فنِ موسیقی کی اصطلاحات —– یاسر اقبال

0

فنِ موسیقی محض سریلی آواز کے اظہار کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل فن ہے۔ فنون میں روایت اور فن کاروں کی تاریخ بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس مضمون میں موسیقی کی چند اصطلاحات کا ذکر کرنا چاہوں گا جنھیں سمجھے بغیر ہم موسیقی کی فنی تاریخ سے آگاہ نہیں ہو سکتے۔ ان اصطلاحات (Terms) میں برصغیر کی کلاسیکی اور نیم کلاسیکی موسیقی کے فن کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ یوں ان اصطلاحات سے پورے موسیقی کے نظام کو ایک جگہ جمع کر دیا گیا ہے:

اصطلاحات موسیقی:

اپنیاس سُر:
وہ سُر جس پر راگ کا ایک حصہ ختم ہو۔ مثلاًکسی راگ کی استھائی کے خاتمے کا سُراپنیاس کا سُر کہلائے گا۔

اچل سُر:
اچل سُر سے مراد قائم سُر ہے یعنی ایسا سُر جس کی کوئی درجہ بندی نہ ہوسکے۔ موسیقی میں دو سُر اچل سُر ہیں ایک کھرج یعنی سااور دوسرا پنچم یعنی پا۔

الاپ:
راگ کی آروہی امروہی پر مشتمل ہوتا ہے۔ الاپ دراصل راگ کو گانے کا نام ہے۔ اس میں راگ کا روپ سرو پ واضح کیا جاتاہے۔

اندولن:
سُر کو جھلانا اندولن کہتاہے۔ راگ درباری میں گندھار اور دھیوت کو جھولاکر لگایا جاتاہے۔

انگ:
گائیکی کا انداز۔ مثلاً خیال انگ، ٹھمری انگ، گیت انگ، قوالی انگ

اوڈھو:
پانچ سُروں پر مشتمل راگ کو اوڈھو کہتے ہیں۔

اُتروانگ:
ایسا راگ جس کا سارا زور اور خوبصورتی اُونچی سروں میں رہتی ہے۔

آہنگ:
دھن، ترنم، نغمہ وغیرہ۔ آواز یا نغمے کا صوتی تاثربھی آہنگ کہلاتا ہے۔

بندش:
غنائی ترکیب، دھن، طرز

بول بنانا:
بولوں کو مختلف غنائی ارادوں کے ساتھ ادا کرنا

بھائو بتانا:
گاتے وقت بولوں کے مفہوم کورقص کی طرح ہاتھوں کے اشاروں، آنکھوں اور بھنوئوں کے اشاروں سے بتانا۔

بھجن:
ہندوئوں کا مذہبی گیت

پربندھ:
برِصغیر میں عہد قدیم میں دھروپد سے پہلے جو صنف ِ گائیکی مروج تھی وہ پر بندھ کی گائیکی تھی۔ پربندھ موسیقی کی انتہائی منظم، ساختہ و پرداختہ فارم تھی۔

پلٹا:
سرگم کو لے کے ساتھ ترتیب دے کر گانا۔

پُوروانگ:
ایسا راگ جس کی شکل نچلی سُروں میں ظاہر ہوتی ہے۔

تان:
تان سروں کے ایسے مجموعے کو کہتے ہیں۔ جو راگ کو پھیلانے اور آگے بڑھانے میں مدد دے۔ تانوں سے راگ کی وضاحت کی جاتی ہے۔

ترانہ:
کلاسیکی موسیقی کی قدیم صنف ِ موسیقی ہے۔ جس کے بول مہمل الفاظ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مثلاً تانا، نانا، در، در، توم، نوم، دیرے نا، وغیرہ۔ اس صنف کو دُرت لے کے ساتھ تیاری میں گایا جاتاہے۔

تروٹ:
تروٹ اصل میں گائیکی کاایک ایسا اسلوب ہے جوطبلہ یا پکھاوج کی پرن کے بولوں پر مشتمل ہوتاہے۔ بعض دفعہ اس میں خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے ترانے کے بول بھی شامل کردیے جاتے ہیں۔ گائیکی کا یہ انداز اب معدوم ہوچکا ہے۔

توڑے یا توڑا:
موسیقی کی ایک ایسی بندش جو طبلے اور ستار کے لیے بنائی جائے۔

تہائی:
کسی تال کے ماتروں کو لے کے ساتھ تین برابر حصوں پر اس طرح تقسیم کردینا کہ آخری یعنی تیسرے حصے کا اختتام سم پر ہوجائے۔

تین تال:
۱۶ ماتروں پر مستمل ایک تال کا نام ہے۔ اس تال کا چکر ۱۶ ماتروں پر مشتمل ہوتاہے۔ خیال وغیرہ کی بندشیں اکثر تین تال میں ہوتی ہیں۔

تیور:
تیور کے لغوی معنی تیکھا اور تیز کے ہیں۔ اصطلاح میںنیچرل مقام سے تھوڑا چڑھا ہوا سُر تیور کہلاتا ہے۔

ٹھاٹھ:
ٹھاٹھ سات سروں پر مرتب ہوتا ہے۔ انھی سات سروں میں سے راگ نکالے جاتے ہیں۔ مروج ٹھاٹھ دس ہیں جبکہ حساب کے اعتبار سے ۳۲ ٹھاٹھ ہیں۔ ایک ٹھاٹھ میں سےکئی کئی راگ ترتیب دیے گئے ہیں۔

ٹھمری:
اس صنفِ گائیکی کا رواج سلطنت اودھ میں قائم ہوا۔ ٹھمری نیم کلاسیکی موسیقی کی صنف ہے جس میں رومانوی مضامین شامل ہوتاہے۔ لفظ اور معانی کا رشتہ مضبوط ہوتاہے۔ دل آویز زمزمے، مرکیاں اور ہلکی پھلکی تانیں اس کی گائیکی میں شامل ہوتی ہیں۔ بول بناکر اور بھائو بتا کر گانا ہی اس کی اہم خصوصیت ہے۔

ٹھمک :
ٹھمک کے معنی رقص کے ہیں۔ ٹھمری کا ماخذ بھی ٹھمک ہے۔ ٹھمری کی گائیکی نے طوائف خانوں میں رواج پایا جہاں رقص و سرود ایک ساتھ ہوتے تھے۔

جھپ تال:
دس ماتروں پر مشتمل ایک تال کا نام ہے۔ اس کا چکر دس ماتروں پرمشتمل ہوتاہے۔ خیال وغیرہ کی بندشیں اس میں گائی جاتی ہیں۔

خیال:
کلاسیکل صنف ِ موسیقی۔ دُھرپد کے بعد خیال کی گائیکی نے جنم لیا۔ اس میں زمزمہ، مرکیاں، سونت، مینڈھ سب کچھ شامل ہوتا ہے۔
خیال سے پہلے مروج رہی ہے۔ دھرپد کی گائیکی چار حصوں پر مشتمل ہے۔ استھائی، انترہ، سنچاری، ابھوگ۔ اس صنف کے گانے والےاب نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس صنف ِ گائیکی کا انداز سیدھا سادہ اور سنجیدہ ہوتا ہے۔ تان، مرکی، مینڈھ سروں کا استعمال ممنوع ہے۔

دادرا:
دادرا صنف ِ گائیکی میں ایک صنف بھی ہے اور تال کا نام بھی ہے۔ دادرا تال چھ ماتروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ تال کے ماترے یہ ہیں:دھا، دھن، دھن، تا، تن، تن، تا۔ اس تال کا استعمال غزل گائیکی میں ہوتا ہے۔

دگن:
مقررہ لے کا دوسرا درجہ۔ مقررہ لے کو دوگنا کرکے بجانا۔ اس کو ٹھاہ دونی کرنا بھی کہتے ہیں۔ اس کا تعلق تال کے ساتھ ہوتاہے جس میں طبلے والا اپنی تیاری اور ریاضت دکھاتا ہے۔

دُرت لَے:
تیز لَے

دُھرپد:
دھرپد اور دھرپت ایک ہی صنف کے نام ہیں۔ یہ صنف ِموسیقی کلاسیکی موسیقی میں

راگ:
فنِ موسیقی میں راگ سروں کے ایک خاص مجموعہ کو کہتے ہیں۔ سروں کا یہ مجموعہ ایک خاص ترتیب کے ساتھ متشکل ہوا ہوتا ہے۔ اگر ترتیب بدل جائے تو راگ کی شکل بدل جاتی ہے۔ سروں کے اسی مجموعے سے نغمہ یا دھن تشکیل پاتے ہیں۔

راگ داری:
راگ کے روپ سروپ کو پختگی کے ساتھ قائم رکھنا۔ یعنی پختگی کے ساتھ الاپ کرنا۔

راگ کا بصری تصور:
الاپ کرتے ہوئے راگ کو اس کے خاص ’’رس‘‘یا ’’جذبے ‘‘کے ساتھ متشکل کرنا۔ راگوں کے رس یا جذبے کے ساتھ جڑی ہوئی تصاویر، خیال، کیفیات کوسامع کے تخیل میں اجاگر کرنا راگ کے بصوری تصور میں شامل ہے۔ جیسے راگ درباری کے ساتھ مغل دور کا جاہ و جلال، بلند عمارتوں کا تصور جڑا ہوا ہے۔

راگ کی امروہی:
راگ کے الاپ میں نقطہ ٔ آغاز کی کی طرف واپس لوٹنا راگ کی امروہی کہلاتاہے۔

راگ کی آروہی:
راگ کاالاپ کرتے ہوئے نقطہ ٔآغاز سے بتدریج بڑھنا آروہی کہلاتا ہے۔

راگ کی بڑھت:
راگ کی شکل ٹھہرائو کے ساتھ دکھانے کو بڑھت کہتے ہیں۔

سپتک:
سپتک کے معنی جائے قیام، منزل یا سٹیج کے ہیں۔ نظام ِگائیکی میں تین سپتک مروج ہیں۔ مدھ سپتک، مندر سپتک، تار سپتک۔ مدھ سپتک (بائیں سے دائیں) پہلا سپتک ہے جس میں آواز Base میں بھاری ہوتی ہے۔ مندر سپتک درمیانی آواز پر مشتمل ہوتاہے اور تار سپتک باریک، بلند اور اونچی آواز پر مبنی ہوتا ہے۔

سرگم:
اصطلاح موسیقی میں سات سروں کے مجموعۂ سا، رے، گا، ما۔ ۔ ۔ کو سرگم کہتے ہیں۔

سم وادی سُر:
وادی سُر کے بعد جس سُر کا درجہ ہے وہ سم وادی سُر ہے۔ وادی سُر اور سم وادی سُر راگ کی شکل و صورت کو واضح کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس لیے الاپ کے دوران دیگر سروں کی نسبت ان دو سُروں کا استعمال زیادہ ہوتارہتاہے۔ ہر راگ کے وادی اور سم وادی سُر مختلف ہوتے ہیں۔

سمپورن:
سات سروں پر مشتمل راگ کو سپپورن کہتے ہیں۔

سَم:
تال کا نقطۂ آغازسم کہلاتا ہے۔ گائیکی میں جس مقام پر تال کا چکر مکمل ہوجاتا ہے وہ مقام سَم کہلاتاہے۔

سُر کی لگاوٹ:
بھر پور انداز سے سُر کی ادائیگی کرنا۔

شُدھ تان:
تان کی ایک قسم جس میں سُروں کا استعمال سلسلہ وار ہو۔

شُرتی:
شرتی آوازکا ایک درجہ ہے۔ شُرتی ایسی آواز پر مشتمل ہوتی ہے جو موسیقی کی ضرورتوں کو پورا کرتی ہے اور سُروں کے مدارج کو پہچاننے کے لیے موزوں ثابت ہوتی ہے۔ شرتیوں کی تعداد بائیس ہے۔ مروجہ سات سُر انھیں سے نکلے ہیں۔

کومل:
کومل کے لغوی معنی نرم کے ہیں لیکن علم موسیقی میں ہر سُر کو دو حصوں کومل اور تیورپر تقسیم کیا گیا ہے۔ اصطلاح موسیقی میں اپنے نیچرل مقام سے اترا ہوا سُرکومل کہلاتا ہے۔

کہروا:
کہروا ایک تال کا نام ہے جو آٹھ ماتروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ غزل گائیکی میں اس تال کو زیادہ برتا جاتاہے۔

کھاڈو:
چھ سروں پر مشتمل راگ کو کھاڈو کہتے ہیں۔

گمک تان:
گمک تان میں سروں کو ایک خاص انداز کے ساتھ حرکت دے کر ادا کیا جاتاہے۔ فنکار ایک سرسے دوسرے سر پر چلتا ہوا تان ادا کرتاہے۔

مرکی:
دو یا تین سروں کی چھوٹی سی تان کو تیاری کے ساتھ بہت تھوڑے وقفے کے دوران ادا کرنے کو مرکی کہتے ہیں۔

مغلئی:
مغلئی سات ماتروں پر مبنی ایک تال ہے۔ جس کا استعمال غزل گائیکی میں زیادہ ہوتاہے۔

مینڈھ سُر:
ایک سرسے دوسرے سرکے درمیان چھوٹی چھوٹی سُرتیوں کو آواز میں دکھانامینڈھ کہلاتاہے۔ مینڈھ میں سُر کی لگاوٹ اس طرح کی جاتی ہے کہ ایک سُر سے دوسرے سُر تک اس طرح بڑھا جاتاہے کہ آواز کا تسلسل ٹوٹنے نہ پائے۔

نیاس کا سُر:
نیاس کا سُر وہ ہوتا ہے جہاں پورا راگ ختم ہورہا ہو۔ یعنی استھائی انترہ جس سُر پر ختم ہوجائے۔

وادی سُر:
راگ کا مرکزی سُر جو راگ کے الاپ میں بار بار استعمال ہوتاہے۔

ولمپت لے:
الاپ کے بعد سست لے۔ تال کو بہت آہستہ رفتار سے بجانا

یک تالہ :
یک تالہ کو ایک تال بھی کہتے ہیں۔ اس تال کا چکر ۱۲ ماتروں پر مشتمل ہوتاہے۔ خیال گائیکی میں اس تال کو زیادہ برتا جاتاہے۔ اس تال کے ماترے کچھ ا س طرح ہیں:دھن، دھن، دھا، گے، ترکٹ، تنا، کتا، دھا، گے، ترکٹ، دھنا، دھن۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: