمے خشک ہو گئے۔ شہر کے آس پاس کے دیہات بھی اپنا روایتی دیہی حسن کھو بیٹھے ہیں ابھی کل کی بات ہے جب ایک دوست نے میرے گاؤں کو دیکھ کر کہا تھا “یار تمھارا گائوں میدانوں اور پہاڑوں کا حسین امتزاج ہے ایک طرف چند کلو میٹر کے فاصلے پہ گھنا جنگل اور دوسری طرف پنجاب جیسے وسیع و عریض کھیت جہاں سڑک کنارے اگے سفیدے کے درختوں کی قطاریں کسی افسانے کا سا ماحول بنا دیتی ہیں۔ یہی گاؤں صرف چند برسوں میں دھول مٹی ہو چکا اور کھیت تو اب ڈھونڈے سے نہیں ملتے میں نے اپنے مکان کی بالائی منزل پہ جو کھڑکی مغرب کی سمت تروتازہ ہوا کے لیے بنائی تھی اب اس سے گاڑیوں کا شور اور دھواں آیا کرے گا۔

یہ شہر جسے برسوں پہلے احمد فراز نے شہر سبزہ و گل کہا تھا اپنا تمام حسن اور خوبصورتی کھو بیٹھا ہے فطرت سے قربت رکھنے والے کسی بھی حساس شخص کے لیے ایبٹ آباد میں رہنا تکلیف دہ اور ازیت ناک ہو چکا ہے۔

شہر کی پرانی تصویریں اور بزرگ بتاتے ہیں کہ اسی اور نوے کی دھائی میں شہر کی مرکزی سربن چوک اور شاہین چوک کے ارد گرد چیڑ کے دیو ہیکل درخت ہوا کرتے تھے اب اس قبیل کے چند درخت کچہری کے پاس نیشنل بنک کے سامنے والی سڑک پہ رہ چکے ہیں جو شاید اب بہت تھوڑے وقت کے مہمان ہیں ایبٹ آباد کی حسین رانی کے حسن کو سرکاری اداروں اور پراپرٹی ڈیلروں کے راکشس دیو نے گہنا دیا ہے۔

کاش زندگی کوئی لوک داستان ہوتی اور کوئی راجہ رسالو ان راکشسوں کو کوہ سربن کے کسی غار میں قید کر دیتا۔

(Visited 1 times, 20 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: