ترقی کا نسخہ —– عبدالخالق سرگانہ

0

دنیا بڑی پیچیدہ اور گھمبیر ہے دنیا کو آپ دو اور دو چارکے حساب سے نہیں پرکھ سکتے۔ ایسا سمجھنا آپ کی حد درجہ سادگی ہوگی دنیا کے کئی رنگ ہیں کئی پرتیں ہیں اور کئی جہتیں ہیں۔ آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں اور غور سے دیکھیں تو آپ کو ان رنگوں کا اندازہ ہوگا آپ کے جاننے والوں میں ہررنگ کے لوگ ہوںگے کچھ بہت سادہ ہوںگے اور ہر وقت کام میں لگیں رہیں گے کچھ اصلی کام کو چھوڑ کر ادھر ادھر کے کاموں میں مصروف ہوںگے کچھ قابل اور لائق ہونگے کچھ درمیانے اور کچھ بظاہر کوئی کام نہیں جانتے ہونگے لیکن آپ نے دیکھا ہوگا کہ سب آگے بڑھ رہے ہوںگے کچھ مایوسی اور تلخی کاشکار ہوںگے وہ دوسروں کو اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔ کچھ خاموشی سے کام کرتے رہیں گے اور حرف شکایت زبان پر نہیں لاتے۔ لیکن کچھ سرپٹ دوڑ رہے ہوتے ہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت ہر دروازے پر دستک دیتے ہیں اور کچھ نہ کچھ لے کر ٹلتے ہیں بعض لوگوں کی حیرت انگیز کاموں کو آپ قدرت کا کمال سمجھتے ہیں یقینا قسمت کے عنصر کو آپ نظرانداز نہیں کرسکتے دیکھا گیا ہے کہ جو کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں۔ ترقی ہر کوئی کرنا چاہتا ہے لیکن یہ آپ نے طے کرنا ہے کہ ترقی آپ نے محنت اور تندہی سے اتنے کام پر توجہ دے کر حاصل کرتی ہے۔ یا کوئی اور طریقہ اختیار کرتا ہے.

جی ہاں کئی اور طریقے بھی موجود ہیں، ترقی کرنے کے کئی گر ہیں۔ مثلا ً خوشامد، جا سوسی، مہمان نوازی، سفارش رشتے داری برادری وغیرہ آپ ان میں سے بیک وقت دو تین ہتھیار بھی استعمال کرسکتے ہیں۔  آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ آپ زندگی کے کسی شعبے میں بھی اہلیت کے بل بوتے پر صرف ایک حد تک ترقی کرسکتے ہیں۔ اگرچہ ہر شعبے میں یقینا متشیات ہوتی ہیں۔ آپ اپنی قابلیت اور قسمت کے عنصر کو دیکھتے ہوئے مناسب ترقی پر مطمئن ہو جاتے ہیں تو بہت اچھا ہے لیکن بعض دفعہ آپ دیکھتے ہیں کہ آپ سے کم قابلیت اور اہلیت رکھنے والے مسلسل ترقی کی سیڑھی پر چڑھتے جارہے ہیں تو یقینا سوچ میں پڑجاتے ہوںگے اگرچہ کہیں کہیں یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ تیزی سے ترقی کی سیڑھیاں چڑھنے والوں کے قدم لڑ کھڑا جاتے ہیں اور سارے اثر و رسوخ اور چالاکیوں کے باوجود سنبھل نہیں پاتے، کچھ کی ترقی دیکھ کر آپ حیران اور پریشان ہوجاتے ہیں کیونکہ بظاہر اس کا کوئی جواز موجود نہیں ہوتا جی ہاں میں نے کہا تھا کہ دنیا دو اور چار کے فارمولے پر کام نہیں کرتی جو ’’قسمت‘‘ کے لکھے پرمطمئن نہیں ہوتے اور ہرحال میں ترقی کرنا چاہتے ہیں ان کیلئے راستہ کھلا ہے اور وہ ہے دو نمبری کا راستہ۔

میں نے کئی کامیاب لوگوں کی زندگی کا مشاہدہ کرکے کچھ سنہری اصول دریافت کئے ہیں عموماً ’’کامیاب‘‘ لوگ ان اصولوں کو کسی نہ کسی حد تک استعمال میں لاتے رہتے ہیں۔ یہ میں اس خیال سے ضبط تحریر میں لارہا ہوں کہ شاید کسی کا بھلا ہوجائے یہاں میں خبردار کردوں کہ اگر یہ پڑھ کرآپ کی طبیعت میں گرانی پیدا ہویا آپ کا پارہ چڑھنے لگے تو براہ مہربانی غصہ کرنے کی بجائے اسے بھول جائیں کیونکہ شاید یہ آپ کے لئے نہیں۔ اگر کسی دوسرے کا بھلا ہوتا ہے تو ہونے دیں۔

1۔ پہلا اصول یہ ہے کہ آپ جس محفل میں بیٹھیں اس میں بھرپور حصہ لیں۔ بلکہ ممکن ہو تو دوسروں کو بولنے کا موقع کم ہی دیں خیال رہے کہ زیادہ تر لوگ آپ کی طلاقت لسانی اوردماغ کی زرخیزی سے متاثر ہوںگے ہوسکتا ہے چند ایک آپ سے بچنے کی کوشش کریں تو انہیں نظرانداز کردیں۔

2۔ گفتگو سے ہی انسان متاثر کرتا ہے گفتگو میں ہمیشہ دوسروں کی خوشامد کریں کیونکہ خوشامد سے مؤثر کوئی دوسرا ہتھیار نہیں ہاں باتوں باتوںمیں اپنی تعریف بھی کرتے رہیں۔ اپنی تعریف میںمناسب مبالغہ آرائی انتہائی ضروری ہے۔ بھلا کون ہو گا جو آپ کے بیان کی تحقیق کرتا پھرے گا اگر کوئی کرتا بھی ہے تو کرنے دیں۔

3۔ برادری کا خواہ وہ نسلی ہو یا مذہبی بھرپور استعمال کریں۔ برادری ازم دراصل دوسرے تمام ازموں پر واضح فوقیت رکھتاہے۔

4۔ ذاتی مفاد کے حصول کے لئے کسی قسم کی جھجک کا شکار نہ ہوں ضرورت کے تحت نام نہاد اصولوں کی قربانی دینا دراصل بہترین اصول ہے۔ نوجوان ڈاکٹروں کی طرح یہ مضحکہ خیز دعویٰ نہ کریں کہ آپ دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے اس شعبے میں آئے ہیں سچی بات ہے کہ آپ اپنی اور اپنے خاندان کی بہتری کیلئے کوشاں ہیں۔

5۔ اختیارات اور مراعات کا جو آپ کو کسی حیثیت میں حاصل ہوں ذاتی فائدے اور خاندان کے مفاد میں استعمال نہ کرنا کفران نعمت ہے۔ اس معاملے میں کسی مصلحت یا خوف کاشکار نہ ہوں۔ دوسری صورت میں آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ دوسرے آپ کوبیوقوف اور بزدل سمجھیںگے۔ مثلاً اگر آپ نے رشتہ داروں کو ملازمت نہ دلائی خصوصاً اپنے محکمے میں تو آپ کی تو گھر میں بھی کوئی عزت نہیں ہو گی باہر والوں نے کیا کرنی ہے۔

6۔ پبلک ریلیشنگ کاکوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں بلکہ اس کے لئے ہر حربہ استعمال کرنا چاہئے۔ اس معاملے میں کسی جھجک یا انا اور جھوٹی اصول پسندی کا شکارنہ ہوں۔

7۔ وطن عزیز میں چونکہ ہر چیز سیاسی ماحول بدلنے سے تہس نہس ہوجاتی ہے اس لئے سیاسی گفتگو سے مفر ممکن نہیں تاہم آپ ہمیشہ حکومت وقت کے ساتھ رہیں۔ یہ ’’اصول‘‘ اور ’’مخبری‘‘ کی غلط فہمیوں سے حتی الوسع بچنا چاہئے اس سلسلے میں بڑی بنیادی بات یہ ہے کہ ظاہر ہے حکومت پچھلی حکومت کو گرا کر اقتدار میں آئی ہے تو یقینا کوئی خوبی تو اس میں فالتو ہوگی۔ ہاں کبھی کبھی ہلکی پھلکی بے معنی تنقید کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ کیونکہ زبان کا ذائقہ بدلنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

8۔ دفتر میں باس کو کوئی نیا آئیڈیا دینے سے گریز کریں۔ اگر آپ نے یہ غلطی کی تو نہ صرف یہ کہ آئیڈیے کا مذاق اُڑایا جائے گا بلکہ آپ کی ذہنی صحت پر بھی شک کیا جائے گا۔ بہترین پالیسی کام چلانا ہے۔

9۔ لوگوں کی کسی درخواست پر اعتراض نہ کریں بلکہ سب کو خوش کرنے کی پالیسی پر عمل کریں یہی طریقہ ہے ہر دلعزیز بننے کا، یہ میرٹ وغیرہ کی باتوں سے پرہیز کریں۔  ترقی ہر آدمی کامسئلہ ہے اس لئے مفاد عامہ کے لئے میں نے یہ ایک نسخہ تجویزکردیا ہے اگر آپ میں آگے بڑھنے کی اُمنگ کچھ زیادہ ہے تو ان میں سے کچھ چیزیں حسب ضرورت استعمال کریں اُمید ہے آپ اسے مفید پائیںگے۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: