رونا —— داؤد احمد کا انشائیہ

0

میری ظاہری شکل ایک ہی ہے لیکن میرے وجُود کے باطنی اسباب قطعی مختلف اور کثیر تعداد میں ہوتے ہیں۔ یہ باطنی اسباب کبھی کبھی ایک دُوسرے سے قطعی متصادم بھی ہوتے ہیں لیکن اکثر و بیشتر ایک جیسے بھی ہوتے ہیں۔ ہر دو صورتوں میں میرے اثرات بھی جُدا جُدا ہوتے ہیں۔ میرے وُجود کی اہمیت غالباً میرے اثرات سے لگائی جاتی ہے۔ میرا اور ذی رُوح کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مُجھے زندگی کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے اور زندگی کے خاتمے کا نشان بھی۔ میں کسی ذی رُوح کے اندر مستقلاً موجُود نہیں ہوتا ہوں لیکن اس کے باوجود میرے بغیر کسی ذی رُوح کی بنیاد اور اس کی زندگی کے تسلسل کا قائم رہنا محال ہے۔ میں ذی ارواح کے باہر بھی نہیں ہوتا ہوں۔ میں ان کے باہر قائم نہیں رہ سکتا۔ میں سب سے زیادہ انسانوں میں مقبول ہوں۔ میں ان کی مختلف اچھی یا بُری کیفیات کا مظہر ہوں۔

میں بات کر رہا تھا اپنی ظاہری شکل کی۔ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ کیفیات اچھی ہوں یا بُری اُن کی شِدّت سے مَیں وُجود میں آتا ہوں اور دونوں صورتوں میں میری ظاہری شکل ایک ہی ہوتی ہے۔ جب میں باہر آ جاؤں تو صاف پہچان لیا جاتا ہوں اور جس شخص کے اندر سے برآمد ہوتا ہوں وہ اور اُس شخص کے آس پاس والے میری آمد کو سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی میں باہر نہیں آتا اور اچھی یا بُری کیفیات کے نتیجے میں مَیں وجود کا لبادہ اوڑھ چُکا ہوتا ہوں۔ اس صورت میں مُجھے صرف وہی شخص جانتا ہے جس کے اندر میں موجود ہوتا ہوں، اس کے علاوہ کوئی مجھے نہیں جان سکتا۔ تاہم کچھ تیز نظر لوگ میرے اس شخص پر اپنے اثرات کی وجہ سے کچھ کچھ پہچاننا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر میں لوگوں کے اندر موجود رہوں اور باہر نہ آ سکوں تو میری وجہ سے ان کے دل بوجھل ہو جاتے ہیں، ان کی شخصیت ٹُوٹ پُھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔ لیکن باہر آکر عارضی طور پر اُن کے لئے قدرے سکُون کا باعث بھی بنتا ہوں۔

کبھی کبھی میں نہ باہر آتا ہوں اور نہ اندر ٹھہرے رہنے پر قادر رہتا ہوں۔ یہ بڑی تکلیف دہ حالت ہوتی ہے۔ میرے لئے نہیں بلکہ اس شخص کے لئے جس پر یہ سب بیت رہی ہوتی ہے۔ میں جُدائی اور وصال کے وقت بھی ظاہر ہوتا ہوں۔ میں جسمانی اذیت کے نتیجے میں بھی معرض وجود میں آجاتا ہوں۔ میں ارادوں کے ٹُوٹنے اور خواہشوں کے ملیا میٹ ہونے پر بھی نمودار ہوجاتا ہوں۔ میں بے بسی کی حالت اور بے چارگی کے احساس کے نتیجے میں بھی ظاہر ہو جاتا ہوں۔ میں گزرے وقتوں کی یاد کی مجسم حالت میں بھی ہوتا ہوں اور آنے والے وقت کے خوف کا مظہر بھی ہوتا ہوں۔ میں مایوسی کی اُبلتی شکل بھی ہوتا ہوں۔ ناکامی کی ٹوٹتی لڑیاں بھی ہوتا ہوں۔ احتساب اور پُرسشِ احوال کا سُلگتا دریا بھی ہوتا ہوں۔ مغفرت کے لئے کی گئی التجاؤں کی بارش بھی ہوتا ہوں۔ میں گھبراہٹ کا آئینہ بھی ہوتا ہوتا ہوں۔ ان سب باتوں کے باوجود میں مسرتوں کی شہنائی بھی ہوتا ہوں۔ ملاپ اور وصال کے لمحے کا ٹھہراؤ بھی ہوتا ہوں۔ کامیابی کی ہنسی بھی ہوتا ہوں۔ فتح کا تبسم بھی ہوتا ہوں۔ میری ظاہری صورت ایک ہی ہے لیکن میرے وجود کے باطنی اسباب بہت سے اور مختلف وقتوں میں ایک دوسرے سےمختلف ہوتے ہیں۔ میری اہمیت کا اندازہ میرے اثرات سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

عمومی طور پر لوگ مجھ سے خائف رہتے ہیں، لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو مُجھے قُربتِ الٰہی کا باعث سمجھتے ہیں۔ اگر میں دورانِ نماز ظاہر ہو جاؤں تو نمازی کی نماز میں خشوع و خضوع پیدا ہونے کے قوی امکانات ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ مُجھے یاد کرتے ہیں۔ مُجھ سے محبت کرتے ہیں اور دن رات مجھے اپنے پاس محسوس کرنا چاہتے ہیں۔ بہت سے لوگ رسول ص کی یاد اپنے سینے میں دبائے رہتے ہیں اور میری آمد سے اُن کے چہرے اس یاد سے منور ہو جاتے ہیں۔ وہ مجھے اس مقدس یاد سے ملنے والی روشنی کا ذریعہ بھی سمجھتے ہیں۔ میں ان کے جسم کی سنسنی کو مہمیز کرتا ہوں، اُن کی دعاؤں کے لفظوں کو معانی پہنانے میں مدد کرتا ہوں۔ اُن کے کپکپاتے ہاتھوں کو قوت دیتا ہوں۔ اُن کے لرزتے ہونٹوں کو طاقت بخشتا ہوں۔ میں اُن کی زبان کی لڑکھڑا ہٹ کو سنبھالا دیتا ہوں۔ اُن کی آہ و فغاں کو سہارا دیتا ہوں۔ اُن کی عاجزی میں استقلال پیدا کرتا ہوں۔ اُن کے قلب کی دھڑکن کو اعتدال عطا کرتا ہوں۔ اُن کی سانس کے زیرو بم کو بحال رکھتا ہوں۔ اُن کی گردشِ خون کو متوازن رکھتا ہوں۔ اُن کی سماعتوں کو غیر ضروری آوازوں سے پاک رکھتا ہوں۔ اُن کی توجہ کو رسول ص کی یاد کی طرف بڑھاتا ہوں۔ اُن کی روح کی سرشاری کی آبیاری کرتا ہوں۔

میں آنکھوں کے راستے سے آتا ہوں، آنسُو بن کر چہروں پر ٹپکتا ہوں۔ باہر نہ آ سکوں تو دل میں گرتا ہوں۔ ہر دو صورتوں میں میرے اثرات مختلف ہوتے ہیں۔ مُجھ سے خائف رہنے والے بہت سے ہیں لیکن مُجھ سے محبت کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ میرا کوئی مُستقل وُجود نہیں اور میں کسی بھی وقت پیدا ہو سکتا ہوں۔ اپنے دیکھنے والوں کو رُلا بھی سکتا ہوں اور اُنہیں دائمی سکون سے ہمکنار بھی کر سکتا ہوں۔ میں کئی مرتبہ پیدا ہوتا ہوں اور ہر مرتبہ لوگوں پر مختلف اثرات چھوڑتا ہوں۔ آؤ! مُجھے پا لو۔ جو مُجھے شوق سے حاصل کرے اس کی نجات کا باعث ہوں۔ جو مُجھے ترک کرے اور مُجھ سے دُور بھاگے اس کے لئے مزید دُکھ لاتا ہوں۔ کوئی مُجھے ڈھونڈ نہیں سکتا۔ میں لوگوں کی مختلف کیفیات کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہوں۔ میں دھوکا نہیں ہوں، میں فریب نہیں ہوں۔ میں آنے والے کے ساتھ آکر آنے والے کو رُلاتا ہوں اور جانے والے کی جُدائی میں دوسروں کی آنکھ نم کرتا ہوں۔ میں موت بھی ہوں اور زندگی بھی ہوں۔ میرا تعلق تمام زمانوں سے ہے۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: