قتل عام صرف کشمیر میں تو نہیں ——– خرم شہزاد

0

مودی جی کی نئی حکومت نے ستر دنوں میں وہ کما ل کر دیا جس کا خواب بھی پچھلی حکومتیں نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ ایسے میں حالات کوقابو میں رکھنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا دیا گیا اور جہاں کہیں کوئی نظر آئے اسے گولی مار دینے کا حکم جاری ہو گیا۔ کرفیو جب تیسرے ہفتے سے بھی گزرنے لگا تو کمزور دل اور انسانیت کے درد والے جاگ اٹھے اور مظلوم کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے لگے۔ یہاں پاکستان کے فیس بکی اور سوشل میڈیائی مجاہدین کی بھی ایک بڑی تعداد کشمیر میں ہونے والے مظالم اور قتل عام کی ممکنہ خبروں پر درد سے بلبلا رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہندوستان کو تباہ و برباد کر کے کشمیریوں کے ہونے والے قتل عام کو روک لیا جائے اور اس سے پہلے ہوئے قتل عام پر ہندوستانیوں کو کٹہرے میں لایا جائے۔ یقینا کشمیری بہت سخت حالات میں زندگی گزار رہے ہیں لیکن ان کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے مجھے بہت افسوس ہوا کہ کشمیر کے پڑوسی ملک میں بھی حالات کچھ اچھے تو نہیں ہیں اور وہاں کے شہری بھی بہت سے مظالم کا شکار ہیں۔ آئیے اس بار میں کچھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بہت دور جانے کی ضرورت نہیں کہ ابھی تو ریحان کی چیخیں بھی فضا میں سے معدوم نہیں ہوئی ہوں گی اور کوئی بھی صاحب دل انہیں سن سکتا ہو گا۔ کراچی میں قتل ہونے والے ریحان کا کیا قصور تھا؟ اگر وہ کسی جرم میں بھی ملوث تھا تب بھی کس نے لوگوں کو اجازت دی تھی کہ وہ اس کے کپڑے اتار کر اس پر تشدد کریں اور ساتھ ساتھ اس کی وڈیو بھی بناتے رہیں۔ کشمیر میں قتل عام اور بھارتی جارحیت کی بات کرنے والو۔ ۔ ۔ مجھے بتاو کہ ایسا ظلم تو بھارتی بھی کشمیر میں نہیں کر رہے کہ کسی کشمیری پر تشدد کرتے ہوئے اس کو برہنہ کر دیں اور پھر اس کی وڈیو بھی بناتے رہیں۔

جس وحشی پن سے زینب کو قتل کیا گیا اور جس طرح سے آئے روز ہمارے ہاں تین چار سال کی بچیوں کی لاشیں ملتی ہیں، مجھے بھی کوئی بتائے کہ بھارتی ایسا ظلم کشمیر میں بھی کر رہے ہیں؟ وہاں عورتوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات سامنے آتے ہیںلیکن تین چار سال کی بچی کے ساتھ زیادتی اور پھر قتل۔۔۔ کیا کشمیر میں ایسا بھی ظلم ہو رہا ہے۔

بھارتی فوج آئے دن کسی نہ کسی بہانے سے کشمیریوں کو تنگ کرتی ہے اور انہیں گرفتار کرنے، تشدد اور قتل کرنے کے لیے بہانے ڈھوندتی ہے لیکن مجھے ستر سالوں میں مقبوضہ وادی سے ایسے ایک بھی واقعے کا پتہ نہیں چلا جیسا کہ لاہور میں کچھ ماہ پہلے قتل ہونے والے مظلوم گھریلو ملازمہ کے ساتھ ہوا کہ جسے بچے کا کھانا چکھنے کے جرم میں مالکن نے نہ صرف قتل کر دیا بلکہ اس کی لاش رات کو گندے نالے میں پھینک دی اور اس کے گھر والوں کو بتایا کہ وہ تو کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔

یہاں بہت سے فیس بکی اور سوشل میڈیائی مجاہدین اور جوشیلے افراد موجود ہوں گے، جو ہندو فوج کے مظالم کی داستانیں سنانے اور ان کے مسقتبل کے منصوبوں پر سیر حاصل بحث کرنے پر بھی قادر ہوں گے لیکن مجھے تو اپنی ارض پاک پر اتری ہوئی قیامت کے بارے بات کرنی ہے کہ اگر کشمیر میں قابض فوج نے ظلم کی انتہا کر دی ہوئی ہے تو میرے ملک میں ایک عام شہری دوسرے شہری کے ساتھ جو سلوک کر رہا ہے اس کی کوئی مثال مجھے ظالم بھارتی فوج کی داستانوں میں بھی ڈھونڈ کر دے دو۔ ابھی تو ہم نے سوات اور وانا کا ذکر ہی نہیں کیا ہے۔۔۔ ابھی تو انگلش میڈم اسکول میں پڑھانے والی مظلوم استانی کی کہانی نہیں چھیڑی گئی ہے۔۔۔ ابھی تو ملک کے لیے جان دینے والوں کے گھر والوں کو لوگوں کی جس بے حسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ تصویر ہی سامنے نہیں لائی گئی ہے۔ ابھی تو صرف دو تین باتوں کا جواب مانگا ہے کہ اہل قلم امت مسلمہ کے نوحے پڑھنے والے اور کشمیریوں، فلسطینوں، برمی مسلمانوں سمیت نجانے کس کس کے لیے فریاد کر رہے ہیں لیکن میرا تو اپنا گھر، گھر والوں نے جلا ڈالا ہے۔ مجھے اپنے گھر سے باہر دیکھنے کا ہوش ہو تو میں کسی اور کے بہتے ہوئے آنسو دیکھ سکوں۔

یہاں ہر شخص ریٹنگ کا مارا ہوا ہے، کسی بھی نئے واقعے پر پچھلے واقعے کو بھول جانے والے۔ ۔ ۔ کسی بھی واقعے کے تیسرے دن اس سے بور ہوجانے والے لوگوں کے درمیان آج کل کشمیر ایک ہارٹ ٹاپک ہے اور بیسٹ ریٹنگ لیے ہوئے بھی ہے۔۔۔ لیکن ایسے میں اپنے ہم وطنوں کی لاشوں کا سودا مجھ سے نہیں ہو رہا۔۔۔ یہاں تو عام آدمی دوسرے عام آدمی سے محفوظ نہیں ہے۔یہاں تین چار سال کی بچیاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ یہاں گھریلو ملازمائیں استریوں سے جلائی جا رہی ہیں، قتل کر کے گندے نالوںمیں پھینکی جا رہی ہیں اور تم مجھ سے کہتے ہو کہ ظلم وہاں ہو رہا ہے آو ہمارا ساتھ دو، اُن مظلوموں کے لیے آواز اٹھانی ہے۔ کوئی مجھے بتائے کہ میرے اپنے ملک میں ناحق قتل ہونے والے مظلوموں کے لیے کون ساتویں دن تک آواز اٹھائے گا۔ میرا دل پوچھتا ہے کہ قتل عام صرف کشمیر میں تو نہیں ہو رہا۔۔۔ تو پھر درد صرف آجکل کشمیر کا کیوں جاگا ہوا ہے۔ اپنوں کا درد کب جاگے گا۔۔۔؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: