پولیس کا نظام کیسے بہتر ہو؟ ——– قاسم یعقوب

0

یہ 2000ء کی بات ہے۔ میں گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں ایم اے کا طالب علم تھا۔ مجھے ڈرایؤرنگ لائسنس بنانے کے لیے ٹریفک پولیس کے تلخ تجربات سے گزرنا پڑا۔ ٹریفک کا لائسنس بنانا مجھے کسی ملک کی شہریت لینے سے بھی زیادہ مشکل کام لگا۔ میں نے ایک طویل خط میں اپنے تمام تجربات اور تجاویز لکھیں اور ڈی آئی جی پولیس کو پوسٹ کر دیں۔ اس وقت لائل پور کے ڈی آئی جی طارق مسعود کھوسہ تھے۔ انھیں کون نہیں جانتا، انھوں نے بعد میں ایف آئی اے کی سربراہی کی اور پھر آئی جی پولیس بلوچستان بھی کام کیا۔ خط ان تک پہنچا تو انھوں نے فوراً ہمیں اپنے آفس بلانے کا پروانہ جاری کر دیا۔ خط کے آخر پر میں نے اپنا اور اپنے عزیز دوست آصف غفار کا نام لکھا تھا۔ پولیس والے ڈھونڈتے ہوئے FDA کے بنگلوں میں پہنچ گئے اور آصف سے گذارش کرنے لگے کہ دوسرے صاحب سے بھی کہیں کہ ہمارے ساتھ چلیں۔ یوں ہم دونوں کھوسہ صاحب کی اہم ترین میٹنگ میں شامل ہو گئے۔ میٹنگ میں اس وقت کے ایس ایس پی آفتاب چیمہ اور ضلع بھر کے پولیس آفیسران موجود تھے۔ یہ میٹنگ ٹریفک کے مسئلے پر بلائی گئی تھی۔ کھوسہ صاحب نے کہا کہ یہ پہلا موقع تھا کہ مجھے ایک درخواست موصول ہوئی جس میں اپنے بارے میں نہیں بلکہ پولیس کے نظام کی بہتری کے حوالے سے گفتگو اور تجاویز دی گئی تھیں۔ میں نے ٹریفک لائسنسنگ کے بارے میں مشورے دیے اور یہاں ہونے والی کرپشن اور لوٹ مار کا ذکر کیا۔ یوں ہم نے ٹریفک کے نظام کو یک سر تبدیل کروا دیا۔ کھوسہ صاحب نے ہمیں پولیس شہری کونسل میں شامل کرنے کا حکم دیا۔ ہم کوئی دو سال تک اس کونسل میں کام کرتے رہے۔ ہم دونوں پولیس کے نظام کے کسی ایک گوشے پر تفصیل سے تجاویز لکھ لاتے اور پھر ڈی آئی جی کھوسہ سے ملاقات کرکے ان کو بریف کرتے۔

یہ سلسلہ چلتا رہا مگر ڈی آئی جی کے تبدیل ہوتے ہی سب کچھ ختم ہو گیا۔ میں نے اس طرح پولیس کے اندرونی نظام کو بہت قریب سے دیکھا۔ اب ایک دفعہ پھر پولیس کے نظام کی بہتری کی بحث چل نکلی ہے تو مجھے پرانے دن یاد آرہے ہیں۔ جب ہم دن رات اس نظام کی بہتری کی باتیں کرتے تھے،مگر نتیجہ صفر نکلتا تھا۔

پولیس کے نظام کی خرابی کی دو بڑی وجوہات ہیں:
ایک مسئلہ اختیارات کا ہے۔ دوسرا سنگین ترین مسئلہ سلیکشن (بھرتی) کا ہے۔ کیا آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ پولیس کا ایک عام سا سپاہی جو کسی دیہات یا گاؤں میں میٹرک پاس آوارہ پھر رہا ہو اور اچانک اس کی بھرتی ہو جائے تو ایک دن کے بدلتے ہی کتنے اختیارات اس کے ہاتھ میں آ جاتے ہیں؟وہ کسی کو بھی پکڑ کے تھانے لے جا سکتا ہے۔ اور کچھ نہیں تو اس کے ساتھ کوئی الجھ جائے تو کارِ سرکار میں مداخلت پر وہ آپ پر ایف آئی آر کاٹ کے آپ کی دنیا ذلیل کر سکتا ہے۔ دوسرا مسئلہ سلیکشن کا ہے۔ کیا آپ کو پتا ہے کہ پولیس میں بھرتیاں کیسے ہوتی ہیں۔ کانسٹیبل (میٹرک)، ہیڈ کانسٹیبل (انٹرمیڈیٹ)، اسسٹنٹ سب انسپکٹر (بی اے)، سب انسپکٹر (بی اے) کی سطح کی تعلیم لازمی ہے۔ پولیس میں نوے فیصد عملہ کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کی سطح کا ہوتا ہے۔ اب آپ ان کی سلیکشن کی ایک جھلک دیکھ لیں؛ ان کا ایک معمولی سا ٹیسٹ ہوتا ہے اور بعد میں فزیکل ٹیسٹ کے لیے ایک لمبی دوڑ لگوائی جاتی ہے جو پہلے نمبرپر آ جائے، کمان اس کے ہاتھ میں دے دی جاتی ہے۔ البتہ ASI اور SI کے لیے پبلک سروس کمیشن کا ایک امتحان لیا جاتا ہے، جس میں کافی حد تک میرٹ کا خیال رکھا جاتا ہے۔ SI اور ASI کے لیے کافی دوڑ دھوپ کرنی پڑتی ہے۔ یہی SI آگے جا کے تھانوں کے انچارج بنتے ہیں اور ڈی ایس پی کے عہدوں تک جاتے ہیں۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ پولیس کا بچانوے فیصد عملہ کانسٹیبل سے SI تک کے عہدوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ سارا نظام انھیں کے سپرد ہوتا ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ پنجاب پولیس میں سیاست دانوں نے بھرتیاں کروا لیں، ایسا اتنا آسان نہیں کیوں کہ یہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے آتے ہیں۔

سی ایس ایس کے ذریعے پولیس کی ہائی کمان کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ یہ نظام ابھی تک انگریز راج کی یاد دلاتا ہے،جب ایک آفیسر وائے سرائے ہند جتنی طاقت کا مالک ہوتا تھا۔ پہلا عہدہ اے ایس پی ہوتا ہے، جو آٹھ سال کے بعد خود بخود ایس پی ہو جاتا ہے۔ PSP آفیسرز آٹھ سال کی مدت کے بعد سینئر ایس پی ہو جاتے ہیں۔ 2002ء کے نظام کے نفاذ کے بعد ڈی آئی جی کو RPO کہا جانے لگا ہے۔ ضلع کے سربراہ ایس ایس پی کو DPO اور میٹروپولیٹن سٹی میں ایس ایس پی کو CPO کہا جاتا ہے۔

پولیس کے نظام کو مشرف حکومت نے بھی بدلنے کی کوشش کی اور بعد میں شہباز شریف نے بھی بہت کوشش کی۔ مشرف نے ڈیڑھ صدی پرانا پولیس ایکٹ ختم کرکے 2002ء میں نیا نظام جاری کیا۔ شہباز شریف نے 1998میں ریسیکو کو ریگولر پولیس سے علیحدہ کرکے 15کا نظام متعارف کروایا تھا۔ دوسرے دورِ حکومت میں شہباز حکومت نے ڈولفن طرز کی نئی پولیس فورس تیار کی جو استنبول طرز پر نئی پولیس فورس تھی،جس کا بنیادی کام سٹریٹ کرائم کو روکنا تھا۔ یہ فورس اس سے زیادہ کام نہیں کر سکتی۔ کسی وقوعے پر پہنچتی ہے اور پھر تھانے کے حوالے کر کے ان کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ پولیس کی یونیفارم تبدیل کر دی گئی۔ 100 ماڈل تھانے بنا کے اے ایس پی کو انچارج بنایا گیا۔ تفتیش کو پولیس کے اندر ہی الگ کر دیا گیا۔ ایس پی اور ایس ایس پی(تفیش) الگ عہدے بنائیگئے۔ تھانوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کر دیا گیا جس کے نتیجے میں FIR کو مرکزی سیل سے جوڑ دیا گیا۔ ہر FIR کی مانٹرنگ DPO کرنے لگا۔ FIR کا اندراج محض SHO کا ذاتی مسئلہ نہیں رہ گیا۔ پھر ان ایف آئی آرز کی بنیاد پر آفیسرز کی تقرریاں اور تبادلے ہونے لگے۔ مگر مسئلہ یوں کا توں ہے۔ تبدیلی یا بہتری نہیں آرہی۔

اس سے پہلے پرویز الٰہی کا دور حکومت بھی تھا جس میں پٹرولنگ پولیس کا نیا کانسپٹ دیا گیا۔ ہائی وے پر پولیس پٹرولنگ کو تعینات کیا گیا۔ جو پولیس کے نظام سے الگ کام کرتی۔ مگر نتائج صفر۔

پولیس کے نظام کی خرابی کہاں ہے؟
کیا پولیس کا نظام ان کی اخلاقی تربیت کرنے سے ٹھیک ہو جائے گا؟
بالکل بھی نہیں۔ ذوالفقار چیمہ آج اخلاقی تربیت کی بات کر رہے ہیں۔ وہ اپنے زمانے میں اس حوالے سے کوئی خاص شہرت نہیں رکھتے۔ اخلاقی ذمہ داری فرضِ عین نہیں ہوتی۔ اس کے ذریعے معاشرے نہیں چلائے جا سکتے۔ پولیس کے نظام کی بنیادی خرابی اختیارات کی بے پناہ وسعت ہے۔ جب تک اختیارات کو کم نہیں کیا جاتا، یہ خرابی ختم نہیں ہوسکتی۔ پولیس کے نظام کو چھے،سات حصوں میں تقسیم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہر نظام دوسرے نظام کے حوالے سے بے خبر یا بے بس ہو۔ کیا آپ نے نوٹ کیا کہ ایک کمشنر انکم ٹیکس اور ایک ایس پی میں زیادہ طاقت ور ایس پی کیوں لگتا ہے؟ اس لیے کہ اس کی رینج میں،میں آ سکتا ہوں۔ وہ اپنی حدود میں کسی کو بھی لا سکتا ہے۔ ورنہ طاقت اور اختیار میں انکم ٹیکس کا کمشنر بھی کم نہیں۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کا کوئی آفیسر اس وقت تک آپ کے قریب نہیں پھٹک سکتا،جب تک آپ مجرم نہیں۔ اگر آپ نے جرم نہیں کیا تو آپ سکاٹ یارڈ آفیسر سے زیادہ طاقت ور ہیں۔ آپ، انکم ٹیکس آفیسر،جیل کے سپرٹنڈنٹ اور موٹر وے پولیس کے کسی آفیسر کا ریگولر پولیس سے موازنہ کیجیے۔ آپ کو ان سے کوئی خطرہ یا کسی قسم کا خوف محسوس نہیں ہو گا اور نہ ہی آپ ان کی طاقت سے خود کو غیر محفوظ محسوس کریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ان کے دائرے میں نہیں آ رہے، یا ان اداروں کے اختیارات لا محدود نہیں۔ اگر آپ ان کے دائرے میں آ بھی جائیں تو یہ جواب دہ بنائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے یہ ظلم و زیادتی سے ماورا ہو جاتے ہیں، ماسوائے آپ نے کوئی جرم کیا ہو۔ آپ اپنے اردگرد ذرا طاقت کے مراکز کا جائزہ لیں۔ ٹیکسیشن، صحت، ایکسائز، ریلوے، پی آئی اے، تعلیمی ادارے، سی ڈے اے وغیرہ ان اداروں کے آفیسرز آپ کے لیے قطعاً اہم نہیں اور نہ ہی آپ ان کی کرسی کی طاقت سے آگا ہ ہوتے ہیں۔ مگر پولیس آفیسر کی طاقت آپ کو ساری زندگی یہ احساس دلاتی رہتی ہے کہ وہ طاقت رکھتے ہیں۔ اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ آپ اس کے دائرے میں آتے ہیں اور ہر وقت دائرے میں ہیں۔ آپ کو نقصان یا فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔

پولیس کی طاقت کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ اس کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ پورے نظام کو تبدیل کیا جائے۔ FIR سسٹم کو مانیٹر کرنے والا نظام الگ سے ہو۔ تفتیش کے لیے ایک پورے ادارہ الگ سے قائم ہو، جس طرح تعلیم کے نظام میں امتحانات ایک الگ ادارے لیتا ہے۔ ورنہ تعلیمی اداروں میں ڈگریاں بک رہی ہوں۔ طاقتور تعلیمی اداروں کو کرپشن کا مرکز بنا دیں۔ سیکیورٹی فراہم کرنا پولیس کا کام نہ ہو۔یہ کام بھی الگ سے ایک ادارہ سرانجام دے۔ کسی کو گرفتار کرنا اور اسے حوالات میں رکھنا، کئی اداروں کی اجازت سے مشروط ہو، جس سے اس میں ہونے والی نا انصافیاں ختم ہو سکیں۔ عدالت کے نظام کو بہت موثر کرنے کی ضرورت ہے۔ زیادتی اور نا انصافی کو فوری روکا جا سکے۔ عدالتوں میں ججز کی تعداد کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے۔

حوالات کا نظام یا گرفتاری ریگولر پولیس کے پاس نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے لیے الگ سے ادارہ کام کرنا چاہیے۔ جس طرح جیل جانہ جات کا محکمہ کام کر رہا ہے جو مکمل خودمختار اور ریگولر پولیس سے الگ ہے۔ شہریوں کی اہمیت کو اُجاگر کر نے کی ضرورت ہے۔ پولیس یا عدالتی نظام کو کو خبر ہونی چاہیے کہ ہر شہری کتنا معزز ہوتا ہے۔ حتیٰ کے مجرم بھی معزز ہو سکتا ہے، صرف اس کے جرم کو برا سمجھا جائے۔ کسی بھی شہری کو پکڑنا یا اس کے خلاف پولیس کی کاروائی کو مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑھ کے پولیس کی تربیت کی ضرورت ہے۔پولیس کو سخت اخلاقی اور عملی تربیت (ٹریننگ) سے گزرا جائے۔ ان کے سپیشل کورسز کروائے جائیں۔ اس سلسلے میں موٹر وے پولیس کی مثال دی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کمال محنت سے اپنا امیج قائم رکھا ہوا ہے۔ ورنہ 25 برس کا عرصہ تھوڑا نہیں ہوتا۔ اس سماج اور نظام کا حصہ ہوتے ہوئے، انھوں نے بہت محنت سے اپنے امیج کو قائم کیا ہے۔ ریگولر پولیس کو بھی اسی نہج پر تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: