افغان امن عمل: ایک تجزیہ —- کلیم بخاری

0

8 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سماجی رابطے ٹوئٹر کے زریعے افغان امن عمل کو اِن الفاظ کیساتھ منسوخ کرنے کا اعلان کیا کہ

“ہر ایک کیلئے نامعلوم،طالبان رہنماء اور خصوصی طور افغانستان کے صدر خفیہ طور مجھ سے اتوار کے روز کمیپ ڈیوڈ میں ملنے والے تھے وہ آج رات کو یونائٹیڈ سٹیٹ انے والے تھے مگر بد قسمتی سے پریشر ڈالنے کیلئے کابل میں حملہ کیا گیا جس میں ہمارے عظیم سپاہیوں سمیت 11 افراد جاں بحق ہوگئے۔ میں فوراً میٹنگ ختم کرنے اور پیس پراسس کو بند کرنے کا اعلان کرتا ہوں لوگوں کے قتل عام سے کس طرح کوئی اپنی بارگیننگ کو مضبوط کرسکتا ہے؟ ان لوگوں نے خود اپنے لئے مشکل بنائی ہے اگر اتنے اہم مزاکرات میں فائر بندی پر وہ راضی نہیں تو اِن لوگوں کیساتھ مزاکرات کا کوئی فائدہ نہیں وہ اس طرح کتنے عرصے تک لڑینگے؟”

افغان امن عمل نومبر 2018 میں شروع ہوا تھا جس کیلئے امریکی انتظامیہ نے عراق کیلئے اپنے سابقہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے سفیر زلمی خلیل زاد کو اپنا نمائندہ اور سربراہ مقرر کیا تھا صدر ٹرمپ نے یہ اعلان کرتے ہی 10 مہینوں سے جاری افغان امن عمل کو بُری طرح متاثر کیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں جن عظیم سپاہیوں کا ذکر کیا تھا اُن میں حال میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہوئے بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والے 34 سالہ ایلس اینجل بیرٹو جو پیراشوٹر تھے اور Peurto Rico تھے جب ایک کار بمبار نے خود کو نیٹو چیک پوسٹ کیساتھ خود کو اُڑا دیا تھا۔ بیرٹو امریکہ کا 16واں جانی نقصان تھا 2019 میں۔

امریکی صدر کے حیران کن بیان کے چند گھنٹوں بعد طالبان کے قطر دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بیان جاری کیا کہ

“چند دن پہلے امریکی ٹیم کیساتھ اتفاق ہوگیا تھا پیس پراسس کے دونوں اطراف کو امن عمل کی کاپی دی گئی تھی اسکے افیشل کاپی ھم نے “نښه” اور قطر کو بھی فراہم کردی تھی سب کا اس پر اتفاق تھا اور اتفاقی طور قطر کو اعلان کا کہا گیا مگر اِس وقت ناسنجیدہ ٹرمپ کی طرف سے ٹوئیٹر پر حیرانکن بیان آیا جس نے صرف اپنے اعتماد کو نقصان پہنچایا”

دس مہینے۔

افغان امن عمل کے یہ دس مہینے تنازعات اور الزامات کی شدید ترین زد میں تھے۔ مزاکرات افغانستان میں امن کیلئے ہو رہے تھے مگر فریق تین تھے:

امریکہ، افغان حکومت، اور طالبان۔

امریکہ کے طالبان سے چار مطالبات تھے افغان سر زمین دوسروں کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، امریکی اور نیٹو افواج کا پرامن اخراج، مکمل فائر بندی، افغانستان حکومت اور طالبان کے درمیان بین الافغانی مزاکرات۔

طالبان کا امریکی حکومت سے ایک پوائنٹ کا ایجنڈا۔

“جب تک ایک بھی غیر ملکی فوجی افغان سرزمین پر ہے ہم امریکہ کو کوئی بھی ضمانت دینے کے پوزیشن میں نہیں ہیں۔”

تیسرے نمبر پر افغان حکومت جس نے حقیقت میں مزاکرات کو بین الافغانی بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ نیشینل سیکورٹی ایڈوائزر حمد اللہ محب نے جو امریکہ میں سابق سفیر بھی رہ چکے ہیں کہ دورہ امریکہ کے دوران تلخی ہوئی تھی امریکن حکومت کے زمہ داروں کیساتھ، جس نے پریس بریفینگ میں آکر کھلے الفاظ میں یہ کہا کہ افغانستان کسی بھی طور سابقہ کالونیل وائسرائے جیسا معاہدہ قبول نہیں کرے گی اس بیان نے غنی حکومت اور امریکہ کے درمیان دراڑ پیدا کی جب حمد اللہ محب افغانستان واپس آئے تو امریکی افیشلز جن کی صدر غنی کیساتھ میٹنگ تھی، جس میں حمداللہ محب بھی موجود تھ،ے کا بائیکاٹ کرکے چلے گئے جس نے مزاکرات کیلئے دونوں حکومتوں کے درمیان تلخی پیدا کی۔ افغان حکومت کا روز اول سے مطالبہ تھا کہ طالبان حکومت کو تسلیم کرکے مزاکرات شروع کرے مگر طالبان سربراہوں نے واضح طور پر افغان حکومت سے کسی بھی طور مزاکرات سے مکمل انکار کیا تھا کہ ہم نوکروں سے نہیں بلکہ مالکوں سے مزاکرات کرینگے۔

امریکہ صرف اپنے مفادات تک محدود تھا اور ہے اور وہ مفاد اپنے اور اپنے اتحادیوں کا افغانستان سے پر امن اخراج ہے۔

اِن دس مہینوں میں طالبان اور امریکہ کے درمیان مزاکرات کے 9 ادوار ہوچکے ہیں۔ امریکہ نے طالبان پر اپنے مطالبات منوانے کیلئے بہت سے جتن کئے، کبھی پاکستان سے مدد مانگی تو کبھی روس اور چین کو بھی اس میں شامل کرنے کی تگ ودو کی۔

آخر ہوا کیا؟

ایک طرف مذاکرات شروع تھے اور دوسری طرف افغانستان کا عام شہری شدید ترین خوف کا شکار تھا آئے روز کے حملوں نے مذاکرات کے کامیاب اور افغانستان کے لئے سود مند ہونے پر سوالیہ نشان لگادیا تھا۔ مذاکرات کے دوران ایسے بڑے بڑے حملے طالبان کی طرف سے کئے گئے جو کسی بھی طرح جسٹفائی نہ تھے۔

مذاکرات کے دوران طالبان نے 24مارچ کو 2019 کو ہلمند کے ضلع سنگین میں افغان ملٹری ٹریننگ سنٹر کو نشانہ بنایا جس میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 48 افغان نیشنل آرمی کے دس افراد حکومت کے سپورٹڈ ملیشیا سے تعلق رکھتے تھے جاں بحق ہوئے جبکہ 43 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

نیویارک ٹائمز کے ساوتھ ایشیاء کے کارسپانڈنٹ مجیب مشال کے مطابق تقریباً ایک یونٹ کو مکمل طور پر نشانہ بنایا گیا جس میں بمشکل چند سپاہی بچے تھے۔ مذاکرات ہی کے دوران طالبان نے کابل سمیت مختلف جگہوں کو نشانہ بنایا جس میں زیادہ تر عام افراد کو ہی ٹارگٹ کیا گیا۔ مذاکرات کے 9 ویں روانڈ کے دوران تخار، بدخشاں، ہلمند، فراح، ہرات میں طالبان نے حملے کئے۔ الجیزیرہ کے مطابق کابل بغلان اور بغلان کندوز ہائی وے کو سیکورٹی خطرے کی وجہ سے بند کیا گیا تھا۔

افغانستان کی موجودہ حکومت نے طالبان کے اِن حملوں کو جواز بناکر امریکہ سے کئی بار احتجاج کیا کہ آپ طالبان کیساتھ کن شرائط پر مذاکرات کرنے جارہے ہیں جب وہ آئے روز معصوم اور بے گناہ افغانیوں کو نشانہ بنا رہے مگر امریکہ کو اپنا مفاد عزیز تھا اور وہ کسی بھی طور پر مذاکرات کے عمل کو ڈی ریل نہیں کرنا چاہ رہے تھے۔ مگر کابل میں امریکہ اور نیٹو فورسز کو جب نشانہ بنایا گیا تو امریکہ نے مذاکرات میں اپنی پوزیشن بنانے کیلئے ایک دفاعی حکمتِ عملی کے طور مذاکرات کو کچھ وقت کیلئے منسوخ کردیا کیونکہ افغانستان کے مشہور صحافی اور دوحہ قطر میں مذاکرات کے تمام راونڈ کو کور کرنے والے صحافی سمی یوسفزئی کے مطابق امریکیوں نے طالبان کی قوت کو اِن الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ امریکہ طالبان کیساتھ ایسے negotiate کر رہا ہے جیسے امریکہ طالبان ہو اور طالبان امریکہ ہو ان تمام کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ طالبان جن کو افغان حکومت انڈر اسٹیمیٹ کر رہی  تھی وہ کتنی طاقتور ہے۔

وہ جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔

طالبان بے شک افغانستان میں اپنا اثر ورسوخ رکھتے ہیں مگر موجودہ صورتحال اور پھر بالخصوص مذاکرات کے دوران طالبان نے جس طرح عام افغان عوام کو نشانہ بنایا ایک غیر جانبدار افغان بیسیڈ رپورٹ کے مطابق طالبان کی طرف  مذاکرات کے شروع ہونے سے اور ابھی تک تقریباً 800 سے لیکر 1000 ہزار افراد کونشانہ بنایا گیا ہے اور یہ کسی بھی طرح زمہ دار اور نمائندگی کے قابل گروپ کا کام نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ایک طرف آپ افغان عوام کو یہ باور کرانا چاہ رہے تھے کہ ہم ہی افغانستان کے اصل نمائندے ہیں اور یہاں بہترین حکومت ہم بناسکتے ہیں تو ایسے میں انسان دشمن سرگرمیوں کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

کندوز اور پنجشیر پر حالیہ حملوں نے جس نے مذاکرات کے دوران بھی جگہ پائی، پر بات ہوئی دونوں گروپوں کی طرف سے جس میں طالبان کا حملہ تو پسپا کیا گیا مگر وہ ویڈیوز جس میں سیکورٹی اداروں کے لوگ طالبان کو سرنڈر کر رہے تھے اور بعد میں شہر کے وسط  کے درمیان خودکش دھماکہ ہوا جس میں کندوز پولیس کے ترجمان کیساتھ ایک کرنل کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں دونوں کیساتھ تقریباً 20 افراد جاں بحق ہوئے، ایسے تمام اقدام جو طالبان کی طرف سے مذاکرات کے دوران ہوئے، غرور، اپنی طاقت، اور اپر ہینڈ حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ طالبان اگر واقعی امن قائم کرنے کیلئے اور افغانستان میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس لینا چاہتے ہیں تو ایسے قتل عام سے اِن لوگوں کو ہاتھ ہٹانا ہوگا۔ چار مہینے پہلے افغانستان میں پیپل پیس مارچ کے نمائندوں کو اپنے کنٹرول شدہ علاقے میں پہلے داخل ہونے سے منع کیا تھا اور پھر جب اجازت دی تو اُن کو 3 سے پانچ دن تک قید رکھا گیا۔ یہ حالات کس جانب کی طرف اشارہ کر رہے ہیں سوائے اسکے کہ طالبان اپنی طاقت جو اصل میں خوف کے بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے کو دنیا اور امریکہ کے سامنے اپنا کیس مضبوط کرنے کے واسطے کر رہے ہیں جسکی قیمت سوائے غریب عوام کے اور کوئی نہیں چکا رہا ہے۔ ایک تو آئے روز دھماکے جس نے غریب عوام کو خوف زدہ کردیا ہے دوسری طرف طالبان کا افغانستان کے امریکہ کی حمایت کنندہ حکومت سے مذاکرات نہ کرنا ہے پوری دنیا قومی مفاد کو مدنظر رکھتی ہیں مگر طالبان کو دیکھتے ہوئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ لوگ عام افغان عوام کیلئے اپنا مقدمہ لڑ رہے ہیں  جب امریکہ اتنا دور سے آ کر افغانستان میں اپنے مفاد کا تعین کرسکتا ہے تو طالبان کیوں افغانستان کے عوام کیلئے افغان حکومت کے نہیں بیٹھ سکتی؟

یہ سوال آج ہر افغان کی زبان پر ہے چاہے وہ طالبان یا حکومت مخالف کیوں نہ ہو۔

امید ۔

“سی این این کے سٹیٹ آف دی یونین پروگرام میں جیک تیپر کیساتھ سیکرٹری مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکہ اب بھی طالبان کیساتھ معاہدہ امن کرنا چاہتا ہے مگر اس کیلئے طالبان کو سنجیدہ ہونے پڑے گا اور پوٹینشل ایگریمنٹ کرنا ہوگا تب کہیں جاکر بات ہوگی۔

اُس نے کہا کہ طالبان کو معاہدوں کا پاس کرنا ہوگا اگر وہ نہ کرسکے تو صدر کو اختیار ہے کہ وہ معاہدہ ختم کردے۔ مائیک پومپیو نے کہا کہ طالبان کو حکومت کے نمائندووں سے بیٹھنا ہوگا، پُرتشدد واقعات سے ہاتھ ہٹانا ہوگا اور القاعدہ سے اپنے تعلقات ختم کرنے ہوگے تب کہیں ہم ایک متفقہ معاہدہ امن پر پہنچ سکتے ہیں”۔

دروازہ پورا بند نہیں ہوا ہے۔ مزاکرات کے کامیاب ہونے کے اب بھی دروازے کھلے ہیں اور امریکی نمائندہ زلمئی خلیل زاد ٹرمپ کے بیان سے خوش نہیں اور وہ آج سکیٹری پومپیو سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ امید ہے وہ ٹرمپ کیساتھ بیٹھ کر اُسکو بھی امریکی مفاد گنواکر راضی کرلینگے۔

امریکہ، افغان حکومت کو ایک سائیڈ پر رکھ کر جب تک طالبان افغان عوام کیلئے،امن کیلئے سنجیدہ نہیں ہونگے تب تک افغانستان میں امن کا خواب خواب ہی رہے گا۔

نوٹ: ادارہ کا مصنف کی رائے سے اتفاق لازم نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: