پاکستان میں (Spelling Bee) سپیلنگ بی : ایک کوتاہی

0

طلبہ کے ذخیرہ الفاظ بڑھانے میں ایک کوتاہی کی نشاندہی.

پاکستان میں سپیلنگ بی (Spelling Bee) کے مقابلے کا انعقاد ڈان اخبار کے ادارے کی طرف سے کرایا جاتا ہے۔ تیاری کے لیے ذخیرہ الفاظ (Vocabulary) پر مشتمل ایک کتابچہ (Booklet) جاری کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک مقابلے کے لیے میرے بیٹے کو یہ کتابچہ دیا گیا۔ میرا بیٹا بہت پرجوش تھا کہ میں اس مقابلے میں اول آؤں گا۔ پڑھنے پڑھانے کا اسے شوق ہے۔
ہم جب تیاری شروع کرانے لگے تو دیکھا کہ اس میں ایسے ایسے الفاظ دییے گیے تھے جو میں نے اپنی 25 سالہ تعلیمی اور 16 سالہ تدریسی زندگی میں نہیں پڑھے تھے۔ (میں نے انگریزی میں ماسڑز کر رکھا ہے اور پی ایچ ڈی اسلامیات کا مقالہ انگریزی زبان میں لکھا اور انگریزی میں کئی مقالے اس کے علاوہ لکھ چکا ہوں، 16 سالہ تدریس میں انگریزی بھی پڑھاتا رہا ہوں۔)
اپنے بیٹے کے سکول کے دیگر پڑھے لکھے والدین سے بھی یہ مسئلہ ڈسکس کیا تو انہوں نے بھی مسئلہ کو باور کیا۔ تین چار بار میرے بیٹے نے وہ عجیب و غریب الفاظ یاد کرنے کی کوشش کی، لیکن پھر اس کا دل اچاٹ ہو گیا۔ میں نے بھی یاد کروانے کے لیے کوئی دباؤ نہین ڈالا۔ ایسا کرنے کا نتیجہ الٹ نکلنا تھا۔
کم تعلیم یافتہ والدین تو رہے ایک طرف، افسوس یہ تھا کہ پڑھے لکھے والدین بھی بجائے اس حماقت پر کوئی قدم اٹھانے کے اس کتابچے کو وحی الہی سمجھ کر اپنے بچوں کو وہ الفاظ کسی نہ کسی طرح یاد کروانے پر تلے بیٹھے تھے۔ پہلے وہ خود ان الفاظ کا تلفظ اور معنی سمجھتے پھر بچوں کو یاد کراتے۔ اور بچوں کا یہ حال تھا کہ روتے پیٹتے تھے کہ ہم نے نہیں ہوگا، کس عذاب میں ڈال دیا گیا ہے۔ اور والدین تھے کہ انہیں زور زبردستی اور مختلف لالچیں دے کر یار کروانے میں لگے رہے۔
اس پر میں نے سکول انتظامیہ کو خط لکھ کر صورت حال سے آگاہ کیا اور صاف بتا دیا کہ میں اپنے بیٹے کو اس بے کار مشقت میں ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کو تسلیم کیا اور متعلقہ ادارے کو بھی آگاہ کیا۔
محسوس یہ ہو رہا ہے کہ مقابلے کو سخت سے سخت کرنے کے چکر میں متعلقہ ادارہ، ذخیرہ الفاظ کا معیار بلند سے بلند کرتے ہوئے اس جگہ لے آیا ہے جہاں الفاظ نامانوس اور عام استعمال میں آنے والے ہی نہیں ہیں، بلکہ علمی دائروں میں بھی وہ عموما بولے نہیں جاتے۔ ایسے الفاظ یاد کرانے کا کوئی فائدہ ہی نہیں اور وہ بھی اس سطح پر جب کہ بچے ابھی اپنے ضروری ذخیرہ الفاظ سے بھی پورے طرح واقف نہیں۔ انہیں تو ضرورت ہے کہ اپنے مطلوبہ ذخیرہ الفاظ یاد کر کے اپنا تعلیمی سفر سہل بنائیں۔ وہ مشکل اور غیر مانوس الفاظ یاد اگر کر بھی لیں گے تو بہت جلد حافظے سے محو ہو جائیں گے، کیوںکہ ان کا استعمال ان طلبہ کے ہاں ہو ہی نہیں سکتا۔ تو اس بے کار مشقت کا فائدہ کیا ہے؟
ہونا یہ چاہیے کہ طلبہ کے اس قیمتی وقت، ان کی اس توانائی درست طور پر استعمال کیا جائے، ان کے نصاب، ذہنی سطح اور تعلیمی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے، ذخیرہ الفاظ ترتیب دیئے جائیں۔ اس سے یہی ہوگا نا کہ کچھ زیادہ طلبہ انعامات پا جائیں گے، تو تعلیم پر خرچ کرنے کا حوصلہ کر ہی لیا گیا ہے تو زیادہ سے زیادہ طلبہ کو آگے آنا دیں۔ محض یاداشت کے تماشے لگا کر تالیاں پیٹنے سے مبطلب کیا ہے۔ ہمارے بچے انسان کے بچے ہیں یا ہم جانوروں کا تماشا دیکھنے کا شوق یہاں پورا کر رہے ہیں۔
ایسے مقابلوں میں طلبہ کو ان کی عمر کے حساب سے تقسیم کر کے، ان کی موجودہ اور متوقع ضرورتوں کے مطابق ذخیرہ الفاظ کا معیار طے کر کے مقابلہ کرایا جائے۔ غیر مانوس اور شاذ قسم کے الفاظ سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ جس بچے کو شوق ہوگا وہ بڑا ہو کر ایسے الفاظ خود جان لے گا۔ یہ مقابلے طلبہ کی کو ان کے تعلیمی سفر میں معاون ہونے چاہییں نا کہ ایک اور مشقت جس کا کوئی فائدہ بھی نہ ہو۔
ذخیرہ الفاظ بڑھانے کے لیے ذخیرہ الفاظ پر مشتمل فہرست یا لغت تھما دینا ایک نہایت بھوندا طریقہ ہے۔ ذخیرہ الفاظ بڑھانے کا سب سے بہترین طریقہ اپنی دلچسپی کی کتب، رسائل، اخبار وغیرہ پڑھنا ہے۔ اس طرح ذخیرہ الفاظ نہ صرف یہ کہ فطری طریقے سے بڑھتا جاتا ہے بلکہ لفظ کے استعمال کا سلیقہ بھی ساتھ ہی معلوم ہوتا جاتا ہے۔ اس طرح صرف ذخیرہ الفاظ ہی میں اضافہ نہیں ہوتا، معلومات اور تخیل بھی پروان چڑھتے ہیں۔ لغت سے الفاظ یاد کرنے کا مطلب محض اینٹوں کا ڈھیر اکٹھا کرنا ہے، ان کا بس ایک ہی استعمال ہو سکتا ہے کہ موقع بے موقع مخاطب پر دے ماری جائے۔ ایسے لوگ میرے مشاہدہ میں آئے ہیں جنھوں نے لغت سے الفاظ یاد کیے اور وہ یہ باور کیے ہوئے تھے کہ ہر لفظ کا مترادف لفظ اس لفظ کی جگہ بولا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ایسے ایسے لطیفے سننے کو ملے کہ نہ پوچھیں۔
اس کی ایک مثال اردو کے حوالے سے دوں تو بات واضح ہو جائے گی۔ میری بیگم کے ایک غیر ملکی طالب علم، جو اردو سیکھ رہا تھا، نے اپنی چھٹی کا عذر کلاس میں یوں بیان کیا کہ ‘کل شب میں علیل تھا’۔ بات تو سچ تھی مگر بات کچھ رسوائی کی تو تھی، وہ بول چال کی اردو سیکھنے آیا تھا اور لغت کی مدد سے افسانہ عجائب کی اردو سیکھ رہا تھا۔
والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان باتوں کا خیال رکھیں اور اپنے بچوں پر اتنا ہی بوجھ ڈالیں جو وہ سہار سکیں ورنہ وہ ٹوٹ جائی گے۔ میرے مشاہدے میں ایسے بہت سے بچے ہیں جو محض اس وجہ سے تعلیم چھوڑ بیٹھے کہ وہ اپنے والدین کی حد سے بڑھی توقعات کا بوجھ نہیں اٹھا پائے تھے۔ بچپن کے پوزیشن لینے والے میڑک بھی نہ کر پائے۔
والدین بننا آسان نہیں اور استاد بننا تو اور بھی مشکل کام ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: