امام حسین اور سیکولرازم ———- فیضان جعفری الخوارزمی

0

امام حسین کی قربانی کے جہاں بہت سے پہلو ہیں وہاں ایک پہلو و ریاست کے خلاف اصولی اختلاف کا بھی ہے۔ مسلمانوں کو آج جن افکار کے ذریعے گمراہ کیا جا رہا ہے ان کا جواب تو محمّد و آل محمّد کب کا دے چکے۔ کلمہ، نماز، حج ، زکوٰۃاوردیگر ارکان کو ہی لوگ اسلام سمجھتے ہیں اور سیکولر حضرات بھی اسلام کو گھروں اور مساجد تک محدود کرنے کیلئے اسی سوچ کو فروغ دے رہے ہیں۔

سب سے پہلے تو دین، مذہب، سیکولرازم کی اصطلاحات اور تعریف پر غور کر لیا جائے تاکہ جس تذبذب کا فائدہ اٹھا جاتا ہے اس سے بچا جا سکے۔ دین کے معنی ایک ضابطہءِ حیات کے ہیں ۔شہرہ آفاق لغت المنجد کے مطابق دین ملکیت، قدرت، حکم، مذہب، ملّت، حالت، عادت، سیرت ، تدبیر، نافرمانی، گناہ، مجبوری، پرہیزگاری، فرمانبرداری، بدلہ، قہروغلبہ، ذلّت وغیرہ کے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ مذہب کے معنی اعتقاداور طریقۂِ اصل ہیں مثال کے طور پر لکھا ہے کہ اسلام کے مشہور مذاہب چار ہیں۔ حنفی، شافعی، حنبلی، مالکی۔ دین اور مذہب کے درمیان اس فرق کو سمجھنا چاہیے کہ اسلام ایک دین ہے اور اس کے کئی مذاہب ہیں۔بریلوی،دیوبندی جیسی علاقائی تقسیم کو فرقہ کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں دین اور مذہب کیلئے ایک ہی لفظ استعمال ہوتا ہے اور وہ ہے’ Religion‘۔ فرقہ کیلئے ’Sect‘کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ زبان کے حوالے سے یہ بات ہمیشہ مدِّنظر رکھنی چاہیے کہ وہ اسی معاشرے کی آئینہ دار ہوتی ہے جس میں پروان چڑھتی ہے اور اپنا ارتقائی عمل تب تک جاری رکھتی ہے جب تک اس کے بولنے والے اسے ہر دور میں نت نئی ایجادات، تجربات اور نظریات کی روشنی میں پروان نہیں چڑھاتے ۔انگریزی بولنے والا معاشرہ چونکہ اس تقسیم سے کبھی نہیں گزرا اسلئے اس نے کبھی ان اصطلاحات میں تخصیص و تفریق کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ مثال کے طور پر ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ڈھیٹ ہوتے ہیں اور انگریزی معاشرے میں لوگ اس انتہا تک ڈھیٹ نہیں ہوتے اسلئے انہوں نے کبھی اس کا متبادل بنایا ہی نہیں ۔اگرچہ لوگ’Stubborn‘جیسے الفاظ ضدّی اور پیشہ ورانہ مجرموں کیلئے تو استعمال کرتے ہیں مگر وہ لفظ ابھی تک انگریزی لغت میں نہیں جو بعینہ اسی ’ڈھیٹ‘رویّے کا ترجمان ہو۔اسی ضمن میں ایک آسان مثال یوں ہو سکتی ہے کہ عرب میں املی نہیں ہوتی تھی۔جب یورپی ہندوستان میں آئے توانہوں نے املی کو ’تمرِہند‘ کانام دیا ۔ عربی میں ’تمر‘کے معنی کھجور کے ہوتے ہیں سو ’تمرِ ہند‘ کے معنی ہندوستان کی کھجور ہوا۔’تمرِ ہند‘ انگریزی میں آکر’ Tamarind ‘ہوا۔دین اور مذہب کا فرق ایک ایسا فرق ہے جو عربی زبان و لغت اور فقہ کے طالبِ علم کیلئے تو بہت معروف ہے مگر عوام اس فرق سے بے بہرہ ہیں۔ اسلام کے احکامات کو عمومًادو حصّوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

(۱)ایمانیات و عبادات (۲)معاملات

ایمانیات وہ حصّہ ہے جس میں عقائد، عبادات،مذہبی اور روحانی مشقّت شامل ہوتی ہے۔سادہ الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایمانیات اسلام کے احکامات کا وہ حصّہ ہے جو انسان کا اپنے ساتھ اور اپنے خدا کے ساتھ رشتہ قائم کرتا ہے۔ جبکہ معاملات زندگی کے بیرونی پہلوؤں سے متعلّق ہیں جن میں ایک انسان دوسرے انسانوں، معاشرے، ماحول ، اداروں کے ساتھ رشتہ قائم کرتا ہے۔ اسلام کے اندر عبادات اور معاملات دونوں کے بارے میں تفصیلی احکامات موجود ہیں۔ اگر کوئی تفصیل دیکھنا چاہتا ہے تو قرآن سے رجوع کرے جس میں اس کے لئے معاشی، معاشرتی، سماجی، عدالتی، عائلی اور ہرطرح کے احکامات موجود ہیں ۔

سیکولرازم کا ترجمہ جب ’لادینیت‘کے طور پر کیا جاتا ہے تو سیکولر افراد اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہم ’لادین ‘نہیں ہیں کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم ہر مذہب کا احترام کرتے ہیں ، ہر انسان کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہونی چاہیے مگر ریاست کے امور کا مذہب کے ساتھ کوئی لین دین نہیں۔ سیکولر حضرات مذہب اوردین کا ایک ہی معنی اخذ کرتے ہیں کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق دین یا مذہب کا انسان کا اپنے آپ کے ساتھ اور خدا کے ساتھ رشتے کے سوا کوئی وجود نہیں۔ دین یا مذہب کا اجتماعی زندگی میں کوئی تصوّر نہیں۔ سیکولرازم کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تعلیمی معاملات، کھیل، موسیقی اور زندگی کے تمام تر شعبہ جات میں دین و مذہب کا کوئی کردار نہیں۔ اگر کوئی شخص دین اور مذہب کی تشریح اور تفریق لے کر ان کے پاس جاتا ہے تو وہ اس تقسیم کا انکار کر دیتے ہیں کہ Religionایک ہی چیز کا نام ہے ۔ وہ دین اور مذہب کو ایک تو قرار دے دیتے ہیں مگر ان کے پاس اسلام کے اجتماعی احکامات کا کوئی جواب نہیں کہ اس کو وہ دین کہیں یا مذہب۔ اگر ایک شخص قرآن کے حکم کے مطابق چور کی سزا پر بحیثیّت مسلمان ایمان رکھتا ہے تو سیکولر نظریے کے تحت کیسے ممکن ہے کہ اس کے اس عقیدے کو ’مذہب‘اور ’ذاتی عقیدہ ‘قرار دے کر جان چھڑا لی جائے اور کہا جائے کہ مذہب کا ریاست کے ساتھ کوئی تعلّق نہیں یہاں تو وہی سزا دی جائے گی جو ملکی آئین و قانون کی وضع کردہ تعزیرات میں موجود ہے۔ اسی طرح وراثت، شادی بیاہ ، اخراجات ، لین دین کے معاملات کا کریں جن کے بارے میں اسلام میں تو واضح طور پر احکامات موجود ہیں مگر سیکولرازم کے نظریے کے تحت ان کا اطلاق اجتماعی زندگی میں نہیں ہو سکتا۔ اگر قرآن کے احکامات کو سامنے رکھا جائے اور سیکولرازم کی تعریف پر غور کیا جائے تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ کوئی مسلمان شخص اپنے آپ کو سیکولر مسلمان کہہ سکے کیونکہ یا تو قرآن کے احکامات کو سچ سمجھا جاسکتا ہے، یا پھر سب سچے ہیں اور سب کو آزادی ہے کہہ کر جان چھڑائی جاسکتی ہے۔

خیر یہ تو ایک ضمنی بحث تھی جو سیکولرازم کی تعریف اور اسلام کے ساتھ اس کے اختلافات کی بحث کو جنم دیتی ہے مگر میراموضوع فی الحال یہ نہیں۔
امام حسین کی شہادت پر تاریخ نے بے تحاشہ لکھا ہے اور لکھ رہی ہے مگر میری نظر سے سیکولرازم کے مضمون میں کبھی بھی امام عالی مقام کا تذکرہ نہیں گزرا۔ اس بحث میں میں نے نہ صرف سیکولرازم کے نظریۂِ ریاست پر بات کی ہے بلکہ مسلمانوں کی روایتی دینی سوچ کو بھی موضوع بنایا ہے۔ اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو کچھ ایسے حقائق سامنے آتے ہیں جو بہت حیران کن ہیں۔

امامِ عالی مقام  نے ۸ ذوالحج کے روز جب سب لوگ حج کیلئے جمع ہورہے ہوتے ہیں تب اپنے حج کو عمرہ سے بدل کر حجاز سے کوچ کیا۔ جب دنیا بھر سے مسلمان حج بیت اللہ کیلئے جمع ہورہے تھے نواسۂِ رسول کسی نامعلوم مقام کی جانب کوچ کررہے تھے۔ جس شخص نے پچیس حج پیادہ کیے تھے وہ اپنے اہل وعیال کے ہمراہ حج کے موقع پر بیت اللہ سے رخصت ہورہا تھا۔ امامِ عالی مقام  نے اپنے اہل و عیال کے ہمراہ سفر کیا۔اس زمانے میں جنگوں کا دستور یہ ہوتا تھا کہ جنگوں میں اپنے سامانِ حرب اور مالِ غنیمت کے سوا کچھ نہیں رکھا جاتا تھا اور بالخصوص اپنے اہل وعیال کو تو بالکل نہیں کیونکہ شکست کی صورت میں ان کے مالِ غنیمت کے طور پر دشمن کے قبضہ میں چلے جانے کا خطرہ ہوتا تھا۔ تجارتی قافلوں میں بھی گھر کے افراد کو ساتھ نہیں رکھا جاتا تھاکیونکہ سفر طویل اور سست ہوجاتا تھاجو کہ تجارت کی روح کیلئے زہرِ قاتل ہے۔ گھر کے تمام افراد کے ساتھ سفر صرف نقل مکانی یا ہجرت کے صورت میں ہی کیا جاتا تھا۔ ظالم حکمران کے سامنے کلمۂِ حق بلند کرنے کو جہادِ اکبر کہا گیا ہے مگر امامِ عالی مقام کا رخ نہ تو دربارِ یزید کی جانب ہے اور نہ ہی آپ جہاد کی نیّت سے تیغ و تلوار سے لیس ہوکر یزیدی فوج سے مقابلہ کرنے جارہے ہیں۔ کوفے کے بیوفا لوگوں کے خطوط پر مدینہ سے کوچ کیا، حج کی ادائیگی بھی ترک کی ، اپنے اہل وعیال کے ساتھ پہلے کوفہ کاقصد کیا لیکن جب وہاں سے اپنے قاصد کے قتل کی خبر ملی تو نہ جانے کہاں کا رخ کیاکہ کربلا میں خیمہ زن ہوگئے۔ تاریخ میں موجود تمام شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی منزل پر امامِ عالی مقام نے جنگ کا ارادہ ظاہر کیا اور نہ ہی جنگ کے ارادے کے جواب میں اشتعال انگیز جواب دیا۔ امامِ عالی مقام کو عبادت سے اس قدر لگاؤ تھا کہ ۹ محرّم کی سہ پہر جب یزیدی فوج نے آپ کیلئے لڑائی کے علاوہ کوئی صورت باقی نہ رہنے دی تو آپ نے ان سے ایک رات کی مہلت مانگی تاکہ آپ ایک رات مزید ذکرِ خدا میں بسر کر سکیں۔

یہ کیسا انسان ہے جو حج جیسی عظیم عبادت دو دن قبل چھوڑ کر کربلامیں ایک رات عبادت کی مہلت مانگ رہا ہے۔ یہ کیسا انسان ہے جو ایک ظالم و جابر حکمران کے سامنے اس کے دربار میں جاکر کلمہ حق بلند نہیں کرتا۔ یہ کیسا مسلمان ہے جو اپنے مسلمان بھائیوں کو جہاد اور ثوابِ بیکراں کے فضائل سنا کر یزید کے خلاف جہاد کیلئے تیّار نہیں کرتا۔ یہ کیسا مسلمان ہے جو کوفے کے لوگوں کو مصلحت پسندی ترک کرنے اور باطل کے خلاف کھڑا ہونے کا درس نہیں دیتا۔ یہ کیسا سردار ہے جو مسلمانوں پر اپنی اور اپنے نانا کی نسبت نہیں جتاتا۔ یہ کیسا مجاہد ہے جو مسلمانوں کو اپنے نبی کا واسطہ دے کر مدد کیلئے نہیں بلاتا۔ ایک طرف اسلامی کردار کا یہ عظیم پیکر ہے کہ جہاد کرتا ہے نہ حج کرتا ہے اور دوسری طرف یزید جیسا فاجر و فاسق ،آپ کی بیعت کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ تاریخ کیسی ستم ظریف ہے کہ ہزاروں لاکھوں افراد جو حج کی طرف جا رہے تھے وہ تو دین نہ بچا سکے، اور حسین نے، جو حج کے موسم میں بیت اللہ کو خیرباد کہہ کر جا رہے تھے ، دین کو بچانے کی سعادت حاصل کی۔ سالہاسال سے ہزاروں لاکھوں افراد مصروفِ جہاد تھے اور اسلامی سلطنت کے فروغ میں دن رات ایک کئے ہوئے تھے وہ تو ’دین پناہ ‘نہ بن سکے مگر جو شخص آخری دن تک جنگ سے پہلو تہی کرتا رہا وہ ’دین پناہ ‘قرار پایا۔
خواجہ معین الدّین چشتی اجمیری کا بہت مشہور شعر ہے۔

شاہ است حسین ، پادشاہ است حسین
دین است حسین، دیں پناہ است حسین
سرداد نہ داد دست، در دستِ یزید
حقّا کہ بنائے لاالٰہ است حسین

تاریخ کا یہ باب سامنے رکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جس نماز، حج ، زکوٰۃ اور جہاد کو اسلام سمجھتے ہیں وہ کچھ اور ہے ، اس کے مقصدو حاصل کچھ اور ہے۔ اگر امام حسین ان فرائض کی ادائیگی کرتے اور حج کے موقع پر آئے افراد کو حج کے بعد ایک نام نہاد اسلامی ریاست کے خلاف جہاد کیلئے یکجا کرتے تو یزید کو بآسانی شکست دے سکتے تھے یاکم از کم وہ آپ کے ساتھ افراد کی کثرت سے مرعوب ہوکر بیعت کے دعوے سے دست بردار ہوجاتا۔ اگر ہم انہی چند عبادات کومکمّل اسلام قرار دے دیں تو ایک مصلحت پسند ذہن کے لئے ایسی تاویل تراشنا کیا مشکل ہے۔

یہ مصرع لِکھ دیا کس شوخ نے محرابِ مسجد پر
یہ ناداں گرگئے سجدوں میں جب وقتِ قیام آیا

ان عبادات کا نام مکمّل اسلام ہے اور نہ ہی امام حسین کی قربانی کو اس محدود سیاق وسباق میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر ہم قرآن کا بغور مطالعہ کریں، سیرتِ رسولؐ کو سمجھیں ، زندگی کے مقصد اور فلسفہ کو سمجھیں، تاریخ کی موشگافیوں کو پرکھیں، معاشرے کی تعمیر و تشکیل کے عناصر کا جائزہ لیں، انسانی نفسیات کو سامنے رکھیں تو امام عالی مقام کی قربانی ایک وسیع تر تناظر میں عظیم تر کوشش ہے جس نے انسانی زندگی کے ہر ادارے کو ایسا درس دیا ہے کہ وہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہا۔ امام حسین کی قربانی کو نہ تو ایک ریاست کے اندورنی معاملات تک محدود کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی ایک مذہب کے دائرے میں بند کیا جاسکتا ہے۔ یہ کسی ایک وقت کیلئے درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے اور نہ کسی ایک مخصوص گروہِ انسانی کے لئے۔ جوش نے کہا تھا

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

ان تمام پہلوؤں کو مدِّنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط ہے کہ امام حسین کی قربانی چند مخصوص عبادات کے لئے تھی ۔ واقعہ کربلا میں ایسی اپنائیت ہے کہ اس کو جاننے والاہر شخص اس سے متاثر ہوتا ہے۔ اس واقعے کو مسلمانوں کا ، مسلمانوں کے کسی ایک گروہ کا ، کسی ایک علاقے کا یا کسی ایک وقت کا واقعہ کبھی قرار نہیں دیا گیا۔ اس کی وجہ اس کی عالمگیریت ہے۔ امام حسین نے اس عمرانی نظام (Social system) کی خاطر قربانی دی جو تخلیقِ کائنات کا مقصود ہے۔امام حسین نے اس کردار کا تحفّظ کیا جو کہ نقطۂِ کمال کے قریب ترین ہے۔ امام حسین نے اس رویّے کو دوام بخشا جو مخلوق کیلئے خالق کی قائم کردہ کسوٹی پر افضل ترین ہے۔ اسی کردار اور رویّے سے جنم لینے والے دل و نگاہ کے متعلّق علّامہ اقبال نے کہاتھا

خرد نے کہہ بھی دیا لاالٰہ تو کیا حاصل
دل ونگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

حاصل کلام یہ ہے کہ اسلام کا معنی امن ہے اور اسلام کا مقصد امن وامان ہے۔ اسلام اس تحریک کا نام ہے جو امن و امان کو جنم اور فروغ دیتی ہے۔ اسلام اس کردار اوررویّے کا نام ہے جو اللہ نے اپنے احکامات کے ذریعے اپنی مخلوق کو عطا فرمائے ہیں۔اسلام اس کوشش کا نام ہے جو نبی کریم نے چالیس سال تک کی۔ باقی کے تئیس برس تبلیغ وتعلیم پر صرف کئے۔ اسلام اس بے لوث اور پرخلوص قربانی کا نام ہے جس کے ذریعے امام حسین نے انسان نہیں بلکہ انسانیت کو دوام بخشا۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر عقیدے کی طرح ہمارے عقیدے کی چند ایک عبادات کا نام دین ہے تو وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ہمارا دین ایک فرد کے تخیّل کے ایک گوشے سے لے کر کائنات کی وسعتوں تک محیط ہے، جس میں نہ صرف زندگی کے ہر اجتماعی و انفرادی مسائل کا حل موجود ہے بلکہ وہ ایسا زرخیز ہے کہ قیامت تک پیش آنے والے نت نئے مسائل کو پرکھنے کا میزان بھی فراہم کرتا ہے۔ عبادات تو دنیا کے ہر مذہب میں موجود رہی ہیں سو وہ اسلام میں بھی ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ اچھے سلوک کی تلقین بھی ہر مذہب میں موجود ہے، سمجھنے کی چیزیں اسلام کے امتیازی خصائص ہیں جو اسے دوسروں سے منفرد بناتے ہیں۔دینِ اسلام کا سب سے بڑا امتیاز ہی یہ ہے کہ وہ ہر جگہ اور ہر وقت کے انسانوں کے لئے ایک مکمّل ضابطۂِ حیات ہے۔ فلسطین میں ایک مخصوص قوم کیلئے اترے ہوئے مذہب کو جب یورپ میں آزمایا گیا تو وہ فرسودگی اور توہّم پرستی کی علامت بن گیا۔ ہندوستان کاقدیم مذہب بھی جدید طرزِ زندگی اور ٹیکنالوجی سے لیس زندگی کے سیلاب میں بہہ گیا۔ اورباقی رہ گئے رسم ورواج۔

یزیداوریزیدیت کیلئے یہ نماز، یہ حج، یہ جہاد پہلے کبھی رکاوٹ کا سبب تھے اور نہ اب ہیں۔ اس وقت بھی دنیا بھر سے مسلمان حج بیت اللہ کیلئے جمع ہو رہے تھے مگر یزید جانتا تھا کہ ہزاروں لاکھوں کا مجمع میرے فسق وفجور اور اقتدار کیلئے خطرہ نہیں۔ اگر وہ خطرہ سمجھتا تھا تونواسۂِ رسول کی ذات اور کردار کو۔امامِ عالی مقام  بھی یہ بات بخوبی جانتے تھے اور آپ نے فرمایا کہ مجھ جیسا تجھ(یزید)جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا۔جو بیعت اس زمانے میں حاکمِ وقت لیا کرتا تھااس بیعت کا معنی مذہبی پیشوائی نہیں بلکہ سیاسی اور ریاستی رہبری ہوتاتھا۔آج بھی دنیا بھر کے مسلمان سارے لوازمات خوب ذوق و شوق سے نبھاتے ہیں مگر اس رسمِ اذاں میں روحِ بلالی ہے اور نہ یہ کسی مجاہد کی اذاں ہے۔ اسلئے اقبال نے جابجا کہا اور بجاہے کہ میں یہاں لکھوں۔

ملّا کو جو ہے ہِند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد!

یہ صرف ہندوستان کے مسلمانوں کا المیہ ہی نہیں بلکہ تمام امّتِ مسلمہ جس وجہ سے انتشار اور کسمپرسی کا شکارہے وہ یہی ہے کہ دین کی روح سے بیگانگی ہے۔ اقبال کو شاعرِ حرکت و حرارت بھی اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ خانقاہوں سے نکل کر رسمِ شبّیری ادا کرنے کا درس دیتاہے۔ سیکولر افراد بھی ریاست کی ایسی ہی ریاستی تقلید کے قائل ہیں جس میں سب اپنی نمازیں پڑھیں ، سب اپنی اپنی ڈفلی بجائیں اور اپنا اپنا راگ گائیں۔حج سے کبھی یزید کو مسئلہ ہوا اور نہ کبھی سیکولر حضرات اس پر اعتراض کرسکتے ہیں۔ جس طرح پیرانِ کلیسا نے مسیحائی کو کلیسا میں پابند کردیااسی طرح ملّا نے ربّ العالمین کے دین کو مسجد و محراب میں دبانے کی کوشش کی۔ یہی کوشش سیکولر حضرات کی بھی ہے کہ قرآن کا پیغام مسجد میں مقیّد ہوجائے۔ یزید کے سامنے حسین خطرہ تھے اور یزیدیت کے سامنے حسینیت ہمیشہ سے نبردآزما۔یزیدیت کو خطرہ تھا تو اس کردار اور اس پیغام سے جو کردار اور بلندئِ اخلاق کا پیامبر ہے۔ سیکولرازم کو خطرہ ہے تو اسلام کے اس پیغام سے جو ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے جو ہوبہو احکاماتِ خداوندی کے تابع ہو۔ یزید بھی یہی چاہتا تھا کہ اس کی حاکمیت کو کوئی باکردار، بااخلاق اور احکاماتِ خداوندی چیلنج نہ کرسکے اور سیکولرازم بھی اسی امر کا خواہشمند ہے کوئی فلسفہ اور کوئی عقیدہ اس کی مطلق العنانی کا شریک نہ بن سکے ، اس کی بے راہ روی میں حائل نہ ہوسکے۔ یزید بھی ایسے معاشرے کا خواہشمند تھا جس میں عوام اپنے ذکروفکرِ گاہی میں مصروف رہیں اور سیکولرازم بھی یہی چاہتا ہے کہ ایسا معاشرہ قائم ہو جس کی سمت کا تعیّن خواہشاتِ نفس اورامراء کریں۔

جب تک قرآن ہمارے درمیان موجود ہے اور ہمیں قربانئِ حسین کی معرفت حاصل ہے ، سیکولرازم یا ملّائیت جیسی گمراہی ہم سے حقیقی فلسفۂِ بندگی اور مقصدِ زندگی نہیں چھین سکتی۔

اسلام کے دامن میں بس دو ہی تو چیزیں ہیں
اک ضربِ یداللّٰہی ، اک سجدۂِ شبّیری

(Visited 11 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: