بھارتی ناکامی اور پاکستانیوں کے ردعمل کا جواز —– احمد الیاس

0

گزشتہ دنوں چاند پر بھیجے گئے بھارتی سپیس کرافٹ کی ناکامی پر پاکستان میں کافی مذاق اڑایا گیا۔ عوام کی حد تک تو چلو ٹھیک ہے لیکن ایک وفاقی وزیر نے، جو اتفاق سے سب سے “روشن خیال” اور “ترقی پسند” خیالات کے مالک وزیر بھی ہیں، رات گئے چند انتہائی نامناسب ٹویٹس کیں جو انہیں زیب نہیں دیتی تھیں۔

تاہم ایک طبقے نے نے عام پاکستانیوں کے طنز و مزاح پر بھی جس طرح کا دانشورانہ بلکہ دانشگردانہ ردعمل دیا وہ بھی بے حد عجیب تھا۔ ناکامی بھارت کی ہوئی اور کوسا پاکستان کو جانے لگا۔

اوّل تو اس بات کو سرے سے نظر انداز کردیا گیا کہ اس سپیس کرافٹ کی لانچ کے وقت خود بھارت کی طرف سے کس طرح کی نازیبا اور انتہائی نامناسب باتیں ہوئیں تھیں۔ مثلاً بڑے بڑے بھارتی icons کہہ رہے تھے کہ پاکستان اور دیگر کئی مسلم ممالک کے پرچم پر چاند ہے اور بھارت کا پرچم چاند پر ہوگا۔ اس مشن کی تمام بھارتی میڈیا کوریج پر پاکستان کو نیچا دکھانے کا جذبہ چھایا نظر آیا۔ پاکستانیوں کی زیاد تر ٹرولنگ اسی بھارتی رویے کا ردعمل تھی۔

دوسری بات یہ کہ جس طرح یہ سب ہوا اس کا خود بھارت میں بھی بے تحاشا مذاق اڑایا گیا۔ مشن کا مہورت جوتشی سے نکلوایا گیا، سپیس کرافٹ کی تیاری میں ویدوں سے مدد لینے کا دعویٰ ہوا، اس کی نقول پر گنیشا کے مجسمے رکھے گئے، وغیرہ وغیرہ۔ بالفرض یہ سب پاکستان اپنے مذہبی عقائد کے حساب سے اپنے کسی سپیس کرافٹ کے ساتھ کرتا تو آپ تصور کرسکتے ہیں کہ ان دانشوروں کا کیا ردعمل ہوتا جو ہماری تیل ڈھونڈنے میں ناکامی پر مذاق اڑاتے ہیں اور بھارت کے اس stupid مشن کی ناکامی پر اخلاقیات کے ماموں چاچو بن بیٹھے ہیں اور حد یہ کہ نو ارب کی ایک ناکام ویدک شُرلی پر ہمیں حسد کے طعنے تک دے رہے ہیں۔

تیسری اور سب سے اہم بات یہ کہ ہمیں کوئی لمبا چوڑا سپیس پروگرام نہ ہونے کے طعنے دئیے جارہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ رویتِ ہلال پر متفق نہ ہوسکنے اور بجلی پیدا نہ کرسکنے اور بی آر ٹی پوری نہ ہونے وغیرہ کے غیر متعلق کوسنے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہی دانشور اس قسم کی سچائی بیان کرنے پر چڑ بھی جاتے ہیں کہ بھارت کی آبادی کی اکثریت اب بھی کھلے آسمان تلے پیشاب کرتی ہے، بھارت میں گائے کا پیشاب اور گوبر کھایا پیا جاتا ہے اور بھارتی میڈیا مضحکہ خیز حد تک غیر پیشہ وارانہ ہے۔

جہاں تک تعلق ہے لمبے چوڑے تحقیقی سپیس پروگرام کا تو ہمیں ایسے پروگرام کی کیا ضرورت ہے؟ خود بھارت کو ایسے پروگرام کی کیا ضرورت ہے ؟ اس پر کوئی تسلی بخش جواب نہیں دی پاتا۔ غلط مت سمجھئے گا، ہمیں مواصلات، موسمیات، جی پی ایس اور دفاع سے متعلق مفید ٹیکنالوجییز کے لیے بہترین سیٹلائیٹ ضرور بنانے چاہییں۔ لیکن یہ چاند پر پانی کی تلاش کے لیے کرافٹس بھیجنا ؟ ایسی خرافات کو تو امریکہ جیسے امیر کبیر ملک میں بھی ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ناسا کو ایسے تحقیقی پراجیکٹس جن کا براہ راست عوام اور معیشت کو کوئی فائدہ نہ ہو، کے لیے فنڈ منظور کروانے کے واسطے لاکھ قسم کے جھمیلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ جبکہ امریکہ، چین اور بھارت کے علاوہ دنیا کا کوئی تیسرا ملک اس طرح کے مہنگے اور بظاہر بے مقصد تحقیقی منصوبوں پر پیسہ خرچ نہیں کرتا جن کا مقصد اپنے ملک کی طاقت، دولت اور کامیابی دکھانے کے سوا کچھ نہ ہو۔ جاپان، جرمنی، برطانیہ، فرانس، اسرائیل اور جنوبی کوریا جیسے امیر ملک بھی سپیس پروگرام صرف ضرورت کے سیٹلائیٹ بنانے تک محدود رکھتے ہیں۔ چاند پر کوئی کرافٹ ان میں سے کسی ملک نے نہیں بھیجا۔ حتیٰ کہ خلاء میں پہلا انسان بھیجنے والا روس جو سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ کا سپیس ریس میں حریف تھا، وہ بھی عرصہ ہوا، اس قسم کی شو شپّے والی تحقیقات بند کرچکا۔

خود سرد جنگ کی اس سپیس ریس کو ان ممالک سمیت تمام دنیا کے مؤرخین انتہائی ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس میں دونوں ممالک نے صرف اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے اور دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ایسے پراجیکٹس پر اربوں روپیہ خرچ کردیا جن کی ضرورت بھی نہ تھی۔ ابھی حال ہی میں جب نظریات اور خصلتوں کے لحاظ سے مودی کے بچھڑے بھائی ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی افواج کی چوتھی فورس “سپیس فورس” بنانے کا ڈول ڈالا تو اس کا امریکہ سمیت پوری دنیا میں مذاق اڑایا گیا اور شدید تنقید ہوئی۔ جبکہ ہمارے دانشور حضرات جگ سے نرالے ہیں جو مودی کی اسی قسم کی نرگسیت پر مبنی اور قوم پرستانہ “وقار” اور “glory” کے لیے کی جانے والی فضول خرچیوں پر فدا ہوئے جارہے ہیں۔

یاد رہے کہ مودی نے بھی حال ہی میں ایک انتہائی مہنگا سپیس ڈیفینس پراجیکٹ لانچ کیا ہے۔ دانشور یوں تو امن کے ترانے بھی پڑھتے ہیں اور اسلحے کی مخالفت بھی بہت کرتے ہیں لیکن اس مسئلے پر ہمیشہ خاموش رہتے ہیں کہ بھارت کے دفاعی اخراجات دن بہ دن بڑھتے جارہے ہیں۔

پاکستان کو یقیناً سائنس اور ٹیکنالوجی بالخصوص سیٹلائٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اسی سمارٹ اور محتاط طریقے سے خرچ کرنے کی ضرورت ہے جیسے ہم اپنی دفاعی ٹیکنالوجی میں کرتے ہیں لیکن بھارت جیسے غیر ذمہ دار ملک کے ساتھ کسی ریس میں شامل ہمیں نہیں ہونا۔ ہم ایک کافی چھوٹا ملک ہیں جس کے وسائل بھی محدود ہیں۔ اس میں شرمندہ ہونے والی کوئی بات نہیں۔ نسبتاً چھوٹا ملک ہونا ہرگز کوئی برائی نہیں ہے۔ ہمیں اپنی ضرورتوں کو دیکھ کر چلنا چاہیے اور چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہیں۔ پڑوسی کا منہ لال ہے تو اپنا تھپڑ مار کر نہیں کرنا چاہیے۔ ہمارا پڑوسی تو ویسے بھی پاگل ہوچکا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: