موت کی خبر اور میڈیا کی عجلت —- اقرا بیگ

0

رات اچانک سو کر اٹھی، وائی فائی آن کرنے کے بعد موبائل کو دیکھنے میں مصروف ہوگئی کہ کیا اپ ڈیٹس ہیں؟ ابھی مکمل آنکھ کھل نہ پائی تھی ایک دو واٹس ایپ گروپس میں عابد علی کے انتقال کی خبریں گردش کرنے لگی۔ ۔ ۔ مجھے بھی فکر لاحق ہوئی پھر اس خبر کے حصول اور اسکی تصدیق کرنا شروع ہی کیا تو عابد علی کی صاحبزادی کا ٹیوٹ نظر سے گزرا۔ ۔ پھر اس ٹیوٹ کی تصدیق کرنے کے لئے ٹیوٹر پر رحما کی وال پر گئی، دل مطمئن نہیں ہوا، وہ صبح کے چار بجے کا وقت تھا۔ ایسے میں اپنے ذرائع کو فون کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ پھر عابد علی کی بیٹیوں ایمان علی اور راحمہ کا انسٹاگرام چیک کیا، پھر واٹس ایپ کے مختلف گروپس چیک کیے۔ ۔ ۔ اس خبر کی تصدیق میں کوئی آدھا گھنٹہ جس کے بعد میں اس نتیجے پہنچی کہ جو خبر مختلف گروپس میں گردش کر رہی ہے وہ درست نہیں بلکہ غلط خبر یا افواہ ہے۔ فنکاروں کے بارے میں ایسی بے شمار خبریں گردش کرتیں رہتی ہیں۔ ۔ جیسے کسی کی شادی،کسی فنکار کا افیئر یا بریک اپ وغیرہ۔ ۔ ۔ ویسے اب نئے آرٹسٹ اور پرانے آرٹسٹ یا یہ کہے کہ اب دو قسم کے شخصیات ہیں ایک وہ جو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے مداحوں کو معاملات زندگی سے آگاہ رکھتے ہیں اور دوسرے شوبز شخصیات وہ جو سوشل میڈیا میں ایکٹیو نہیں۔ ۔ چلیں۔ ۔ یہ بات تو سوشل میڈیا استعمال کرنے اور نہ کرنے والوں کے بارے میں ہے۔ ۔ ہر ایک اپنی سوچ کے مطابق اسے استعمال کرتے ہوئےاپنے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔ ۔ مگر صحافی اور بلاگرز حضرات جن کی ایک خبر کی کتنی اہمیت ہو سکتی ہے یہ تو انہیں معلوم ہونا چاہیے ناں؟ بلاتصدیق کیے کسی بھی خبر کو کیسے نشر کر سکتے یا اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔ ۔

چونکہ میں شوبز رپورٹر ہوں۔ ۔ میں نے فنکاروں، شعرا حضرات اور ادبی شخصیات کی ایسی بہت سی خبریں اپنے اداروں کی دیں۔ ۔ ۔ میں براڈکاسٹ میڈیا کا حصہ ہوں اور یہ جانتی ہوں کہ خبر کو آپ زیادہ دیر روک نہیں سکتے لیکن ایک لمحے کے لئے اس فنکار، شاعر یا بڑے آدمی سے جڑے خاندان کے بارے میں تو سوچیں کہ محض آپکی ایک خبرسے پر ان پر کیا بیتے گی؟ آپ کی ایک خبر ہو گی جو تیس سے پنتالیس سیکنڈ میں ختم ہو جائے گی، مگر ایک خبر کسی خاندان پر کتنی اذیت ناک ہوسکتی ہے کہ جب وہ اپنے پیارے کو زندگی موت کی جنگ لڑتے دیکھ رہا ہو، ایسے میں باہر سے اس کے آس پاس سے اسی کے پیارے کی اس سے بچھڑ جانے کی خبریں ملنے لگے، اسکا پیارا اسکے آنکھوں کے سامنے تکلیف میں ہو اور خبریں موت کی چلیں۔ ۔ کتنا تکلیف دہ اور اذیت ناک کا منظر ہوتا ہے ان خاندانوں پر۔ ۔

مجھے یاد ہے کہ ذہین طاہرہ حیات تھیں تو ان کے بیمار ہونے کے بعد ایسے بے شمار خبریں گردش کررہی تھی، بار بار مجھے اپنے ادارے کو انکی صحت کے بارے میں مطلع کرنا پڑتا، ان کےبھانجی یا پھر بھتیجی کو کال کرکے یا پھر اپنے دوسرے ذرائع سے۔ ۔ ۔ ایسا ہی بجیا کی مرتبہ بھی ہوا کہ ان کی صحت کے بارے میں ہر دو ایک روز بار اپنے ذرائع کو کال کرنی پڑتی۔ ۔ ویسے ایک بات بتاو یہ کام آسان نہیں کہ ایک مرتے ہوئے انسان کی صحت کے بارے میں یہ پوچھا جائے کہ اب انکی طبیعت کیسی ہے؟ اب کیا اتنی سفاکی بھی کرنے کی گنجائش رہ گئی کہ بلا تکلف یہ پوچھ لیا جائے کہ کتنی سانسیں باقی ہیں؟ مجھے یاد ہے کہ جمیل الدین عالی کے انتقال کی خبر کے بارے میں بھی مجھے با ربار کہا گیا کہ وہ حیات نہیں رہے حالانکہ جب میں اپنے ذرائع سے پوچھتی تو تردید کی جاتی۔ ۔ جمیل صاحب بستر مرگ پر کافی عرصہ تک رہے، اسی لئے ان کے بارے میں یہ افواہیں پھیلائی جاتیں رہیں، آخر جب ان کا انتقال ہوا تو مجھے خبر کنفرم کے لئے میرا رابطہ میرے ذرائع سے نہیں ہو پا رہا تھا تصدیق کیسے کرتی؟ ادھر آفس بضد تھا کہ ان کے انتقال کا بیپر دے دیں، میں نے انکار کیا تو ڈیسک سے کہا گیا کہ بیپر پر آپکا ہی نام لکھا ہے، میں نے جب زیادہ انکار کیا تو ڈیسک کی جانب سے کہا گیا کہ ان کے بیٹے راجو جمیل نے آج نیوز پر بیپر دیا اور اپنے والد کے انتقال کی خبر دی، ایسے میں میں نے ریموٹ اٹھایا آج ٹی وی پر جب ان کے بیٹے راجو جمیل کی جانب سے تصدیق شدہ خبر پڑھی گئی تو پھرکہیں میں نے ان کے انتقال کی خبر دی۔

مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک ذمہ داری ہے جسے کی ادائیگی میں تاخیر تو ہو سکتی ہے، لیکن موت کی خبرکی تصدیق ضروری ہے۔ سوال ہے کہ کیا آپ کسی کو ایک سے دو منٹ پہلے خبر دے کر مار دیں تو آپ نے کونسا کوئی بریکنگ یا کوئی بڑی ایکسکلوسو دے دی؟ کیا کسی کی موت کی خبر پہلے نشر کرکے آپ کو کوئی ترقی مل جائے گی؟ یا آپ بڑے صحافی بن جائیں گے؟ یہ ایک تیس سے پنتالیس سیکنڈ کے بیپر سے زیادہ اور کچھ نہیں، لیکن اس کے بدلے میں آپکو بہت زیادہ لعن طعن یا برا بھلا کہا جائے۔ ۔ کہ بھیا یا بہنا صحافی کا کام کسی جگہ چیخ چلا کر یا سنسی پھیلا کر خبر دینا نہیں بلکہ کسی بھی خبر کو دینے سے قبل اسکو تصدیق کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ ۔ اگر واٹس ایپ کے مختلف گروپس سے کاپی پیسٹ کرنے سے فرصت مل جائے تو کسی کو فون لگا کر پوچھ لیں، شاید کوئی غصہ میں آپکو کچھ کہہ دے لیکن اصل خبر سے تو آپ واقف ہو جائیں گے جو ایک صحافی کا بینادی کام ہے۔ ۔ اور ہاں کاپی پیسٹ کے علاوہ اپنی ڈیسک پر بیھٹے لوگوں کو سمجھانے کی ذمہ داری بھی آپ ہی کی ہے، مگر پھر بھی کوئی نہ مانے تو آپ کہہ دیں کہ اپنی ذمہ داری پر خبر چلوالیں مگر کسی کو زبردستی نہ ماریں، وہ بھی جان سے۔

(Visited 1 times, 14 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: