وہ بارشوں میں فون کرنے والے کیا ہوئے؟ —- اظہر عزمی

0

(ایک اشتہاری کی باتیں)

بارش صبح سے ہورہی تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شدت بڑھتی چلی جارہی تھی۔ شام کو بابا کا فون آگیا۔

ہاں میاں ۔ ۔ ۔ ابھی تک آفس میں ہو؟
جی بابا!
بس اب گھر آنے کی کرو۔ سارا شہر جھل تھل ہورہا ہے۔ گھٹنوں گھٹنوں پانی جمع ہے۔
جی مجھے پتہ ہے۔
کیا پتہ ہے۔ باہر نکل کر روڈوں کا حال دیکھا ہے۔ ابھی میں بڑی مشکلوں سے گھر پہنچا ہوں ۔ تمھارے علاوہ سب بچے گھر آچکے ہیں۔
آپ فکر نہ کریں۔ میں کسی نہ کسی طرح آجاوں گا۔
کیسے آجاو گے۔ روڈ پر بسوں ٹیکسیوں کا نام و نشان نہیں اور ایک بات تو بتاو یہ گاڑئ گھر پر سجانے کے لئے لی ہے کیا؟ اتنے پیسے ہیں کہ رکشہ ٹیکسی میں آسکو۔
ہو جائیں گے
جیب میں ہوں گے تو ہوں گے۔ بارش کا زمانہ ہے گھر سے زیادہ پیسے لے کر نکلا کرو۔ تمھاری یہ بے دھیانی کی عادت جائے گی نہیں۔
بابا میں نے کہا ناں ہو جائیں گے۔ آفس میں کوئی موٹر سائیکل والا کہیں راستے میں اتار دے گا۔
کہہ دیا ہے اس سے۔ کہیں وہ تمھیں چھوڑ ہی نہ آئے۔
جی جی کہہ دیا ہے۔
سنو تمھاری ماں نے آلو بھرے پراٹھے بنائے ہیں ۔ تم آجاو گے تو پکوڑے بھی تل لیں گے۔ بارش رک جائے تو بیوی بچوں کو لے کر آسکو تو آجاتا ۔ گھر پہنچتے ہی فون کرنا کہ گھر پہنچ گئے۔

________________________________________________

ابھی کچھ دیر ہی گذری تھی کہ ٹیلی فون آپریٹر نے کہا کہ آپ کی وائف کا فون ہے۔

ارے آپ ابھی تک آفس میں ہیں۔
بس نکلنے کی کررہا ہوں۔ بابا کا فون بھی آیا تھا۔ امی نے آلو بھرے پراٹھے بنائے ہیں اور پکوڑے بھی تل رہی ہیں۔
اچھا تو کیا سیدھے وہیں جائیں گے؟ اور میں نے جو آلو کا کسہ اور پوریاں بنا کر رکھی ہیں۔ پہلے بتانا تھا۔
پہلے کیا بتاتا۔ ابھی بتایا ہے بابا نے۔
بابا کا فون دو مرتبہ یہاں بھی آچکا ہے۔ آپ کا پوچھ رہے تھے۔ پانچ مرتبہ افس کال کر چکی ہوں۔ اب کہیں جا کر نمبر ملا ہے۔ آپ کو تو خیال ہی نہیں آتا ۔ گھر میں بیوی بچے اکیلے ہوں گے۔
ارے بس ۔ ۔ ۔ کیا بتاوں کال کرنے کی سوچ رہا تھا۔
اچھا سنیں ۔ پھر میں بچوں کو بھی تیار کرا دیتی ہوں ۔ اپنی گاڑی پر ہی چلیں گے؟
ہاں بھائی بارش میں کون سی سواری ملے گی۔
تو یہ گاڑی گھر میں کھڑی کرنے کے لئے لی ہے کیا؟ عجیب آدمی ہیں آپ بھی ۔ گھر میں گاڑی ہے اور صاحب بسوں میں آجا رہے ہیں۔ میں تو کہتی ہوں بیچ ہی دیں۔
بابا بھی یہی کہہ رہے تھے۔
اچھا بس فون رکھیں اور آنے کی کریں۔ سنیں واپسی پر تھوڑی دیر کے لئے امی کے ہاں بھی ہو لیں گے۔
ہاں بھائی مکہ جائیں تو مدینہ جانا تو بنتا ہے۔
________________________________________________

بارش آج بھی ہورہی ہے۔ روڈوں پر پانی بھی بہت جمع ہوگا ۔ وہ آفس میں ہے اور موبائل فون اس کے ہاتھ میں ہے۔ ایک اشارے میں کال مل سکتی ہے لیکن وہ جانتا ہے اب یہ کالز نہیں آئیں گی ۔ زمانہ آگے چلا گیا ہے۔ اس کے چاھنے والے یہ لوگ ایسی جگہ جا سوئے ہیں جہاں ٹیکنالوجی تمام تر ترقی کے باوجود نہیں پہنچ سکتی ۔

ڈانٹ بھری محبت کے ساتھ، ہلکی سی ناراضگی میں رچی محبت کے ساتھ۔

وہ بارشوں میں فون کرنے والے کیا ہوئے۔

مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 16 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: