دیوبندیت: میرے فکری سفر کا ایک پڑاو ۔ آخری حصہ

0
  • 1
    Share

آج کےدور میں جب کہ علم اور معلومات کے ذرائع پہلے سے کئی سو گنا ترقی یافتہ ہو چکے ہیں، اس پر یہ کہنا کیسے درست ہو سکتا ہے کہ اب پہلے سے بہتر علما اور محققین پیدا نہیں ہو سکتے۔ ایسا اگر نہیں ہو رہا تو گویا اساتذہ اپنی نالائقی کا اعتراف ثبوت کے ساتھ کر رہے ہیں کہ وہ ان وسائل کو بروئے کار لا کر بہتر علما پیدا نہیں کر پا رہے ہیں۔ جب کسی عالم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اس کا خلا تاقیامت نہ بھرے جانے کا اعلان کیا جاتا ہے تو دراصل یہ اپنی نااہلی کا اعتراف کیا جاتا ہے کہ ہم اتنی محنت کے لیے تیار نہیں کہ اس کا نعم البدل مہیا کر سکیں۔ یہ صورت حال اگر دنیا کے معاملات میں ہوتی تو ہم آج بھی گدھے اور گھوڑوں پر ہی سوار ہوتے، موبائل فون اور انٹرنیٹ کی بجائے، آج بھی کسی قاصد کی منتیں کر رہے ہوتے کہ ہمارے خط چار چھ ماہ کے اندر اندر دوسرے شہر یا ملک میں پہنچا کر ہم پر احسان کرو۔

دیوبند کا حق ہونا خیال ہی نہیں، عقیدہ ہے۔ ہمارے ایک مفتی صاحب نے نمازِ استقسا پڑھائی تو دعا میں بھی علمائے دیوبند کا واسطہ دے کر بارش کی دعا کی۔ لطف کی بات یہ کہ نماز کے بعد چند قطرے برس ہی پڑے تھے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس کی پیشن گوئی محکمہ موسمیات ایک دن پہلے کر چکا تھا۔ علمائے دیوبند حق پر ہی ہوں گے مگر اس کا اعتراف اپنے پیروکاروں کو کرانے کے لیے کوئی تقابلی مطالعہ نہیں کرایا جاتا۔ اس عقیدے کو اپنانے کے لیے ان کے مدرسے کا نمک کھا لینا کافی ہے۔

قرآن پاک پر براہ راست غور و فکر کی ضرورت اور اہمیت  کا احساس یہاں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں پایا جاتا۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگائیے کہ مولانا تقی عثمانی صاحب جیسے متبحر عالم نے جب علوم القران لکھی تو اس میں سوائے سبعۃ احرف والی روایت کے تناظر میں اپنا نظریہ پیش کرنے اور اہل مغرب کے چند اعتراضات کے جواب دینے کے، پوری کتاب میں اپنی کوئی رائے نہیں دے سکے۔ حتی کہ قرآن کی بلاغت کے بیان میں جو تین چار مثالیں انہوں نے فراہم کیں وہ بھی اسلاف کی کتب سے نقل فرمائیں، میں اس وقت بھی کھٹکا کی کیا وجہ ہے کہ مولانا نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ ان کو بھی قرآن کی بلاغت نے کسی جگہ متاثر کیا ہو۔ پوری کتاب محض تالیف ہے، جس کی اصل افادیت، مباحث کا انتخاب اور حسن ترتیب ہے۔

دیوبندیت میں سارا زور فقہ پر ہے، وہی منتہائے علوم و فنون ہے۔ قرآن ہو یا حدیث سب اصول فقہ کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے، جب کہ خود اصول فقہ، یونان کے زبان و علوم کے مخصوص فلسفوں کے تحت تشکیل پائی تھی۔ اسی وجہ سے قرآن و حدیث کے تفقہ میں عجیب و غریب مباحث پیدا کر دیے گیے، جو قرآن و حدیث میں عجیب کج فہمیوں کا باعث بنے ہیں۔ قرآن مجید درحقیقت، صرف برکت کے لیے ہے، جسے بنا سمجھے پڑھا جاتا ہے۔

عوام کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کے لیے یہ حضرات درس قرآن کا اکثر اہتمام کرتے ہیں، لیکن قرآن مجید کو چونکہ درس نظامی کے دوران ٹھیک سے سمجھنے کا کوئی موثر اہتمام ہی موجود نہیں، اس لیے ان کے ہاں درس قرآن میں مختلف تفاسیر سے بیان کرنا ہی تدبر فی القرآن کی آخری منزل سجھا جاتا ہے۔

دین کے مطالبات تو بہت کم ہیں، لیکن فقہ یہاں اپنے دائرہ عمل میں سیاست و حکومت سے لے کر بیت الخلاء تک کے معاملات کو اپنے دامن میں سمیٹنے کی دعوی دار ہے۔ فقہی مزاج کے غلبے کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ جس طرح فقہی مسائل میں کہا جاتا ہے کہ مثلًا طلاق اور نکاح ہنسی مذاق میں بھی منعقد ہو جاتے ہیں، یعنی ارادے کا کوئی دخل ہی نہیں، یعنی معاملہ محض قانونی پہلو سے دیکھا جاتا ہے، اسی طرح، فضائل کے معاملات کو بھی فقہی نقطہ نظر سے دیکھنے کا چلن ہے۔ مثلا کہا جاتا ہےکہ جو نماز مسواک کر کے پڑھی جائے گی، اس کا اجر بغیر مسواک کی نماز سے 70 گنا زیادہ ہے۔ چانچہ یہاں بتایا جاتا کہ وضو میں اگر مسواک کو فقط دانتوں کے ساتھ معمولی سا مس بھی کر لیا جائے تو یہ فضیلت مل جاتی ہے، کیونکہ یہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ مسواک بہرحال کی تو گئی، آپ قسم کھا سکتے ہیں کہ مسواک کی گئی ہے۔ یعنی چاہے دانت گندے رہیں، چاہے منہ میں بدبو موجود ہو، لیکن چونکہ آپ نے ظاہری حکم پر عمل کر لیا کہ مسواک دانتوں کو لگی ہے، اور  قانونی طور پر اسے مسواک کرنا ہی کہیں گے، اس لیے اب خدا پر واجب ہو گیا کہ آپ کو اس گندے منہ کے ساتھ بھی ثواب عطا کرے گا۔ گویا خدا بھی کسی دنیوی عدالت کے قاضی کی طرح ہے، جس کے ہاں بس ظاہری طور پر، محض قانونی لحاظ سے فعل کا وقوع ثابت کرنا کافی ہوتا ہے۔ اس سے خدا اور رسول کا مقصد کیا تھا، یہ ثانوی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔

اسی طرح یہ بھی اصرار کیا جاتا ہے کہ دانت صاف کرنے کا ثواب حاصل ہوگا تو مسواک سے ہی حاصل ہوگا، ٹوتھ برش کرنے سے نہیں۔ کیونکہ حدیث میں مسواک کا ذکر آیا ہے ٹوتھ برش نہیں! حقیقت یہ ہے کہ اصل حنفیت کا اپنا یہ مزاج نہیں تھا، احناف حرفیت پسند نہیں تھے، یہ مزاج اہل حدیث اور ظاہریوں کا تھا، یہی اب دیو بند کا منھج ہو گیا ہے۔ ہمارے مفتی صاحب تو ٹوتھ برش کرنے کو کفار سے مشابہت قرار دیتے تھے۔ اتفاق یہ ہوا کہ ایک کار حادثہ میں ان کے جبڑے اور دانت ہل گئے۔ انہیں پھر ٹوتھ پیسٹ ہی کرنا پڑتا تھا۔ اس پر وہ کہتے تھے کہ میرے لیے یہ حالتِ اضطرار ہے، تم لوگ میری پیروی میں ٹوتھ پیسٹ کرنے نہ لگ جانا۔ وہ ہمیشہ اہتمام کرتے کہ کوئی ان کو ٹوتھ پیسٹ کرتے دیکھ نہ لے۔ آخر انہوں نے جمعہ کے خطبے میں وضاحت فرمائی کہ ان کے ٹوتھ پیسٹ کرنے سے جواز نہ پکڑا جائے، یہ ان کی مجبوری ہے۔ کفار سے مشابہت کے فتوی میں تبدیلی نہیں آئی ہے!

یہ وہ مزاج ہے، جو اسی ظاہر پرستی کے ساتھ ان کے ہاں دین کے عمومی مزاج کے بارے میں ان کے رویے کی تشکیل کا سبب بنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نافذ کرنے کا مطلب، چند ظاہری سزاؤں کا قانونی اطلاق ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ حکومت نے بھی ان کے ساتھ نفاذِ اسلام کے بارے میں وہی رویہ اپنایا ہے جو انہوں نے دین کے ساتھ اپنایا ہے۔ آئین و قانون اور آرڈینینس کی شکل میں ظاہری طور پر،آئینی اور قانونی طور پر اسلام نافذ کر دیا گیا ہے، ملک کا نام اسلامی رکھ دیا گیا ہے، شرعی عدالتیں بن چکی ہیں، اسلامی بیکنگ بھی موجود ہے۔ قانونی اور فقہی طور پر اب کوئی ایسا کام بڑا کام رہ نہیں گیا جو نفاذِ اسلام کے لیے ضرروری ہو، یعنی قانونی اور فقہی طور پر اسلام، ملک میں نافذ ہو چکا ہے۔ لیکن عملًا اور حقیقتًا اسلام کہاں ہے؟ حکومت اور سماج میں کہیں بھی اسلام نہیں ہے سوائے ہماری نمازوں، اذانوں، نکاح و میت جیسے چند انفرادی معاملات میں۔

جس طرح مسواک کے محض دانتوں کو چھو لینے سے دانت اور منہ کی صفائی نہیں ہوتی، اسی طرح محض تنفیذ سے اسلام نہیں آ سکتا تھا۔ اسلام ایک شعوری رویہ کا نام ہے، نہ کہ چند قوانین کی تنفیذ کا۔ یہ علما، پاکستان میں وہی اسلام نافذ کر سکے، جس پر وہ خود عمل پیرا تھے، اتنا ہی اسلام لا سکے، جتنا ان کے پاس تھا، ان کے پاس صرف فقہ ہے، صرف قانون ہے، صرف ظاہریت ہے، اور یہ ساری خصوصیات اس نفاذِ اسلام میں اسی درجے، اور اسی کیفیت میں پائی جاتی ہیں جس درجے اور کیفیت میں ان کے ہاں پائی جاتی ہیں۔ جتنا اسلام، ان کے زیرِ انتظام اور زیرِ اختیار مدارس میں پایا جاتا ہے، اتنا ہی ملک میں نافذ کیا جا سکا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اس سلسلے کی پہلی تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: