ایک تھی بستی کالاباغ (ناول) — (قسط 4) حمید قیصر

0

چھیا کے ابا کے آنے کی خبر پاکر ماں جی کے چہرے پر بھی سکون کی ایک لہرسی دوڑ گئی۔ یوں جیسے ہم سب کے دکھ سکھ سانجھے ہوں۔ میں نے ماں جی کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے اپنا سوال دہرایا۔

’’میرے بابا کب آئیں گے؟‘‘ سوال سن کر تھوڑی دیر پہلے ماسی میراں کی خوشی میں شاد چہرے پر تفکر کے سائے سے لہرا گئے۔ لمحہ بھر کے توقف کے بعد وہ سنبھل کر بولیں۔

’’آجائیں گے پتر آپکے ابا بھی، وہ عید پر ضرور آ نے کی کوشش کرتے ہیں‘‘۔
’’السلام و علیکم ۔۔۔‘‘ مجید بھائی گلی کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آگئے تھے۔
’’چاچے حق نواز کی دکان سے آج خط کا پتہ کیا؟‘‘ ماں جی نے چھوٹتے ہی سوال کیا۔
’’نہیں اماں، کون سا خط؟‘‘ مجید بھائی کے جواب نے ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

ماں جی کی نظریں جو متواتر مجید بھائی کے چہرے پر ٹکی تھیں، بھائی کے نظریں چرانے کا انداز بھانپ گئی تھیں۔

’’شیطان! لا ادھر خط، جانے کب سے انتظار کر رہے ہیں؟‘‘ یہ سن کر میں مجید بھائی کی طرف لپکا۔انہوں نے بغیر کسی تردد کے قمیض کی جیب سے اباجان کا مخصوص آسمانی رنگ کا کھلا دھاری دار لفافہ نکال کر دے دیا۔ میں نے جلدی سے لفافے سے خط نکال کر پڑھنا شروع کیا۔ کمرے میں جھاڑ پونچھ کرتی شمع بھی آکر چارپائی پر ٹک گئی۔ ہم سب کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اباجان نے رمضان کے آخر میں آنے کا لکھا تھا۔ ماں جی کی آنکھیں جو بات بے بات بھر آتی تھیں،میں ان میں تیرتی نمی محسوس کرسکتا تھا۔اباجان کے آنے کی خبر پاکر گویا ہمارے گھر میں نئی زندگی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ ایک دم سے پورے گھر کی صفائی ستھرائی شروع ہوگئی۔ پندرہواں روزہ چل رہا تھا۔ شمع اور میں مقابلے میں ان گنت روزے رکھ چکے تھے۔ ہمارے روزوں کی گواہ صرف ماں جی تھیں۔ وہی جانتی تھیں کہ کس نے حقیقی معنوں میں کتنے درست روزے رکھے تھے۔ دعوے ہم دونوں کے ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے۔ ادھر چھیا بھی روزے رکھ رہی تھی۔ چھیا اور ماسی میراں نے چاچے سلطان کے آنے کی خوشی میں ہاتھ سے چلنے والی مشین ’’گھوڑی‘‘ پر سیروں سویاں نکال کر سکھا لی تھیں۔ چند دن تک سویاں بھوننے کی تیاری تھی۔ کل اتوار تھا ماں جی، شمع اور میں نے بھی چھت پر سویاں بنا کر سکھانے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔

اتوار کی صبح سردیوں کی نرم دھوپ چھت پر چہار سو ریشمی چادر کی طرح پھیلی تھی۔ شمع کے کہنے پر چھیا بھی ہماری مدد کو پہنچ گئی تھی۔ ماں جی نے ایک بڑی چارپائی کی پائنتی کے ساتھ گھوڑی فکس کرکے، گندھے ہوئے میدے کے گولے بنا بنا کر مشین میں ڈالنا شروع کردیئے تھے۔شمع شوق میں تیزی سے گھوڑی کی ہتھی گھمانے لگی ۔ تھوڑی ہی دیر میں سویوں کے نرم نرم لچھے چھلنی سے کسی دوشیزہ کے لانبے بالوں کی مانند نکلنے لگے۔

’’خالہ جی پہلا لچھا میں کاٹوں گی‘‘ چھیا سویوں کے لچھے سوکھنے ڈالنے کو پڑی اوندھی چارپائیوں کی جانب سے دوڑی دوڑی آئی۔
’’نہیں پہلے میں، پہلے میں۔۔۔‘‘ شمع کی ضد تھی کہ پہلا لچھا وہ کاٹے گی۔
’’نہیں پہلے ثریا لچھا کاٹے گی کیونکہ اس نے کل پرسوں ماں کے ساتھ سویاں بنوائی ہیں۔ اس سے سیکھ لو پھر تم بھی کاٹنا‘‘ ماں جی نے فیصلہ کردیا۔ دوسرے ہی لمحے چھیا نے بایاں ہاتھ سے لچھے کو سہارا اور دائیں ہاتھ کی تلوار سے لچھا کاٹا اور چارپائیوں کے پائیوں سے بندھی ڈوری پر پھیلانے لگی۔میں گھوڑی گھمانے لگا کیونکہ دوسرے لچھے کے بنتے بنتے شمع کا مزاج کچھ خراب رہا۔ منٹوں میں دوسرا تیار لچھا چارپائی کے ہلنے سے سانپ کی طرح لہرانے لگا۔

’’دیکھ شمو یوں کاٹتے ہیں لچھا‘‘ یہ کہتے ہوئے چھیا نے تلوار چلائی اور گردن سے دھڑ الگ کرکے لچھا شمع کے ہاتھ پر ڈال دیا۔ دونوں کندھوڑی کے ساتھ بچھی چارپائیوں پر سویاں ڈالنے لگیں۔ شمع سے کچھ سویاں نیچے سفید چاندنی پہ گر گئیں جنہیں چھیا نے بہت نزاکت کے ساتھ اٹھا کے دو پائیوں کے درمیان تنی سوتری پر ڈال دیں۔ اس پر شمع کا مزاج ایکدم کھل اٹھا۔ دونوں واپس پلٹیں تو اگلا لچھا تیار تھا۔ میں نے گھوڑی کی رفتار بڑھائی تو ماں جی نے بھی میدے کے گولے جلدی جلدی ڈالنے شروع کردیئے۔ماںجی اور ہم تینوں بچوں کے روزے تھے اس لئے ڈیڈھ دو گھنٹوں میں کام ختم کرلیا گیا۔ تینوں چارپائیوں پر سویاں سوکھنے کیلئے پھیلا دی گئی تھیں۔اس اہم کام میں چھیا اور شمع نے ہمارا بہت ساتھ دیا۔ ابھی میں ہاتھوں پہ لگا آٹا اتار ہی رہا تھا کہ گلی میں مجھے خالد بلانے آگیا۔میں ہاتھ منہ دھو کے ماں جی کو بتا کر نکل آیا۔ خالد محمود میرا ہم جماعت اور پروسی تھا اور میرے گھر کم کم آتا تھا۔

’’ہاں خالد کیا حال ہے یار، خیریت؟‘‘
’’خیر ہے دوست، تمہیں ایک خبر دینی تھی‘‘ اس کے اس جملے نے میرے تجسس کو ہوا دی۔
’’کیاآج استاد شرافت دین نے شرارتوں پر پھر تجھے مرغا بنادیاتھا؟‘‘ میں نے طنزیہ قیافہ لگایا۔

’’نہیں نہیں یار ایسی تو کوئی بات نہیں۔دراصل طرابلس سے میرے ابا آئے ہیں اوروہاں سے ٹیلی وژن لائے ہیں‘‘ خالد نے مسکراتے ہوئے خبر سنائی۔ واقعی میرے لئے اس میں دو خبریں تھیں۔ ایک اسکے ابا کے آنے کی اور دوسری نیا ٹی وی لانے کی۔

’’واہ یار خالد پھر تو مزے ہوگئے۔ پہلے تو مہینوں ایمبیسی سگریٹ کمپنی والوں کے ٹرک کا انتظار کیا جاتا تھا۔ وہ آئیں گے تو سول ہسپتال یا اڈے پر ریلوے کالونی میں مشہوریاں، گانے اور فلموں کے ٹوٹے دکھائیں گے۔ اب تمہارے گھرٹیلی وژن کے آنے سے گھر بیٹھے کارٹون، ڈرامے اور فلمیں دیکھا کریں گے‘‘۔ میں بے تکان بولے ہی چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعدخالد نے وعدہ لیا کہ کھانا کھا کر میرے گھر آنا مل کر ٹیلی وژن دیکھیں گے۔میں نے کہا کہ ماں جی اگر اجازت دیںگی تو آجائوں گا۔خالد چلا گیا اور میں اس خیال سے کمرے میں پہنچ کر لیٹ گیا کہ روزہ آسانی سے گزر جائے۔

شام کو روزہ کھلتے ہی میں نے جلدی جلدی کھانا کھایا اور خالد کے گھر پہنچ گیا۔ وہاں تو جیسے میلہ لگا ہوا تھا۔خالد کے گھر والوں سمیت کوئی درجن بھر بچے صحن میں بچھی چٹائیوں پر بڑے انہماک سے ایک طرف میز پہ سجا ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ میں بھی خالد کے ساتھ ایک طرف چارپائی پہ بیٹھ گیا۔ اس وقت حبیب ولی محمدگا رہے تھے۔

’’راتیں تھیں چاندنی، جوبن پہ تھی بہار‘‘

ان کا گیت ختم ہوا تو لائف بوائے ، ٹالکم پائوڈر، تبت کریم اور ہمدرد کے شربت کے اشتہارات دکھائے گئے۔ تھوڑی دیر بعد انائونسر نے پروگرام’’ شیشے کا گھر‘‘ شروع ہونیکا اعلان کیا۔میں پہلی بار ٹی وی دیکھ رہا تھا۔دوسرے بچوں کی طرح میں اور خالد بھی عالم استغراق میں چلے گئے۔ ہوش تب آیا جب گھنٹے بعد پروگرام ختم ہوااور گھر والوں نے بچوں کے کوچ کا اعلان جاری کردیا۔ میں بھی خالد سے مل کر گھر پہنچا تو مجید بھائی نے استقبال کیا۔

’’آوارہ گرد دیکھ آئے ٹی وی ؟‘‘ انہوں نے طنزا کہا۔ میں خاموش رہا۔
’’اماں اس کو رات کو کسی کے گھر کیوں جانے دیتی ہیں آپ؟‘‘ انہوں نے ماں سے پوچھا

’’بیٹا اسکا دوست خالد آیا تھا خود بلا کر لے گیا تھا اسے‘‘ مجید بھائی میری طرف دیکھ کے میرا منہ چڑانے لگے اورشمع قہقہے بکھیرنے لگی۔

’’اچھا اب سو جائو تاکہ سحری کیلئے جلدی اٹھ سکو‘‘ یہ سن کر ہم سب اپنے اپنے بستروں میں گھس گئے۔ اباجی کا سوچتے سوچتے جانے کب نیند آگئی۔ ہوش آیا تو سحری کے وقت شمع میرے پائوں جھنجھوڑتے ہوئے مجھے جگا رہی تھی۔جلدی سے ہاتھ منہ دھو کر دسترخوان پر بیٹھا تو گلی سے حسب معمول چاچے ممی کی صدا گونجی،

’’اٹھو روزہ دارو! سحری کا وقت ہوگیا ہے، روزہ رکھ لو‘‘ وہ مسجد کے کنویں سے پانی کی ٹانگی بھرنے اترتے ہوئے روزہ داروں کو بھی جگاتا جاتا۔سالہا سال سے یہ اسکا معمول تھا۔

ماں جی نے میرے لئے گڑ کی شکر اور دیسی گھی والی بھشلی بنائی تھی۔ رات والا سالن، دہی اورساتھ گرما گرم چائے نے سحری کو بھرپور بنا دیا تھا۔ شمع اور مجید بھائی کھا پی چکے تھے۔

’’میرا خیال ہے اماں، اباجی رمضان کی تیئس یا چوبیس کو پہنچیں گے‘‘ مجید بھائی نے خیال ظاہر کیا۔
’’ہاں پتر اب اس میں دن ہی کتنے رہ گئے ہیں؟‘‘ انہوں نے کھانے کے برتن سمیٹتے ہوئے کہا۔
’’اماں کیا ہمارا ٹی وی بھی آئے گا؟‘‘ اب کے شمع نے معصوم سا سوال اٹھادیا۔
’’ہا ہا ہا بلی کے خواب میں چھیچھڑے‘‘ مجید بھائی نے شمع کو چھیڑا تو وہ منہ بسور کے رہ گئی۔

’’پتہ نئیں پتر تمہارے ابا اچانک خوشخبری سناتے ہیں، کیا معلوم لے ہی آئیں؟‘‘ ماں جی نے شمع کی ڈھارس بندھائی۔ اتنے میں مسجد سے اذان کی صدا گونجی توہم سب پانی سے روزہ بند کرنے لگے۔تھوڑی دیر بعد بھائی مسجد چلے گئے، میں اور شمع دوبارہ بستر پر آکر باتیں کرنے لگے۔ ماں جی نے پاس ہی مصلہ بچھا لیا۔ نماز پڑھ کر ماں جی اپنے بستر پر آئیں تو ہم نے انہیں بھی اپنی باتوں میں شامل کرلیا۔

’’ماں جی، یہ تایا لوگ ہم سے ناراض کیوں رہتے ہیں، بولتے کیوں نہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’اللہ جانے بیٹا کیا مسئلہ ہے، ساری زندگی گزر گئی، مجھے تو آج تک خود سمجھ نہیں آئی، بہانے بہانے سے لڑتے رہتے ہیں‘‘ ماں جی نے تاسف سے جواب دیا۔

’’بی بی بھی نہ مجھ سے بات کرتی ہے نہ مجھ سے کھیلتی ہے، کچھ بولو تو جواب تک نہیں دیتی‘‘
شمع نے سنجیدگی سے بتایا۔
’’ ان سے اچھی تو چھیا ہے جو میری اچھی سہیلی ہے، جب بھی بلائو چلی آتی ہے‘‘ وہ بولی۔
’’ہاں بیٹا خون کے رشتے ایسے ہی ہوتے ہیں، خون دیتے رہیں تو خوش اور اگر سچ کہہ دو تو خون کے پیاسے ہوجاتے ہیں‘‘ ماں دکھی ہوکر بولی

’’ ٹھیک ہے اماں جی ہم ان کے بغیر ہی بھلے، میری چھیا ہی کافی ہے میرے لئے‘‘ شمع ہنس کر بولی تو ہم سب بھی مسکرا دیئے۔ اتنے میں مجید بھائی نماز پڑھ کر آئے تو بہت خوش لگ رہے تھے۔ آتے ہی بولے اماں مسجد میں چاچا غلام حسین ملاح ملے تھے۔ کہنے لگے کہ تمہارے ابا جی کراچی ائرپورٹ پر ملے تھے۔ کہہ رہے تھے کہ حاجی غلام رسول کے ہاں ایک دن قیام کرکے اگلے روز آجائیں گے‘‘۔

’’ اس حساب سے تمہارے ابا جی انشاء اللہ پرسوں چھبیسویں روزے کو آجائیں گے‘‘ ماں جی نے حساب لگایا۔ ابھی صبح ہونے میں بہت وقت تھا لیکن ہمیں خوشی کے مارے نیند ہی نہیں آرہی تھی۔

اگلی صبح ابھی ہم سکول کیلئے تیار ہورہے تھے کہ چھیا مٹھائی کی پلیٹ تھامے آگئی۔
ماں جی نے پوچھا ’’کس خوشی میں؟‘‘ تو کہنے لگی،
’’رات میرے اباجی کوئٹہ سے آگئے تھے اور یہ میری ا ماں نے بھیجی ہے‘‘ چھیا پلیٹ لیکر جلدی چلی گئی ۔میں اور شمع ندیدوں کی طرح مٹھائی کھانے لگے۔
’’شکر ہے میراں بہن کے گھر بھی سالوں بعد حقیقی خوشیاں لوٹ آئی ہیں۔ چھیا لوگ چھوٹے چھوٹے تھے جب ابا انہیں چھوڑ کے کوئٹہ چلے گئے تھے‘‘ ماں نے تفصیل بتائی۔

اگلی صبح ماں جی نے گھر کی قلعی کے بعد چھوٹا موٹا صفائی ستھرائی کا رہ جانے والا کام مکمل کروانا شروع کردیا۔گرم کپڑوں اور بستروں کو چھت پر کھلی ہوا اوردھوپ لگوائی گئی۔

میں نے اور ماں جی نے اپنے حصے کے فرش اور سیڑھیوں کو گلی تک دھویا۔ ہماری دیکھا دیکھی ماں جی کی سامنے والی سہیلی منیراں نے بھی اپنے حصے کی گلی دھو دی۔ انہیں بھی پتہ چل گیا تھا کہ حاجی صاحب کی آمد آمد ہے۔پرسوں ستائیسویں کی شب ہماری موتی مسجد میں ختم القرآن کی مبارک محفل بھی منعقد ہونی تھی اور عید بھی قریب تھی۔ یوں اس جذبے کے تحت ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی پوری گلی سے کوڑ کباڑ صاف کرکے اسے دھو دیا گیا۔گھر کے سب کام مکمل ہو چکے تھے۔ اب تو بس اک انتظار تھا جو گھر کے چھوٹے بڑے سبھی کر رہے تھے۔ ابا جی کا معلوم نہ تھا کہ ریل یا بس سے آنا ہے۔ اس لئے ستائیسویں روزے کی شام پانچ بجے میں اور مجید بھائی مین بازار میں اتر گئے۔ تاکہ اباجی کا استقبال کرسکیں اور رکشے سے سامان اتارنے میں مدد کر سکیں۔ ہم دونوں بھائی سامنے چاچے عزیز نائی کی دکان پر بیٹھے تھے۔ جونہی عصر کی اذان ہوئی گلی موتی مسجد کے منہ کے آگے سامان سے لدے دو رکشے آرکے۔ ایک رکشے سے اباجی اترے باری باری ہم دونوں بھائیوں کو لپٹا کے پیار کیا۔ رکشے والوں نے سامان اتار کر ایک جانب سیڑھی پر رکھا۔ مجھے سامان کے پاس کھڑا کرکے اباجی اور مجید بھائی باجماعت نماز میں شامل ہوئے اور سجدئہ شکر ادا کیا۔ نماز کے بعد بہت سے نمازی والد صاحب سے ملنے لگے۔ تھوڑی دیر میں سامان گھر پہنچ گیا۔ اباجی کے گھر میں داخل ہونے سے جیسے بہار آگئی۔ در و دیوار روشن سے ہوگئے۔ گویا عیدالفطر کی خوشیاں دوبالا ہوگئیں۔

اباجی کی آمد پر ماں نے افطاری کے خصوصی انتظامات کر رکھے تھے۔کمرے کے فرش پر بڑا دسترخوان بچھا تھا جس پر پکوڑے، پھل، حلوہ ، پلائو اور قورمہ سجے تھے۔سٹیل کے ایک بڑے پتیلے میں شکنجبین میں برف تیر رہی تھی۔ روزہ کھلنے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ ہم سب چوکڑی مارکر بیٹھے تھے۔ میرے والدین میری نگاہوں کے سامنے تھے۔ میں نے پہلی بار اباجی کو غور سے دیکھا۔ انکے چہرے پر چھوٹی چھوٹی کالی داڑھی بہت بھلی لگ رہی تھی اور دوپٹے میں ماں جی کا چہرہ آج کچھ زیادہ پرسکون نظر آ رہا تھا۔ گھر کا پردیسی وارث پردیس سے اپنوں میں لوٹ آیا تھا۔ ایک چھوٹا سا خاندان مکمل ہوگیا تھا۔

روزہ کھولنے کے بعد اباجی نے یہ طے کیا چونکہ آج شب مسجد میں ختم القرآن کی محفل ہے۔ اس لئے وہ اپنے ساتھ لایا ہوا سامان کل سحری کے بعد کھولیں گے۔ تھوڑی دیر آرام کرکے اباجی نے چائے پی اور مجید بھائی کو لے کر مسجد چلے گئے تو چھوٹتے ہی شمع نے ماں جی سے پوچھا،

’’اب جی ٹی وی کیوں نہیں لائے؟‘‘

’’تمہارے ابا کا کہنا ہے کہ پہلے گھر میں بجلی آئیگی تب ٹی وی بھی لے آئیں گے‘‘ماں جی نے شمع کو بھینچتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے دیکھا کہ شمع کی ابھی تسلی نہیں ہوئی تو وہ مزید بولیں

’’تمہارے ابا جی تم لوگوں کیلئے بہت سے کھلونے، گڑیا، عید کے کپڑے اور ٹافیاں لائے ہیں‘‘ یہ جان کر ہم دونوں خوش ہوگئے اور سونے کیلئے اپنے بستر پر چلے گئے۔ اگلی سحری کے وقت شمع اور مجھے ایک ساتھ مجید بھائی نے جگایا۔ اباجی پہلے ہی سے دسترخوان پر موجود تھے۔روزہ بند ہونے میں وقت کم تھا اس لئے ہم بھی ہاتھ منہ دھو کر کھانے پینے میں جت گئے۔پندرہ بیس منٹ بعد روزہ بند ہوگیا۔ نماز فجر کے بعد اباجی نے سامان کھولنا شروع کردیا۔ ایک سوٹ کیس ماں جی کا تھا۔ دوسرے میں اباجی کے اپنے اور کچھ دوستوں کے تحائف تھے۔ ایک سوٹ کیس میں ہم تینوں بہن بھائیوں کے کپڑے، کھلونے، ٹافیاں اور دوسری اشیاء تھیں۔ہم تینوں کیلئے ایک ریڈی میڈ اور ایک ایک بغیر سلائی کے سوٹ تھے۔ ماں جی، شمع اور میرے لئے سینڈل بھی تھے۔مجید بھائی کی کھیڑی پہلے ہی سے سائی پر بننے کیلئے بازار میں دے دی گئی تھی۔شمع کیلئے آنکھیں مٹکاتی گڑیا اور میرے لئے کھلونا کار لائے تھے۔اباجی تایا جی کیلئے کپڑوں کا جوڑا، ٹوپی، رومال اور تسبیح بھی لائے تھے۔ انہیں ساتھ ایک بند لفافہ ٹافیوں کا بھی بھیجا گیا جو انہوں نے بہ خوشی قبول کر لیا۔یوں سال بعد آنے والی عید ابا جی کی آمد کے ساتھ ساتھ ڈھیر ساری خوشیاں لے کر آئی تھی۔ ہم تھے کہ اتنی ساری خوشیاں ایک ساتھ پاکر پھولے نہیں سما رہے تھے۔

تیسری قسط اس لنک پہ پڑھیں۔

پانچویں قسط اس لنک پہ پڑھیں۔

(Visited 1 times, 13 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: