شریکِ مطالعہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نعیم الرحمٰن

0

اسلام میں دعا کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ بندے کی دعا کو پسند کرتا ہے۔ دعا عاجزی و انکساری اور شکر گزاری کی علامت ہے۔ دعا عجز و انکسار کی حالت میں دل کی کیفیت کے اظہار کا آسان، موثر اور محبوب ترین عمل ہے۔ دعا بنی آدم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے، جو انبیاء علیہم السلام کے بھی شامل حال رہا ہے اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کا پسندیدہ معمول بھی رہا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کو آسمان جیسی بلندیوں سے جس غلطی کی پاداش میں زمین پر بھیجا گیا، اس آزمائش سے رہائی اور چھٹکارے کے لیے دعا ہی کا تحفہ عطا فرمایا گیا اور انبیاع و رسل علیہم السلام نے اپنے اپنے زمانے میں اپنے متعلقین کو ایسی ہی دعاؤں کے ذریعے اپنے خالق حقیقی سے مربوط کیا ہے۔

قرآن پاک کا آغاز اور اختتام بھی دعائیہ کلمات سے ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں اپنے محبوب بندوں کی دعاؤں کا بار بار ذکر فرمایا ہے تا کہ تمام انسان ان کلمات سے اپنے رب کو یاد فرمائیں۔ دعا بندے کا اپنے خالق سے براہ راست تعلق کا ذریعہ ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر دعا کی ہدایت دی ہے۔ ان آیات مبارکہ سے دعا کی عظمت واضح ہوتی ہے۔ کلام پاک میں اللہ عز و جل کو عاجزی اور خوف سے پکارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دعا اہم عبادات میں شامل ہے۔ جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے۔ اس نے دعاؤں کی قبولیت کا وعدہ کیا ہے اور دعا نہ کرنے والوں کو وعید سنائی ہے اور دعا کرنے والوں کی تعریف فرمائی ہے۔ حدیث مبارک ہے کہ دعا سراسر عبادت ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے بہتر نہیں ہے۔

دعا کا مقام اسلام میں بہت بلند ہے۔ ایمل پبلشرز نے اسی موضوع پر بیرسٹر ظفر اللہ خان کی بے مثال کتاب ’’الّلھُمَّ‘‘ شائع انتہائی خوبصورتی سے شائع کی ہے۔ دو سو چالیس صفحات کی اس پوری کتاب کا ہر صفحہ دلکش بارڈر کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس کا ہدیہ چار سو چالیس روپے انتہائی مناسب ہے۔ بیرسٹر ظفر اللہ خان نے ابتدائی دینی تعلیم صوفیائے کرام کے شہر ملتان میں حاصل کی۔ ایف اے اور بی اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر ملتان ایجوکیشن بورڈ اور بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان سے امتیازی پوزیشن کے ساتھ پاس کیے۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم ایس سی بین الاقوامی تعلقات عامہ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ کچھ عرصہ تک اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریس کے بعد 1987ء میں انٹرنیشنل سول سروس آف پاکستان کے ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ میں شمولیت اختیار کر لی۔ 1997 ء میں سٹی یونیورسٹی لندن سے ایل ایل بی کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسٹ انگلینڈ سے 1998ء میں قانون کے شعبہ میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ حاصل کیا اور لنکز ان لندن سے بار ایٹ لاء کیا۔ اس کے علاوہ ظفر اللہ خان نے سوئزر لینڈ، ہالینڈ اور اٹلی میں بھی قانون کی تعلیم حاصل کی۔ 2002ء میں ملازمت سے مستعفی ہو کر باقاعدہ پریکٹس کا آغاز کر دیا۔ ظفر اللہ خان اسلام، قانون اور حقوق انسانی پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ آپ بطور وفاقی سیکریٹری قانون، انصاف اورحقوق انسانی بھی کام کر چکے ہیں۔

الّلھُمَّ کے پبلشر شاہد اعوان صاحب نے عرض ناشر میں کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے۔ ’’اَلّلھُمَّ دراصل کتاب الدعا ہے۔ کتاب الزہد اور بہترین انسان کا اگلا قدم۔ ظفر اللہ خان کا سفر دو مختلف سطحوں پر تیزی سے جاری ہے، علمی اور عملی۔ دعا کے موضوع پر یہ کتاب علمی سفر کا ایک اور پڑاؤ ہے، عملی سفر کے مراحل تو سامنے ہیں ہی۔ دعا انسانی بے بسی کا وہ اظہار ہے جو بیک وقت خالق کا حکم اور اس کی پسند ہے۔ رحمٰن اور عباد الرحمٰن کے تعلق کا مظہر اپنی نہاد میں اس قدر بھر پور ہے کہ جملہ عملی اور کلامی عبادات کا سرنامہ ٹھہرتا ہے۔ دعا عمل ہے اور کیفیت بھی، راستہ ہے اور منزل بھی۔ ۔ طلب ہے اور مطلوب بھی، عشق ہے اور دوائے عشق بھی۔۔ غیاب میں حضوری اور حضوری میں سپردگی کا رنگ۔۔زمان و مکان سے ماورا، عالم امکاں سے آگے۔

عشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوا اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام

دعا حمد ہے اور عجز بھی، شکر ہے اور طلب بھی۔ دعا خوف ہے اور امید بھی، گریہ ہے اور سکون بھی۔ دعا اضطراب ہے اور سکینت بھی، بندگی ہے اور بندگی کا اظہار بھی۔ دعا زندگی ہے اور طرز زندگی بھی۔ اس طرز زندگی کے حصول کی دعا، اپنے لیے اور آپ کے لیے بھی، ظفر اللہ کے لیے تو ہے ہی۔ ‘‘

اتنے عمدہ، مختصر اورجامع تعارف نے کتاب کی ہر جہت اور دعا اور اس کے مقصد کو واضح کر دیا۔ کتاب کے آغاز میں سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 186 دی گئی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے دعا کی قبولیت کا وعدہ کیا ہے۔ ’’جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو) میں تو (تمہارے ) پاس ہوں۔ جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے، تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں)‘‘۔

ظفر اللہ خان پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ ’’ہر انسان کی زندگی میں کچھ لمحات اور واقعات ایسے پیش آتے ہیں کہ وہ دنیاوی ذرائع اور وسائل کی کثرت کے باوجود اپنے آپ کو بے بس اور مجبور محسوس کرتا ہے۔ اس حالت میں اس کے ہاتھ بے ساختہ دعا کے لیے اٹھتے ہیں اور انسان زبان سے چند دعائیہ کلمات ادا کرتا ہے۔ اس صورت حال میں اپنے سے کسی بالاتر ہستی کو پکارنا، دعا اور مناجات کے زمرے میں شامل ہے۔ اسی طرح جب انسان دیکھتا ہے کہ وہ تمام ظاہری اور روحانی نعمتیں جو اس کو حاصل ہیں، وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، تو اس کے دل میں نعمتوں کے شمار کے بقدر محبتِ باری تعالیٰ پیدا ہوتی ہے اور دل میں حمد و ثنا اور شکر خدا وندی کا داعیہ ابھرتا ہے۔ ایسی صورت حال میں بندہ شکر گزاری کے کلمات ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہے۔ دنیا کے ہر مذہب میں دعا کا تصور موجود ہے، مگر اسلام نے دعا کی حقیقت کو مستقل عبادت کا درجہ عطا کیا ہے۔

قرآن مجید کا آغاز اور اختتام بھی دعائیہ کلمات سے ہوتا ہے۔ سورۃ فاتحہ سے بہتر آداب اور دعا کی صورت کیا ہو سکتی ہے اور آخری دو سورتوں سے بہتر استعاذہ اور مدد کے لیے کیا اذکار ہو سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا ہی کو عبادت قرار دیا ہے۔ مختصر طور پر اسلام سے بہترحقیقت دعا کو کسی بھی دوسرے مذہب نے پیش نہیں کیا اور قرآن مجید اور نبی اکرمﷺ سے بہتر کسی نے اس کے آداب و ضوابط اورکلمات عطا نہیں فرمائے۔ دعا بنی آدم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ آج انسان ہر طرف سے لاچار، بے بس، بے کس اور مجبور ہے۔ پریشانیاں، تکالیف، مصائب، دکھ، غم اور خوف و ہراس انسان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ روحانی اور جسمانی بیماریاں اس کو تباہ کر رہی ہیں۔ حوادثِ زمانہ کے تھپیڑوں سے انسانیت جاں بلب ہے۔ زندگی کے مصائب و آلام کا رِستا ہوا ناسور بن چکی ہے۔ انسان کو مجموعی طور پر سوچناچاہئے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ہم مصیبتوں، پریشانیوں، آفتوں اور مشکلات کے وقت مادی جائز و ناجائز تدبیروں کی تلاش میں تو سرگرداں رہتے ہیں، لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم اَدعونی استجب لکم (مجھ سے دعا کرو میں تمہارا کام پورا کر دوں گا) کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔

انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے تمام مسائل کے حل کے لیے اپنے اللہ عز و جل سے اپنا رابطہ قائم رکھے۔ اس کے حضور گڑگڑائے آہ و زاریاں کرے۔ ندامتوں، شرمندگیوں، پشیمانیوں کا اظہار کرے۔ آنسو بہاتے ہوئے اپنی تمام التجائیں اسی کے حضور پیش کرے۔ پھر دیکھیں کہ مسائل کیسے حل ہوتے ہیں۔ جلد ہی انسان اپنے دکھوں، تکلیفوں سے نجات پا جائے گا۔ اس کی زندگی پر سکون، کامیاب و کامران ہو جائے گی۔

اسی مقصد کے لیے یہ کتاب قرآنی آیات اور صحیح احادیث کی روشنی میں ترتیب دی گئی ہے، جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے رابطہ کا ایک طریقہ سکھاتی ہے کہ کس طرح انسان اپنی مشکلات کے وقت، کس مصیبت و پریشانی کے لیے کن الفاظ کے ساتھ اپنے خالق و مالک رازق کو پکارے اور خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا صبح و شام کیسے شکر بجا لائے۔ ‘‘

اس طویل اقتباس سے کتاب کا مقصد و منشا ہر قاری پر واضح ہو جاتا ہے۔ اَلّلھُمَّ کے ذریعے ظفر اللہ خان نے دور حاضر کی ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔ آج ہم میں سے ہر ایک کو اپنے خالق و مالک سے رجوع اور حاجت روائی کے لیے کثرت سے دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اس کتاب نے ہر موقع اور ہر تکلیف کے لیے قرآنی اور انبیا علیہم السلام کی دعاؤں کو پیش کیا ہے۔ جو ہر گھر اور ہر مسلمان کی اہم ترین ضرورت ہے۔ پبلشر شاہد اعوان نے بھی وقت کی اہم ترین اور ضروری کتاب کو شائع کر کے اہم فریضہ انجام دیا ہے۔

کتاب کی ابتدا میں دعا کے تعارف کا ایک باب ہے۔ جس میں دعا کے بارے میں قرآن و حدیث کے حوالوں سے مزین اہم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ باب ہر مسلمان کو پڑھنا، سمجھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ دعا کا معنی پکارنا اواز دینا، منسوب کرنا، کسی کام کی ترغیب دینا، مدد طلب کرنا اور عبادت کرنا کے ہیں۔ اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کو پکارنا اور بارگاہِ الہٰی سے کسی اچھی یا برے شے کا اپنے یا دوسرے کے لیے درخواست کرنے کو دعا کہتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں دعا، بندے کا خدا سے اپنی حاجتیں طلب کرنا ہے۔

کتاب کے اس باب میں دعا کے بارے میں ذہن میں آنے والے ہر سوال کا جواب دیا گیا ہے جیسا کہ قرآن پاک میں لفظ دعا مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے، مثلاً بلانا اور پکارنا۔ سورۃ نور کی آیت کا ترجمہ’’مسلمانوں رسول کو اس طرح نہ بلایا کرو، جس طرح ایک دوسرے کو بلاتے ہو‘‘۔

اسی طرح بعض جگہ منسوب کرنا۔ عبادت کرنا۔ مدد کے لیے پکارنے کے لیے بھی دعا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

دعا کے کئی طریقوں سے کی جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی حمد و ثنا بیان کرنا جیسا کہ ربنا لک الحمد (اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے لیے ہی ہیں) کیا جائے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ سے عفو و رحمت اور ایسی چیزیں طلب کرنا جس سے اس کا قرب حاصل ہو جیسا کہ اے ہمارے رب !ہمیں بخش دے۔

دنیا کی بھلائی کی درخواست کرنا جیسے اے ہمارے پروردگار! ہمیں رزق عطا فرما۔

اس کے علاوہ تسبیح و تہلیل اور تحمید کو بھی دعا ہی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رضا اور قرب حاصل کرنے کا ذریعہ اور طریقہ ہے۔ پھر دعا کے چار ارکان ہیں۔ پہلا مدعو (جسے دعا میں پکارا جائے) دعا میں جس کو پکارا جاتا ہے وہ خدا وند قدوس کی ذات ہے۔ وہ آسمان اور زمین کا مالک ہے اور اس کا خزانہ جود و عطا سے ختم نہیں ہوتا۔ اسی طرح وہ اپنی ساخت و کبریائی میں کوئی بخل نہیں کرتا۔ کسی چیز کے عطا کر نے سیاس کی ملکیت کا دائرہ تنگ نہیں ہوتا اور وہ بندوں کی حاجتوں کو قبول کرنے میں دریغ نہیں کرتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ’’ ہم آپ کے پروردگار کی عطا و بخشش سے ان کی اور اُن سب کی مدد کرتے ہیں اور آپ کے پروردگار کی عطا کسی پر بند نہیں ہے۔ ‘‘ اور’’مجھ سے دعا کرو، میں قبول کروں گا۔ ‘‘

دوسرا داعی (دعا کرنے والا یعنی بندہ) بندہ ہر بات اور ہر چیز میں اپنے رب کا محتاج ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ’’انسانوں! تم سب اللہ کی بارگاہ کے فقیر ہو اور اللہ صاحب ِ دولت اور قابل حمد و ثنا ہے‘‘۔ دعا کرنے والے کو ہمیشہ اپنے محتاج اور خدا وند عالم کے مختار ہو نے کا احساس ہونا چاہئے۔ جتنا بھی انسان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خود کو محتاج ظاہرکرے گا، اتنا ہی اللہ کی رحمت سے قریب رہے گا اور اگر تکبر کر کے اپنی حاجت اور ضرورت کو اس کے سامنے پیش نہیں کرے گا، تو اللہ کی رحمت سے دور ہوتا جائے گا۔

تیسرا دعا (بندے کا خدا سے مانگنا) ہے۔ دعا میں بندے کا اپنے آپ کو اللہ کے سامنے پیش کرنا، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ترجمہ’’ اے پروردگار! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ ‘‘

مسلمانوں کے لیے اللہ کے نزدیک حاجتیں پوری کرنے کے لیے دعا مانگنا اور اللہ عز و جل سے مدد طلب کرنے سے بہتر کوئی اور چیز نہیں ہے۔ دعا کے ذریعہ سے مصائب و بلا کے دروازوں کو بند کیا جا سکتا ہے۔ انسان اور رب کے درمیان رابطہ قائم کرنے کا ذریعہ دعا ہے۔ اللہ سے مانگتے وقت انسان اپنے تمام اختیارات کا مالک خدا کو سمجھے۔ یعنی خدا کے علاوہ کوئی اس کی دعا قبول نہیں کر سکتا۔ ترجمہ’’ بھلا وہ کون ہے(سوائے خدا کے) جو مجبور کی فریاد کو سنتا ہے، جب وہ اس کو آواز دینا ہے اور اس کی مصیبت کو دور کر دیتا ہے۔ ‘‘

دعا کی قدر و قیمت بہت زیادہ ہے۔ جب بھی انسان کی حاجت اللہ کی طرف عظیم ہو گی اور وہ اللہ کا زیادہ محتاج ہو گا، اتنا ہی دعا کے ذریعہ اللہ کی طرف زیادہ متوجہ ہو گا۔ جتنا اللہ کی طرف متوجہ رہے گا، اتنا ہی اللہ کی رحمت سے قریب ہو گا۔ اس کے بر عکس بھی ایسا ہی ہے۔ یعنی جتنا انسان اپنے کو بے نیاز محسوس کرے گا، اللہ سے دور ہوتا جائے گا۔

چوتھا مدعولہ(وہ حاجب اور ضرورت، جو بندہ خدا وند قدوس سے طلب کرتا ہے) بارگاہ الہٰی میں راز و نیاز اور مانگنا صرف بزرگانِ دین کے الفاظ اور دعاؤں پر منحصر نہیں ہے، بلکہ انسان اس مقام پر آزاد و خود مختار ہے اور ہر حالت میں اور ہر جگہ اور ہر زبان میں اللہ کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کر سکتا ہے۔ انسان کے لیے خدا وند عالم سے چھوٹی سے چھوٹی حاجت طلب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے لیے جوتا اور جانوروں کے لیے چارہ اور اپنے لیے آٹا و نمک بھی مانگ سکتا ہے لیکن سب سے اچھی بات یہ ہے کہ انسان انبیائے کرام علیہ السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین اور بزرگانِ دین کے بتائے کلمات اور الفاظ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مناجات کرے کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی معرفت ہم سے زیادہ رکھتے ہیں۔

اور انہی دعاؤں کا ’’اللَّھُمّ ‘‘ ایک خزینہ ہے۔ دعا کا کونسا پہلو ہے جو ظفر اللہ خان نے اپنی کتاب میں بیان نہیں کیا۔ قرآن مجید میں دعا کی عظمت، اسلام میں دعا کی اہمیت اور فلسفہ، احادیث مبارکہ میں دعا کی فضیلت، دعا کی آداب، دعا میں خشوع و خضوع، صبر کی تلقین، تنگی و فراخی اور خوشی و غمی ہر حال میں بندے کو عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے رہنا چاہئے۔ دعا میں اپنی آواز کو نہ تو بہت زیادہ بلند کیا جائے اور نہ ہی بالکل پست، بلکہ اعتدال سے کام لینا چاہئے۔ دعا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی سے کرنی چاہئے، جو وحدہ لا شریک ہے۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’ اپنی ضروریات میں سے جو بھی مانگنا چاہتے ہو، اللہ تعالیٰ ہی سے مانگو۔ یہاں تک کہ اپنے جوتے کا تسمہ بھی، کیونکہ اگر اس کی رضا نہ ہوئی، تو وہ بھی عطا نہیں ہو گا۔ ‘‘

اللَّھُمَّ میں بے شمار اور ہر موقع کی دعائیں ہر خاص و عام کے استفادے کے لیے موجود ہیں۔ لفظ ’رَبَّنَا‘ سے شروع ہونے والی چند قرآنی دعائیں دی گئی ہیں۔ جس کے بعد ’اللَّھُم‘ سے شروع ہونے والی قرآنی دعائیں ہیں اور لفظ رب سے شروع ہونے والی قرآنی دعائیں بھی ہیں۔ جس کے بعد قرآن پاک میں منقول انبیا علیہم اسلام کی دعائیں ہیں۔ حضرت آدم، حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت لوط، حضرت یعقوب ، حضرت یوسف، حضرت ایوب ، حضرت شعیب، حضرت موسٰی، حضرت سلیمان، حضرت یونس، حضرت ذکریا، حضرت عیسٰی اور ہمارے پیارے آقا حضور نبی اکرم ﷺ کی دعائیں بھی شامل ہیں۔ یہ اتنا بڑا خزانہ ہے جسے استعمال کرنے والا ہر فرد اللہ رب العزت کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔

پھرعمومی مسنون دعائیں، خصوصی مسنون دعائوں کے علاوہ مختلف مواقع کے لیے خاص دعائیں جیسے ملاقات کے وقت کی دعا، صبح اور شام کی دعا، سونے سے پہلے کی دعا، گھر سے باہر نکلنے کی دعا، بچوں کی حفاظت کی دعا، کھانا کھانے کی دعا، مسجد میں داخل ہونے اور باہر آنے کی دعا، آذان کے بعد کی دعائیں، سجدہ کی دعا، بیمار کی عیادت کی دعا، موت سے پہلے پڑھی جانے والی دعائیں، انتہائی مشکل وقت کی دعا، ایمان میں کمزوری آ جانے پر پڑھی جانے والی دعا، گناہ سرزد ہونے پر معافی کی دعا، قرض سے بچنے کی دعا، دنیا اور آخرت کی بھلائی کی دعا، یہ محض دعا کے چند عنوانات ہیں۔ کتاب کے آخر میں حاصل کتاب کے عنوان سے کچھ نتائج بھی پیش کیے ہیں جیسا کہ عقیدہ دعا، دعا کے فوائد، دعا میں کیا مانگنا چاہئے، دعا میں کیا نہیں مانگنا چاہئے، دعا کے آداب، دعا کے اوقات، وہ مقامات جہاں دعا جلد قبول ہوتی ہے۔

ظفر اللہ خان صاحب نے اس کتاب میں بے شمار اور دعائیں بھی دی ہیں اور اپنی اور ہر استفادہ کرنے والے کی آخرت کا عمدہ سامان کر لیا ہے۔ اللہ ان کو اس بے مثال کتاب کے لکھنے اور شاہد اعوان کو شائع کرنے پر اجر سے نوازے۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: