محیّر العقول شخصیت : لطف اللہ خاں — طاہر مسعود

0

یہ غالباً سن اکیاسی کا واقعہ ہے میں اِن دنوں روزنامہ جسارت سے بہ حیثیت رپورٹر، فیچر نگار اور کالم نگار وابستہ تھا۔ ایک دن محمد صلاح الدین صاحب نے بلا کر ہدایت دی کہ ایک صاحب ہیں لطف اللہ خان، ان کے گھر پر آوازوں کا خزانہ محفوظ ہے، ان کی آڈیو لائبریری پر ایک فیچر بنانا ہے۔ میں نے ہامی بھر لی۔

اسی دوپہر لطف اللہ خان صاحب کو فون کیا، اور وقت طے کر کے ان کے گھر پہنچ گیا۔ ان دنوں وہ مزارِ قائد اعظم کے قریب رہتے تھے۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ان کی آڈیو لائبریری میں ہزاروں آوازیں انتہائی منظّم طریقے سے محفوظ تھیں۔ یہ آڈیو لائبریری کیا تھی، آوازوں کا عجائب خانہ تھا، جس سے ذہن اور روح دونوں کو تسکین ملتی تھی۔ لطف اللہ خان صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کس کی آواز سننا چاہیں گے؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں تین شخصیات ایسی ہیں جن کی آوازیں سننے سے مجھے دلچسپی ہے۔ نواب بہادر یار جنگ، قرۃ العین حیدر اور شورش کاشمیری۔ یہ سننے کے چند ہی لمحوں بعد تینوں شخصیات کی آڈیو کیسٹ لطف اللہ خان نکال لائے اور میں نے ان تینوں شخصیات کی آوازیں سنیں۔ اس تفصیلی ملاقات کے نتیجے میں لطف اللہ خان کی آڈیو لائبریری پر ’’جسارت‘‘ کے رنگین صفحے پر میرا فیچر شائع ہوا۔ غالباً یہ اوّلین فیچر تھا، پھر اخبارات و رسائل میں ان کی لائبریری پر فیچروں کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا اور ان کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ لطف اللہ خان مزار قائد اعظم کے نزدیک واقع اپنے گھر سے کلفٹن میں اپنی شاندار کوٹھی میں منتقل ہو گئے۔ پھر انہوں نے لکھنے لکھانے کی طرف توجہ کی اور ایک صاحبِ طرز ادیب کے طور پر سامنے آئے۔ ان کی متعدد کتابیں منظرِ عام پر آئیں۔ ’’سُر کی تلاش‘‘، ’’تماشائے اہلِ قلم‘‘ اور ’’ہجرتوں کے سلسلے‘‘ وغیرہ۔ ان کی کتاب ’’تماشائے اہلِ قلم‘‘ پر وزیر اعظم پاکستان نے بہترین نثری کتاب کا ایوارڈ بھی دیا۔ پچھلے برسوں انہیں اکادمی ادبیات نے ان کی ادبی خدمات پر کمالِ فن کا انعام بھی عطا کیا۔ چناں چہ پچھلے دنوں جب لطف اللہ خان کا انتقال ہوا تو عزّت، شہرت اور مقبولیت سے ان کا دامن بھرا ہوا تھا۔

بلاشبہ لطف اللہ خان ایک محیّر العقول شخصیت کے مالک تھے۔ دُھن کے پکے اور اپنے مقصد سے پرخلوص اور سچّے۔ انہوں نے اپنی آڈیو لائبریری کے عظیم منصوبے پر تقریباً سوا کروڑ روپے کی رقم خرچ کی۔ یہ محض ان کا شوق تھا، اس شوق سے انہیں کوئی یافت نہیں ہوئی تھی۔ لیکن محفوظ کی گئی آوازیں ہی ان کی شناخت کا ذریعہ بن گئیں۔ ان کا دعوا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی ایسی آڈیو لائبریری نہیں ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں آوازیں محفوظ ہوں۔ کسی بھی شخصیت کی آواز ریکارڈ کرنا بہ ظاہر آسان سی لگتی ہے لیکن جب یہ تصوّر کیا جائے کہ کسی شخصیت سے رابطہ کرنا، اس سے وقت لینا، پھر اسے اپنی گاڑی پر بٹھا کر گھر لانا، اس کی تواضع کرنا، پھر اس کی آواز ریکارڈ کر کے اسے واپس گھر چھوڑنے جانا۔ یہ سب کچھ کتنا درِ سر ہے۔ خصوصاً اس صورت میں کہ جب اکثر شخصیات آسانی سے ہاتھ نہ آئی ہوں، وعدہ کر کے مصروفیت کا عذر کر دیتی ہوں لیکن لطف اللہ خان نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے تک اس درد سر کو برداشت کیا اور ایک ایسی آڈیو لائبریری تیار کر دی جس میں عہدِ حاضر اور عہدِ گزشتہ کے مشاہیر کی آوازیں محفوظ ہو گئیں۔ لطف اللہ خان ایک اشتہاری ایجنسی کے مالک تھے، جو کچھ اس سے کماتے تھے، اس کا بڑا حصّہ اسی شوق پر خرچ کر ڈالتے تھے۔

لطف اللہ خان کے اس شوق کی ابتداء محض اتّفاقی طور پر ہوئی۔ جولائی 1951ء میں پہلے پہل جب ٹیپ ریکارڈر ملک میں درآمد ہوئے تو کراچی کے ایک الیکٹرانک ڈیلر یونس علی محمد سیٹھ کے پاس اس کی ایجنسی تھی۔ اس کمپنی کی ایڈورٹائزنگ لطف اللہ خان کی ایجنسی کرتی تھی۔ یونس سیٹھ نے تجرباتی طور پر ایک ٹیپ ریکارڈر درآمد کیا اور لطف اللہ خان کو اشتہاری مشورے کے لیے طلب کیا۔ لطف اللہ خان نے مشورہ تو بعد میں دیا پہلے خود اس ٹیپ ریکارڈر کے خریدار بن گئے۔

ٹیپ ریکارڈر کا لٹریچر پڑھ کر معاً انہیں خیال آیا کہ والدہ حیات ہیں۔ خدا جانے کب تک حیات رہیں تو کیوں نہ اس ٹیپ ریکارڈر میں ان کی آواز محفوظ کر لی جائے تا کہ جب ان کا سایہ سر پہ نہیں رہے گا تو ان کی آواز گھر میں محفوظ رہے گی۔ جب چاہیں گے، سن لیا کریں گے۔ والدہ کی آواز کے بعد بیوی، بچّوں، بھائی، بھاوج کی آوازیں ٹیپ کیں۔ پھر جتنے عزیز و اقارب، دوست احباب ملتے گئے، ان کی آوازیں ٹیپ ریکارڈر میں محفوظ کیں۔ اس شوق میں ایک ہفتہ گزر گیا تو رب ریکارڈ کرنے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ ایک دن صبح ریڈیو لگایا تو بمبئی اسٹیشن سے بسم اللہ خان کے شہنائی بجانے کی آواز آرہی تھی۔ انہیں خیال آیا کہ کیوں نہ یہ پروگرام ریکارڈ کرلیا جائے۔ چناں چہ انہوں نے یہ پروگرام ریکارڈ کر لیا۔ چند دنوں بعد ایک رات دلّی سے مشاعرہ نشر ہورہا تھا۔ انہوں نے اسے ریکارڈ کر لیا، کچھ دن اور گزر گئے جہانگیر پارک میں نواب زادہ لیاقت علی خان کی تقریر ہوئی، جس میں انہوں نے شیخ عبد اللہ کو مخاطب کر کے جوشیلے انداز میں فرمایا تھا: ’’شیخ عبد اللہ! کشمیر تمہارے باپ کی جاگیر نہیں ہے‘‘۔ لطف اللہ خان نے یہ تقریر بھی فیتہ بند کر لی۔ ان ہی دنوں ریڈیو سے مولانا احتشام الحق تھانوی کا درس قرآن حکیم اور بہزاد لکھنوی کی نعتیں ریڈیو سے نشر ہوتی تھیں۔ لطف اللہ خان نے اس کے کئی پروگرام ریکارڈ کرلیے۔ اب جب اتنے سارے متنوّع پروگرام ریکارڈ ہو گئے تو لطف اللہ خان کی منظّم طبیعت میں انتشار پیدا ہونا شروع ہوا کہ سارے پروگرام بغیر کسی نظم و ترتیب کے کیوں ریکارڈ ہو رہے ہیں۔ چناں چہ انہوں نے مختلف موضوعات کے علیحدہ علیحدہ ٹیپ مخصوص کر دیئے اور یوں اس عظیم الشّان لائبریری کی داغ بیل پڑ گئی۔ جس نے وقت کے ساتھ ساتھ ترقّی کی اور آج یہ دنیا کی منفرد ترین آڈیو لائبریری ہے، جس کی کوئی مثال دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ملتی۔

لطف اللہ خان کی لائبریری میں موسیقی، ادب اور اسلام کے حوالے سے گراں بہار کیسٹیں محفوظ ہیں۔ برصغیر کے کلاسیکی گانوں کا بھی بہت عمدہ اور نادر ذخیرہ موجود ہے۔ نصف صدی قبل کے تقریباً معروف موسیقاروں کی ترتیب دی ہوئی دھنیں اور گانے ان کی لائبریری میں محفوظ ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ قدیم استادوں کے جتنے بھی گانے ’’ہز ماسٹر وائس‘‘ نے ان دنوں ریکارڈ کئے تھے، بیشتر ان کی لائبریری کی زینت ہیں۔ ان کی لائبریری میں اردو ادب کی بھی دنیا آباد ہے۔ یہ شعبہ نظم و نثر دو حصّوں پر مشتمل ہے۔ نظم کے حصّے میں کوئی آٹھ سو شعراء کا کلام موجود ہے۔ اس میں شاعری کے سبھی قسم کے نمونے ملتے ہیں۔ سنجیدہ شاعری بھی اور مزاحیہ بھی۔ غزلیں، نظمیں، نعت، منقبت، غرض کہ سبھی قسم کا کلام، بعض شعراء کا تو انہوں نے سارا کلام ریکارڈ کر لیا تھا۔ مثلاً انہوں نے بتایا تھا کہ فیض احمد فیض نے اپنا سارا کلام بیس سال کے عرصے میں ان کے اسٹوڈیو میں ریکارڈ کرایا۔ لطف اللہ خان نے موسیقی اور ادب کے علاوہ اسلام کے حوالے سے بھی اہم مواد ریکارڈ کیا۔ انہوں نے چار پانچ سال کے عرصے میں مولانا احتشام الحق تھانوی کی آواز میں پورا قرآن مجید ریکارڈ کیا۔ اس کے علاوہ برصغیر کے جیّد علماء کی تقاریر بھی ریکارڈ کیں۔

مجھے یاد ہے، جب میں پہلی مرتبہ ان کا انٹرویو کرنے گیا تو میرے ہاتھ میں ایک جیبی ٹیپ ریکارڈر تھا، اسے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے تھے اور جب میں رخصت ہونے لگا تو انہوں نے اس ٹیپ ریکارڈر کے لیے ایک عدد کیسٹ تحفے میں دیا تھا۔ ان کے گھر کے نظم و ترتیب اور سلیقے نے مجھے بہت حیران کیا تھا۔ مثلاً واش روم تک کی دیواروں میں انہوں نے شیلف بنا رکھے تھے جس میں ڈائجسٹ کے انبار در انبار نہایت ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔ پھر جب وہ ڈیفنس میں اپنی سفید رنگت والی شان دار کوٹھی میں منتقل ہوئے تو میں ان پر ایک اور فیچر تیار کرنے ان کی کوٹھی میں گیا، وہاں بھی صفائی ستھرائی اور نظم و ترتیب کا وہی عالم تھا۔

لطف اللہ خان صاحب کو تصویریں کھینچنے کا بھی شوق تھا، وہ اُن مشاہیر کی، جو ان کی قیام گاہ پر آتے تھے، نہایت اہتمام سے تصاویر اتار کر محفوظ کر لیتے تھے۔ انہوں نے کوٹھی کے ایک کمرے میں اسٹوڈیو بھی بنا رکھا تھا جہاں ایک بڑی اسکرین آویزاں رہتی تھی۔ اس اسکرین پر وہ مشاہیر کی تصاویر پروجیکٹر کی مدد سے دکھاتے تھے۔ اسی طرح انہیں نایاب سکّے اور کرنسی نوٹ جمع کرنے کا بھی شوق تھا۔ عجیب عجیب شوق تھے ان کے، کس کس کا ذکر کروں۔ بیٹی کی شادی کی تو دعوت میں کارڈ کے ساتھ ایک کیسٹ بھی تقسیم کیا، جس میں ان کی آواز میں تقریب شادی میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ انوکھی باتیں سوچنا اور اس پر عمل کرنا ان کا شعار تھا۔ میں نے انہیں پردۂ گم نامی سے نکل کر شہرت کی چکا چوند روشنی میں آتے دیکھا۔ شہرت ان کی گردن میں سریا ڈالنے میں ناکام رہی۔ وہ ویسی ہی عاجزی اور انکساری کا پیکر رہے۔ آخری دنوں میں ادبی تقریبات میں وھیل چیئر پر آتے رہے۔ ان کی وفا شعار اہلیہ ان کے ہم راہ ہوتی تھیں۔ ان کی موت سے وہ تنہا رہ گئی ہیں ان کیسٹوں کی حفاظت کرنے، جو لطف اللہ خان صاحب کا سرمایہ حیات تھے لیکن ان کی اہلیہ کے بعد ان قیمتی ہزاروں کیسٹوں کا کیا بنے گا؟ یہ سوال رہ رہ کر مجھے پریشان کرتا ہے۔

(جس وقت یہ تحریر لکھی گئی اسوقت یہ سوال جواب طلب تھا مگر اب کراچی کے ایک صاحب ذوق قدردان اور نفیس شخصیت جناب خورشید عبداللہ نے اس خزانہ کو ذاتی دلچسپی اور محنت سے نکھار سنوار کے یوٹیوب پہ آواز خزانہ کے نام سے منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے، صاحبان ذوق درج ذیل لنک پہ اس خزانہ سے منتقل شدہ لوازمہ سے محظوظ ہوسکتے ہیں۔ ادارہ)

https://www.youtube.com/channel/UCdYvvjDo4Hj_UmrJSeftUOA

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: