یوٹوپیا کے میدانوں سے —- محمد عفان

0

برکت مارکیٹ کی وہ رات کہ جب حالتِ بے روزگاری میں رنگ برنگی محفلیں جما کرتی تھیں تو ہمارے سامنے مختلف خیالی مسودے بھی پڑے رہتے تھے۔ راتوں کو لاہور کی سڑکوں پر آوارہ گردی اور رات کے پرندوں کی طرح اِدھر سے اُدھر اڑتے رہنا، کبھی ایک در پر جا بیٹھنا تو کہیں دوسرے کی خاک چھانتے رہنا۔ را ت کی دنیا حقیقت میں ایک الگ ہی جہان ہے جس میں انسان پر بہت سے پردے کھلتے ہیں۔ خیر اسی عالمِ بیروزگاری میں ان مسودوں کا تعلق بہرحال روزگار سے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا۔ بیٹھے بیٹھے یونہی جنید نے کسی نوکری کا مشورہ دیا تو میں نے کسی بدمزاج شہزادے کی طرح اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کردیا۔ اس نے ساتھ ہی کسی اور طرف توجہ دلائی تو اسکو بھی انکار کی ٹوکری کی نظر کردیا۔ اب ابرار یک دم جھنجھلا اٹھا۔ کہنے لگا ’’عفان تو اتنی خیالی دنیا میں کیوں رہنے لگا ہے کہ جہاں تجھے ہر شے پرفیکٹ چاہیئے؟ ایسے نہ ہو ویسے ہو۔ اس خام خیالی کو ’’یوٹوپیا‘‘ (Utopia) کہتے ہیں کہ جس میں انسان کی ایک الگ اختراعی دنیا ہو تی ہے جہاں وہ پرفیکشن کے قریب تر ماحول کی توقع کرے۔ ‘‘یہ بات کانوں کے راستے جب دماغ میں اتری تو کسی بزرگ کی غضب ناک نصیحت کی مانند محسوس ہوئی۔ پھر خیال آیا کہ یہ کیفیت صرف میری تو نہیں،چراغ حسن حسرت بھی تو کچھ یونہی کہہ گئے:

ناکام تمنا دل اس سوچ میں رہتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا؟ یوں ہوتا تو کیا ہوتا؟

اور ابھی جب میں کالم لکھنے بیٹھا ہوں تو لیمپ کی مدہم روشنی کمرے کی دیواروں سے ٹکرا رہی ہے اور ناکام تمنا دل کسی سوچ میں مبتلا ہے کہ کیا سید المرسلینﷺ کی لاچار امت پر چھائے غم کے بادل کبھی چھٹ پائیں گے یا یونہی اسکا مقدر دربدری کی حالت میں رہے گا؟ کیا نواسہ رسول امامِ عالی مقام حضرت امام حسین ؑ کی عظیم قربانی کی یاد ہر دور میںایسے ہی تازہ ہوتی رہے گی ؟پہلے فسلطین پھر عراق اور یمن اور اب کشمیر میں ظلم کی نئی داستانیں۔ ۔ ۔ جب میں نے عالم اسلام اور خاص طور پر کشمیر کی ا س بدلتی صورتحال پر غور کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہاں جاری مظالم کا پیٹرن کوئی نیا تو نہیں۔ بالکل اسی نوعیت کی صورتحال سے دوچار تو فلسطینی بھی ہیں۔ اس وقت بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہوکی شخصیت اور دونوں کے طریقہ کار میں اس قدر مماثلت ہے کہ قارئین شاید جان کر حیران رہ جائیں۔

اگر آپ بھارتی وزیراعظم کا 2017 کا اسرائیل کا دورہ ملاحظہ کریں تو نیتن یاہو کا جوش اور خوشی دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مودی اور نیتن یاہو کا جوڑ دراصل ایک فطری جوڑ ہے۔ اسرائیل میں کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا یہ پہلا دورہ تھا۔ دونوں کی فسطائیت،جنونیت اور مذہبی شدت پسندی ایسے خطوں میں سر چڑھ کر بول رہی ہے کہ جہاں مذہبی بنیاد پر پہلے ہی بہت سے فسادات ہوچکے ہیں اور مزید ہورہے ہیں اور ان فسادات کو براہ راست انکے اقدامات سے ہوا مل رہی ہے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیتن یاہو اور نریندر مودی کیسے مشترک ہیں اور اگر ہیں بھی تو کتنے؟ سب سے پہلے تو اسرائیلی نو آباد کاری کا طریقہ کار اس چیز کا بڑا واضح ثبوت ہے۔ صہیونیت اپنے پنجے جس انداز سے فلسطین میں گاڑ رہی ہے اور فلسطینیوں کو انکی اپنی ہی زمین سے بے دخل کر رہی ہے وہ پہلے تک تو تاریخ کا انوکھا واقعہ ہی تھا لیکن اب کشمیر میںبھی اسی طرز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ آرٹیکل 370 کو ختم کیئے جانے کے بعد کشمیریوں کی سرزمین اب کوئی بھی خرید سکتا ہے اور کشمیر میں ہندو آبادکاری کا ایک منصوبہ مودی حکومت کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے۔ اس طریقہ کار کو اسرائیل میں بھی استعمال کیا جاچکا ہے جس کو ’’سیاسی صہیونیت‘‘ کہتے ہیں۔

دوسری مشترکہ خوبی یہ کہ اسرائیل ایک آئیڈیالوجیکل سٹیٹ ہے جس کی نظریاتی سرحدوں کی بنیاد صہیونیت پر قائم ہے۔ اسرائیل کویہودی قوم کا نمائندہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ بالکل اسی نظریے کو بنیاد بنا کر صدر ٹرمپ نے کچھ عرصہ قبل امریکی یہودیوں کو پیغام دیا تھا کہ اگر آپ ریپبلکن پارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے تو اسرائیل سے غداری کریں گے، جس کے بعد امریکہ میں صدر ٹرمپ پر شدید تنقید بھی کی گئی۔

اسرائیل میں یہودیوں کی جلد سے جلد آباد کاری کے عمل کو ’’عملی صہیونیت‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی صہیونیت کا نکتہ نظر یہ ہے کہ جتنی جلدی ہوسکے سرزمین ِاسرائیل میں یہود ی آبادی کو آباد کرایاجائے۔ بالکل اسی طرز پر مودی نے ہندوستان میں ہندوتوا کا ایجنڈا نافذ کرنے کی ٹھان رکھی ہے اور کشمیر میں بھی اب ہندو آباد کاری کی راہیں ہموار کی جا رہی ہیں تاکہ جلد سے جلد کشمیر میں ہندو آبادی بڑھا کر مسلم آبادی کو کنٹرول کرلیا جائے۔

ایک اور بات جو کہ مودی اور نیتن یاہو میں قدرے مشترک ہے وہ ہے جنگی جنون، اور خاص طور پر تب جب الیکشنز قریب ہوں تو جنگی ماحول بنا کر الیکشن کے ماحول کو متاثر کرنا۔ حال ہی میں لبنان میں جاری اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ اسرائیلی حکومت کی ایک واضح پالیسی ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے کوئی حملہ کیا جائے تو نہ اسکی تصدیق کی جاتی ہے اورنہ ہی تردید۔ لیکن نیتن یاہو نے لبنان میں میزائل حملوں کے بعد انکی تصدیق کرکے اس پالیسی سے روگردانی کی ہے اور وہ بھی تب جب خطے میں پہلے ہی ایران اور اسرائیل کی کشیدگی عروج پر ہے۔ اس سے ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست جنگ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ یہ جنگ خطے میں اپنا دائرہ کار اور طاقت وسیع کرنے کے لیئے جاری ہے اسی لیئے نیتن یاہو اب بیانات سے نکل کر عملی میدان میں آچکا ہے۔ اس سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے 13سالہ دورمیں (1996-1999 اور 2009 سے لیکر اب تک ) ایران اوراسرائیل کے درمیان برا ہ راست کوئی جنگ تو نہیں ہوئی لیکن وہ اس جنگی ماحول کو صرف اس لیئے ہوا دے رہا ہے کیونکہ الیکشن قریب ہیں۔ ان اسرائیلی الیکشن میں نیتن یاہو کے مد مقابل سابقہ چیف آف سٹافس کھڑے ہیں لہذا موجودہ وزیر اعظم کو جنگی ماحول پیدا کرکے یہ یقین دلانا ہے کہ وہ اس صورتحال کو اچھے سے قابو کر سکتے ہیں۔ اسرائیل پر چھائے جنگ کے بادل اور 24,25 اگست کی درمیانی رات شام میں حملہ۔ ۔ ۔ اسرائیلی عوام چونکہ پہلے ہی تحفظات کا شکار ہیں لہذا انکو یہ باور کرایا جاسکے کہ اسرائیل کا اصل محافظ نیتن یاہوہے۔ یاد کیجیے مودی نے اپنے 2019 کے الیکشنز سے پہلے پاکستان پر حملے کا جھوٹا دعویٰ کرکے اپنے نام کے ساتھ ’’چوکیدار‘‘ لکھ لیا تھا تاکہ بھارتی عوام کو یقین ہوجائے کہ ہندوستان میں مودی سے بڑا دیس کا رکھوالا کوئی اور ہو نہیں سکتا۔

اس ساری صورتحال میں میں مسلم امہ کے کردار پر سوالیہ نشان کا داغ دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کاش کوئی سبب ایسا بننے جس سے اس مظلوم اور اداس امت پر سید المرسلین ﷺ کا کلمہ پڑھنے کی سزا میں یوں ظلم کے پہاڑ نہ توڑے جائیں۔ لیکن فلحال میرے سرہانے انتون چیخوف کا ناول ’’تین سال‘‘ پڑا ہوا ہے اور لاپتیف ’’اٹوپیا‘‘ کی وادی میں کہیں دور کھڑا ہاتھ ہلا رہا ہے۔ یہ وادی بہت حسین ہے اور ادھرہر شے کی فراوانی ہے، یہاں سنگ لاخ پہاڑبھی ہیںاور میدان بھی۔ لہلہاتے کھیت بھی اور لالہ زار بھی۔ مزید یہ کہ آپ کچھ بھی سوچیں اور وہ شے آنگن میں لگے پیڑ سے آپکی جھولی میں گر جائیگی۔ اورمجھے یہیں کہیں سے چچا غالب کی آواز بھی سنائی دے رہی ہے۔ وہ اپنا یہی شعر بلند آواز سے دہراتے جا رہے ہیں۔ ۔ ۔ ہوئی مدت کہ غالب مر گیاپر یاد آتا ہےوہ ہر اک بات پہ کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: