بھارت کا مسلمان کہاں ہے؟ ——— خرم شہزاد

0

مسلمانوں کی شناخت عالمی طور پہ اپنی نالائقی اور بے بصیرتی کے باعث بالعموم منفی بن چکی ہے۔ ایسے میں دیکھا جائے تو مودی جی بلکہ انتہا پسند مودی جی کے دوسری بار ہندوستان کے وزیر اعظم منتخب ہونے کے پیچھے اگر مسلمانوں کا کردار نہیں ہے تو اور کون ہے جس کی وجہ سے مودی آج پورے طمطراق سے دنیا میں گھومتا پھر رہا ہے؟

یقینا آپ مجھ سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن یہ اختلاف صرف فیصد کے ہندسے کے کم یا زیادہ ہونے پر ہو گا۔ آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہندوستانی مسلمان وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے انتہا پسندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے اور طاقت پکڑنے کا طریقہ بتایا۔ ۱۹۴۷ء کی تقسیم کے بعد مسلمان خود بخود ایک اقلیت میں بدل گئے۔ اگرچہ وہ پہلے بھی کبھی اکثریت میں نہیں رہے تھے لیکن بہرحال حکومت میں تو تھے۔ حکومتوں کا وہ پرانا زمانہ بادشاہوں، راجوں اور مہاراجوں کا تھا اس لیے کہیں مسلمان حکومت کر رہے تھے تو کہیں ہندو، سکھوں نے بھی کشمیر سمیت بہت سے علاقوں پر حکومت کے مزے چکھے۔ حالات بدلے دنیا سے بادشاہت ختم ہو ئی کہ نہیں لیکن برصغیر سے تو اس کا جنازہ بھی نہ اٹھ سکا اور خاتمہ ہو گیا۔ مسلمانوں کا الگ ملک بن گیا اور ہندوستان میں مسلمان ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ایسے میں پہلا الیکشن آیا اور نمائندوں نے اپنے علاقوں میں عوام سے رابطہ مہم شروع کی تو بہت سے مسلمان علاقوں میں کھڑے ہونے والے غیر مسلم نمائندوں کو مسلمانوں کے پاس جانا پڑا۔ کرسی بہت پیاری چیز ہوتی ہے، دشمن کے پاس بھی محبت کا پیغام لے کر جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ جہاں کوئی مسلمان الیکشن میں کھڑا تھا اسے ووٹ دے دیا گیا لیکن جہاں صرف ہندو ہی کھڑے تھے وہاں کچھ ہاں ناں کے بعد کسی ایک کو ووٹ دے دئیے گئے۔ ایک دو الیکشنوں کے بعد انہیں پتہ چلنے لگا کہ بھئی ہم تو اپنے آپ کو ہلکا سمجھے بیٹھے تھے، ڈاکٹر سلام ہو، نہرو جی ہوں کہ بلو باربر، سب کا ووٹ برابر ہے اور اس ایک ووٹ سے کہیں کہیں بڑا فرق بھی پڑ جاتا ہے۔ وقت کی رفتار سمجھ آنے لگی اور بہت سے مسلمان بھی الیکشن میں کھڑے ہونے لگے لیکن مرکز کی سطح پر بات وہیں کی وہیں آجاتی تھی کہ ووٹ اگر مسلمان کو بھی ڈالا ہو تب بھی جیتنے والے کو کسی نہ کسی ہندو پارٹی کی حمایت ہی کرنی پڑتی تھی۔ کچھ ہی عرصے بعد باقاعدہ مسلمانوں نے اپنے ووٹ کے لیے میٹنگ اور مفادات کا ایجنڈا طے کرنا شروع کر دیا کہ ہم سے ووٹ چاہیے تو ہمارے مطالبات کی یہ فہرست ہے۔ اقلیت چاہیے کہیں کی بھی ہو، ایسے ہی اقدامات کرتی ہے اور اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتی ہے لیکن ہندوستان میں مسلم اقلیت سے یہ سبق سیکھ کر انتہا پسند ہندو اقلیت نے بھی اپنے آپ کو فعال کیا، جس کے نتیجے میں کچھ ہی سالوں میں صرف مظاہروں، جلاو گھیراو اور توڑ پھوڑ کرنے والے انتہا پسند ہندو ایک بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئے اور بی جے پی پر قابض ہو کر سیاست کی راہدایوں سے حکومتی ایوانوں تک پہنچ گئے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انتہا پسند ہندو مسلمانوں سے زیادہ چالاک نکلے اور انہوں نے اپنی انتہا پسندی بھی نہ چھوڑی اور عوامی خدمت کا جھنڈا بھی ہاتھ سے نہ گرنے دیا، جس کی وجہ سے اگلے ہی الیکشن میں دوسری بار کامیابی ان کا مقدر رہی۔ ہندوستانی مسلمان راہنما کل بھی اپنے پچیس کروڑ ووٹوں کا سودا کرنے کے لیے کسی نہ کسی مرکزی پارٹی کا منتظر تھا اور آج بھی صورت حال جوں کی توں ہے کہ نہ انہوں نے کل کچھ کیا تھا اور نہ آج وہ کچھ کرتے نظر آتے ہیں۔

بیرونی دنیا کی اگر بات کی جائے تو ساری دنیا کے لیے ہندوستانی مسلمانوں کے صرف دو تعارف ہیں۔ پہلا انڈر ورلڈ۔ ۔ ۔ داود ابراہیم، ڈی کمپنی، شکیل چھوٹا، فلاں لنگڑا، تلاں چاقو، ملاں ٹوکا۔ ۔ ۔ دوسرا تعارف بالی ووڈ۔ ۔ ۔ شاہ رخ خان، سلمان خان، عامر خان، تبو وغیرہ وغیرہ۔ ۔ ۔ ایک عام پاکستانی جو کہ پڑوس میں رہتا ہے اس سے لے کر ایک امریکی یا یورپی سے سوال کیا جائے کہ ہندوستانی مسلمانوں میں سے کسے جانتے ہو تو وہ بھی صرف انہی دو لوگوں سے متعارف ہو گا، تیسرے کسی شخص کو نہ وہ جانتے ہیں نہ ہم جانتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ ہندوستانی مسلمانوں نے ستر سال کہاں لگا دئیے؟ تعلیم، ٹیکنالوجی، صنعت اور کاروبار۔ ۔ ۔ کوئی بھی میدان مسلمانوں کی موجودگی کی گواہی دینے کو تیار نہیں۔ ہاں کم تعلیم یافتہ، مزدور اور ایسے ہی کوئی نچلے درجے کی نوکریوں میں تلاش کیا جائے تو یقینا مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد حاضر ملے گی۔ حالیہ دنوں میں کئی بڑے مالیاتی فراڈوں میں مسلمانوں کا نام بھی سامنے آیا ہے۔

الزامات، شکوے شکایات اور ہمدردیاں بٹورنے سے ہٹ کر حقیقت کو دیکھا جائے تو ہندو بھی یہ مانتے ہیں کہ ہر مسلمان انڈر ورلڈ سے تعلق نہیں رکھتا وہیں ہمیں بھی ماننا چاہیے کہ ہر ہندو انتہا پسند نہیں ہوتا۔ انتہا پسند ہندو بھی ہندوستان میں ویسے ہی ایک اقلیت ہیں جیسے مسلمان ایک اقلیت ہیں اور معتدل مزاج ہندو ان انتہا پسندوں کو ’اون‘ نہیں کرتے لیکن انتہا پسند ہندووں کی اقلیت نے اپنے آپ کو مسلمان اقلیت کی نسبت بہتر اندار میں ایک پلیٹ فارم پر نہ صرف اکٹھا کیا بلکہ ان کے پاس مستقبل کے بہت سے منصوبے بھی تھے، راہیں بھی اور عمل کے لیے جوش و جذبہ بھی۔ وہ سیاسی طور پر بھی متحرک تھے اور عوامی سطح پر بھی خدمت خلق کر کے ووٹ بٹورنے میں لگے ہوئے تھے۔ وہ گجرات میں ایک ہزار مسلمانوں کو قتل بھی کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی گجرات کو پورے ملک کے لیے ایک ماڈل بھی بنا دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے ایک ہزار مسلمانوں کے قتل سے لوگ نظر چراتے ہوئے انہیں ووٹ ڈالنے پہنچ جاتے رہے لیکن ان کے بر خلاف مسلمان راہنما صرف اور صرف آپسی اختلافات میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے بعد پچیس کروڑ ووٹوں کا سودا کرنے کے لیے کسی نہ کسی گاہک کے انتظار میں رہے۔

آج ہندوستان میں مسلمان کہیں نہیں ہے اور نہ ہی وہاں کے مسلمانوں کا کوئی سیاسی مستقبل ہے۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آنے والے کل میں ہندوستان کے اعدادوشمار میں مسلمان ختم ہو جائے گا۔ گجرات جیسے سانحے کے ساتھ ہر سال درجنوں ایسے سانحات ہوتے رہتے ہیں جن میں درجنوں مسلمان اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں لیکن اس سے کبھی بھی مسلمانوں کی معدومیت کا خطرہ پیدا نہیں ہوا۔ اس لیے اب مسلمانوں کو اپنی سیاسی او ر سماجی رونمائی پر بھی کام کرنا پڑے گا ورنہ آنے والے کل میں عالمی گاوں کے تقاضے انہیں دوسرے سے تیسرے یا چوتھے درجے کے شہریوں میں بدل دیں گے اور وہ صرف اپنی مظلومیت کا پلے کارڈ لیے کہیں کھڑے رہ جائیں گے۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: