مسز خان! حد ہے ویسے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سحرش عثمان

0

جوتوں تک تو ٹھیک تھا مسز خان کے وقت سے پہلے ہی سیدھے کرلینے چاہییں۔
لیکن یہ توے کی سمجھ نہیں آئی وہ کیوں چڑھا ہونا چاہئیے۔ آتے ہی کیا کس کو داغنے پر تل جایا کریں؟ وہ بھی توے سے مطلب اتنا وزنی توا ہوتا ہے۔ لگتا ہے مسز خان آپ نے کبھی توا چڑھایا نہیں ہے۔ وگرنہ یہ بھاشن تو ہرگز نہ دیتیں۔
حیرت ہے میچ میکنگ کے نام پر لوگوں کی مجبوریاں کیش کرا کے اپنے لیے آسائشیں خریدنے جیسے مکروہ کام پر بجائے شرمندہ ہونے کے آپ اخلاقیات پر لیکچر بھی دے رہی ہوتی ہیں۔
عجیب سماج ہے سنگ یہاں مقید ہیں سگ آزاد۔
جس کو اخلاقی طور پر مر جانا چاہیے وہ شخص بھی اخلاقیات کے بحران پر لیکچر دیتا ہے۔
جسے شرم سے ڈوب تو جانا ہی چاہیے وہ بھی اوروں کو شرمندہ کرنے کی کوششوں میں ہوتا ہے۔

جس قابلیت پر ڈگریوں پر رالیں ٹپکاتے رشتہ کیا ہوتا بعد میں وہی قابلیت طعنوں کی صورت وقتا فوقتا دہرائی جاتی ہے اور مسز خان جیسی سوکالڈ سلیبرٹیز ایسے مفاد پرست طبقے کے ہاتھ مضبوط کرتی ہیں اور شدید ترسے لونڈے و ہمنوا تالیاں پیٹ پیٹ کر ہاتھ اور ہاہا کار مچا مچا کر گلا سجا لیتے ہیں۔
یہ سوچے سمجھے بغیر کہ یہ گھٹیا اخلاقیات شادی کے انسٹیٹیوٹ پر کس قدر برے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
اور یہ نام نہاد ویلیوز کی تکرار ہر بارآٹھ مارچ کے پوسٹرز میں اضافہ کیے جارہی ہیں۔ اور ہم جیسے لوگ اس طوفان بدتمیزی میں خاموش رہ جانے میں عافیت محسوس کرتے ہیں یہ جانے بغیر کہ ہماری خامشی کئی کچے ذہنوں کو شادی سے تعلق سے رشتے سے متنفر کررہی ہے۔
اور کئی بچے اس رشتے اور اس کی ذمہ داریوں سے بھاگنے لگتے ہیں۔
شادی ہمارے ہاں ایک ڈراؤنا خواب تو تھی ہی مسز خان ورژن نے اسے مزید مشکل بنا دیا ہے۔
پہلے کیا کم مشکلات ہیں جو جی کو جلانے کو ان محترمہ کا لیکچر بھی سننا پڑا ہے۔

حد ہے اور بے حد۔ ۔ ڈاکٹر انجینئر بہو چاہیے ساتھ ہی اس کی گول روٹی پرکار سے ماپی جاتی ہے۔
پروفیشنل لڑکی چاہیے ساتھ ہی امور خانہ داری میں طاق۔
شوہر و سسرال کی خدمت میں ہمہ وقت حاضر۔ کسی بھی قسم کی ناگوار صورتحال میں بھی جبڑے کے پورے پھیلاؤ سے مسکرانے اور مسکراتے رہنے والی۔
برتن دھو دھو کر لیمن میکس کے ایڈ کی طرح ان میں چہرہ دیکھ کر لپ گلوز برابر کرلینے والی۔
مصالحوں کے ایڈ والی سولہ سترہ سنگھار کیے کچن میں ایسے کھڑی ہو جیسے حبس و گرمی کا نام و نشان نہیں۔
اس پر سارے تنقیدی جملے ہنس کر برداشت کرنے والی کیونکہ زبان نہیں چلانی۔ اس کو تالو سے چپکا کر رکھنا ہے۔
اپنے اوپر ظلم کروائے جانا ہے۔ بس “گھر”بچانا ہے۔
اہسے عقوبت خانوں کو گھر کہنے پر ہی سُو کردینا چاہیے مسز خان کو۔ لیکن بتایا ہے نا سنگ یہاں مقید ہیں سگ آزاد۔
یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔
لیلا نظر آتا اور مجنوں نظر آتی ہے۔

لیکن اتنا ناراص ہونے والی کونسی بات ہے۔ مسز خان نے کونسا کوئی جگ سے انوکھی بات کہہ دی ہے۔
گھر بچانے کی ساری ذمہ داری بیٹیوں پر ڈالنے والے اس منافق سماج کا چہرہ ایسے ہی لوگ ہیں۔ کمزور کو دبا کر بہادری دکھانے والے۔
لیکن افسوس مسز خان کے اب ہم اتنے مجبور و مقہور و بے بس نہیں رہے، اب میری جنس ایسی بے وقوف نہیں رہی وہ اپنے لیے پورے فرد کا سٹیٹس مانگتی نہیں اب اس سٹیٹس کوبزور بازو حاصل کرلیتی ہے۔
آپ نے اگر فیملی انسٹیٹیوٹ بچانا ہے تو پھر اپنے بیٹیوں کی تربیت کرنا شروع کریں۔
شادی صرف خاتون کی نہیں ہوتی جس کو صرف اسی نے نبھانا ہوتا ہے۔
کسی بھی ناگوار صورتحال میں گھر صرف عورت کا نہیں ٹوٹتا۔ فیملی صرف عورت کی نہیں برباد ہوتی۔
اپنے بیٹوں میں احساس ذمہ داری پیدا کریں۔ انہیں انسانوں کی طرح بہیو کرنا سیکھائیں۔
اگر وہ عورت کو اس کا جائز مقام نہیں دے سکتے گھر بچانے کی برابر ذمہ داری نہیں لے سکتے تو پھر شادی نہ کرنے کا مشورہ انہیں دیجئے۔
ہمیں مت سیکھائیے کہ ہم نے شادی کرنی ہے یا نہیں۔
اور آپ نے بالکل ٹھیک کہا اگر طلاق کامکمل اختیار عورت کو دیا جاتا تو ہر مرد طلاق کا داغ لیے گھوم رہا ہوتا۔

بالکل درست فرمایا۔ اگر یہ مکمل اختیار عورت کو مل جاتا تو آپ کا سماج کم منافق ہوتا۔ یہاں دوغلے روئیے قدرے کم ہوتے یہاں چولہے کم پھٹتے یہاں بیٹی کی پیدائش جرم نہ ہوتی۔ بیہاں بیٹے کے لیے مشین نہ بنایا جاتا۔ یہاں جہیز کے ہاتھوں مجبور والدین بیٹیوں کو دیکھ دیکھ کر دل کے مریض نہ بنتے۔
یہاں “اچھے” لڑکے کے انتظار میں ڈگری پہ ڈگری نہ کیے جاتیں لڑکیاں۔
یہاں ریسپشنسٹ سے ٹرک کے اشتہار میں اور مصالحے بیچنے سے بلیڈ کی مارکیٹنگ تک عورت ایز ٹول استعمال نہ ہوتی۔
اور یہاں طلاق پر صرف عورت سے سوال نہ پوچھا جاتا مرد بھی جواب دہ ہوتا اسے بھی کوئی روک کر کہتا تم ہی برداشت کرلیتے۔
اس کی پیٹھ پیچھے بھی سرگوشیاں ہوتیں اس کا بھی کوئی نا کوئی قصور تو ہوگا ہی ورنہ اتنی چھوٹی بات پر کون طلاق دیتا ہے۔
اس کو بھی کہا جاتا اس کا باپ بھی ایسا ہی تھا اس کی ماں نے بھی تو چھوڑ دیا تھا اس کے نکھٹو باپ کو۔
اس کے رشتے کے لیے آتے ہوئے لڑکی کے گھر والے پوچھتے لڑکے کے باپ کو طلاق ہوئی تھی یقینا لڑکا بھی ویسا ہی ہوگا۔
آپ نے بالکل درست فرمایا یہ داغ عورت کے ماتھے کا جھومر نہ رہتا مرد بھی اس کا مزا چکھتا۔
اسے بھی احساس ہوتا جوتوں میں کیل کدھر ہے۔ اور کیلوں والے جوتوں سے لمبے سفر طے کرنا کیسا لگتا ہے۔

اگر آپ یہ سب نہیں کرسکتیں اس سماج میں بیٹوں کی تربیت پر زور نہیں دے سکتیں۔ تو پھر ایک کام کیجئے۔
چپ چاپ لوگوں سے جھوٹ بول پردے ڈال لالچ دے دے کر اپنی فیس کھری کرتی رہا کریں۔
یہ سوشل ریفارمر بننے کا کانٹا نکال پھینکئے۔
خوامخواہ ہی اپنی روزی روٹی پر لات مار بیٹھیں گی کہ آپ کی دوکان لڑکیوں کی وجہ سے پہ چل رہی ہے اور بہت حد تک بے جوڑ شادیوں کی وجہ سے۔ کیونکہ اگر اس سماج میں ایک نسل بھی بے جوڑ شادیوں کے بندھن کی بجائے خوشی والی شادی میں بندھی تو یہ سماج آپ جیسے کرداروں سے تو جان چھڑا ہی لے گا۔
لہذا اپنی چھابڑی کی حفاظت فرمائیے لیکچر دینےسے پہلے اپنی ذات کی کڑتن نکال لیا کیجئے۔
ہمارے ہاں کہا جاتا ہے اپنی ذات کڑتن ہوئے مصری نال نہ لڑئیے۔
تو اپنا گریبان میں جھانکنا سیکھئے۔

رشتے بچانے کی ذمہ داری رشتے میں بندھے ہر فرد پر یکساں عائد ہوتی ہے۔ یکطرفہ کچھ نہیں ہوتا، کم از کم شادی نہیں ہوتی۔
رہ گئی گھر کے کام کرنے کی بات تو آپ کون ہوتی ہیں ہمیں بتانے والی سارے کام ہم ہی پر فرض ہوئے ہیں۔ جب کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔
جب وہ اپنے جوتے کپڑے خود مینج کیا کرتے تھے تو پھر کم از کم ہمیں اس بر صغیری روایت کو آفاقی اسلام بنا کر مت دکھایا کریں۔
اب ہم وہ چپ چاپ برداشت کرجانے والی نسل سے تعلق نہیں رکھتیں۔ ہمیں معدے سے دل والے رستے بھی قبول نہیں، دل سے دل والا رستہ کھلا ہے۔ جسے قبول ہے وہ قبول ہے کہے دوسری صورت میں۔۔۔ لڑکوں سے کہیئے شادی نہ کریں۔ ۔ گھر رہیں آوارہ گردی کریں اماں سے لاڈ اٹھوائیں۔ کسی کی بیٹی کی زندگی برباد کرنے سے بہتر ہے صرف اپنی کریں۔

یہ بھی پڑھیں: عورت کی ملازمت: مجبوری اور استحصال ——– محمد مدثر احمد

 

(Visited 1 times, 12 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: