دریائے کنہار کے سنگ جھیل سیف الملوک تک ——– محمد حمید شاہد

0

میں لائونج میں بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر اُنگلیاں جمائے کچھ لکھے جا رہا تھا کہ سعد بیٹے نے نہایت شوخی سے کہا:’’چلیے بابا جان سوات چلنا ہے۔ ابھی۔‘‘

پچھلے کچھ دنوں سے سوات جانے کا پروگرام بنتا ٹوٹتا رہا تھا لہٰذ ا میں ہنس دِیا اور اپنی دُھن میں مگن رہا۔ سعد کی شوخی برقرار تھی، کہا: ’’اُٹھیے نا! شعیب اور ثنا تو گھر سے نکل بھی چکے ہیں راستے میں ہمارے منتظر ہوں گے۔‘‘

اب کی بار میں چونکا۔ اُنگلیاں جہاں تھیں وہیں رُک گئیں۔ وال کلاک کی طرف دیکھا شام کے سات بج رہے تھے۔ پھر بیٹے کو دیکھا جو کہہ رہا تھا:’’ تیار ہو جائیں نا بابا جان!‘‘

مجھے لیپ ٹاپ بند کرنا پڑا۔تاہم ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ اس طرح بھی سوات کے لیے نکلا جا سکتا تھا۔ خیر کمرے میں پہنچاتو وہاں میں نے بیگم، بہو اور بیٹی کو بھی یوں ہی پرجوش پایا۔اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا بیگم نے کہا ’’آپ کے ایک دوجوڑے کپڑوں کے رکھ لیتی ہوں، اب اگر بدلنا ہوں تو بدل لیجئے۔‘‘

بیٹے کی دور سے آواز آئی :’’بس اسلام آباد جیسا ہی موسم ہوگا۔گرم کپڑوں کی ضرورت نہیں۔‘‘

اگلے پندرہ بیس منٹ میں ہم گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔اسلام آباد سے نکلنے کے لیے کشمیر ہائی وے پر گاڑی موڑنے تک ثنا بیٹی کو میں دو بار ناراضی کا فون کر چکا تھا کہ کیا یوں بھی پروگرام بنا یا جاتا ہے اورسائق بیٹے اور حامد اویس بیٹے کو بھی ساتھ نکلنے کاناکام حیلہ کر چکا تھا۔ خیر، یوں تو سوات کے نام پر سعد نے ہمیں نکال کر گاڑی میں بٹھا لیا تھا اور ہم میٹرو کے اس جنگلے کے ساتھ ساتھ چلتے موٹر وے کی طرف بڑھ رہے تھے جس پر تبدیلی سرکار کے آنے کے بعد لگ بھگ کام وہیں رکا ہوا تھا جہاں پہلے تھا لیکن واقعہ یہ تھا کہ وہ خود بھی سوات کی بہ جائے کاغان ناران کی طرف جانا چاہتا تھا۔ اب ثنا، شعیب اور سعد کے درمیان اسی پر مذاکرات جاری تھے کہ وہ دونوں اپنے بچوں کے ساتھ اپنی گاڑی میں ہم سے پہلے نکلے تھے اور اب براہمہ باہتر انٹر چینج سے آگے نکل چکے تھے۔ان کامیاب مذاکرات کا نتیجہ یہ نکلا کہ اچانک بننے والا پروگرام یکلخت بدل دیا گیااب ہم سوات نہیں جا رہے تھے۔

ہزارہ انٹر چینج تک پہنچتے پہنچ پوٹھوہار کی اونچی نیچی اور کٹی پھٹی زمینوں اور ان کے بیچ سر سبز قطعات پر گہری ہو چکی شام کلی کھیل رہی تھی۔ موٹروے کے دونوں طرف ایسی رہائشی اسکیموں کے بورڈ اور’’شاندار کارروائیاں‘‘ نظر میں آرہی تھیں کہ ایک مدت سے تکمیل کے ’’آخری مراحل ‘‘ میں تھیں۔ہم بھی ہزارہ انٹر چینج سے ایم ون سے باہر نکلے اور ایبٹ آباد کی طرف ہو لیے کہ اس نئی شاہراہ پر ہم سکون سے شاہ مقصود انٹرچینج تک جا سکتے تھے اورجب تک اس پر چلتے رہے اسے بنانے والوں کو دعائیں دیتے رہے کہ اس سے اترتے ہی ہمیں بے ہنگم ٹریفک کے طوفان میں ڈوب کر آگے بڑھنا تھا۔ یہاں ہر گاڑی آگے نکلنے کی کوشش میں تھی اور ایسا کرتے ہوئے وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے کوفت کا سامان ہو رہی تھی۔ایک دو مقامات پر سڑک کے آدھے حصے کو کھرچ کر نئے سرے سے بھرائی ہو رہی تھی اور یہیں سب گاڑیاں آمنے سامنے ہو کر پھنس گئی تھیں۔ خدا خدا کرکے ٹریفک رواں ہوئی اور ہم ایبٹ آباد کے بیچوں بیچ اونچی نیچی ہوتی بل کھاتی سڑک پر سے شہر کی دوسری طرف نکلنے کو مسلسل آگے بڑھ رہے تھے۔ سعد بیٹے نے یہیں ایک پمپ پرایندھن لینے کوگاڑی روکی تو یوں لگا جیسے تیزی سے گھومتی دنیا یکلخت پر سکون ہو گئی تھی۔ میں نے وہیں سے اس سڑک کو دور وہاں تک دیکھا جہاں وہ دائیں جانب مڑ کر نظروں سے اوجھل ہو جاتی تھی تو خود بہ خود نظر اوپر اٹھتی چلی گئی ان جھل مل جھل مل کرتے قمقموں کی طرف؛ جو وہاں گہری ہو چکی رات کی تاریکی میں بلندی پر موجود گھروں کے آنگنوں، کھڑکیوں دروازوں اور گلیوں کوچوں کی موجودگی کا اعلان کر رہی تھیں۔ایبٹ آباد میں کئی بار آچکا تھا ؛یہ شہر کئی حوالوں سے توجہ کھینچتا ہے۔ کہتے ہیں جب ضلع ہزارہ کے پہلا ڈپٹی کمشنر میجر جیمس ایبٹ یہاں آیا تھا تو اس کی خوب صورتی نے اسے گرفتار کیا تھا۔ سن ۱۸۵۳ ء، ظاہر ہے انگریزوں کا زمانہ تھانے اسے بسایا تھا۔ وہ پہاڑوں، بہتے پانی کے جھرنوں اور سر سبز زمینی قطعات پر مر مٹا تھا بس پھر کیا تھا اس نے یہاں شہر آباد کر دیا جو اسی کے نام سے موسوم ہوا۔ تاہم اب اگر ایبٹ آباد مشہور ہے تو اس لیے کہ اس میں کئی فوجی اور سول ادارے ہیں۔ اگرچہ ہم ملٹری اکیڈمی اور انگریزوں کے دور سے معروف چلے آرہے برن ہال اور ایبٹ آباد کی روشنیوں کو عقب میں چھوڑ کر مانسہرہ میں داخل ہو گئے تھے مگر بے ہنگم ٹریفک کا تعاقب چھوڑنے کو نہ مان رہا تھا۔ یہیں یاد آتا ہے کہ ایک زمانے میں جب اس علاقے میں مان سنگھ کی حکمرانی تھی تو اس شہر کا نام مانسہرہ پڑ گیا تھا۔ اب اگر یہ بات درست ہے تو کیا یہ دلچسپ امر نہیں ہے کہ میجر جیمس ایبٹ اور مان سنگھ، دونوں خوش قسمت نکلے کہ آس پاس کے ان دونوں شہروں کے نام بدل کر’’ مسلمان کرلینے ‘‘کا دھیان کسی کو نہیں۔

گڑھی حبیب اللہ سے ہوتے ہم بالا کوٹ پہنچ گئے جہاں سید احمد شہید، شاہ اسماعیل شہید اور ان کے ساتھیوں کے مزارات ہیں۔ جب ہم اس شہر سے گزر رہے تھے اور میری نظر اس بورڈ پر پڑی جس پر تیر کا نشان کے ساتھ’’نیو بالاکوٹ سٹی ‘‘ کی عبارت لکھی ہوئی تھی تو میرا دھیان ۸ اکتوبر ۲۰۰۵ء کے اس شدید زلزلے کی طرف چلا گیا جس میں یہاں لگ بھگ ۵۰۰۰ کے قریب انسان اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے، کئی گھر اجڑ گئے، اسکول بچوں سمیت کھنڈر ہو گئے، معذور ہو جانے والے گنتی میں نہ آتے تھے۔زلزلے کے بعد والے سال میں یہاں آیا تھا اور معذور ہو جانے والے افراد کے لیے مصنوعی ہاتھ پائوں بنانے والے وہیل چیئرز اور دوسرے سہارے فراہم کرنے والے ایک ادارے کے منتظمین سے ایسی کہانیاں سنی تھیں کہ انہیں یاد کرکے آج بھی دل دکھ سے بھر جاتا ہے۔ کہا گیا بالاکوٹ فالٹ لائن پر موجود ہے۔ پھر سے زلزلہ آیا تو اس شہر میں ایسی تباہی پھر سے آ سکتی ہے۔چار ہزار کے قریب متاثرہ گھرانوں کو سعودیہ کی مدد سے بنائی گئی دوگھروں کی عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا۔ دنیا بھر سے امداد آئی کہ اس فالٹ لائن سے دور نیا شہر بسایا جائے۔مشرف نے ایرا اسی امداد کو ٹھکانے لگانے کے لیے بنایا تھا۔ تیس ہزار متاثرہ خاندانوں کی منتقلی کے لیے نیو بالاکوٹ سٹی کا منصوبہ بنا، زمین خریدی گئی، پھر تاخیر ہوتی چلی گئی۔ سپریم کورٹ تک معاملہ پہنچا اور وہاں سے دو اڑھائی سال کی اگلی مہلت مل گئی۔آزاد کشمیر کے زلزلہ متاثرین ہوں یا ہزارہ کے ان علاقوں کے متاثرین، جہاں زلزلے کے بعد تھے وہیں زندگی کھینچنے کے اپنے تئیں جتن کر رہے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ جس شہر کو فالٹ لائن سے نئے مقام پر منتقل ہونا تھا زلزلے کی لکیر پر بسا ہوا ہے۔

رات ہم اسی فالٹ لائن پر آباد شہر میں ٹھہر گئے تھے، اس گیسٹ ہائوس میں، جس کے پہلو سے دریائے کنہار شور مچاتا گزر رہا تھا۔ رات پچھلے پہر مجھے کنہار کی شوریدہ سر لہروں ہی نے جگایا تھا۔ میں سب کو سوتا چھوڑ کر باہر نکلا، برآمدے سے نیچے جھانک کر دیکھا تو وہاں تو یوں لگا جیسے جھلملاتا جھلارا لیتا سفید چمکدار موتیوں سے بنا تھان دور تک کھلتا چلا گیا تھا جو ہر بار اپنی بنت کے موتیوں کو آزاد کرکے فضا میں اچھالتا تھا۔ وہ اچھلتے موتیوں کے باہم ٹکرا نے، گرنے اور پھر ٹکرانے کی آواز تھی ؛مجھے یوں ہی ایک خیال آیا تھا مگر میں اندازہ کر سکتا تھا کہ پانی بہت تند لہروں کی صورت وہاں پتھروں سے ٹکرا کر گزر رہا تھا۔ میںبرآمدے کی سیڑھیوں سے اترتا سامنے والے لان میں آیا۔ وہاں آگے، پانچ سیڑھیاں اترنے پر لان کا ایک اور تختہ تھا جس میں چارپائیاں اور کرسیاں ڈال کر وہاں ٹھہرنے والے مہمانوں کے بیٹھنے اور دریا کا نظارہ کرنے کی سہولت فراہم کر دی گئی تھی۔ میں اس تختے پر بھی نہیں ٹھہرا، پانچ مزید سیڑھیاں اتر ا، آخری سیڑھی پر اپنے جوتے اتارے اور گول گول پتھروں پر پائوں دھرتا شور مچاتے پانی میں اتر گیا۔ پانی اتنا یخ تھا کہ پورے بدن میں ایک تھرتھری سی دوڑ گئی تھی۔ میں زیادہ دیر وہاں پائوں دھرے بیٹھ نہ سکتا تھا، اس لیے پانی سے نکلا اور ایک بڑے سے پتھر سے ٹیک لگا کر اس پہاڑ کو دیکھا جو آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ میں وہاں بہت دیر رہا حتی کہ سب جاگ کر وہیں آتے گئے اور قدرت کے پھوار کی صورت برستے حسن سے لطف اندوز ہونے لگا۔ سب سے آخر میں ننھی ایشال کی آنکھ کھلی۔ وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی اور برآمدے میں وہیں سے نیچے دیکھتے ہوئے زور زور سے رونے لگی۔ شعیب بھاگتے وہاں گئے، اسے اٹھایا اور چپ کراتے ہوئے پوچھا کہ رو کیوں رہی ہو تو اس نے نیچے دریائے کنہار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، سڑک پر اتنا زیادہ پانی آگیا ہے تو ہم گھر کیسے جائیں گے۔ سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔ تاہم کچھ دیر بعد نہ صرف وہ ماحول سے مانوس ہو گئی تھی اس سے لطف اندوز بھی ہو رہی تھی۔ جب ایشال کواُس کی نانی نے اٹھا کر اس پتھر پر سوار کر دیا جس سے کچھ دیر قبل میں ٹیک لگائے کھڑا تھا، تو میں نے اس پتھر کو غور سے دیکھا۔ مجھے یوں لگا تھا جیسے وہ ایک پتھر نہیں تھا، بہت بڑی مچھلی تھی۔ سچ مچ کی زندہ مچھلی جسے پانی کی کسی شریر چھل نے اٹھا کر باہر پھینک دیا تھا اور جو کنہار کے پانیوں میں واپس جانے کو بے تاب تھی۔ ہم نے ناشتہ وہیں اوپر والے لان کے تختے پر کیا اور اگلی منزلوں کو روانہ ہو گئے تھے۔

بالاکوٹ سے ہم کاغان ناران کو جاتی، کنہار کے ساتھ ساتھ آڑی ترچھی چلتی سڑک پر ہی رہے۔ دونوں جانب پہاڑ کی دیواریں اوپر تک اٹھتی گئی تھیں۔ یہ سب سر سبز پہاڑ تھے اور جہاں جہاں سر سبز تھے تیز دھار پانیوں کی زد میں آنے کے باوجود کٹائو سے بچے ہوئے تھے کہ یہاں بارشوں اور آبشاروں کا پانی رس رس کر پہاڑوں کے اندر اترتا یا اوپر سے نیچے پھسلتا ہوا کنہار میں جا ملتا تھا۔ جب جب کوئی موڑ آتا، نظر اٹھتی پہاڑ اپنا رنگ اور اپنی شباہت بدل لیتے تھے۔ یہی حال دریائے کنہار کے پانیوں کا تھا جہاں دریا کا سینہ پھیلا ہوتا وہاں یوں لگتا جیسے پانی میں آسمان جھانک رہا ہو۔اس کی رفتا اور شور بھی مدہم لگتا اور جہاں کہیں اس کا پاٹ تنگ ہو جاتا اور ڈھلوان اور رفتار زیادہ ہوتی پانی جھاگ اڑا رہا ہوتا۔یہاں آسمان بھی پل پل رنگ بدلتا نظر آیا۔ ابھی دھوپ تھی، ابھی چھائوں۔ ابھی آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا اور ابھی سڑک کے ایک طرف اوپراٹھے پہاڑوں کی عقب سے سورج جھانکتا ہے اور اپنی سنہری دھوپ کا جال آوارہ بدلیوں کے عکس سمیت سڑک کی دوسری طرف کے پہاڑ کی چھاتی پر پھینک رہا ہوتا ہے۔ اس سنہری جال میں کوئی اور گرفتار ہو نہ ہو سانپ کی طرح بل کھاتی سڑک پر گزرنے والے ضرور ہوتے ہیں۔ ایسا حسن کہ ہر کہیں سے چھلکتا ہو اور پہلو بدل بدل کر پھوار کی صورت برستا ہو اور بھگو کر رکھ دیتا ہو شاید ہی کہیں اور ہو۔ آگے شاید کہیں ترقیاتی کام چل رہا تھا کہ ہیوی مشینری وقفے وقفے سے نظر آتی تھی اور ٹریفک کے بہائو میں رخنے ڈال رہی تھی۔

کیوائی پہنچے تو سڑک کی بغل سے یکدم ایک آبشار پر نگاہ پڑی۔کیوائی آبشار کا پاٹ چوڑا تھا جس میں ہو ٹل والوں نے اپنے مہمانوں کے لیے لوہے کی چارپائیاں اور پلاسٹک کی کرسیاں بچھا لی تھیں۔ بچے، عورتیں، جواں بوڑھے سب سیاح وہاں رکے ہجوم کیے ہوئے تھے۔ چارپائیاں اور کرسیاں بھی خالی نہ تھیں۔ کوئی آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا اور کوئی پائوں ننگے کیے آبشار کے پانی میں ڈالے ہوئے اسے اچھال رہا تھا۔پانی کے شور میں عورتوں اور بچوں کی حیرت اور خوشی سے نکلتی چیخیں اور مستی میں نوجوانوں کے اچھلتے قہقہے آبشار کے شور میں گم ہو رہے تھے۔ بہت سارے لوگ وہاں تھے جہاں پہلے سڑک پر ایک سفید اجلی چادر کی طرح پانی گرتا اور پھر سڑک پر سے پھسلتا دوسری طرف نیچے گر رہا تھا۔

ہم جوں ہی اگلے موڑ سے آگے نکلے سارا شور شرابہ پیچھے رہ گیا اورخاموش مگر جادو اثر منظر ایک پورٹریٹ کی طرح آنکھوں کے سامنے تھا۔ کیوائی کے بعد کچھ آگے ایک سڑک اوپر دائیں جانب شوگراں اور سری پائے جیسے خوب صورت مقامات کی طرف نکلتا ہے۔ کاش ہمارے پاس اتنا وقت ہوتا کہ ہم اس طرف نکل سکتے۔ پارس پہنچے تو ڈرائی فروٹ کی دکانوں پر نظر پڑی اور رکنا پڑا۔ دکانوں کے باہرٹیوب کی طرح لمبے لمبے پلاسٹک کے لفافوں میں دکانداروں نے خشک میوہ جات بھر کر یوں عموداً کھڑے کیے ہوئے تھے کہ نظر پڑتے ہی توجہ کھینچ لیتے تھے۔ بادام، اخروٹ، خوبانیاں، کشمش جو نظر آیایاسمین نے اس پر خوب مول تول کے بعد خرید لیا کہ مول تول نہ کریں تو اس راہ پر دگنی قیمت دینا پڑتی ہے۔شینو اور مہاندری کے پہاڑ بھی درختوں اور جنگلی بوٹیوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔ تاحد نظر سبزہ ہی سبزہ تھا اور بیچ بیچ میں کہیں جنگلی پھولوں سے لدی ٹہنیاں جھلک دے جاتیں یا اسی سبزے کے اندر پانی پہاڑ کے اوپر سے اس کی چھاتی پر ایک چمکتی لکیر کھینچتا پھسلتا نظر آتا تونظارہ اور بھی روح پرور ہو جاتا تھا۔ ہم آگے بڑھ رہے تھے۔ اوچھری سے پہلے ٹرائوٹ فش فارم کے بورڈ پر نظر پڑی۔ دریائے کنہار کا یخ پانی کی پتھروں پر سر پٹختی جھاگ اڑاتی تندی ٹراوٹ فش کو بہت خوش آتی ہے کہ اسے اس تندی میں مخالف سمت بہنا اور برف جیسے ٹھنڈے پانی میں سانس لینے ہی میں لطف آتا ہے۔ یہی اس کی زندگی ہے۔ لہٰذا دریائے کنہار کے ساتھ ساتھ جوں ہی آپ اوپر بڑھتے جاتے ہیں، ٹرائوٹ مچھلی کے ملنے کے امکانات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں دنیا میں مچھلیوں کی لگ بھگ تیس ہزار اقسام ہیں۔ سمندر، دریا، ندی نالے، تالاب پانی کے وسا ئل، ذخیرے، موسم اور سمندر سے ان آبی ذخائر یا وسائل کی بلندی کی عطا ہے کہ پاکستان میں بھی اس کی کئی اقسام مل چکی ہیں۔وہیل، تھیلا، گلفام، سنگھاڑا، رہو، سندھی کگھہ، سانپ سری، عجب عجب نام کی مچھلیاں ہیں کوئی کانٹے والی کوئی کانٹے کے بغیر اور ہر ایک کا ذائقہ الگ۔ محض دس بارہ انچ کی ٹرائوٹ ان سب سے جدا اور شاید سب سے زیادہ لذیذ بھی ہے۔

اوچھری کی بل کھاتی سڑک سے آگے گزرتے جائیں تو دائیں جانب پہاڑ بلند ہوتے جاتے ہیں اور بائیں جانب سڑک جیسے گہری کھائی کے کنارے کنارے چل رہی ہوتی ہے۔ نیچے بہت نیچے دیکھتے ہوئے دریائے کنہار کا اچھلتا کودتاشور مچاتا الہڑپانی آنکھ مچولی کھیلتا نظر آتا؛ ابھی سامنے تھا ابھی نہیں ہے، تاہم اس کے ہونے کا احساس ہر دم ساتھ رہتا ہے کہ وہ کسی بھی موڑ پر آنکھوں کے سامنے آموجود ہوتا ہے۔ اوچھری سے جرید اور پھر مہاندری اورکئی کچھ مسافت کے بعد کھنیاں آیا جہاں دونوں طرف کے پہاڑ کھسک کر یوں پیچھے ہٹ گئے تھے جیسے ہمیں دعوت دے رہے ہوں کہ ہم بہت گہرائی میں کسی پاگل اونٹ کی طرح جھاگ بہاتے کنہار کے پانیوں کو نظر بھر کر دیکھیں۔ ہم وہاں رکنے پر مجبور تھے اور قدرت کے اس کرشمے کو حیرت اور محبت سے دیکھ رہے تھے۔ اس مقام پر پانی کا شورسڑک کے دونوں طرف کے بلند پہاڑوں پر دستک دے کر واپس آتا تو سماعتوں پر عجب سحر سا طاری کر دیتا تھا۔

سڑک کنارے یہاں وہاں سجے سجائے ریسٹورنٹ اور ہو ٹل تھے جہاں بھی قدرے وسیع ہموار زمین کا ٹکڑا نظر آتا وہاں سیاحوں نے اپنے کیمپ گاڑھ رکھے تھے۔ درختوں اور سبزے سے ڈھکے پہاڑ، پہاڑوںمیں چھوٹتی آبشاریں، بہتے جھرنے، دریائے کنہار کا شور مچاتا پانی، آسمان پر بادلوں کے پرے کے پرے اور سڑک پر ہمہ وقت بہتی ٹریفک، اس سب نے مل ملا کر منظروں میں ایسا جادو بھر دیا تھا جو حواس باندھ کر رکھ دیتا تھا۔ جہاںہیوی ٹریفک بڑھ گئی وہیں ہم چونکے کہ سامنے ایک وسیع علاقے میں بھاری مشینری سے کہیں پہاڑ کھودے جارہے تھے اور کہیں پتھروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جارہا تھا۔ بائیں جانب کے دیوار کی طرح اوپر اٹھے اور آسمان کو چھوتے پہاڑ کی ساری چھاتی پر سیمنٹ اور پتھروں سے بنے چورس خانے توجہ کھینچتے تھے۔ ہر کہیں کام ہو رہا تھا۔ یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری، سی پیک منصوبے کے تحت کاغان ویلی میں دریائے کنہار پر زیر تعمیر سکی کناری ہائیڈوپاور پراجیکٹ تھا جس پر زور و شور سے کام جاری تھا۔ یہیں دریا اور سڑک کا رخ موڑ لیے گئے تھے۔ اب دریا ہمارے بائیں نہیں بلکہ داہنی طرف تھا جو کچھ آگے جا کر پھر بائیں طرف ہو گیا تھا، وہاں چینیوں نے پراجیکٹ کی تعمیرات کے ساتھ اسٹیل سے پل بناکر ٹریفک کو پہلے روٹ پر ڈال دیا تھا۔

ناران پہنچنے سے پہلے ہم اپنے لیے تین چار ممکنات پر غور کر رہے تھے۔ ایک آپشن رافٹنگ کی تھی جو ثنا بیٹی کی ترجیحات میں سب سے اوپر تھی مگر اسے کل پر ٹال دیا گیا۔ دوسری صورت یہ تھی کہ یہیں سے جھیل سیف الملوک کی طرف نکلا جائے جس کے لیے اپنی گاڑیاں چھوڑ کر جیپ لینا ہوتی اور اس میں وقت لگ سکتا تھا لہٰذا اسے بھی موخر رکھا گیا۔ تھکاوٹ بہت تھی، ایک رائے یہ آئی کہ یہاں رہائش لے کر آرام کر لیا جائے مگر سعد اور شعیب کا تجربہ یہ تھا کہ ناران رہنے کے لیے مناسب مقام نہ تھا۔ وہ دونوں اس خوب صورت مقام اور اس کے نظاروں کو تباہ کرنے والی تجارتی عمارات کو ہدفِ تنقید بنا رہے تھے۔ لگ بھگ یہ عمارات جدید طرز تعمیر کا نمونہ تھیں، ان کے نام بھی بدیسی تھے مگر یہ یہاں کے قدرتی حسن کو آنکھوں سے اوجھل کرنے کا سبب ہو گئی تھیں۔ ہم ناران کے اندر سے ہو کر آگے جانے والی سڑک کے بجائے بائی پاس سے آگے نکل گئے کہ فیصلہ ہو گیا تھا آج ہی ہم بابو سر ٹاپ جائیں گے۔ جوں جوں ہم اوپر جا رہے تھے موسم میں خنکی بڑھتی جا رہی تھی۔ ہمارے پاس گرم کپڑے نہ تھے تاہم سب اتنے پرجوش تھے کہ کسی صورت راہ میں رکنے کو تیار نہ تھے۔ناران سے بٹہ کنڈی پہنچے اور وہاں سے جلکھنڈ۔ آگے جھیل لولوسر تھی مگر ہم وہاں نہیں رکے تھے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ شام پانچ بجے کے بعد بابو سر ٹاپ کی طرف جانے سے روک دیا جاتا ہے لہذا ہم نے اپنا سفر جاری رکھاتاہم جھیل پر پڑی نظر ہٹتی نہ تھی۔ ہمارا سفر بلندی کا تھا، سامنے پہاڑوں پر برف چمک رہی تھی، یہاں وہاں گلیشیر تھے اور جوں جوں ہم اوپر جا رہے تھے گاڑی کی آواز بھاری ہوتی جا رہی تھی۔ کئی گاڑیوں کو وہاں ہم نے رکے اور سیاحوں کو سر پکڑے دیکھا۔فضا میں آکسیجن کی مقدار کم ہو رہی تھی اور اسے صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔ لیجئے اب ہم بابو سر ٹاپ پر پہنچ چکے تھے۔ بابو سر ٹاپ پر ایک بورڈ پر فراہم کی گئی معلومات کے مطابق ہم اس وقت سطح سمندر سے ۱۳۷۰۰ فٹ بلندی پر تھے۔ اس چوٹی کا راستہ مئی سے اکتوبر تک کھلا رہتا ہے۔یہ ستمبر کے ابتدائی ایام تھے اور سیاحوں کے مطابق بابو سر ٹاپ کی طرف نکلنے کے یہ بہترین دن تھے۔اگلے ماہ تک یہاں برف پڑنے والی تھا اور اس طرح کے بیانات کی تصدیق وہ چرواہے بھی کر رہے تھے جو اپنی بھیڑ بکریوں اور دوسرے جانوروں کے ساتھ یہاں سے نیچے گروہ در گروہ سڑک کے کنارے سفر کرتے نظر آتے تھے۔ بابو سر ٹاپ پر کھانے پینے والی اشیا کی عارضی دکانوں سے پرے سب سے اونچے مقام پر پاکستان کا جھنڈا تیز ہواسے پھڑپھڑا رہا تھا اور اس سے پرے پہاڑ پر گلیشیر نے پہاڑ کی چوٹی کو پوری طرح ڈھانپا ہوا تھا۔ جو نہی ہم گاڑیوں سے نکلے یخ بستہ ہوائوں نے ہمیں آلیا تھا۔ تاہم سب متجسس تھے اور شاپنگ ایریا کی پچھلی طرف جانا چاہتے تھے جہاں سے ہر طرف کا نظارہ ممکن تھا۔میں اوپر پہنچتے ہی چھاتی میں شدید درد محسوس کرنے لگا تھا مجھے سانس لینے میں دقت ہو رہی تھی اور سانس بحال رکھنے کے لیے مجھے چھاتی کو بار بار دبانا پڑتا تھا۔ اس سب پر مستزاد یہ کہ یخ بستہ تیز ہوا، اس موسم کے لیے ناکافی ہمارے کپڑوں کے اندر گھس کر رگوں میں دوڑتے خون کو بھی منجمد کر رہی تھی۔ میںوہاں زیادہ وقت ٹھہر نہیں سکا۔ بچے تصویر بنانا چاہتے تھے وہ بھی نہیں بنوائی اور گرتا پڑتا واپس ہو لیا۔ گاڑی تک آتے مجھے دو مقامات پر چھاتی دبا کر بیٹھنا پڑا۔ خیر بچے پیچھے پہنچ گئے۔شعیب نے گاڑی کھولی اور مجھے بٹھا کر ہیٹر آن کر دیا۔ ثنا بیٹی آئی تو اس کے پاس اکھڑے سانسوں کو بحال کرنے والا میڈیکیٹڈ پف تھا جسے لینے سے سانس بحال ہوئے۔خیر بچے آگئے اور ہم وہاں سے ذرا نیچے اترنے لگے تو مجھے اپنے پر دکھ بھی ہوا اور طیش بھی آیا کہ ضبط کرکے وہاں تیز ہوائوں کے مقابل ٹھہرا رہتا تو نیچے وادی کے منظر سے لطف اندوز ہو سکتا تھا۔ خیر، اب میں سنبھل چکا تھا اور ایک بار پھر سعد اور شعیب سے درخواست کر رہا تھا کہ یہیں گاڑی سے اتر کر ایک نظر میں یہاں کے مناظر آنکھوں میں سمونا چاہتا ہوں۔ شعیب نے یہاں میری کئی تصاویر لیں تاہم ہنستے ہنستے کہا یہ بابوسر ٹاپ کی فیک فوٹوز ہوں گی۔ میں نے کہا ٹھیک بابوکا سر نہیں تو بابوکا کندھا سہی۔

بابوسر ٹاپ سے واپسی پر ہم لولوسر جھیل پہنچتے ہی گاڑیوں سے اتر پڑے۔ یاسمین کا اصرار تھا کہ سڑک پر سے ہی جھیل کا نظارہ کیا جائے مگر اس جھیل کا حسن ایسا تھا کہ پاس بلاتا تھا۔ میں بے اختیار سڑک سے نیچے ڈھلوان میں اترتا چلا گیا۔ یہ ڈھلوان ایسی تھی کہ ذرا پائوں پھسلتا تو میں لڑھکتا نیچے جا سکتا تھا۔ بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ اس جھیل کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ انسان تو انسان پرندے بھی اس کے سحر کے اسیر ہیں یہی سبب ہے کہ ہر سال روس کی جانب سے آنے والے پرندے بھی اس جھیل پر اترتے اور اس کے حسن میں ایک اور جہت کا اضافہ کرتے ہیں۔ جھیل کے شفاف پانی میں جھانکنے پر لگا جیسے اس کے کناروں پر موجود بلند پہاڑنہانے کے لیے پانی میں اتر گئے تھے۔ لولوسر جھیل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ سطح سمندر سے ۱۱۱۹۰ فٹ کی بلندی پر ہے اور اتنی بلندی پر موجود خوب صورت ترین جھیلوں میں سے ایک ہے۔ جب ہم جھیل کے نظارے سے لطف اندوز ہو رہے تھے سورج ہمارے عقب والے پہاڑ کے پیچھے چھپ کر اپنی دھوپ سامنے والے پہاڑ کے قدموں میں وہاں پھینک رہا تھا جہاں جھیل کا آخری کنارہ تھا۔ وہ پانی سونے کی طرح چمکنے لگا تھا۔

بٹہ کنڈی واپس پہنچنے تک رات پڑ چکی تھی لہٰذا طے ہوا کہ یہیں رات بسر کی جائے۔ یہاںذرا تردد کے بعد اچھی رہائش مل گئی اور خوب ڈٹ کر سوئے۔ اگلی صبح ناشتہ کیا اور ناران کی طرف ہو لیے کہ ہمیں وہاں سے جھیل سیف الملوک جانا تھا تاہم دریائے کنہارمیں رافٹنگ ہوتے دیکھی تو ثنا نے گاڑیاں وہیں رکوا لیں۔ ہم سب نے حفاظتی جیکٹس اور ہیملٹ پہنے اور بوٹ میں بیٹھ کر تیز پانیوں پر رواں ہو گئے۔جہاں پانی یکلخت نیچے اترتا یا گھمن گھیری کھانے لگتا تو پلاسٹک کی ہوا بھری بوٹ کشتی بھی گھومنے لگتی تھی ہم نعرہ لگاتے اور ایک ساتھ چپو چلا کر اس کااپنے رخ پر ڈالتے تھے۔ پانی کشتی کے اندر گھس گھس جاتا تھا ہمارے جوتے ٹھنڈے یخ پانی میںبھیگ گئے۔ چپوزور زور سے چلانے پر پانی پیچھے دھکیلا جاتا تو کشتی تیز پانیوں پر چھچھل کر آگے کو اور تیزی سے اپنا رخ درست کر لیتی تاہم جب کہیں کشتی کھیتے ہوئے چپو اُتھلا ہو کر چلتا، پانی اچھل کر ہمیں بھگو دیتا تھا۔ ہم بری طرح بھیگ گئے تھے مگر اس مہم کا لطف ایسا تھا کہ جی چاہتا تھا اور کچھ دیر اور کشتی کھیتے چلیں۔ ہمیں ایک مقام پر کنارے لگنا پڑا کہ یاسمین کے مطابق پیسے پورے ہو گئے تھے۔ ہم وہیں کنارے پر رکے رہے جب کہ سعد اور شعیب اس گاڑی پر چڑھ بیٹھے جس میں بوٹ واپس اسی مقام پر لیجائی جا رہی تھی جہاں سے ہم چلے تھے، کہ ہماری گاڑیاں وہیں تھیں۔ جب وہ گاڑیاں لے کر واپس آئے تو ہم پھر ناران کی طرف جا رہے تھے۔ ناران کے ایک ہوٹل میں اپنی گاڑیاں کھڑی کیں جیپ کرائے پر لیکر جھیل سیف الملوک کا رُخ کر لیا۔ کہنے کو یہ جھیل لولوسر جھیل سے قدرے کم بلندی پر واقع ہے مگر حسن اور مقبولیت میں اُس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ جھیل سیف الملوک کی سطح سمندر سے بلندی ۱۰۷۸ فٹ بتائی جاتی ہے۔ ہم جیپ میں پھنس پھنسا کر بیٹھ گئے تھے مگر راستہ اتنا پتھریلا تھا، ٹیڑھا میٹرھا اور سیدھا اوپر کو اٹھتا تھا کہ جیپ چلتے ہوئے بار بار جھٹکے کھاتی تھی اور ہر جھٹکے پر جسم کی ایک ایک چول دکھنے لگتی تھی۔ لگ بھگ ہزار بارہ سو جیپیں ایک ایسے راستے پر آجارہی تھیں جسے راستہ نہیں کہا جاسکتا تھا۔ انتہائی خطر ناک۔ کنارے اتنے غیر محفوط کہ ذرا ڈرائیور کا دھیان چوکنے پر جیپ مسافروں سمیت لڑھکتی نیچے کھائی میں جا سکتی تھی۔ اتنی مشکلات کے باوجود جھیل سیف الملوک کا جادو ایسا تھا کہ وہاں جانے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ ہماری جیپ جہاں رُکی وہاں پہلے سے بہت ساری جیپیں موجود تھیں۔ اس سے قدرے نیچے بے ہنگم شاپنگ ایریا تھا پھر ڈھلوان اور نیچے جھیل کا وہ کنارا جہاں کشتیوں والے، آنے والوں کا استقبال کر رہے تھے۔ جھیل سیف الملوک کے حسن کی لپک واقعی ایسی تھی کہ نظر باندھ کر رکھتی تھی۔ہم کشتی پر جھیل کے اندر اتر گئے اور دوسرے کنارے تک جاتے جاتے اس کے اتنے رنگ دیکھے کہ زندگی بھر بھلائے نہ جاسکیں گے۔ ہماری کشتی کھینے والا ایک دبلا پتلا شخص تھا جس نے بتایا تھا کہ بس مہینہ بھر بعد جب یہاں برفیں پڑنے لگیں گی تو جھیل کی سطح بھی جم جائے گی۔ یاسمین نے پوچھا ایسے میں آپ کہاں جائیں گے۔ اس کا جواب تھا بالا کوٹ، رزق کمانا ہے کچھ اور کریں گے۔ جھیل کے دوسرے کنارے اترنے سے پہلے اس کے پانی میں، میں نے ایسے پہاڑ کی چوٹی دیکھی جو برف سے ڈھکی ہوئی تھی۔ سعد نے بتایا وہ ملکہ پربت تھا جس پر سے گلیشئر اب تک نہ پگھلے تھے۔ ملکہ پربت ناران میں سب سے بلند پہاڑ ہے۔ سیف الملوک اور اس پربت کی کہانیاں سنانے والے بتاتے ہیں کہ نانگاپربت کی طرح ملکہ پربت پر بھی جنات اور پریوں کا بسیرا ہے۔ وہاں جنات اور پریاں ہوں نہ ہوں خود اس پہاڑ کا حسن اتنا جادوئی ہے کہ سیاحوں کو متوجہ کرتا رہتا ہے۔یہ سیف الملوک جھیل سے لگ بھگ چھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے تاہم راستہ انتہائی دشوار گزار ہے اس لیے چاہتے ہوئے بھی ہم وہاں نہ جا سکتے تھے۔شہزادہ سیف الملوک اور پری بدیع الجمال سے جڑی کہانی نے اس جھیل کے جادو میں اضافہ کر دیا ہے جو وہاں پہنچنے پر کچھ معاوضہ لے کر قصہ گو سنایاکرتے ہیں۔ ان قصہ گوئوں کے مطابق ملکہ پربت محض ایک پہاڑ نہیں وہ دیو ہے جو شہزادہ سیف الملوک کی بددعا سے سفید پہاڑ میں بدل کر منجمد ہو گیا تھا۔ ان ہی میں سے کچھ قصہ گو یہ کہتے ہیں کہ تین سو ساٹھ پریاں ملکہ پربت سے جھیل پر غسل کے لیے آیا کرتی تھی، انہی میں سے ایک پر شہزادہ سیف الملوک عاشق ہوا۔ جس پر شہزادہ عاشق ہوا وہ پری بدیع الجمال تھی؛ سب سے الگ اور سب سے خوب صورت۔ جھیل میں نہا کر نکلتی تو اس کا بدن چندھیاتا تھا۔ میاں محمد بخش کے منظوم قصے سفر العشق سے یہاں سنایا جانے والا قصہ مختلف ہو جاتا ہے۔ساری داستان جھیل کے پانیوں سے جڑ کر اپنا روپ بدلتی جاتی ہے۔جتنے قصہ گو اتنے قصے۔ انہی میں سے ایک کا کہنا تھا کہ شہزادے سیف الملوک نے مصر میں اپنے محل میں سوتے ہوئے رات کے کسی سمے ایک خواب دیکھا تھا، جس میں ایک جھیل تھی جس میں ایک خوب صورت پری نہا رہی تھی۔ بس کیا تھا پھر وہ مارا مارا پھرتا رہا یہاں تک کہ ایک بزرگ نے اپنے غلام جنوں کی مدد سے اس جھیل تک پہنچنے میں اُس کی مدد کی تھی۔ وہ چودھویں کی رات تھی جب پری بدیع الجمال اپنی خادمائوں سے ساتھ جھیل پر اتری تھی۔ قصہ کچھ بھی ہو اپنا سارا سحر اس جھیل میں گھول دیتا ہے۔ جھیل سیف الملوک کے پانیوں میں پری بدیع الجمال کو دیکھتے تھے۔

اس خوب صورت جھیل کے پہلے کنارے تک آتے آتے وہ وقت ہو چکا تھا جو جیپ والے سے واپسی کے لیے طے ہوا تھا۔ واپسی پر پھرجیپ کے ہچکولے ایک بار پھر ہماری ہڈیوں سے گوشت جدا کر رہے تھے تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ سیاحت کا فروغ ہماری حکومتوں کی ترجیحات میں کہیں نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو ایسے راستے محفوظ بنائے جاسکتے تھے جن پراب جیپیں اور گاڑیاں کناروں سے لڑھک کر نیچے گر سکتی ہیں اور گر رہی ہیں۔سیاحتی مقامات کو صاف ستھرا رکھا جاسکتا تھا، وہاں شاپنگ ایریاز کو بھی کسی ڈسپلن میں لایا جاسکتا تھا مگر میں نے کہا نا، یہ حکومتوں کی ترجیحات میں نہیں ہے اور افسوس کہ نہیں ہے۔ یہ دکھ اپنی جگہ مگر واقعہ یہ ہے ہم سب تلخیوں کو بھلا کر واپس اسلام آباد پہنچے تھے۔ اور یہ بھی واقعہ ہے کہ اس مہم کی حسین یادوں ایسی ہیں جنہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سینت سینت کر رکھا جاسکتا تھا۔

(Visited 1 times, 37 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: