چی گویرا اور علی گیلانی: سیکولر منافقت ——- آصف محمود

1

کشمیر میں کرفیو کا عذاب اترا ہوا ہے اور آسام میں 19 لاکھ مسلمانوں کو شہریت سے محروم کر دیا گیاہے۔ سوال یہ ہے روشن خیالی کے وہ ’ملنگ لوگـ‘ کہاں ہیں، رعونت کے تکیے پر حقارت کی بھنگ پی کر جو دھمالیں ڈالا کرتے تھے: صاحب ہم کسی دین کے پیروکار نہیں، ہمارا مذہب تو انسانیت ہے۔ مردودانِ حرم کہیں مزید سیکولر تو نہیں ہو گئے کہ اپنے اختیاری مذہب سے بھی بیزار ہو گئے ہوں؟ داغ دہلوی نے کہا تھا: روز معشوق نیا، روز ملاقات نئی۔

قومی بیانیے سے لاتعلقی اور اس کا تمسخر اڑانا ان حضرات کا شیوہ ہے اور یہ عارضہ انہیں میراث میں آیا ہے۔ اپنی ہی آگ میں جل مرنے کی رسم اس قبیلے میں ابتداء سے ہے۔ قیام پاکستان کے بعد، اس وقت جب اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے قرارداد پاس کی جا چکی تھی، ترقی پسند ادیبوں کی ایک کانفرنس ہوئی۔ کچھ لوگوں نے چاہا کہ استصوابِ رائے کے حق میں اس کانفرنس میں ایک قرارداد منظور کر لی جائے۔ کیا آپ کو معلوم ہے اس کاوش کا انجام کیا ہوا؟ منظور ہونا تو بعد کی بات تھی، ’ترقی پسند‘ ادیبوں کے خبث با طن اور مزاج کی انتہا پسندی کا عالم یہ تھا کہ انہوں نے اس قرارداد کو پیش کرنے کی اجازت بھی نہ دی۔ یہی وہ پس منظر تھا کہ ایم ڈی تاثیر کو سوال اٹھانا پڑا: کشمیر کے معاملے میں ادیبوں کا آخر موقف کیا ہے؟

یہ ادیب لوگ (اسے کپلنگ کے ’بندر لوگ‘ سے کوئی نسبت نہیں) نفرت، بغض اور جنون سے بھرے ہوئے تھے۔ ان کے خیال میں پاکستان، پاکستانیت، اسلام اور کشمیر کی بات کرنا آوٹ آف فیشن تھا اور اس سے ان کی روشن خیالی متاثر ہوتی تھی۔ ابھی ضیاء الحق نہیں آئے تھے اور ’ادیب لوگ‘ اپنی ہی آگ میں جلنا شروع ہو چکے تھے۔ قیام پاکستان کے تناظر میں احمد ندیم قاسمی نے کہا: پھر بھیانک تیرگی میں آگئے، ہم گجر بجنے سے دھوکا کھا گئے۔ عبد اللہ ملک فرمانے لگے ’’یہ آزادی نہیں ہے۔ یہ تو پاکستان اور ہندوستان میں ایک طبقے کو ہم عوام کو لوٹنے کی آزادی ملی ہے‘‘۔ یہ الگ بات کہ عمر کے آخری دور میں عبد اللہ ملک کو جائے امان کسی روشن خیال کے ہاں نہیں بلکہ نظریہ پاکستان کے علمبردار اخبار کے صفحات میں ملی۔ ظہیر کاشمیری نے تو حد ہی کر دی، فرمایا: ’’سرزمین ِ وطن سے وفاداری زمانہ جہالت کی یاد گار ہے‘‘۔ گویا ’ادیب لوگ‘ اپنے لبِ خوش رنگ کی مدہوشیوں میں ایک فقرے میں روشن خیالی کی ساری شرح بیان کر گئے۔

ہم یہ سب بھلا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ نکہت مئے پر غش کھانے والے جس ستم ظریف کے بالوں میں سفیدی آئی ہم نے اسے صوفیِ شہر لکھا لیکن اس قافلہ کم نصیباں کا معاملہ یہ ہے کہ شام سے ہے صبح بد اور صبح سے ہے شام بد۔ مذہب اور پاکستان کا نام آتے ہی یہ لوگ بدو کے اونٹ کی طرح رسی تڑا کر بھاگ جاتے ہیں اور جہاں چھائوں ملے اور پیٹ بھرنے کا سامان ہو وہاں جگالی کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ حسن عسکری نے شاید اسی پس منظر میں ایک ترقی پسند ادیب پر بین السطور گرہ لگائی کہ وہ ’اورینٹ کیفے میں کائونٹر کی طرف منہ کر کے بیٹھتے ہیں۔ بعد میں حالات نے ثابت کیا کہ یہ لوگ جہاں بھی بیٹھتے ہیں ان کا منہ کسی ’کائونٹر‘ ہی کی طرف ہوتا ہے۔

اردو ادب میں فلسطین پر کافی کچھ لکھا گیا لیکن اردو ادب میں کشمیر پر کتنا لکھا گیا؟ اکثریت گونگے شیطان کی طرح خاموش رہی۔ فیض اور فراز نے لکھا مگر برائے وزنِ بیت۔ کھینچ تان کے ثابت کرتا پڑتا ہے کہ یہ سطریں کشمیر کے لیے لکھی گئیں۔ جو وارفتگی فسلطین کے لیے تھی وہ کشمیر کے لیے کیوں نہیں ؟ شاید اس وارفتگی کی وجہ بھی فلسطین نہیں بلکہ سوشلزم اور کمیونزم تھا۔

ان کے ہاں چی گویرا کے لیے دادو تحسین کے دفتر کھلے پڑے ہیں لیکن کیا مجال کبھی ان کے منہ سے سید علی گیلانی کے لیے غلطی سے بھی کوئی حرف تحسین ادا ہوا ہو۔ انہیں چی گویرا کی داڑھی کے بالوں سے انقلاب ٹپکتا نظر آتا ہے لیکن علی گیلانی کے چہرے کی جھریوں سے جھانکتی عزیمت نظر نہیں آتی۔ یہ بھگت سنگھ کی مدح میں دیوان لکھ ماریں گے لیکن برہان وانی کا ذکر آتے ہی یہ گونگے شیطان بصارت اور سماعت سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ قصور ان کا نہیں ہے۔ یہ سیاہ بختی انہیں میراث میں آئی ہے۔

انتہا پسندی کا آزار کیا ہوتا ہے، یہ تو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے۔ لیکن یہ دلچسپ حقیقت بہت سوں کی نظروں سے اوجھل رہی ہو گی کہ فکر کی دنیا میں انتہا پسندی کا نقش اول یہی قبیلہ ہے۔ جب یہ وشن خیالی کے آزار میں ریاست سے محبت کو جہالت کی یاد گار قرار دے رہے تھے انہی دنوں کچھ ادیبوں نے ان سے اختلاف کیا۔ سلیم احمد نے پاکستانی ادب کی بات کی اور کہا مغربی تہذیب ہماری جڑوں میں بیٹھ رہی ہے اور ایسا لگتا ہے ہماری اندرونی مزاحمت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ اس یلغار سے بچنے کے لیے پاکستانی ادب ضروری ہے۔ اس پر برنگ شعلہ یہ بھڑک اٹھے۔ انہوں نے ہر ’غیر ترقی پسند‘ ادیب کی تحریر اپنے گروہ کے رسائل و جرائد میں چھاپنے پر پابندی عائد کر دی بلکہ انہوں نے اپنے وہ مضامین بھی واپس منگوا لیے جو ’رجعت پسند‘ اور ’جاہل‘ ادیبوں کے رسائل اور جرائد کو چھپنے کے لے بھجوائے جا چکے تھے۔ مجھے علم نہیں، کیا معلوم یہی وہ پس منظر ہو جس میں سلیم احمد کو کہنا پڑا : آزادی رائے کو بھونکنے دو۔

فرض کریں، یہ آسام نہیں کابل ہوتا، یہ کرفیو وادی کشمیر میں نہیں کسی مسلمان ملک میں لگا ہوتا، محصورین اور مقتولین مسلمانوں کی بجائے کسی اور مذہب کے ماننے والے ہوتے اس صورت میں یہ ‘ملنگ لوگ‘ انسانیت کی ایسی دھمال ڈالتے کہ دھرتی ہلا دیتے۔ ان کے نزدیک ظلم کی تعریف پر پورا اترنے کے لیے لازم ہے کہ مظلوم اور مقتول کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہو۔ مقتول اور مظلوم اگر مسلمان ہے تو حقوق انسانی کے یہ روشن خیال علمبردار گونگے اور بہرے شیطان بن جاتے ہیں۔ یہ کائونٹر کی طرف منہ کر لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر اور ھمارے دانشور ادیب - فتح محمد ملک
(Visited 1 times, 9 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. جاوید اقبال on

    سرکار گڑے مردے مت اکھاڑیں. صرف آپ کے اٹھائے گئے سوال کے جواب میں نہ چاہتے ہوئے لکھنا پڑ رہا ہے کہ گیلانی صاحب 72، 77 اور 87 میں سوپور سے ایم ایل منتخب ہوئے. ہندوستانی آئین کے مطابق حلف اٹھاتے اور مراعات لیتے رہے. یہ وہی انتخابات ہیں ہندوستان جنہیں ہمیشہ ایک طرح رائے شماری کے بدل کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتا رہا. ان عشروں میں آپ کے” ملنگ” جیسے شبیر شاہ، مقبول بٹ، یسین ملک وغیرہ ہندوستانی جیلوں میں قید بند اور تشدد کا نشانہ بنا کرتے تھے.
    88 میں ملنگوں کے جھنجھوڑ نے پر ہی گیلانی صاحب اقتدار کی غلام گردشوں کو چھوڑ کر عام کشمیریوں کی آواز بنے. تب سے تمام کشمیری انہیں تحریک کا سرپرست مانتے ہیں اور ان سے محبت کرتے ہیں.
    کالم نگاری آپ کا پیشہ ہے. تمام نظریات کے ماننے والوں کی خوبیاں اور خامیاں بھی آپ جانتے ہیں لیکن ایک چسکے دار کالم لکھنے کی خاطر آپ کو کشمیر پر یکسو قوم کو اس نازک وقت پر تقسیم کرنے کا کوئی حق نہیں ہے . شکریہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: