منہ چڑاتا ہوا صلاح الدین مر گیا ——— قاسم یعقوب

3

منہ چڑاتا ہوا صلاح الدین مر گیا۔ صلاح الدین کے ساتھ ایک دفعہ پھر پورا نظام مر گیا۔ ہم سب مر گئے ہیں۔ ’’ایک دفعہ پھر‘‘ میں نے اس لیے کہا کیوں کہ ہم روز مرتے ہیں اور پھر جینے کا قصد کرتے ہیں۔

پولیس کے نظام پر سب سے زیادہ اعترضات انھی لوگوں کو ہوتے ہیں جو اقتدار کے لیے جنگ کر رہے ہوتے ہیں مگر یونہی اقتدار ملتا ہے یہ لوگ ایسے بھول جاتے ہیں، جیسے پولیس کوئی مسئلہ تھی ہی نہیں۔ جب عمران خان کے حکمرانی ٹولے نے قابو میں آنا ہے تو اسی پولیس گردی کا شکار ہونا ہے، جس طرح پچھلے حکمران اس وقت زیرِ عتاب ہیں۔ یہی وہ وقت ہے، جب ہمیں مل بیٹھ کے اس نظام کو ازسرنَو تبدیل کرنے کا عزم کرنا چاہیے۔

پولیس کا نظام صرف غریب، کمزور اور اثر رسوخ نہ رکھنے والے شخص کے لیے زہرِ قاتل ہے، ورنہ طاقت ور اور بااثر آدمی کے لیے ہر چیز ٹھیک ہے۔ پڑھا لکھا آدمی بھی اب اتنی آسانی سے قابو میں نہیں آتا، اس کے پاس شور مچانے کے لیے اب سوشل میڈیا یا درخواست کلچر ہاتھ میں آ گیا ہے۔ میرے بہت قریبی دوست پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ میرے ادیب دوست بھی پولیس میں نہایت اہم عہدوں پر موجود ہیں۔ مجھے یہ سطریں لکھتے ہوئے شدید دکھ ہو رہا ہے کہ پولیس کا محکمہ پورے سماج کے اخلاقی دیوالیہ پن کا اعلان کر رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں پولیس میں سے ہزاروں آفیسر اور سپاہی جان کا نذرانہ بھی دے چکے ہیں۔ نہایت خطرناک مجرموں کو جان پر کھیل کے پولیس والوں نے عوام کے لیے قربانیاں دی ہیں مگر یہ شرح اتنی کم ہے کہ اسے عوام کسی خاطر میں نہیں لاتے۔ پھولوں کے کیاری کے پاس ایک انسانی لاش پڑی ہو تو کون پھولوں کی خوشبو محسوس کر سکتا ہے۔ پورا سماج تعفن چھوڑ رہا ہے۔ ہر طرف اخلاقیات کے جنازے اٹھائے جا رہے ہیں۔ ضمیر مردے ہو چکے ہیں اور ہم شہرِ دل میں چراغ جلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ ایسا ہوتا ہے اور نہ ہو گا۔

کسی بھی قوم کا سماجی نظام اس میں موجود انصاف کی فراہمی کے نظام سے جڑا ہوتا ہے۔ انصاف سے مراد صرف عدالتوں میں سائلین کو ملنے والا انصاف نہیں بلکہ ہر جگہ جہاں جہاں حق دار کے حقوق کا خیال کیا جائے، انصاف کی فراہمی کے مترادف ہے۔ پاکستانی قوم اس حوالے سے بہت سنگین نتائج رکھتی ہے کہ ایک ہی معاشرے میں رہنے والے تمام شہری ایک دوسرے سے حقوق کے تحفظ کے لیے خوف زدہ ہوتے ہیں۔ ہر روز ایک دوسرے کے ہی ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔ اب ضروری نہیں رہا کہ ظالم اور مظلوم کی پرانی تعریفوں پر اکتفا کیا جائے، آپ کو کسی بھی شکل میں ظالم مل سکتا ہے اور آپ خود بھی ظالم یا مظلوم بن سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ سماج کے وہ پیشے جو ہمیشہ سے ظالم کے ظلم کی شکایات لگاتے رہے ہیں، اب ان کے خلاف بھی شکایات سننے کو ملتی ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں کوئی پیشہ، کوئی کردار اب دوسرے لیے معصوم نہیں رہ گیا۔ جس کا جہاں ہاتھ پڑتا ہے، وہ ایک دم ظالم بن سکتا ہے اور دوسرے کے حقوق چھیننے کی صلاحتیں آزمانے لگتا ہے، جب کہ دوسری طرف اپنے حقوق کا واویلا مچانے والے بھی یہی لوگ آپ کو ہر جگہ نظر آئیں گے۔ اگر ایک دوکان دار ڈاکٹروں کے رویوں کے خلاف احتجاج کر رہا ہو اور اپنے حقوق سلب کیے جانے کا رونا رو رہا ہو تو اسی دوکان دار کو شام کو ظالم بنتے ہوئے دیکھ لیجیے گا۔ میں نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ استاد جو نہایت بے ضرر پیشہ تصور کیا جاتا ہے مگر طلبہ و طالبات (جب اس کے محکوم بنتے ہیں) اس کے سامنے کسی ظالم حکمران سے کم اہمیت نہیں رکھتے۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بہ حالتِ مجبوری آپ کو اپنا سماج ہی یک دم بدلا ہوا محسوس ہو گا۔

مجھے یہاں پولیس کے نظام کے حوالے سے بات کرنی ہے، جو سماجی رشتوں میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ پولیس کا بنیادی کردار تو جان ومال کا تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے اور کسی حد تک سماج کی تخلیقی و تعمیری سرگرمیوں کو طاقت مہیا کرنا بھی پولیس کا کام ہے مگر افسوس کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے دیگر زوال یافتہ اداروں کی طرح اس ادارے کا اندرونی اور بیرونی ڈھانچہ اس قدر خستہ حال ہو چکا ہے کہ اس کی بہتری کی بجائے، اس کی ازسرنَو تعمیر کی ضرورت ہے۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ یہ نظام پورے سماج پر ایک زور دار دھماکے سے گرے اور سب کچھ ختم ہو جائے۔

سب سے پہلے اس ضرورت کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم مہذب قوم ہیں؟ کیا ہمیں تہذیب کی ضرورت ہے؟ کیا ہم مہذب اقدار کو اپنانا ضروری بھی سمجھتے ہیں؟ اگر ہمیں یہیں نفی میں جواب مل جائے تو پھر اس پر بات نہیں کرنی چاہیے۔ میرے خیال میں پولیس کا نظام پولیس اور عوام دونوں کے لیے شکستہ در شکستہ اقدار کا مرقع بن چکا ہے۔ پولیس کے اندر جن اصطلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، ان کی نشان دہی کرنا ضروری بن چکا ہے:

۱۔ پولیس کا اندرونی ڈھانچہ نہایت کمزور اور 1861 ایکٹ کے تحت چل رہا ہے جس کو فوری تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ مشرف نے ۲۰۰۲ ء میں جو تبدیلیاں کی ان سے بہتری کی بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

۲۔ پولیس کے پاس عمارات، اسلحہ، گاڑیوں اور دیگر سہولیات کی شدید کمی ہے۔

۳۔ پولیس کا پورا سسٹم انتظامی تقسیم کرنے کی ضرورت چاہتا ہے۔

۴۔ پولیس کی کوئی تربیت نہیں۔ فوجی طرز کی انتہائی اہم تربیت سے گزرے بغیر پولیس کو عوام کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔

۵۔ تربیت صرف بندوق چلانے کی نہیں ہوتی، کردار اور معاملات کی بھی ہوتی ہے بلکہ عوام میں خدمت کرنے کے لیے پولیس کی اخلاقی تربیت اور معاملہ بندی کے قواعد کی تربیت زیادہ ضروری امر ہے۔ پولیس میں ’سماجی نفسیات‘ کا علم ضروری پڑھایا جانا چاہیے۔

۶۔ خدا کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ پورے ڈھانچے کو تبدیل کیا جائے۔ پولیس والے بھی ٹھیک کہتے ہیں کہ پولیس کیا کیا کرے۔ پولیس والا وقوعوں پر ریسکیو کرے، رپٹ کاٹے، VIP سیکیورٹی دے، عدالتوں پر پہرہ دے، پنچائتیں کروائے، جلسوں کی نگرانی کرے، مذہبی اجتماعات کو تحفظ فراہم کرے، تفتیش کرے، چور پکڑے، ناکے لگائے۔ کیا کیا کرے۔ اس طرح تو نہیں چلے گا اب سب کام ایک ہی ادارے کو نہیں تھوپے جا سکتے۔

۷۔ خدا کے لیے پولیس کے اختیارات کم کریں۔ اتنے اختیارات کہ ایک کانسٹیبل، ڈائریکٹر، پروفیسر، ڈاکٹر، انجینئیر، بزنس مین وغیرہ کو پکڑ کے ذلیل و رسوا کر سکتا ہے۔ دوسری طرف کسی بھی محکمے میں، کسی کے پاس اتنے اختیارات نہیں۔ بلکہ آفیسر صرف اپنے محکمے تک آفیسر ہے باہر اس کی حیثیت ایک شہری کے علاوہ کچھ نہیں ہوتی۔ پولیس کا کردار منفی ہوا ہی اس لیے ہے کہ ان کے پاس اتنے اختیارات ہیں کہ وہ خود انھیں سنبھال نہیں پاتے۔

یہ حکومت بھی انھی ڈھکوسلوں سے کام لے رہی ہے جن سے پچھلی حکومت لیتی رہی۔ بے پناہ اصطلاحات اور غلط مشورے۔ شہباز شریف نے 100 ماڈل تھانے بنائے۔ اے ایس پی سطح کا آفیسر ماڈل تھانوں میں تعینات کیا مگر نتائج صفر۔ یونیفارم تبدیل کر دی مگر نتائج صفر بٹا صفر۔ نوکری سے اخراج، تبادلے، تنزلیاں اور معطلیاں مگر نتائج صفر۔ اصل میں نظام کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔

اب وقت ہے کہ صلاح الدین کی قربانی کو کسی تحریک کی طرف موڑیں اور پولیس کے نظام کو یک سر تبدیل کر کے رکھ دیں۔ اختیارات کے نشے میں دھت اس اندھے محکمے کو لگام دی جائے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. بہت خوب قاسم ۔۔۔حقیقی اور تکلیف دہ کہانی۔۔
    پولیس کے لیے ضروری ہے کہ کو ئی فوجی اکیڈمی ان کی تعلیم کرے۔۔
    مجھے تو سب پولیس والے کسی ایک خاص سیارے کے لوگ لگتے ہیں ۔۔ایک دم ہم شکل ہوتے ہیں۔۔

  2. سر! یہ نظام نہیں بدل سکتا۔۔۔۔۔ہم سب احتجاج کرتے ہیں پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔۔۔۔چند روز بعد دوبارہ ایسا سانحہ ہوتا ہے۔۔۔۔پھر انسانیت جاگتی ہے اور دو چار نعرے لگا کر سو جاتی ہے۔۔۔۔۔یہ نظام نہ بدلنا تھا نہ بدلے گا۔۔۔۔۔ہم بس زبانی جمع خرچ چلاتے رہے گئے اور جس نے جو کرنا ہے وہ کرتا رہے گا۔۔۔۔

  3. یقیناً  قاسم یعقوب ایک زیرک محقق ہیں اور انہوں نے ہمیشہ حقائق کی حمایت میں اپنا قلم اٹھایا ۔ ہمارے سماج میں تعفن کا اس قدر اضافہ ہمارے ہی اپنے محافظوں نے کر رکھا ہے کہ اپنی دولت لٹوا کر اگر ان سے انصاف مانگنے جائو تو یہ عزت کا بھی جنازہ نکال دیتے ہیں ۔ عمران خان صاحب آپ مودی سے جنگ کے دعوے کرتے ہیں ، یہاں تو آپ کے اپنے محافظ ہر شہر میں یزیدی کردار کے حامل ہیں اگر آپ حق کی داعی ہیں تو پہلے اپنے لشکر سے غاصبوں کا خاتمہ کریں ۔ ورنہ یہ دیمک کی طرح آپ کے گھر کے در و دیوار لو چاٹ جائیں گے اور آپ کو اس وقت خبر ہو گی جب اس گھر کا ملبہ کسی نادار کے سر پر گرے گا ۔ دائم ملک

Leave A Reply

%d bloggers like this: