روشن ستارہ ڈوب گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سراج منیر کا تذکرہ، طاہر مسعود کا قلم

0

کبھی کبھی بعض سانحے ایسے گزرتے ہیں کہ ہنسنا ہنسانا بے معنی سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایسے سانحوں پر لکھتے ہوئے لفظوں سے پہلے آنسوئوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اُن آنسوئوں سے جو ناگہانی طور پر بچھڑ جانے والے کسی محبوب دوست کی یاد میں خود بہ خود بہ نکلتے ہیں۔ یہ آنسو کسی نقصان کی تلافی نہیں کر سکتے، مگر اُن سے دل کا بوجھ تو ہلکا ہو جاتا ہے اور زندگی رفتہ رفتہ ایسے معمول پر آ جاتی ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

اس شام ۔۔۔۔ اس تھکی ہوئی غم انگیز شام کو جب انگریزی خبر نامے میں سراج منیر کی موت کی خبر سنائی گئی تو لمحے بھر کے لیے دل پر سناٹا چھا گیا۔ یقین ہی نہیں آیا کہ اس یارِ طرح دار کی عمر کی نقدی اتنی جلدی ختم ہو جائے گی۔ ابھی کچھ ہی روز پہلے اسے ٹی وی کے کسی پروگرام میں بولتے ہوئے سنا تھا، اس کی باتوں میں، لب و لہجے میں، چہرے کے اتار چڑھائو میں کہیں سے بھی تو موت کے آثار نہیں تھے۔ ذہانت کی وہ چمک کہ جس سے محفلوں میں روشنی سی پھیل جاتی تھی، یکا یک رات کے گھپ اندھیرے میں کیوں بجھ گئی۔ موت سے کس کو رست گاری ہے لیکن جناب یہ احساس تو انتہائی الم انگیز ہے کہ اجل باری آنے سے پہلے بھی پکار سکتی ہے۔ قدرت نے جس اہتمام سے اس غیر معمولی ذہن اور سعید روح کی تخلیق کی تھی، ابھی تو اس کے امکانات بھی پوری طرح ظاہر نہیں ہوئے تھے اور جو توقّعات اہلِ علم کو سراج منیر کی ذات سے تھیں، اُن کی تکمیل کا وقت ابھی تک نہیں آیا تھا لیکن ہم یہ کہنے والے کون ہوتے ہیں اور مشیتِ ایزدی کے فیصلے کب ہمارے مشوروں کے محتاج ہیں۔

سراج منیر کی زندگی شعلۂ مستعجل ثابت ہوئی، مگر اس شعلے کی حرارت ہمارے دلوں کو ہمیشہ گرماتی رہے گی۔ اس کی شخصیت ہر پہلو سے انتہائی منفرد، دل آویز اور غیر معمولی تھی۔ وہ ایک اجڑے ہوئے خاندان کا چشم و چراغ تھا، جس نے دو ہجرتوں کے زخم سہے تھے، پہلی ہجرت کے خوں چکاں واقعات، اس نے صرف سنے اور پڑھے تھے۔ دوسری ہجرت کا غم ناک تجربہ اُس پر بیتا تھا۔ سقوطِ ڈھاکہ سے ایک سال قبل وہ یہاں آیا تھا تو اُس کے گھریلو حالات بے حد دگرگوں تھے، والد بزرگوار مولانا متین ہاشمی کو لاہور میں ملازمت مل گئی، جس کے بعد یہ خاندان اسی علمی و تہذیبی شہر میں سکونت پذیر ہو گیا۔ سراج منیر نے نا مساعد حالات میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کرنے کے دوران ہی اس کی ذہانت اور علمیت کی شہرت پھیلنی شروع ہو گی۔ اپنی مسحور کن خطابت کی وجہ سے وہ لاہور کے ادیبوں کے مرغوب ریستوران پاک ٹی ہائوس میں موضوعِ گفتگو بن گیا۔ کیوں کہ جس ادبی محفل میں وہ بولتا تھا، وہاں کسی اور کا چراغ جلنا ناممکن ہو جاتا تھا۔ اس نے غضب کا حافظہ پایا تھا، جو بھی پڑھتا، مستحضر رہتا، گفتگو اور تقریر کے فن پر اسے کمال کی قدرت حاصل تھی لہٰذا اُس کی علمی و ادبی حیثیت اُسی وقت تسلیم کر لی گئی جب کہ وہ ادب کے میدان میں ابھی نو وارد تھا۔ سراج کو خدا نے تحریر و تقریر کی یکساں استعداد عطا کی تھی۔ اس میں اس کی اپنی محنت اور مطالعے کا تو دخل تھا ہی، والد بزرگوار مولانا متین ہاشمی کی تربیّت و رہنمائی کا بہ طور خاص حصّہ تھا۔

حصولِ تعلیم کے بعد سراج منیر نے کچھ عرصہ لیکچرار شب کی۔ اُسے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے درس و تدریس کا پیشہ ایک محدود میدان محسوس ہوا، اس لیے اُس نے اسے جلد ہی خیر باد کہہ دیا۔ معاشی ضروریات کے لیے اُسے مختلف اخبارات و رسائل سے وابستہ رہنا پڑا۔ پھر وہ کچھ عرصے کے لیے بہ غرضِ ملازمت جدّہ گیا، جہاں سیّد محمد علی مرحوم کے ساتھ اُس نے ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی میں کام کیا اور وہاں بھی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے سب کو متاثر کیا۔ اس پر گھر کی ذمّہ داریوں کا بڑا بوجھ تھا اور وہ کسی ایسی ملازمت کی تلاش میں تھا جس سے اتنی یافت ہو سکے کہ وہ اُن ذمّہ داری سے بے نیاز ہو کر اپنا وقت علمی مشاغل میں صرف کر سکے۔ اس عرصے میں اُس کے لکھنے کا سلسلہ جاری رہا۔ زمانۂ طالب علمی میں اُس کی ایک کتاب بھی شائع ہوئی جو علمی حلقوں کی توجہ حاصل نہ کر سکی۔ صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے اقتدار سنبھالنے کے بعد وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر محمد افضل سے اس کے تعلقات استوار ہوئے۔ وہ سراج کی ذہانت اور علم کے بڑے قدردان تھے۔ صدر کی دو ایک تقریبوں میں اُسے بولنے کا موقع ملا تو صدر بھی اُس کی صلاحیتوں سے متاثر ہوئے اور یوں ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ جیسے معتبر علمی ادارے کی ڈائریکٹر شپ کا عہدہ اُسے تفویض کیا گیا، جس پر بعض حلقوں کی جانب سے مایوسی کا بھی اظہار ہوا کہ جس منصب پر خلیفہ عبدالحکیم جیسے اہلِ علم متمکن رہے ہوں، اُسے ایک نا تجربہ کار نوجوان کے حوالے کر دینا گویا اُس منصب کے مرتبے کو گھٹا دینا ہے۔ سراج منیر نے شبانہ روز محنت اور طبّاعی سے ادارے میں نئی روح پھونک دی۔ اُس کی زیر نگرانی ادارے کی کتابیں تعداد و معیار کے اعتبار سے اتنی زیادہ بلند ہو گئیں کہ یقین ہی نہیں آتا تھا کہ یہ اُسی ادارے کی چھاپی ہوئی کتابیں ہیں۔ مذہبی و تہذیبی موضوعات پر کتابیں بہترین گیٹ اب، معیاری کاغذ اور جدید طباعت کے ساتھ تیز رفتاری سے منظر عام آنے لگیں۔ ادارے کے علمی مجلّے ’’المعارف‘‘ کو اس نے نئے تہذیبی مسائل اور رجحانات پر نقد و نظر کا آئینہ دار بنا دیا۔ ادارے کے دفتری ماحول میں بھی علمی فضا پروان چڑھی اور یوں اس معترضین اور نکتہ چیں بھی اُس کی انتظامی صلاحیت و اہلیت کے قائل ہو گئے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس نے ادارے کو پہلی بار مالی اعتبار سے خود کفیل بنا دیا۔

پیپلز پارٹی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد جب حکومت پنجاب اور مرکزی حکومت میں پنجہ آزمائی شروع ہوئی تو پروپیگنڈے کے محاذ پر سراج منیر کی صلاحیتوں کو آزمانے کا خیال پیدا ہوا اور یوں سرج کے مراسم اسلامی جمہوری اتحاد کے رہنمائوں اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب سے اس کے روابط بڑھتے گئے۔ سیاسی دائو پیچ اور پروپیگنڈے کے جنگ میں اس کے مشوروں کو خاص اہمیت دی جانے لگی۔ رفتہ رفتہ اس کی مصروفیت اتنی بڑھ گئی کہ ادبی اور علمی معاملات سے اُس کا رابطہ کمزور ہوتا چلا گیا۔ اُس کے ادبی دوست اور بہی خواہ اس صورت حال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور بجا طور پر یہ سوچتے تھے کہ سراج منیر کی خداداد صلاحیتیں سیاسی مسائل میں صرف ہو کر ضائع ہو رہی ہیں کیوں کہ سیاسی میدان میں تو اس کا نعم البدل مل سکتا تھا ، علمی محاذ پر اس کا کوئی نعم البدل نہیں تھا۔ سراج کے پاس ایسے اعتراضات کا ایک ہی جواب تھا کہ کارِ سیاست کو برے اور کرپٹ لوگوں کے لیے خالی نہیں چھوڑا جا سکتا۔ سیاست کے شعبے میں سراج منیر کی شرکت سے علم و ادب کا جو نقصان تھا، وہ تو اپنی جگہ، لیکن اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ ملکی سیاست کے گندے جوہڑ میں اترنے کے بعد بھی اس کا دامن صاف رہا۔ اہلِ اقتدار سے قربت کے باوجود اس نے اپنی ذات یا اپنے خاندان کے لیے کبھی کوئی ناجائز فائدہ یا مراعات حاصل نہیں کیں۔ چیف منسٹر ہائوس میں پہنچ جانے کے بعد بھی اس کے اہل خانہ کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔ سیاست اسے اپنی طرف کھینچ کر لے گئی تھی لیکن اُس کے دوست احباب کو توقع تھی کہ ایک نہ ایک دن اس کا جی ان تمام بکھیڑوں سے اکتا جائے گا اور وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس علم و ادب کی دنیا میں لوٹ آئے گا، اس لیے کہ سیاست کے میدان میں وہ ’’مس فٹ‘‘ تھا، جیسی بے حسی، سنگ دلی، بے مروّتی اور مفاد پرستی ہمارے سیاست کاروں کے مزاج کا لازمہ ہیں، سراج میں یہ چیزیں عنقا تھیں۔

سراج منیر کی ایک تصنیف

ادبی دنیا میں سراج منیر کی قدر و منزلت اس لیے تھی کہ وہ ایک وسیع علمی پس منظر کے ساتھ اس میدان میں آیا تھا۔ مذہب، فلسفہ، نفسیات اور تاریخ جیسے علوم پر اس کی نظر تھی۔ اس نے ہمارے بیشتر ادیبوں اور نقّادوں کی طرح صرف اردو ادب نہیں پڑھا تھا بلکہ ان علوم کے علاوہ بین الاقوامی ادب پر بھی اس کا مطالعہ وسیع اور گہرا تھا۔ عصر حاضر کے تہذیبی مسائل اس کی خصوصی دلچسپی کے موضوع تھے اور ان الجھے ہوئے وقیع مسائل پر اس کا ذہن کتنا صاف تھا، اس کا اندازہ سہیل عمر کے رسالے ’’روایت‘‘ میں اُس کے شائع شدہ مضامین پڑھ کر کیا جا سکتا ہے۔ اُس کی وقیع علمی کتاب ’’ملتِ اسلامیہ، تہذیب و تقدیر‘‘ سے یہ قیاس بھی کیا جا سکتا ہے کہ اس میں کتنے امکانات پوشیدہ تھے اور اسے کتنا آگے تک جانا تھا، اس کی اسی علمی و فکری استعداد کے پیش نظر ادیبوں کے مختلف گروپ اسے اپنے اپنے حلقوں کی قوّت بنانے کے خواہاں تھے لیکن فکری اعتبار سے وہ ہمیشہ محمد حسن عسکری اور سلیم احمد کے دبستانِ فکر سے وابستہ رہا۔ ادب کی ان دونوں اہم اور متنازعہ شخصیتوں کے جو بھی ذہنی اور علمی مسائل و موضوعات تھے وہ ان میں مزید وسعیت پیدا کرنا چاہتا تھا۔ سلیم احمد مرحوم کو اس سے بے پناہ توقعات تھیں۔ عسکری اور سلیم احمد کی وفات کے بعد یہ ذمہ داری سراج منیر پر ہی تھی کہ ادبی اور تہذیبی مسائل کی بحث کو عصرِ حاضر کے تناظر میں آگے بڑھائے اور ایک ایسا ذہنی ماحول پیدا کرے، جس میں تخلیقی عمل کی معنویت اجاگر ہو سکے۔

شخصی اعتبار سے سراج منیر نہایت نفیس، کشادہ دل اور ہم درد انسان تھا۔ رکھ رکھائو میں تہذیب و شائستگی کے علاوہ ایک عجیب سی دل رُبائی پائی جاتی تھی، اُس کی شخصیت میں بڑی چمک تھی۔ جس سے ایک بار مل لیتا اسے اپنا گرویدہ بنا لیتا۔ اپنے علم کے زعم میں اس نے کبھی کسی کی توہین یا دل آزاری نہیں کی۔ مزاج میں انکسار، تحمل اور بردباری کے ساتھ بلا کی شگفتگی تھی، جس محفل میں بیٹھ جاتا اپنی دل چسپ باتوں اور فقروں سے ماحول کو تر و تازہ رکھتا بلکہ محفل میں اس سے زیادہ نمایاں کوئی اور نہ ہوتا۔ دوست نواز تھا اور شاعر ادیب دوستوں کی تعریف میں مبالغہ آمیزی سے بھی گریز نہیں کرتا تھا۔ ان کی کمزوریوں سے صرف نظر کرتا اور ان کی خوبیوں کو اجاگر کرتا۔ ان کے ذاتی مسائل میں دل چسپی لیتا اور ان کی ہر ممکن مدد کے لیے تیار رہتا۔ ایک مرتبہ جب وہ کسی شاعر دوست کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا چکا تو میں نے کہا ’’سراج بھائی! آپ کی تعریف کا کیا اعتبار، آپ کے علم کا تو یہ حال ہے کہ ابھی اس کی مخالفت میں بولنا شروع کریں گے تو اسے غیر شاعر ثابت کر دیں گے‘‘۔ یہ سن کر اُس نے زور دار قہقہہ لگایا۔ وہ زندگی سے بھر پور قہقہے لگاتا تھا، چند سال پہلے لاہور میں میری اُس سے بڑی یادگار ملاقاتیں رہیں۔ میں نے دورانِ گفتگو پوچھا کہ اُس کا اسلوبِ تحریر اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے، اس نے نہایت دل چسپ جواب دیا، کہا

’’جب میں لاہور آیا تھا تو یہاں مجھے شروع میں کوئی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا، جس کی وجہ سے مجھے یہ اسلوب وضع کرنا پڑا، اب الحمد اللہ وہ صورتِ حال نہیں رہی‘‘۔

سراج منیر بلا شبہ نابغہ تھا، نت نئے خیالات اُس کے ذہن میں موجزن رہتے تھے، جب بھی ملتا کوئی نہ کوئی علمی مسئلہ چھیڑ دیتا اور پھر بے تکان بولتا۔ پچھلی باتوں اور پچھلے خیالات کو دہرانے کے بجائے ہمیشہ نئی باتیں کرتا، زیرِ بحث مسئلے کے نئے نکات ڈھونڈ لاتا۔ اُس نے اپنے ادیب اور شاعر دوستوں کی غیر محسوس طریقے سے تربیّت کی۔ ایسا لگتا تھا کہ اس نے دنیا جہان کا علم گھول کر پی رکھا ہے۔ انتہائی پڑھے لکھے لوگوں کو بھی میں نے اس کے سامنے مبتدی کی طرح سوال کرتے ہوئے دیکھا۔ جمیلہ ہاشمی کے مشہور ناول ’’دشتِ سوس‘‘ کے ہر باب کو اس نے ایڈٹ کیا تھا اور مرحومہ کی خواہش پر اُس نے ناول کو کانٹ چھانٹ کر موجودہ شکل دی تھی۔ کتنے ہی مستند ادیبوں اور شاعروں کی تمنّا تھی کہ وہ اُن کے فن پر لکھے، کسی بھی فن پارے کو جانچنے میں اُس کی تنقیدی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آتیں اور وہ فن پارے کی پرکھ کے لیے ایسا مقدمہ تیار کرتا، جسے چیلنج کرنا نا ممکن ہو جاتا۔

اسے علمِ نجوم سے بھی گہری دل چسپی تھی۔ زمانۂ طالب علمی میں شوقیہ وہ مشرقی پاکستان کے ایک اردو اخبار میں پڑھنے والوں کی قسمت کا حال بتایا کرتا تھا اور یہاں قومی سیاست داں اُس سے زائچے بنوانے کے متمنّی رہتے تھے۔ کیسا عجیب و غریب شخص تھا، وہ بڑی باتیں سوچتا تھا اور چھوٹی باتیں بھول جایا کرتا تھا، جسے اس کے دوست وعدہ خلافی پر محمول کرتے تھے۔ اس نے تیزی سے ترقّی کی لیکن پیچھے رہ جانے والے دوستوں کو بھولا نہیں۔ دوست اسے کہیں بھی مل جاتے، وہ والہانہ گلے لگ جاتا تھا۔ ایک خرابی تھی اُس میں، جن لوگوں کو وہ دل سے پسند کرتا اور جن نظریات پر یقین رکھتا، اُن کا کھل کر اعلان کرتا، اسے چولے بدلنا نہیں آتا تھا، معذرتیں اور وضاحتیں پیش کرنا اس نے نہیں سیکھا تھا، وہ جیسا تھا سب کے سامنے تھا۔ سیاست میں حصہ لینا اُس کے خیال میں ضروری تھا، سو وہ اُس کی آخری انتہا تک چلا گیا اور پھر لوٹ کر نہیں آیا۔ اُس کا ایک نہایت اہم سیاسی کارنامہ مسلم ملت موومنٹ کے زیر اہتمام پاکستان اور بنگلہ دیش کو قریب تر لانا تھا، وہ اس مشن پر جولائی میں ڈھاکا گیا اور اس نے ان دونوں ملکوں کے درمیان جو کبھی ایک تھے، عوامی سطح پر قربت کی بڑی مضبوط بنیادیں رکھ دیں۔ اس مشن کا محرّک وہ خود تھا اور پھر اُس نے وفد کی تشکیل اور اُس کے کامیاب دورے کے لیے شب و روز کام کیا۔ اس کی وفات کے بہت بعد ستمبر 2010ء میں سہیل عمر نے اس کے 64 نمائندہ مقالات کا مجموعہ ’’مقالاتِ سراج منیر‘‘ مرتّب کر کے شائع کیا۔ ان مقالات کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے کتنی جواں عمری میں زبان و ادب، مذہب و تہذیب اور دیگر موضوعات پر نہایت وقیع علمی و فکری سرمایہ اپنے پیچھے چھوڑا تھا۔ قضا اسے مزید مہلت دیتی تو بہ قول مشفق خواجہ اس کا شمار ہمارے مشاہیر میں ہوتا۔

اس سے بس اتنی ہی شکایت ہے، دوسروں کے مستقبل کی خبر لاتے لاتے وہ اپنے ستارے پر نظر رکھنا بھول گیا۔ وہ ایک خوبصورت دل کا مالک تھا اور موت بھی دل ہی کے راستے آئی۔

سراج منیر کے حوالے سے یہ مضامین بھی پڑھیئے:
 سراج منیر: ایک یادگار انٹرویو ۔۔ـــــــ۔۔ ڈاکٹر طاہر مسعود (حصہ اول)
 سراج منیر ایک یاد: زخمِ دل مبادا بِہ شود — عزیز ابن الحسن
(Visited 1 times, 3 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: