پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ۔۔۔ کمائی کامستقل ذریعہ

0

وطن عزیز میں نہ تو وسائل کی کمی ہے اورنہ ہی ذہانت کی، بس فرق ہیومن ریسورس کے استعمال کا ہے ورنہ ہم بھی تیسری دنیا کے بجاے فرسٹ ورلڈ میں شامل ہوتے۔
ہمارے ملک پرخداکی رحمت کے کیاکہنے کہ زرعی پیدوارسے لیکرمعدنی ذخائرتک بے پناہ خزانے اس سرزمین میں موجودہیں اوران کوانسانی فلاح وبہبود میں لانے کےلیے درکارصلاحیتیں بھی دستیاب ہیں ،، لیکن ان سب کے باوجود بھی ہم نہ صرف ابھی تک ترقی پذیرہیں بلکہ روزبروز”ترقی معکوس” کرتے ہوئے قحظ زدہ اورڈیفالٹ کرجانےکی طرف گامزن ہیں۔ لگ بھگ ستربرس سے سیاستدان اور آمرحضرات ہر سال اس ملک کی آمدنی (وسائل) کو جی بھرکرلوٹتے آئے ہیں، پہلے پہل یہ سلسلہ صرف ان کے دوراقتدارتک محدودرہتاتھاکہ جیسے ہی تخت سے اترے،وہ مزیدلو ٹنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے تھے۔ لیکن اس دوران وہ کمیشن خوری کے ذریعے اپنی سٹیل،یاشوگرمل نہ صرف لگاچکے ہوتے بلکہ اس کی پراڈکٹ کو قوم کےلیے لازم بھی قراردلاچکے ہوتے تھے۔ بعدازاں خداکی عطاکردہ ذہانت کواستعمال میں لایاگیاتوفارمولہ تشکیل پایا قومی اداروں اورمنصوبوں کی نج کاری کا،کہ اس طرح “بعدازمرگ” بھی ثواب کاسلسلہ جاری رہ سکے۔۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کرتی گئی، ہمارے سیاستدان بھی کرپشن کے نت نیے طریقے اختیار کرتے گیے اورقومی اداروں کے بعد تجارتی اداروں پراجارہ داری (پولٹری اینڈپولٹیری فیڈکی صنعت،ڈبہ بند دودھ) کے ذریعے بھی مستقل کمائی کے سلسلے جاری رکھناشروع کردیئےگئے۔ اور اس سلسلے کی تازہ ترین اور “بہترین” مثال پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ” ہے۔۔۔ جیسے ہمارے حکمرانوں کوترقی صرف سڑکیں بنانےمیں نظرآتی ہے ٹھیک ویسے ہی ہمارے محکموں کو ہرچھوٹابڑا منصوبہ پوراکرنےکے لیے اچانک ہی فنڈزکی عدم دستیبابی کی شکایت درپیش ہوجاتی ہے اورپھر”مجبوراً”پی پی پی موڈ میں جاناپڑتاہے۔
پی پی موڈ کی چند عمدہ مثالوں میں لاہورمیں کاہنہ کاچھا میں فلائی اوور، نیا راوی پل نمایاں ہیں ۔۔اس کےعلاوہ پنجاب وہیہکل انسپکشن اینڈ سرٹیفکیشن سسٹم بھی اسی پی پی پی موڈ میں چل رہاہے ۔۔۔لاہورکاسدرن بائی پاس، شاہدرہ سے کالاشاہ کاکو ایکسپریس وے،ڈیفنس سے شرقپور بائی پاس،ایکواکلچر زون ان پنجاب،تحصیل اور ضلع اسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی،چار بڑے شہروں میں چھوٹے سپورٹس کمپلیکس،فیصل آباد اور لاہور میں واٹرٹریٹمنٹ پلانٹ،راولپنڈی رنگ روڈ،سیالکوٹ میں فلائی اوور کی تعمیرسمیت متعدد دیگر منصوبہ جات پی پی پی موڈ کے تحت بنائے جانے والے مستقبل کے منصوبوں میں شامل ہیں ۔۔۔
اب ان منصوبوں کےلیے ‘‘پرائیویٹ پارٹنرز ‘‘کون ہوتے ہیں،، یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ہوگی نہ؟؟؟؟

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: