تنہائی —— داؤد احمد کا انشائیہ

0

وہ کسی سے مل کر حاصل نہیں ہوتی۔ وہ کسی کے پاس پڑی نہیں ہوتی۔ وہ ہر ایک کے اندر ہے مگر ہر ایک کے لئے اُس کی شکل مختلف ہے۔ وہ کوئی راز نہیں ہے لیکن ہر کوئی اُس تک آسانی سے رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔ وہ ہر کسی سے ملتی بھی نہیں ہے۔ وہ اُس وقت آتی ہے انسان کے پاس کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔ وہ صرف اپنے چاہنے والوں کے پاس آتی ہے اور جب آجاتی ہے تو اپنی مرضی سے جاتی نہیں ہے۔ اپنے چاہنے والوں کی چاہت کا احترام کرتی ہے۔ جب اس کے چاہنے والے اُس سے دُور جانا چاہیں تو اُس سے دُور چلے جاتے ہیں، تب وہ بھی اپنی موجودگی کو سمیٹ لیتی ہے۔ کچھ لوگ اُسے اپنا دوست سمجھتے ہیں اور کچھ دشمن۔ لیکن سب اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ اسے دوست سمجھنے والے اس سے بہت ساری باتیں کرتے ہیں مگر وہ سب سے باتیں نہیں کرتی۔ صرف ان سے بولتی ہے جنھیں وہ اپنا دوست سمجھتی ہے۔ بہت سے لوگوں کی خواہش ہے کہ وہ اُن سے باتیں کرے مگر اُسے اِس معاملے میں قائل کرنا آسان نہیں۔ جو لوگ اُس سے باتیں کرتے ہیں اُن کا کہنا ہے وہ بہت اچھی سامع ہے۔ سب باتیں سُنتی ہے اور بہت غور سے سُنتی ہے۔ اور جِن لوگوں سے وہ باتیں کرتی ہے وہ اس کی ہر ادا پر واری جاتے ہیں۔ وہ اُن سے لڑتی بھی ہے، جھگڑتی بھی ہے، روٹھتی بھی ہے اور پھر مان بھی جاتی ہے۔ وہ دل کی سچی ہے، زیادہ عرصہ اپنے دوست سے رُوٹھی نہیں رہ سکتی۔ جن لوگوں نے اُس کی باتیں سُنی ہیں اُن کا کہنا ہے کہ وہ سچے دوست کی تلاش میں ہوتی ہے اور جب اُسے اپنی پسند کا دوست مل جاتا ہے تو وہ اُس کی ہو جاتی ہے۔ اُس سے جُدا ہونا نہیں چاہتی۔ وہ اپنے ہر دوست سے اُس کی زبان میں بات کرتی ہے۔ بہت سے لوگ اُسے اپنا دوست سمجھتے ہیں جبکہ اُس کا خیال ہے کہ اُس کے دوست بہت کم ہیں۔ اُس کا کہنا ہے کہ دوستی کے لئے صرف ایک ہی تقاضا ہے، وہ ہے اُس کے حصول کی خواہش میں اخلاص۔ اب ظاہر ہے ہر کوئی اتنا بڑا تقاضا پُورا نہیں کر سکتا، اس لئے ہر کوئی اُس کا دوست نہیں۔

دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو اُسے اپنا دُشمن سمجھتے ہیں، لیکن وہ اُن کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے اور اُنہیں اپنا دُشمن نہیں سمجھتی۔ اُسے اپنا دُشمن سمجھنے والے اپنی کئی پریشانیوں کا ذمہ دار اُسے سمجھتے ہیں۔ اس بات سے وہ متفق نہیں۔ ایسے لوگ اُس سے دُور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں اور اُس سے قُربت کی خواہش نہیں رکھنا چاہتے۔ اُس کا خیال ہے کہ اپنی حالت کے ذمہ دار وہ لوگ خود ہیں۔ تاہم یہ بات وہ اُنہیں نہیں بتاتی۔ اُس کے بارے میں بہت زیادہ معلومات رکھنے والوں نے ایک اہم بات یہ بتائی ہے کو وہ کچھ ایسے لوگوں کو بھی دوست رکھتی ہے جو اُسے اچھا نہیں سمجھتے اور اُس سے دُور بھاگتے ہیں۔ اسی طرح کچھ ایسے لوگوں کو اپنا دوست نہیں سمجھتی جو اپنی دانست میں اُسے اپنا رفیق سمجھتے ہیں۔ یہ ایک عجیب سی بات ہے بظاہر۔ تاہم اس بارے میں اُس کا اپنا نقطۂ نظر سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ جن کو وہ اپنا دوست سمجھتی ہے اُن پر اپنے گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے چاہنے والوں کو صرف خاموش فضا میں ملتی ہے۔ اس بات سے وہ جُزوی اختلاف کرتی ہے۔ اسی طرح کُچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ تاریکی میں بھی مل سکتی ہے۔ اس بات سے بھی وہ مکمل متفق نہیں، بلکہ کبھی کبھار تو وہ بڑی شدت سے اس خیال کی نفی کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اُس سے ملنے کے لئے تاریکی یا خاموشی کوئی شرط نہیں ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ وہ صرف زندہ لوگوں سے ملتی ہے اس لئے اس جہان میں پائی جاتی ہے۔ اُس سے ملنے کے لئے الفاظ اور خیال کا ہونا اہم ضرور ہے لیکن کوئی کڑی شرط نہیں۔ تاہم خیال الفاظ کی نسبت اُس کی نظر میں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اُسے لوگوں کے روئیے پریشان کرتے ہیں جب لوگ اُس پر الزام لگاتے ہیں، اُسے بُرا بھلا کہتے ہیں۔ اُسے اپنے سے دُور چلے جانے کو کہتے ہیں۔ تب وہ روتی بھی ہے اور زیرِ لب شکوہ بھی کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ لوگوں کے بہت سے کام اُس کی وجہ سے ہوتے ہیں لیکن وہ اس کی برملا تعریف نہیں کرتے اور سارا کریڈٹ خود لے جاتے ہیں۔ اُسے یہ بات پسند تو نہیں لیکن وہ برسرِعام اس کا اظہارنہیں کرتی۔ اُسے اپنی تعریف و توصیف پسند نہیں لیکن یہ بھی پسند نہیں کہ سچی بات چُھپائی جائے۔ کچھ گُداز دل اور پُر خلوص لوگ اُس کی رفاقت کی بڑی قدر کرتے ہیں، اور جب بھی موقع ملتا ہے اُس کے گُن گاتے ہیں اور اُسے اپنا سرمایۂ حیات سمجھتے ہیں۔ اپنی تعریف سُن کر وہ شرم سے جُھک جاتی ہے لیکن کُچھ بولنے سے گریز کرتی ہے۔ تاہم اپنے دوست پر اپنی رفاقت اور قُربت کے اثرات اور زیادہ گہرے ثبت کرتی جاتی ہے۔ تاآنکہ وہ شخص مُشاہدہ ہفت افلاک کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت اُس شخص کی کیفیت دیدنی ہوتی ہے۔ اور وہ بڑے خلوص کے ساتھ اِس کا کریڈٹ اُسے دے رہا ہوتا ہے۔ لیکن وہ کہتی ہے کہ جو جس چیز کا حقدار ہوتا ہے اُسے وہ چیز ضرور ملتی ہے۔ وہ اُس شخص کے الفاظ بڑے غور سے سُن رہی ہوتی ہے جب وہ کہہ رہا ہوتا ہے:

“تنہائی میں یادِ خُدا تھی
تنہائی میں خوفِ خُدا تھا
تنہائی میرے دِل کی جنت
میں تنہا ہوں، میں تنہا تھا”

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: