ادبیات، ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نمبر‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0

اکادمی ادبیات پاکستان کا قیام انیس سو چھہتر میں پاکستانی زبانوں اور ان کے ادب کے فروغ کے لیے عمل میں آیا تھا۔ اس کے صدر نشین مشہور مزاح نگار شفیق الرحمٰن، احمد فراز، پروفیسر پری شان خٹک، فخر زمان، غلام ربانی آگرو، افتخار عارف، نذیر ناجی اور پروفیسر ڈاکٹر قاسم بگھیو جیسے ادیب ، شاعر، دانشور اور مشاہیر رہ چکے ہیں۔ موجودہ چیئرمین سید جنید اخلاق ہیں۔ اکادمی ادبیات نے بے شمار ادبی و تحقیقی کتب شائع کی ہیں۔ بین الاقوامی ادب کے کئی عمدہ تراجم بھی کرائے۔ ’’پاکستانی ادب کے معمار‘‘ کے عنوان سے اردو اور دیگر علاقائی زبانوں کے ادیب اور شعراء کی شخصیت اور فن پر سو سے زائد کتب شائع کی گئی ہیں۔ پاکستانی ادب کا نثری اور شعری سالانہ جائزہ بھی باقاعدگی سے شائع کیا جاتا ہے۔ ہر سال ادبی کتابیات بھی چھپتا ہے۔ مجموعی طور پر اکادمی نے اپنے قیام کے بعد سے پاکستانی ادب اور ادیبوں کی بہت عمدہ خدمات انجام دی ہے۔

اکادمی ادبیات پاکستان کا سہ ماہی ادبی جریدہ ’’ادبیات‘‘ جولائی انیس سو ستاسی سے باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔ جس میں اردو ادب کے ساتھ ملک کی دیگر تمام علاقائی زبانوں جن میں پشتو، پنجابی، سرائیکی، سندھی، براہوی، بلوچی، شینا اور دیگر معروف اور غیر معروف زبانوں کے تراجم شائع ہوتے ہیں اور اردو قارئین کو ملک کی دیگر زبانوں کے ادب سے متعارف کرانے کا کام بخوبی انجام دیا جا رہا ہے۔ اس طرح ’ادبیات‘ پاکستان کی تمام زبانوں کی ترجمانی بہت عمدگی سے کر رہا ہے۔ ادبیات کے پہلے مدیر مشہور شاعر خالد اقبال یاسر تھے۔ جب کہ نگہت سلیم، افسانہ نگار و مترجم محمد عاصم بٹ بھی اس کے مدیر رہ چکے ہیں۔ ادبیات کے موجودہ مدیر’’جاگے ہیں خواب میں‘‘ اور’’جندر‘‘ جیسے ناول لکھنے والے اختر رضا سلیمی ہیں۔ ادبیات کا ایک سو انیس واں شمارہ حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ لگ بھگ چار سو صفحات پر مبنی عام شمارے کی قیمت سو روپے بھی انتہائی کم اور ایک سرکاری ادارے کے وسائل کے مطابق ہے۔

ادبیات نے بتیس سال مسلسل اشاعت کے دوران کئی منفرد خصوصی شمارے شائع کیے۔ جن میں چار جلدوں میں چار ہزار سے صفحات پر مشتمل ’’بین الاقوامی ادب نمبر‘‘ بہت عمدہ اور یاد گار ہے۔ دو ہزار صفحات پر مبنی دو جلدوں میں ’’بچوں کا ادب‘‘ نمبر بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ’’سارک ممالک کا ادب‘‘، ’’خواتین اہل قلم نمبر‘‘، ’’ پر واسی ادب نمبر‘‘، ’’ مضافاتی ادب نمبر‘‘ ’’نظم نمبر‘‘ اور ’’نعت نمبر‘‘ بھی ادبیات کے خصوصی اور یادگار شمارے ہیں۔ جنہیں علم و ادب کے شیدائی اپنی ذاتی لائبریریوں کی زینت بنانا پسند کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ علم و ادب کی مشہور و معروف شخصیات پر خصوصی شمارے ہیں۔ جن میں ’’جوش نمبر‘‘، ’’احمد ندیم قاسمی نمبر‘‘، ’’فیض احمد فیض نمبر‘‘، ’’احمد فراز نمبر‘‘ ، ’’منیر نیازی نمبر‘‘، ’’الطاف حسین حالی نمبر‘‘ کے بعد گذشتہ برسوں میں انتقال کرنے والے ادیب و ناول نگار’’انتظار حسین نمبر ‘‘ اور’’عبد اللہ حسین نمبر‘‘ بے حد اہمیت کے حامل ہیں۔ ان بے مثال نمبروں کے ذریعے نا صرف ادبیات نے اپنے دور کے عظیم شعراء اور ادباء کو خراج تحسین پیش کیا بلکہ مستقبل کے محققین کے لیے شاندار مواد فراہم کر دیا۔ ان میں سے بعض نایاب نمبرز کی اشاعت نو کا اہتمام بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی چار اہم زبانوں پشتو، پنجابی ، سندھی اور بلوچی کے چار صفِ اول کے ادیبوں پر خاص شمارہ بھی بہت اہم اور مستقل نوعیت کا ہے۔ جس میں سندھی ادیب و شاعر شیخ ایاز، پنجابی شاعر احمد راہی، پشتو ادیب و دانشور حمزہ خان شنواری اور بلوچی کے ادیب میر گل خان نصیر کی شخصیت و فن پر بہترین تحریریں یکجا کی گئی ہیں۔

ادبیات کا اکتوبر تا دسمبر دو ہزار اٹھارہ کا شمارہ ملک کے مشہور ماہر تعلیم اور دانشور ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نمبر‘‘ ہے۔ جس میں اس عظیم شخصیت کو شاندار انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے اور ملک کے اہم ماہر تعلیم کی خدمات پہلی بار قارئین کی خدمت میں پیش کی گئی ہیں۔ دیگر ادیب و شاعر حضرات پر خصوصی شمارے اور نمبر تو اکثر ادبی جرائد شائع کرتے رہتے ہیں لیکن ڈاکٹر نبی بخش بلوچ پر نمبر شائع کرنے پر اکادمی ادبیات اور سہ ماہی ادبیات کے مدیران کرام خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ جنہوں نے وہ کام کیا ہے۔ جو کرنا تو ضروری تھا لیکن شائد اکادمی کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔

اکادمی کے صدر نشین سید جنید اخلاق نے اداریے میں نبی بخش بلوچ کی خدمات کو سراہتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ادبیات کا ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نمبر آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ پاکستان کے نامور محقق، دانش ور، ماہرِ تعلیم، ماہر لغت نویس تھے۔ یوں تو ڈاکٹر بلوچ نے اردو، انگریزی ، عربی، فارسی، بلوچی اور سرائیکی زبانوں میں بھی اپنی یادگار تحریریں چھوڑی ہیں۔ مگر ان کا سب سے زیادہ کام سندھی زبان و ادب کے حوالے سے ہے بلکہ یہ کہنا مغالطہ نہ ہو گا کہ سندھی زبان و ادب کی دریافت اور بازیافت میں سب سے زیادہ حصہ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ ہی کا ہے۔ پاکستانی ادب میں بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جن کے تحقیقی کام کی اتنی جہتیں ہوں گی۔ ان کی انہی خدمات کے اعتراف میں یہ خصوصی شمارہ ترتیب دیا گیا ہے۔ بہترین کاغذ پر بڑے سائز کے چھ سو سے زائد صفحات کے ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ نمبر کی دو سو روپے قیمت انتہائی کم ہے۔ ہر علم دوست شخص کو یہ نمبر خرید کر ڈاکٹر صاحب کو خراج تحسین ادا کرنا چاہیے۔

زیر نظر شمارے میں ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی شخصیت اور فن کی مختلف جہات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان جہات کے حوالے سے مختلف ابواب قائم کیے گئے ہیں۔ جن کے تحت ممتاز ادیبوں، نقادوں اور محققوں سے خصوصی طور پر حاصل کردہ مضامین اور مقالات شامل کیے گئے ہیں۔ آخر میں ڈاکٹر بلوچ کی اردو تحریروں سے انتخاب کے ساتھ ساتھ کچھ سندھی نگارشات کا اردو ترجمہ بھی شامل اشاعت ہے۔ مجھے امید ہے کہ ادبیات کا یہ خصوصی شمارہ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے حوالے سے بنیادی ماخذ کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور مستقبل میں ان پر کام کے لیے بنیادی مواد کی حیثیت سے کام آئے گا۔ ‘‘

بلاشبہ ادبیات کا یہ شمارہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جس میں ملک کے ایک بڑے ادیب و دانش ور کی شخصیت اور فن کا بھرپور انداز میں احاطہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ سولہ دسمبر انیس سو سترہ کو پیدا ہوئے اور انہوں نے چھ اپریل دو ہزار گیارہ کو اس جہانِ فانی سے عالم جاودانی کوچ کیا۔ ڈاکٹر صاحب کا تعلمی دور انتہائی شاندار رہا۔ انیس سو چھتیس میں انہوں نے میٹرک میں سندھ بھر میں اول پوزیشن حاصل کی۔ انیس سو اکتالیس میں وہ بی اے آنرز میں انہوں نے کالج میں ٹاپ کیا۔ علی گڑھ یونی ورسٹی سے ایل ایل بی کرنے کے بعد انیس تینتالیس میں ایم اے عربی میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی۔ انیس سو اننچاس میں ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ نے کولمبیا یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی امتیازی نمبروں سے حاصل کی۔ ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے کا موضوع’’نئے ملک پاکستان میں اساتذہ کی تربیت کا پروگرام ‘‘ تھا۔ جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انہیں تعلیم کے دوران ہی پاکستان میں تعلیم و تربیت کے فروغ سے کس قدر دلچسپی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے انیس سو اکیاون میں بحیثیت پروفیسر سندھ یونی ورسٹی کو جوائن کیا۔ انیس سو پچپن میں انہوں نے یونی ورسٹی کے ایجوکیشن جرنل کا اجراء کیا۔ انیس سو باسٹھ میں انسٹی ٹیوٹ آف سندھیالوجی کو جوائن کیا۔ انیس سو تہتر میں سندھ یونی ورسٹی کے وائس چانسلر مقرر ہوئے۔ انیس سو چھہتر میں ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کو قومی کمیشن برائے تحقیقاتِ تاریخ و ثقافت کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ انیس سو اناسی سے تراسی تک وہ مقتدرہ قومی زبان کے رکن رہے۔ انیس سو اسی میں بین اقوامی اسلامی یونی ورسٹی کے اسلام آباد کے بانی وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالا اور اس عہدے پر انیس سو چھیاسی تک فائز رہے۔ انیس سو تراسی میں قومی ہجرہ کونسل کی مشیر مقرر ہوئے اور انیس سو نوے سے چورانوے تک سندھی لینگویج اتھارٹی کے پہلے چیئرمین رہے۔ اس طرح ڈاکٹر نبی بخش بلوچ بے مثال تعلیمی کیریئر کے بعد علم و ادب سے تمام زندگی وابستہ رہے اور اعلیٰ تعلیمی عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے۔

سہ ماہی ’ادبیات‘ کے اس ضخیم اور وقیع ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نمبر کو کئی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جس کا حصہ مضامین سب سے زیادہ دو سو دس صفحات پر مبنی ہے۔ جس میں ملک کے تیس اہم ادیب و دانش ور ان کرام کے بتیس مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ جن کے عنوانات اور مصنفین کے ناموں سے ہی اس اہم حصہ کی افادیت کا اندازہ کیاجا سکتا ہے۔ پروفیسر آفاق صدیقی نے ’’شیدائے علم و ادب‘‘ کے عنوان سے مضمون تحریر کیا ہے۔ ڈاکٹر سلیم اختر کا مضمون ’’سندھی ثقافت کی جیتی جاگتی تصویر‘‘ کے نام سے ہے۔ امداد حسینی نے ’’سنڈھڑی کے سپوت، ڈاکٹر نبی بخوش بلوچ‘‘ کے نام سے لکھا ہے۔ ڈاکٹر انوار احمد نے’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ سے دو، تین یادگار ملاقاتیں‘‘ کا احوال قلم بند کیا ہے۔ اکادمی ادبیات کا سابق صدر نشین ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو کے مضمون کا عنوان ’’ان کے لیے مثال چھوڑجاؤ‘‘ ہے۔ ڈاکٹر عبد الرزاق نے اپنی تحریر کو ’’ایک عہد ساز شخصیت‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ غلام حسین رنگریز کی بہت عمدہ تحریر ’’ڈاکٹر بلوچ، ایک معلم ، ایک محقق‘‘ کے نام سے ہے۔ ڈاکٹر دُر محمد پٹھان کی دلچسپ تحریر ’’اس دریا کی موجوں کو میں نے بھی تو دیکھا‘‘ کے نام سے شامل ہے۔ سندھی کے معروف ادیب اور دانش ور تاج جویو نے’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی تاریخ نویسی‘‘ کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ نصیر مرزا نے عظیم شخصیت پر مضمون ’’ایسا کہاں سے لاؤں‘‘ میں ان کی یادوں کی بازیافت کی ہے۔ ڈاکٹر محبوب احمد چشتی نے’’معمارِ ادب، اسکالر، ڈاکٹر نبی بخش بلوچ‘‘ میں ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کی مختلف جہتوں کو بیان کیا ہے۔ مشہور مصنف اور کالم نگار رفیع الزمان زبیری نے مضمون کو ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ ‘‘ کا نام دیا ہے۔ سید جمیل احمد رضوی نے ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ مرحوم ، تاثرات اور یادیں‘‘ میں نامور شخصیت کی یادوں کو تازہ کیا ہے۔ محمد راشد شیخ نے ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے اردو مکتوبات‘‘ اور ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی زندگی کا تعلیمی دور‘‘ کے عنوانات سے دو مضامین تحریر کیے ہیں۔ قیصرہ مختار علوی نے بھی اپنے مضمون کو ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ عنایت بلوچ نے ’’تاریخ کا بچھڑنا‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹرصاحب کی تاریخ نویسی پر خدمات کا تذکرہ کیا ہے۔ اقبال مجددی نے ’’ڈاکٹر این اے بلوچ لاہور میں‘‘ کے نام سے مضمون لکھا ہے۔ جس میں ان کے لاہور کے دور کا ذکر ہے۔ نور احمد جنجھی نے ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، ایک مصنف، ایک محقق‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے۔ گل محمد عمرانی نے ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ ، جیسا کہ میں نے انہیں دیکھا‘‘ کے زیر عنوان مضمون تحریر کیا ہے۔ اکادمی ادبیات سندھ کے سابق ڈائریکٹر اور دانش ور آغا نو محمد پٹھان نے ’’ڈاکٹر بلوچ کے انگریزی ، اردو اور سندھی خط و کتابت کے مجموعے‘‘ اور ’’تصنیفی و تالیفی خدمات‘‘ کے عنوان سے دو مضامین میں ڈاکٹر صاحب کی اعلیٰ خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ عصمت زیدی نے اپنے مضمون ’’ وہ اپنی ذات میں ایک تہذیبی دائرہ تھے‘‘ میں ڈاکٹر صاحب کی مہذب شخصیت کی تصویر کشی کی ہے۔ مرزا کاظم رضا بیگ نے’’مینارِ علم و ادب‘‘ کے عنوان سے علم و ادب کی عظیم شخصیت کی زندگی کے روشن پہلووں کو پیش کیا ہے۔ قاسم حیدر کے مضمون کا عنوان ہی’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ‘‘ ہے۔ ڈاکٹر فیاض لطیف نے ’’علم اور ادب کا روشن مینار‘‘ کے عنوان سے مضمون میں ڈاکٹر بلوچ کی اعلیٰ خدمات کا بھر پور اعتراف اور بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر منظور علی یاسر نے’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے علمی، ادبی و تحقیقی کارنامے‘‘ میں ان کے چند یادگار کارناموں پر روشنی ڈالی ہے۔ علی یاسر نے’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، ایامِ گذشتہ کے چند اوراق کے آئینے میں‘‘ میں ان کی چند اہم خدمات کا ذکر کیا ہے۔ منزہ مبین نے ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ بطور عہد ساز شخصیت ‘‘ کے نام سے مضمون تحریر کیا ہے۔ نوشین صفدر نے’’سندھ میں اردو شاعری، ایک تجزیہ‘‘ کے عنوان سے مضمون پیش کیا ہے۔ ڈاکٹرسعدیہ طاہر نے ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے قومی اور علمی کمالات‘‘ میں ڈاکٹر صاحب کے اہم کارناموں کو بیان کیا ہے جبکہ آخری مضمون عارف حسین کا ’’ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، ایک بنیاد گزار شخصیت‘‘ کے نام سے ہے۔ حصہ مضامین میں ڈاکٹر صاحب کی بے مثال زندگی کے ہر پہلو کو عمدگی سے پیش کیا گیا ہے اور یقیناً یہ مضامین مستقبل میں ڈاکٹر نبی بخش بلوچ پر تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے بنیادی ماخذ ثابت ہوں گے۔

ادبیات کے اس نمبر کا دوسرا حصہ تراجم پر مبنی ہے۔ جس میں محبوب ظفر، رضیہ طارق، سید نور اظہر جعفری، ہمایوں حسین شیخ، سعیدہ طارق اور علی آکاش نے ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے مختلف زبانوں میں گوناگوں علمی اور ادبی کام کے تراجم کیے ہیں۔ جن میں ’’ماضی کی تاریخ کو بڑے خیال کے ساتھ سامنے لانا چاہیے‘‘۔ ’’ حضرت سلطان باہو اور سرائیکی میں ان کے کہے ہوئے بیت‘‘، ‘‘مرزا قلیچ بیگ کو مودبانہ سلام‘‘ ، ’’سندھی لغت‘‘، ’’شہید ہوش محمد کے مزار اور ان کے خاندان سے متعلق وضاحت‘‘ اور’’شاہ عبد الطیف کی زبان اور شاعری کا معیار‘‘ بہت عمدہ مضامین ہیں۔

تیسرے حصے میں ڈاکٹر نبی بخش بلوچ سے ریڈیو پاکستان حیدر آباد کی لائبریری میں محفوظ ایک نایاب انٹرویو شامل کیا گیا ہے۔ یہ انٹرویو کئی سال قبل ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے نامور مترجم اور شاہ سائیں کی زندگی پر ناول لکھنے والے مراد علی مرزا نے کیا تھا۔ جس کا ترجمہ محبوب ظفر نے کیا ہے۔ اس انٹرویو میں ڈاکٹر صاحب نے اپنے بچپن اور تعلیمی زندگی سے متعلق کئی اہم باتیں بیان کی ہیں، جنہیں پڑھ کر ان کی زندگی کے کئی پوشیدہ گوشے قارئین کے سامنے اجاگر ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ہم نے سخت غربت اور مشکلات میں تعلیم حاصل کی۔ میری تعلیم کا سلسلہ انیس سو چھبیس میں شروع ہوا۔ اس وقت پرائمری اسکول ہوتے ہی نہیں تھے۔ گاؤں سے نزدیک ترین اسکول بھی پانچ کلو میٹر دور سنجھور میں تھا۔ میں جب چار پانچ ماہ کا تھا تو میرے والد کا انتقال ہو گیا تھا۔ انہوں نے وصیت کی تھی کہ میرے بیٹے کو ضرور پڑھانا۔ اس لیے میرے چچا نے مجھے پڑھانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ‘‘

ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نمبر کا چوتھا حصہ معاصرین کی نظر میں ہے۔ جس میں ڈاکٹر صاحب کے معاصرین نے ان کی شخصیت، کردار اور کام پر نظر ڈالی ہے۔ انہیں خراج تحسین پیش کرنے والوں میں لندن یونی ورسٹی کے پروفیسر بی ہارڈی، سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر محمود غازی، علی گڑھ یونی ورسٹی کے سابق صدر شعبہ عربی ڈاکٹر مختار الدین احمد، ڈاکٹرحمیدہ کھوڑو، ڈاکٹر عبد القادر جونیجو اور سندھ یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر غلام علی الانہ جیسے مشاہیر شامل ہیں۔

ٰٰ ٰٓیار بلوچ نے ڈاکٹرصاحب کو منظوم خراج تحسین پیش کیا ہے۔ جس کے بعد انتخاب کے عنوان سے ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے مختلف تحریروں کا انتخاب شامل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی ڈائری سے جونا گڑھ ، علی گڑھ یونی ورسٹی اور کراچی کے ایام کا ذکر بھی شامل ہے۔ جس میں ڈاکٹر صاحب کی زندگی کے کئی پہلو واضح ہوتے ہیں۔ آخر میں ڈاکٹر صاحب کے مختلف علمی اور ادبی شخصیات سے خطوط کو جگہ دی گئی ہے۔ انگریزی اور سندھی کا اسی صفحات کا حصہ بھی شامل ہے۔

مجموعی طور پر ادبیات کا ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نمبر ایک بہت عمدہ اور تاریخ ساز کاوش ہے۔ جس میں عہد ساز شخصیت کی زندگی اور کارناموں کو بھرپور انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس عمدہ نمبر کی اشاعت پر اکادمی ادبیات اور جریدے کے مدیران کرام مبارک باد کے حقدار ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: