نستعلیق فونٹ کے موجد، محسنِ اُردو: احمد مرزا جمیل ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر طاہر مسعود

0

نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبد السلام نے بہت پہلے بڑے دُکھ سے لکھا تھا کہ ایک مغربی سائنسدان نے ایک مرتبہ نہایت حقارت سے مجھ سے کہا کہ سلام! تم اِن مسلمانوں سے ہم دردی رکھتے ہو، جنہوں نے سائنس کی دنیا میں ایک سوئی تک ایجاد نہیں، جنہوں نے کسی سائنسی ایجاد کے ذریعے انسانیت کی پرِکاہ برابر خدمت نہیں کی۔ ظاہر ہے کہ یہ بات مغربی سائنسداں نے حال کی دنیا کے تناظر میں کہی تھی جس کا کوئی مسکت جواب ڈاکٹر عبد السلام کے پاس نہیں تھا۔ اگر اس وقت تک احمد مرزا جمیل اور مطلوب الحسن سید نوری نستعلیق ایجاد کر چکے ہوتے تو یہ دھبّہ پاکستانیوں پر سے مٹ چکا ہوتا کہ یہ وہ قوم ہے جو صرف امداد کی بھیگ پر گزارہ کرتی ہے اور زندگی کے کسی شعبے میں اس نے کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا ہے۔ تب عبد السلام کہہ سکتے تھے کہ نہیں مسٹر! ہمارے ملک میں ایک شخص احمد مرزا جمیل ہے جس نے اُردو زبان کی اپنی جاں کاہ محنت سے وہ خدمت کی ہے کہ اسے بجا طور پر ’’محسنِ اردو‘‘ کا خطاب دیا گیا ہے۔

اس نے اردو زبان کو چھکڑے کی سواری سے نجات دلائی ہے، اسے جوڑوں کے درد سے آزاد کیا ہے۔ سست رفتار اور بہانہ جو کاتبوں کی کتابت سے نکال کر اُردو زبان کو تیز رفتار کمپیوٹر کے نظام سے منسلک کر دیا ہے۔ یہ وہ کارنامہ ہے جو اس نے اپنے ایک رفیق کار مطلوب الحسن سید کی مدد سے انجام دیا ہے اور اس کارنامے کے لیے اس نے ویسی ہی محنت، مستقل مزاجی اور انہماک کا مظاہرہ کیا جس کا تذکرہ ہم مغربی سائنس دانوں کے حوالے سے کتابوں میں پڑھتے آئے ہیں۔

جب کوئی چیز ایجاد ہوتی ہے تو ابتدا میں اس چیز اور اس کے موجد کا بہت چرچا ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ وہ چیز ہمارے وجود اور ہماری زندگی کا حصہ بن جاتی ہے یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اس کے موجد اور اس کے احسان کو بھی ہم فراموش کر دیتے ہیں۔ ہمارے ملک کا المیہ ہے کہ کوئی کارنامہ انجام دینا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اس کارنامے کا ڈھنڈورا پیٹنا بھی ضروری ہوتا ہے ورنہ مردہ پرستی کے اس زمانے میں زندوں کو اعزاز سے نوازنے کی رسم عام نہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ احمد مرزا جمیل اور مطلوب الحسن سید کو بھلایا گیا نہ نظر انداز کیا گیا۔ حکومت، ذرائع ابلاغ اور معاشرتی سطح پر ان کی خدمت کو اسی طرح سراہا گیا جس کے وہ مستحق تھے لیکن اس ضمن میں ابھی بہت کچھ کرنا ہم پر ایک قرض اور فرض ہے۔

خوش قسمتی سے احمد مرزا جمیل صاحب سے اس خاکسار کو بھی ملاقات کا شرف حاصل ہے۔ اُن دنوں جب نوری نستعلیق کی ایجاد کا چرچا عام ہو رہا تھا، میں نے بھی اس بارے میں احمد مرزا جمیل اور مطلوب الحسن سید پر ایک تفصیلی فیچر محمد صلاح الدین شہید کے روزنامہ ’’جسارت‘‘ میں شائع کیا تھا۔ میں نے انہیں نہایت خلیق، متواضع، منکسز المزاج، بلند ہمت اور اختراع پسند ذہن کا حامل پایا۔ اسی ملاقات میں انہوں نے مجھے بتایا کہ کہ وہ 21 فروری 1921ء کو اپنے آبائی شہر دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی عمر پانچ سال کی تھی کہ ان کے والد مرزا نور احمد (جن کے نام پر انہوں نے نوری نستعلیق کا نام رکھا)۔ دہلی سے ممبئی منتقل ہو گئے۔ ابتدائی تعلیم سینٹ جوزف ہائی سکول ممبئی آرٹ سوسائٹی کی نمائشوں میں حصہ لینا شروع کیا اور متعدد انعامات جیتے۔ آرٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کول کتہ میں فلموں میں آرٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا اور اپنے ایک رفیق کار کی شراکت میں فلم پبلسٹی کا ایک ادارہ بھی قائم کیا۔ کول کتہ میں احمد مرزا جمیل 1950ء تک رہے۔ حالاں کہ ان کا خاندان آزادی کے بعد پاکستان ہجرت کر چکا تھا۔

احمد مرزا جمیل کراچی آنے کے بعد تقریباً ایک سال تک نیشنل ایڈوائزر میں آرٹ ڈائریکٹر رہے۔ فن طباعت سے احمد مرزا جمیل کی دل چسپی موروثی ہے۔ قیام پاکستان سے بہت پہلے ان کے والد مرحوم کا ایک دستی پریس نور فائن آرٹ لیتھو پریس دہلی میں کچھ عرصہ سے قائم تھا جو رنگین چھپائی کے لیے معیاری پریس خیال کیا جاتا تھا۔ 1951ء میں احمد مرزا جمیل نے کراچی میں ایک اشاعتی ادارہ ایلیٹ پبلشرز کے نام سے قائم کیا اور معیاری عید کارڈ، کیلنڈر، تصاویر شائع کرنے کا پروگرام بنایا لیکن جب انہیں کوئی ایسا معقول پریس مہیا نہ ہو سکا جو ان کی ضرورت کو کما حقہ پورا کر سکتا تو معیاری طباعت کی اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے انہوں نے ایک چھوٹے سے گودام میں ایک چھوٹی مشین اور دو کاریگروں کے عملے پر مشتمل اپنا پریس قائم کر لیا۔ آج اس پریس کا شمار پاکستان کے بڑے پریسوں میں کیا جاتا ہے۔

نوری نستعلیق کی ایجاد کا خیال انہیں کیسے آیا؟ یہ قصہ بہت طولانی ہے اور ذرائع ابلاغ میں اس کا تذکرہ اتنے تواتر سے ہو چکا ہے کہ اس کا دہرانا تحصیل حاصل ہو گا لیکن اتنا عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس ایجاد کے نتیجے میں آج اخبارات، رسائل اور کتابوں کی اشاعتی دنیا میں انقلاب آچکا ہے۔ کل تک یہ صورت حال تھی کہ میں اپنا مضمون لکھ کر اخبار کے دفتر پہنچاتا تھا جسے ایک کاتب کئی گھنٹوں کی مشقت کے بعد اس کی کتابت مکمل کرتا تھا۔ جس کی پروف ریڈنگ ہوتی تھی، کاتب ان کی غلطیاں لگاتا تھا، کوئی فقرہ غلط کتابت کر دیتا تو اسے از سر نو کتابت کرنا پڑتا تھا۔ یہ سارا عمل پریشان کن حد تک تھکا اور اکتا دینے والا ہوتا تھا۔ آج وہی مضمون میں منٹوں میں کمپیوٹر کی اسکرین پر کمپوز کر کے اخبار کے دفتر بھیج دیتا ہوں۔ گھنٹوں کا معاملہ منٹوں میں انجام پذیر ہو جاتا ہے۔ اسی لیے میں نے لکھا تھا کہ احمد مرزا جمیل نے اردو زبان کو چھکڑے کی سواری سے اتار کر اسے جیٹ طیارے پر سوار کر دیا ہے۔ اس ایجاد کی کامیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے ہمیں جنگ اخبار کے مالک میر خلیل الرحمان کو فراموش نہیں کرنا چاہیے جنہوں نے اس کا اوّلین تجربہ لاہور جنگ پر کیا اور اسے مقبول بنایا۔ میں اس اعتبار سے اپنے آپ کو خوش قسمت تصوّر کرتا ہوں کہ میں نے اس باکمال موجد کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، انہیں بھی اور مطلوب الحسن سیّد کو بھی۔ سیّد صاحب اس عظیم کارنامے میں احمد مرزا جمیل صاحب کے دستِ راست رہے۔

احمد مرزا جمیل نے جو کارنامہ انجام دیا ہے، اس کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ جب تک اردو زبان ہے اور جب تک اس زبان میں مشینی کتابت کا سلسلہ عام ہے، احمد مرزا جمیل کا نام زندہ رہے گا۔ انشاء اللہ اردو زبان قیامت تک جنوب مشرقی ایشیا میں اظہار کا اہم ذریعہ بنی رہے گی اور احمد مرزا جمیل کا نام اردو کے ساتھ قیامت تک زندہ رہے گا۔ کیا کسی موجد کے لیے اس سے بڑا کوئی اعزاز ہو سکتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: