جِن اور جھیل سیف الملوک ——– سعدیہ کیانی

0

جھیل سیف ملوک پہ جب ہمارے قافلے کے مرد حضرات مقابلہ کرتے ہوئے جھیل کے یخ بستہ برف نما پانی میں ہاتھ ڈالے بیٹھے تھے کہ کون کتنی دیر اس خون جمانے والی سردی میں یہاں جھیل کے برفیلے پانی میں ہاتھ ڈالے رکھے گا۔ مجھے بھی شوق ہوا اور جھٹ کلائی تک ہاتھ اس پانی میں ڈبو دیا۔ سلمی نے شور مچایا کہ خون جم جائے گا وہ تو مرد ہیں تم برداشت نہیں کر سکو گی وغیرہ وغیرہ ۔

ویسے تو جوانی یوں ہی منہ زور ہوتی ہے لیکن مجھ جیسی کی انرجی تو کسی چھلاوے جیسی تھی اس وقت۔ نا صرف ان کے ساتھ اس مقابلے میں حصہ لیا بلکہ پھر جھیل کا چکر لگانے بھی سب سے آگے آگے تھی۔ وہاں گلیشیئر کا ٹوٹا (ٹکڑا) نظر آیا جس پہ میری شدید خواہش کے باوجود کسی نے مجھے سلائیڈ نہ کرنے دی۔ وہاں تصویریں بنوا کر آگے بڑھے تو جھیل میں داخل ہونے والے پانی کا پات سامنے آیا۔ سامنے ملکہ پربت اور ملحقہ گلیشیئر کا سلسلہ تھا جہاں سے برف پگھل کر جھیل سیف الملوک کو زندگی دے رہی تھی۔ اب وہاں سب رک گئے کہ یہاں سے بہاو تیز ہے تو واپس پلٹ جائیں۔ یہ کم و بیش 18 /20 سال پہلے کی بات ہے۔ تب سوات ناران کاغان کی وادیاں کوڑے کرکٹ اور گندگی سے پاک تھیں جیسے اب لوگوں نے وہاں تباہی مچا دی پہلے ایسی نہ تھی۔چھی چھی گندے لوگ۔

صفائی نصف ایمان ہے اور روز محشر یہ منحوس اپنا نصف ایمان گوروں سے مانگتے ہوں گے جنہوں نے اپنے شہروں کو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق صاف ستھرا رکھا ہوا ہے۔

بحرحال سبھی نے کہا کہ واپس لمبا چکر کاٹ کر جائیں گے کیونکہ اس پانی سے گزرنا خطرناک ہے۔لیکن مسئلہ تو میرا تھا۔ ہم چار لوگوں میں سے تین پلٹ جانے کے حق میں تھے۔ جبکہ صرف میں آگے جانے کی بات کررہی تھی۔

وہاں مقامی لوگ کمائی کے غرض سے خچراور گھوڑے لئےکھڑے تھے۔ ہمارے ساتھ اس گروپ کا اکلوتا چھڑا پارٹنر سلمان بھی تھا۔ باقی تین عدد ہنسوں کے جوڑے تھے جو جھیل کے کنارے اپنی اپنی نئی شادیوں کے نئے رنگ انجوائے کررہے تھے۔ ایک جوڑا ہمارے پیچھے آرہا تھا اور دانستہ ہم سے فاصلہ رکھے ہوئے تھا تاکہ ان کے رومان میں کوئی مداخلت نہ ہو۔ ہم نوجوانوں کا مختصر سا گروپ جو آگے چلے جارہے تھے جس میں تین لڑکیاں اور ایک معصوم سا جوان تھا۔ وہ سارا وقت میرے پہرے پہ ہی رہتا تھا۔ جیسے کسی نے کوئی جملہ پھینکا اور میں نے جوتا اٹھا کر پھینکا تو غریب سلمان وہ جوتا واپس لینے جاتا اور اکثر بچارے کی لڑائی ہوجاتی۔ کبھی میں کسی اونچے گلیشیئر کے ٹکڑے پر چڑھ جاتی اور بچارہ مجھے کیچ کرنے کے لئے نیچے کھڑا کسی فیلڈر کی طرح اچھلتا رہتا تھا۔ کبھی کسی دریا کے پاٹ پر مجھے تیز دھار پانی چھونے کی خواہش ہوتی تو وہ جو ہاتھ میں کافی کا کپ لئے وادی کے نظارے میں گم ہوتا ، مجھے دیکھ کر اس کے طوطے چھوٹ جاتے، کافی کا کپ وہیں پھینکتا اور ان پتھروں پہ بھاگتا پھلستا میرے پھسلنے سے پہلے بلکہ دریا میں غرق ہونے سے پہلے میرے سر پہ آن پہنچتا اور عین اس وقت مجھے گھسیٹ لیتا جب میں پانی میں ہاتھ ڈالتے ہی بیلنس کھو رہی ہوتی۔ کبھی رات کو مجھے بھوک لگنے لگتی اور میں بنا بتائے روم سے کھسک جاتی تو وہ بچارہ جو نائٹ سوٹ پہنے بستر میں جانے سے پہلے ایک نظر میرے روم پہ ڈالتا ہے تو مجھے ہوٹل کی باؤنڈری کراس کرتے دیکھ کر شدید سردی میں میرے پیچھے بھاگتا ہے۔ غریب جب مجھے واپس نہیں لاپاتا تو بس ایک چادر لپیٹے میرے ساتھ ناران کے بازار میں گھومتا پھرتا رہتا تھا۔ جب صبح سب اٹھتے تو اس کی چھینکیں اس کی رات بھر کی خواری اور ٹھنڈ کا قصہ سنا رہی ہوتیں۔

سب جانتے تھے کہ وہ ایک عدد جن ساتھ لے آئے ہیں جس کو کسی بوتل میں بند کرنا تو ممکن تھا نہیں تو اسے قابو کرنے کے لئے انہیں کچھ نہ کچھ سرینڈر کرتے رہنا تھا۔

سلمان نے خچر والے سے وہ دس بیس قدم کا فاصلہ عبور کروانے کا معاوضہ پوچھا تو اس کا سر چکرا گیا جب انہوں نے ہزاروں روپے بتا دئیے کہ جھیل کا پانی تیز ہے اور پاٹ گہرا ہے۔حالانکہ مجھے تو وہ بالکل گہرا نظر نہ آیا لیکن سلمان چونکہ سیانہ خون تھا اسلئے اس کو پتا تھا کہ اس پانی سے گزرنا ممکن نہیں ۔ اس نے کچھ بحث مباحثہ کرکے دام طے کر لیئے جو اب بھی بہت زیادہ تھے ۔ تینوں لڑکیاں اب بھی واپس جانے کا کہہ رہی تھیں لیکن سلمان کو پتا تھا کہ اگر وہ میرے ساتھ آگے بڑھا تو وہ ڈریوک اکیلی واپس جانے کو تیار نہ ہونگی اور اگر وہ ان کے ساتھ پلٹ گیا تو اسے پتا تھا کہ یہ جِن واپسی کو تیار نہ ہوگا.تو اس نے یہی حل نکالا کہ کچھ پیسے خرچ کرکے ان چڑیلوں سے عزت بچا لے ۔ خچر پہ سوار ہو کر تینوں باری باری آبی پاٹ عبور کرنے لگیں ۔ سلمان نے مجھے آخر میں بھیجنا تھا کیونکہ دوسری طرف پہنچتے ہی میں نے رکنا تو تھا نہیں کیونکہ تجسس اور تلاش مجھے بے حال کئے ہوئے تھی۔ میں ان حسین وادیوں میں خود کو چار دیواری یعنی ہوٹل کے کمرے میں قید نہ رکھ سکتی تھی اور نہ ہی کوئی لمحہ کسی کے انتظار میں ضائع کرنا چاہتی تھی ۔ سلمان یہ بات سمجھتا تھا اسلئے وہ نہیں چاہتا تھا کہ میں آگے تنہا چلی جاوں کیونکہ اب شام ڈھل رہی تھی ۔

سلمان یہ اتنا سا تو پاٹ ہے میں نے نہیں ان بدبودار گدھوں پر بیٹھنا۔ میں نے منہ بسورتے ہوئے کہا اور جونہی آگے بڑھی سلمان نے میرے بازو پکڑ کر مجھے پیچھے کو گھسیٹ لیا۔

سلمان: مجھے پتا ہے اصل مسئلہ تمہیں ان کے معاوضے کا ہے جو یقینا ناجائز ہے لیکن اب مجبوری ہے ۔ کوئی بات نہیں ۔۔۔

سلمان کو پتا تھا کہ مجھے ایسی ناجائز باتوں پہ صبر نہیں آتا اسلئے اس نے فوری وہی کہہ دیا جو میں سوچ رہی تھی۔

اچھا اب جب تمہیں سمجھ آگئی تو مجھے مجبور نہ کرو کہ میں تمہیں پیسے دینے دونگی کم ازکم میرے لئے نہیں۔ میں نے کندھوں کو آچکا کر نفی میں سر ہلایا تو دیکھا کہ سلمان اپنے بوٹ اور موزے اتار چکا تھا۔ وہ سمجھ گیا تھاکہ اسے مجھے پکڑنے لئے پانی میں دوڑ لگانی تھی۔ اور جیسے ہی میں نے پہلا قدم اپنے بوٹوں سمیت پانی میں رکھا مجھے بلندی سے آتے اس برفیلے پانی کے بہاو کا اندازہ ہوگیا۔ یکدم میں لڑکھڑائی اور اگلے ہی لمحے سلمان نے میرا بازو تھام لیا۔ناز آخری سواری جو خچر پہ سوار تھی اور ابھی پانی سے گزر رہی تھی اس نے مجھے دیکھ کر وہیں سے چلانا شروع کر دیا کہ روکو اس کو نہی تو بہہ جائے گی یہ پاگل۔

سلمان خود اس وقت مشکل سے پیر جما رہا تھا اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے تسلی دی اور مجھے زور دار طریقے سے بھینچتےہوئے بولا: اب تیزی مت دکھانا۔ ایک بھی قدم غلط پڑا تو تم گر جاو گی اور پھر سیدھی جھیل میں جا گرو گی۔ پہلی بار مجھے سلمان کی بات میں وزن محسوس ہوا اور اپنی حماقت پہ غصہ آیا۔ ہم آہستہ آہستہ اس یخ بستہ پانی سے گزر رہے تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو سہارا دے رکھا تھا۔ میں نے ایک غلطی اور یہ کی تھی کہ سلمان کی طرح بوٹ اتار کر دوسری طرف نہیں پھینکے تھے بلکہ اس وقت اپنے بوٹوں سمیت جھیل میں کھڑی تھی ۔ جونہی ہم دوسری طرف پہنچے اور پانی سے باہر قدم رکھا۔ مجھے لگا میرے پاوں لوہے کے بن چکے ہیں۔ سلمان نے پاوں خشک کرکے موزے اور بوٹ پہنے اور میری طرف دیکھ کر بولا: اب یہاں سے کیمپ تک ان گیلے بوٹوں اور کپڑوں کے ساتھ کیسے جاو گی؟ جب منع کررہا تھا تو سنتی کیوں نہیں تم ؟ کیا کروں تمہارا؟ وہ جھلا کر بولا تو میں نے ایک نظر لڑکیوں کو دیکھا جو غصے سے کھڑی مجھے گھور رہی تھیں۔ شہناز نے زور سے پاوں پٹخا اور بولی۔ خبردار جو مجھے کہا کہ اسے اٹھا کر چلو ۔ میں نے کوئی نہیں اس مصیبت کو اٹھانا۔ آجائے گی خود ہی پیچھے ٹانگیں گھسیٹتے ہوئے۔ یہ کہا اور شہناز چل پڑی۔ دوسری دونوں بھی غصے میں دیکھ تو رہی تھیں لیکن آگے بڑھ کر مجھے سہارا دیا اور بولیں۔

یہ آخری بار ہے۔ ابھی تو تمہیں کندھوں پر لے جارہے ہیں آئیندہ اگر ایسی حماقت کی تو خود دریا میں پھینک آئیں گے ۔ شہلہ نے کندھے پر میرا بازو جما کر پیچھے کمر پر ناز کے ہاتھوں میں انگلیاں پھنسا کر دونوں نے مل کر مجھے اٹھایا تو احساس ہوا جیسے میرا نچلا دھڑ بے حس ہو چکا ہے ۔ سلمان شہناز کے پیچھے بھاگ گیا کہ وہ اکیلی چل پڑی تھی ۔ دونوں نے مجھے اپنے کندھوں پر اٹھا کر چلنا شروع کیا تو میرے پاوں زمین پر گھسٹتے رہے۔ ان میں بالکل دم نہ تھا۔ کچھ برف کے پانی نے ُسن کردیا تھا اور باقی باہر نکل کر ٹھنڈی یخ بستہ ہوا نے کام تمام کردیا ۔

کچھ دور چل کر وہ دونوں تھک گئیں اور ہم ایک چٹان پر بیٹھ گئے ۔

تم اپنے بوٹ اتار دو۔ناز نے سانس بحال کرتے ہوئے کہا۔ ننگے پاوں چلو تو شاید کچھ گرمائش سے تمہاری ٹانگوں میں جان آئے ۔ ہمارے لئے اتنے دور تک تمہیں گھسیٹا ممکن نہیں اور آگے ساری چڑھائی ہے۔

ناز کی بات درست تھی۔ شہناز نے بھی سر ہلایا اور ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔ آخر اسے دو تین خالی جوس کے ڈبے نظر آگئے۔

میں نے گیلے بوٹ اور موزے اتارے تو دیکھا پاوں سوجھ رہے تھے ۔ اپنی حماقت پہ پھر غصہ آیا اور دل ہی دل میں توبہ کی کہ آئندہ ایسا ایڈونچر نہیں کرنا۔

شہباز نے اپنے بالوں سے پونی اتاری اور ناز نے بھی اسے اپنے بالوں سے پونی اتار دی ۔ دونوں نے جوس کے ڈبوں کو میرے پاوں میں سلیپر کی طرح پہنا دیا تاکہ مجھے کنکراور کاٹنے نہ چبھیں۔

اب میں ان کا ہاتھ پکڑ کر خود چلنے کی کوشش کررہی تھی لیکن ایک ایک پاوں اتنا وزنی تھا کہ کچھ کچھ دیر بعد ہانپنے لگتی ۔ سلمان کچھ دور رک کر ہماری تصاویر بناتا رہا تاکہ بعد میں مجھے چھیڑ سکے۔ بڑی مشکل سے آدھا راستہ طے کیا اور پھر ایک جیپ نظر آئی۔ وہ بھی ہماری طرح رینگ رہی تھی کیونکہ اس جگہ سڑک تو تھی نہیں اسلئے پتھریلی چٹانوں پر احتیاط سے چلنا پڑ رہا تھا۔ میں نے لپک کر اس کا ہینڈل جو پیچھے ٹائر کے ساتھ لگا ہوا تھا وہ پکڑ لیا اور اپنا سارا وزن جیپ پر ڈال دیا۔ بس اس کے ساتھ گھسٹتی ہوئی بالآخر اپنے کیمپ پہنچ گئی۔

اس کے بعد سلمان نے ایک اور اچھا کام کیا کہ میرے بوٹ ہوٹل کے گیزر کے نیچے رکھ آیا ورنہ مجھے وہی گیلے بوٹ پہن کر اگلے روز بھی سیر کرنا پڑتی۔

ہمارے اس سفر میں بہت سے دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ فلمساز سید نور بھی ان دنوں فلم کی شوٹنگ کے لئے ہوٹل میں ٹھہرے تھے ۔ انہوں نے ہوٹل کا ایک پورا حصہ بک کروا رکھا تھا۔ ہم جب باہر نکلتے تو شائقین کا رش لگا ہوتا جو فلم سٹار نور اور دیگر کاسٹ کو دیکھنے آئے ہوتے۔

سلمان جس کی میں ایسی ناقدری کرتی تھی کہ کبھی دھیان ہی نہ دیا۔ وہ خاصا خوبرو نوجوان تھا جس کو لڑکیاں آتے جاتے تاڑتی رہتیں اور ادائیں دکھاتی پھرتی تھیں لیکن وہ ہمارا چوکیدار ایک دم شریف نفس انسان تھا ۔ ہمیں تو حیرت اس روز ہوئی بلکہ ہم پہ اس کی خوبصورتی اور پر کشش ہونے انکشاف ہوا جب فلم کی کاسٹ میں موجود لڑکیاں (نور سمیت) اس کے گرد منڈلانے لگیں ۔ ہم لان میں کافی پیتے تو وہ اپنے کمروں سے بہانے بہانے سے باہر آتیں اور سلمان کے سامنے کبھی بالوں کو جھٹکتیں تو کبھی شانوں کو اچکتیں کہ کسی طرح سلمان بھی ان کی طرف متوجہ ہو لیکن نہ بھئی نہ ۔ سلمان کا تو سارا فوکس ِجننی پر تھا۔ وہ ہر وقت مجھے نظروں میں رکھتا تھا جیسے چھوٹے بچوں پہ نگاہ رکھی جاتی ہے کہ کہیں ادھر ادھر نہ چلے جائیں ۔

ہم نے سلمان کو ان شوبز کی خواتین میں پاپولر پایا تو سوچا موقع کا فائدہ اٹھانا چاہیے اور سلمان کے ذریعے ان سے تعارف کرانا چاہیے۔ لیکن سلمان ایک سڑا ہوا نوجوان ثابت ہوا اور صاف انکاری ہوگیا اور کہنے لگا مجھے تو یہ کاغذی پھول ایک آنکھ نہیں بھاتے۔

اب سوچتی ہوں تو لگتا ہے جیسے سلمان کی سبھی باتیں ٹھیک تھیں ۔ بحرحال ہم اب ناران سے رخصت ہونے کے لئے سامان پیک کررہے تھے اور ہمیں یہ نہیں بتایا جارہا تھا کہ اگلی منزل کہاں ہیں ؟ یہ ہمارے قافلے کے لیڈر کا ایک عجیب انداز تھا۔ انہیں سرپرائز اور سسپنس میں خوب مہارت تھی اور نالج بھی بہت تھی۔

ہم خوش تھے کہ ابھی سفر جاری ہے ۔ منزلیں ملنا تو مقدر کی بات ہے ۔ ہم سفر اچھا ہو تو سفر جاری رہنا چاہیے۔

اگلے سفر کی داستان پھر کبھی سہی۔

(Visited 1 times, 216 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: