بلا اجازت دوسری شادی ——– فرحان کامرانی

0

ہمارے ایک عزیز اپنی شادی سے کافی تنگ رہتے ہیں۔ وہ بچوں سے تو محبت رکھتے ہیں مگر بیگم سے ان کا تعلق کم و بیش وہی ہے جو سرد جنگ کے دوران امریکا اور روس کا تھا۔ شائد انہی کے لیے کسی نے یہ گانا تخلیق کیا تھا۔

شادی نہ کرنا یارو!
پچھتاؤ گے ساری لائف۔۔۔

خیر ایسے وہ صاحب اکیلے تو نہیں۔ ہمارے معاشرے میں بیگم سے نالاں شوہر اور شوہر سے نالاں بیگمات کی کمی نہیں۔ مگر ایسے افراد بھی اپنی شادیاں نبھاتے ہیں، شادی نبھانا اور طلاق سے دور رہنا ہمارے دین کی تعلیمات کے بھی عین مطابق ہے۔ اسلام نے نکاح کے فروغ دینے اور زنا کو روکنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام نے ہی مرد کو چار تک شادیاں کرنے کی اجازت دی ہے۔ قرآن نے ایک سے زائد شادیاں کرنے والے مرد کو اپنی بیویوں کے ساتھ عدل سے پیش آنے کی تلقین کی ہے۔ یہ تلقین یہ نصیحت شرط نہیں ہے، یعنی اگر کوئی شخص ایک سے زائد شادیاں کرتا ہے اور اپنی بیویوں کے درمیان عدل نہیں بھی کرتا تو بھی اس کا نکاح ساقط نہیں ہو گا۔

سوچنے کی بات ہے کہ اللہ نے مرد کو 4 شادیوں کی اجازت دی، اللہ نے مرد پر یہ لازم نہیں کیا کہ وہ دوسری شادی سے قبل اپنی پہلی بیوی سے اجازت لے یا پھر ریاست سے اجازت لے۔ مگر الحمدللہ ہمارے ملک میں اب ان قوانین میں بھی بڑی تیزی سے انکروچمنٹ جاری ہے جو برطانوی عہد میں Muslim Personal Law کے طور پر قانون کا حصہ بنے تھے اور افسوس ناک امر یہ کہ یہ سب ہو رہا ہے ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ میں۔

حال ہی میں پہلی بیوی سے بلا اجازت دوسری شادی کرنے کے جرم میں ایک شخص کو عدالت نے 11 ماہ کی سزا سنائی۔ سب کہو سبحان اللہ۔ اب غور کیجئے کہ یہ شخص جب 11 ماہ بعد قید میں گزار کر باہر آئے گا تو کیا اپنی پہلی بیوی کے پاس جائے گا یا اسے طلاق دے دے گا؟ اس قانون سے سماج میں بہتری آئے گی یا خرابی بڑھے گی؟

مگر مسئلہ صرف یہاں پر رکتا کب ہے؟ ہماری لبرل، سیکولر حکومت کو اندرونی طور پر اسلام سے بڑی کد ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں شادی کی کم از کم عمر مقرر کرنے کی باتیں بھی زوروں پر ہیں۔ اسلام نے تو ایسی کوئی حد لگائی نہیں اور حکومت اپنی اس کوشش میں حکومتی جماعت کے ہی چند غیرت مند افراد کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔ ہمارا اس حکومت کے سیکولر عناصر اور سارے ہی لبرل طبقے سے ایک معصومانہ سوال ہے، اگر ان پر گراں نہ گزرے؟

سوال یہ ہے کہ اگر شادی کی عمر کی حد 18 سال ہو اور ایک کے بعد دوسری شادی پر صریحاً پابندی بھی ہو تو کیا مرد ایک سے زائد خواتین سے جنسی تعلق قائم کرنا چھوڑ دیں گے یا 18 سال سے کم عمر میں کسی بھی لڑکے، لڑکی میں جنسی تعلق (باالرضا) قائم نہ ہو گا؟ یقیناً ان دونوں ہی باتوں کا جواب نفی میں ہے۔ بس ہو گا یہ کہ جو چیز اسلام کے نظام میں نکاح کے ذریعے ہوتی ہے اور تعلق مستقل اور خوبصورت طور پر قائم ہوتا ہے وہی چیز زنا کی صورت میں ہو گی اور سماج کی دھجیاں اڑا کر رکھ دے گی۔

یادش بخیر کہ امریکا جو لبرلوں کے لیے جنت کا درجہ رکھتا ہے وہاں 9 اور 10 سال کی لڑکیوں کا حاملہ ہو جانا عام سی بات ہے۔ مگر وہاں 9 یا 10 سال کی لڑکی کی شادی نہیں ہو سکتی، شادی کے بعد مرد دسیوں جگہ منہ کالا کرتے ہیں مگر بیوی وہ صرف ایک رکھ سکتے ہیں۔ اس پورے تجربے نے وہ بھیانک زندگی تخلیق کی ہے جسے مغربی طرز حیات کہا جاتا ہے۔ یہی وہ سماج ہے جس کے مطابق ہمارے ملک کو ڈھالنے کی سعی بڑے زوروں سے جاری و ساری ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سود جائز ہے مگر دوسرا نکاح ناجائز۔ کیایہ ریاست مدینہ ہے؟

یہ بھی پڑھیں ۔۔ شادی: آخر مقصد کیا ہے ---- احمد الیاس
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: