اعلیٰ تعلیم: ایک بین الاقوامی صنعت —- جہاں تاب حسین

0

دنیا بھر کے ملکوں میں موسمِ خزاں سے مراد نئی تعلیمی کلاسوں کا آغاز ہوتا ہے لیکن در اصل والدین کے لئے اس سے کچھ اور ہی مراد ہوتی ہے۔یقین مانئے میں ایک عام امریکی فرد اپنے بچے کے اسکول کے سامان پر اوسطاً سات سو ڈالر خرچ کرتا ہےیعنی اسکول کے سامان پر سالانہ تقریباً ساڑھے ۲۷ارب ڈالر خرچ آتا ہے۔ اگر اس میں جامعات کے اخراجات بھی شامل کر لئےجائیں تو یہ رقم بڑھ کر ۸۳ارب ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔ سب سے مہنگی تعلیمی چیز کمپیوٹر ہے پھر ملبوسات، الیکٹرانکس فولڈر، بائنڈر، کتابیں، قلم اور ہائی لائٹرز وغیرہ پر لاکھوں ڈالر خرچ کر دئے جاتے ہیں۔

مختلف ممالک میں تعلیم کے اخراجات جداگانہ ہیں۔ فیس، کتابوں، آمد و رفت اور رہائش کے اخراجات کی مد میں ہانگ کانگ طلبہ کو سب سے مہنگا پڑتا ہے۔ ہانگ کانگ میں والدین تعلیم پر سالانہ سوا لاکھ ڈالر تک خرچ کردیتے ہیں۔دوسرا نمبر عرب امارات کا ہے، جہاں سالانہ خرچ ۹۹ہزار ڈالر ہے، جب کہ تیسرے نمبر پر سنگاپور ہے جہاں کا 71 ہزار ڈالر کے اخراجات ہوتے ہیں۔ امریکی والدین بچے کی تعلیم پر 58 ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں جس میں سے ۲۳ فیصد ہی انکی اپنی جیب سے خرچ ہوتا ہے۔ فرانس اس دوڑ میں سب سے پیچھے ہے جہاں والدین بچے کی تمام تر تعلیم پر زندگی بھر میں صرف ۱۶ہزار ڈالر ہی خرچ کرپا تے ہیں۔

تائپی میں بی بی سی کی نامہ نگار سنڈی سوئی کا کہنا ہے کہ تائیوان کے قانون کے مطابق بالغ بچوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عمر رسیدہ والدین کی دیکھ بھال کے لیے پیسے دیں، تاہم اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو اکثر والدین ان پر مقدمہ نہیں کرتے لیکن حال ہی میں تائیوان کی ایک اعلیٰ عدالت نے ایک شخص کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی ماں کو اس کی پرورش اور اس کی دندان سازی کی تعلیم پر آنے والے اخراجات کے حوالے سے اسے دس لاکھ ڈالر واپس کرے۔

ماں نے اپنے بچے کے ساتھ 1997 میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جب وہ 20 سال کا تھا۔ معاہدے کے مطابق بچے نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی ماں کو اپنی ماہانہ آمدنی کا 60 فیصد حصہ دینا تھا۔

جب کئی سال تک بچے نے معاہدے کے مطابق پیسے نہیں دیے تو ماں نے اس پر مقدمہ کر دیا۔ نامہ نگار کے مطابق یہ مقدمہ اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ اس میں بچے اور والدین (ماں) کے درمیان معاہدے کو شامل کیا گیا ہے۔

لیکن تعلیم کا بوجھ صرف والدین ہی نہیں اٹھاتے، بلکہ درخت بھی قربانی دیتے ہیں بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق ورچوئل ریئلٹی، تھری ڈی پرنٹنگ اور ڈرونز کے دور میں بھی دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں جس آلے کا سکہ چلتا ہے، وہ سادہ پنسل ہے۔ ایجاد کے 400 سال بعد بھی آج تک ہر سال 15 سے 20 ارب پنسلیں بنتی ہیں۔

امریکہ کے شمال مغربی ساحلی علاقے میں پیدا ہونے والی دیار کی لکڑی سب سے زیادہ پنسلوں میں استعمال ہوتی ہے، جب اس کا سکہ زیادہ تر چین اور سری لنکا کی کانوں سے آتا ہے۔ دنیا کی پنسلوں کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے ہر سال 60 ہزار سے 80 ہزار درخت کاٹے جاتے ہیں۔

دنیا بھر سے اعلی تعلیم کے خواہش مند افراد کو اپنی طرف راغب کرنے میں امریکہ ہی اب تک سب سے زیادہ کامیاب ملک رہا ہے۔اس سے امریکہ کو قابل قدر مالی فائدہ بھی حاصل ہو ااور ساتھ ہی ساتھ دنیا بھر میں اپنا ایک مثبت قردار پیش کرنے نیز اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں بھی مدد ملی ہے۔امریکہ میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد بڑھنے کی ایک وجہ ایک خصوصی سکیم ہے جس کے تحت تعلیم مکمل کرنے کے بعد تین برس تک پیشہ وارانہ تجربہ اور ماہرات حاصل کرنے کا موقع بھی میسر تھا لیکن حال ہی میں جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ملک کے اعلی تعلیمی اداروں میں غیر ملکی طلبا وطالبات کے اندارج میں سات فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ امریکی جامعات اور کالجوں میں غیر ملکی طلباء اور طالبات کے داخلوں میں کمی ہو رہی ہے اور اس وجہ سے گزشتہ سال امریکی معیشت کو مجموعی طور پر بیالیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

اعلیٰ تعلیم کے غرض سے امریکہ جانے والے طلباء اور طالبات کی تعداد میں سب سے زیادہ کمی انڈیا، جنوبی کوریا، میکسیکو اور سعودی عرب میں دیکھی گئی ہے۔ اگر چین سے آنے والوں طلبہ کی تعداد میں مسلسل اضافہ نہ ہو رہا ہوتا تو یہ کمی اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی تھی۔ اس وقت امریکہ میں چینی طلبہ کی تعداد باقی تمام ملکوں سے کہیں زیادہ ہے۔

پردیسی طلبہ و طالبات کے اندراج میں گزشتہ دو برس میں دس فیصد کی قابل تشویش کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی دہائیوں تک امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کی کشش اب ماند پڑ رہی ہے۔

اس وقت پانچ لاکھ طلبا و طالبات کینیڈا میں حصول ِتعلیم میں مصروف ہیں جن کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے ہے۔

منسٹری آف گلوبل افیئرز کے اندازوں کے مطابق سنہ 2014 میں بیرون ملک سے آنے والے طالبعلموں نے کینیڈا کی معیشت میں 11.4 بلین ڈالر کا اضافہ کیا۔ تب سے وہاں بین الاقوامی طالبعلموں کی تعداد سوا تین لاکھ سے بڑھ کر پونے چھہ لاکھ تک پہنچ گئی ہے جو کہ 75 فیصد اضافہ ہے کیونکہ کینیڈا میں باہر سے آنے والے طالب ِعلموں کو وہاں کے مکینوں کی نسبت اوسطً چار گنا زیادہ فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک میں بھی کچھ ملتا جلتا یہی فارمولا لاگو ہوتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو میں موجود 20 فیصد پردیسی طلبہ و طالبات مقامی طالبعلموں کی نسبت سالانہ تین گنا زیادہ فیس ادا کرتے ہیں۔

برطانیہ کی مانچسٹر یونیورسٹی میں بھی بین الاقوامی طلبا ملکی طالبِ علموں سے دو گنا زیادہ فیس بھرتے ہیں۔

بی بی سی اردو کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے طلبا و طالبات کو بھرتی کرنے والے ڈینی زیرٹسکائے کے مطابق ‘ساری بات نفع ونقصان کی ہےاور ایسا صرف کینیڈا ہی میں نہیں ہوتا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ سب پیسے کاکھیل ہے۔’

گویا حصولِ علم بھی کاروبار کی شکل اختیار کر گیا ہے، شاید یہ وہی وقت ہے جس کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب دنیا سے علم اٹھا لیا جائے گا۔ میرا ماننا ہے کہ علم وہی ہے جو دوسروں کو نفع دینے میں کام آجائے، اب ذرا غور کیجئے اتنے سارے پیسے خرچ کرنے کے بعد کوئی بھی شخص دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے بارے میں سوچے گا؟ جس شخص نے علم خریدا ہو وہ تو اسے بیچے گا ہی۔

یہ بھی پڑھیں: اعلیٰ تعلیم کا نظام : نیو لبرل ازم حکمت عملی ۔۔۔۔۔۔ شاہ برہمن
(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: